سیدنا مولا علی المرتضیؑ کا زہد و تقوی
(سیدنا امام مولا علی المرتضیؑ کا زہد و تقوی)
امام احمد بن حنبلؒ (المتوفی 241ھ)
اپنی کتاب میں روایت کرتے ہیں کہ:
حدثنا عبد الله قال: حدثني أبي، قثنا
وهب بن إسماعيل قال: أنا محمد بن قيس، عن علي بن ربيعة الوالبي، عن علي بن أبي
طالب قال: جاءه ابن التياح فقال: يا أمير المؤمنين، امتلأ بيت مال المسلمين
من صفراء وبيضاء، قال: الله أكبر، قال: فقام متوكيا على ابن التياح حتى قام على
بيت مال المسلمين فقال: هذا جناي وخياره فيه، وكل جان يده إلى فيه، يا ابن التياح،
علي بأشياخ الكوفة، قال: فنودي في الناس، فأعطى جميع ما في بيت المسلمين وهو يقول:
يا صفراء، يا بيضاء، غري غيري هاوها وهو يقول: يا صفراء، يا بيضاء، غري غيري
هاوها، حتى ما بقي فيه دينار ولا درهم، ثم أمر بنضحه وصلى فيه ركعتين
علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ایک دن
ابن تیاح نے سید نا علیؑ کے پاس آکر کہا:
امیر المومنین! بیت المال چاندی اور سونے سے بھر گیا ہے تو آپؑ نے فرمایا: اللہ
اکبر، پھر ابن تیاح کا سہارا لیتے ہوئے کھڑے ہوئے اور بیت المال کے پاس آئے اور
کہا: یہ میرا جمع شدہ مال ہے، اس میں عمدہ چیزیں موجود ہیں، جب کہ ہر صاحب مال کا
ہاتھ منہ پر ہوتا ہے۔ ابن تیاح! کوفہ کے بوڑھوں کو میرے پاس بلاؤ، چنانچہ لوگوں میں
اعلان ہوا، مسلمانوں کے بیت المال کی تمام چیزوں کو لوگوں میں تقسیم کرتے ہوئے
فرمائے جا رہے تھے: اے چاندی اور سونے! میرے علاوہ کسی اور کو فریب دینا۔ نیز
فرمانے لگے: اے چاندی اور سونے! میرے علاوہ کسی اور کو فریب دینا۔ یہاں تک کہ درہم
و دینار میں سے کچھ بھی نہ بچا، پھر (بیت المال کو) صاف کرنے کا حکم دیا اور دو
رکعت نماز پڑھی۔
)فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل: جلد 1 صفحہ 531 رقم 884، اردو مترجم:
صفحہ 298، اسنادہ حسن لذاتہ(
کتاب کے محقق شیخ وصی اللہ بن محمد
عباس بھی اسکی سند کو حسن قرار دیتے ہیں۔
زہد کا یہ عالم تھا کہ مولا علی
المرتضیؑ اپنے دور خلافت میں اپنے خزانے کو سونے چاندی سے بھرنے کے بجائے مستحق
افراد میں تقسیم کردیتے اور اپنے لیے اور اپنی حکومت کو چلانے کیلیے بھی سونا چاندی
جمع کرنے کی فکر نہ کرتے بلکہ اس کے فتنے سے ہمیشہ پناہ مانگتے اور جب آپ علیہ
السلام اس کے فتنے کو دور کرلیتے تو شکرانے کے نوافل ادا کرتے۔ بھلا انکا مقابلہ
کرنے والے انکے کردار کا مقابلہ کسطرح کرسکتے ہیں کہ وہ بیت المال سے جنت کے
سرداروں کے گستاخوں کو انعامات دیتے ہوں؟ بےشک مولا علی المرتضیؑ نے جیسا کہا ویسا
ہی ہوا کہ سونے چاندی نے اوروں کو تو فریب میں ڈالا مگر آپؑ کو فریب میں ڈالنے سے
ہمیشہ ناکام رہا۔ اللہ ہمیں مولا علی المرتضیؑ کا محب بنائے اور انکی سیرت پہ چلنے
والا بنائے۔ آمین ثم آمین۔
تحریر و تحکیم: شہزاد احمدآرائیں

Post a Comment