کیا امام ابن حزم نے ابن ملجم ملعون کی تعریف کی؟ کیا امام ابن حزم ناصبی تھے؟
﴿کیا امام ابن حزمؒ نے ابن ملجم ملعون کی
تعریف کی؟ کیا امام ابن حزمؒ ناصبی تھے؟﴾
رمضان المبارک کے ماہ مبارک میں بھی کچھ ناصبیوں کو اپنی ناصبیت پھیلانے کے علاوہ
کوئی دوسرا دینی کام کرنا نہیں آرہا۔ انکی اوقات ہی صرف اتنی ہے کہ وہ جاہل عوام
کو ناصبیت میں گمراہ کرسکیں۔ بلاشبہ شیاطین رمضان میں قید ہوتے ہیں مگر ان جیسے
نواصب شیاطین سے بھی بڑے شیاطین رمضان المبارک میں اپنی گمراہیاں پھیلانے سے ہرگز
نہیں کتراتے کیونکہ انکا تو دین و ایمان ہی یہی ہے۔ لہزا اب ان نواصب نے اپنی آباؤ
اجداد کی تعریف کرنے کیلیے آئمہ اہل سنت کو بھی ناصبی قرار دینا شروع کردیا ہے۔
لہزا ایک مجھول کاپی پیسٹر ناصبی نے
امام ابن حزمؒ کو ناصبی قرار دیتے ہوئے یہ استدلال کیا ہے کہ انہوں نے ابن ملجم کی
تعریف کی ہے۔ اب ان جہلاء کو عربی وغیرہ نہیں آتی اور نہ ہی آئمہ کا کلام سمجھ آتا
ہے اور نہ ہی انہیں یہ پتہ چلتا ہے آئمہ کا موقف و منہج کیا تو کوئی کیا کرسکتا
ہے؟ سمجھانے پہ ان گدھوں کو سمجھ تو آتی نہیں۔
خیر سب سے پہلے تو آپ احباب امام ابن
حزمؒ کا کلام سیاق و سباق سے ملاحظہ کریں:
وقال أبو محمد: فكان من اعتراض
الشافعيين أن قالوا: إن الحسن بن علي - رضي الله عنهما - كان إماما فنظر في ذلك
بحق الإمامة، أو قتله بالمحاربة لا قودا - وهذا ليس بشيء، لأن عبد الرحمن بن ملجم
لم يحارب، ولا أخاف السبيل.
وليس للإمام - عند الشافعيين - ولا
للوصي، أن يأخذ القود لصغير حتى يبلغ - فبطل تشنيعهم إلا أن هذه القصة عائدة على
الحنفيين بمثل ما شغبوا به على الشافعيين سواء سواء، لأنهم والمالكيون لا يختلفون
في أن من قتل آخر على تأويل فلا قود في ذلك
امام ابن حزمؒ کہتے ہیں: تو شافعیوں کا اعتراض یہ تھا کہ انہوں نے کہا: سیدنا حسن
بن علی رضی اللہ عنہما امام تھے، اس لیے انہوں نے امامت کے حق میں اس پر نظر کی،
یا اسے بغاوت کے بجائے قصاص کے طور پر قتل کیا۔ یہ چیز کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ
عبدالرحمن بن ملجم نے بغاوت نہیں کی تھی، اور نہ ہی اس نے راستہ روکا تھا۔
اور شافعیوں کے نزدیک امام یا وصی کو
یہ حق نہیں ہے کہ وہ نابالغ کے لیے قصاص لے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔ تو ان کا
اعتراض باطل ہے، ہاں یہ کہانی حنفیوں پر بھی اسی طرح لاگو ہوتی ہے جیسا کہ انہوں
نے شافعیوں پر اعتراض کیا تھا، کیونکہ وہ اور مالکی اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص
کسی دوسرے کو تاویل کے ذریعے قتل کرتا ہے تو اس میں قصاص نہیں ہوتا۔
ولا خلاف بين أحد من الأمة في أن عبد
الرحمن بن ملجم لم يقتل عليا - رضي الله عنه - إلا متأولا مجتهدا مقدرا أنه على
صواب
وفي ذلك يقول عمران بن حطان شاعر
الصفرية:
يا ضربة من تقي ما أراد بها … إلا
ليبلغ من ذي العرش رضوانا
إني لأذكره حينا فأحسبه … أوفى البرية
عند الله ميزانا
اور امت میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں
ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں قتل کیا تھا مگر تاویل
کرتے ہوئے، مجتہد ہو کر، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ صحیح پر ہے۔
اور اس حوالے سے صفرية کا شاعر عمران
بن حطان کہتا ہے:
اے متقی کی ضرب! اس سے اس نے کچھ نہیں
چاہا
مگر یہ کہ صاحب العرش کی رضا حاصل کرے
میں کبھی کبھی اسے یاد کرتا ہوں تو
مجھے خیال آتا ہے
کہ وہ اللہ کے ہاں تمام مخلوقات سے
زیادہ وزنی ہے
(المحلى بالآثار: جلد 11 صفحہ 130)
سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ امام ابن حزمؒ یہاں احناف و شوافع کے اختلاف
کو بیان کرتے ہوئے جب ابن ملجم ملعون کا ذکر شوافع کے حوالے سے کرتے ہیں اور پھر
بتاتے ہیں کہ شوافع نے ابن ملجم کے معاملے کو کس حوالے سے لیا ہے، اور اسی چیز کی
وضاحت میں امام ابن حزمؒ یہ چیز بیان کرتے ہیں کہ ابن ملجم خود اپنے متعلق یہ
سمجھتا تھا کہ وہ مجتہد ہے اور درست عمل کا اجتہاد کررہا ہے۔ یہ امام ابن حزمؒ
خوارج کا موقف بتا رہے ہیں کہ پوری امت کا اتفاق ہے کہ ابن ملجم اور خارجیوں کا یہ
موقف تھا جیسا کہ پھر انہوں نے عمران بن حطان خارجی کے اشعار نقل کرکے بھی واضع
کردیا کہ ابن ملجم کے اس عمل کے متعلق خوارج کا یہ ماننا ہے۔ معمولی سی عربی زبان
سمجھنے والا بھی اسکو باآسانی سمجھ سکتا ہے مگر شاید نواصب کو ان چیزوں کی معرفت
نہیں تو کاپی پیسٹنگ کرکے منجن بیچ دیا اور جہلاء نے انکی اندھا دھند پیروی شروع
کردی کیونکہ علم کے باب میں دونو ایک برابر جو ہیں۔
خیر اس بات کی دلیل ہم امام ابن حزمؒ
کے کلام سے ہی دیتے ہیں کہ امام ابن حزمؒ ہرگز کسی صورت بھی ابن المعلجم کی تعریف
وغیرہ کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ تو اسکو ملعون مانتے تھے، اس پہ لعنت کرتے تھے اور
یہاں المحلی میں انکا کلام فقہی اختلاف میں اس واقعہ کی طرف جب اشارہ ہوا تو اس سے
انکا مقصد خوارج کا عقیدہ واضع کرنا ہے ناکہ اپنا موقف بتانا،
لہزا امام ابن حزمؒ دوسرے مقام پہ ابن
ملجم پہ لعنت ڈالتے ہیں، امام لکھتے ہیں:
ولعنة الله علي ابن ملجم
اور الله تعالی کی ابن ملجم پہ لعنت ہو
(الفصل في الملل والأهواء والنحل - ط الجيل: جلد 5 صفحہ 50)
بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ امام ابن
حزمؒ ایک طرف تو ابن ملجم پہ لعنت بھی کریں اور دوسری طرف اسکی تعریف بھی؟ ایسا
کچھ بھی نہیں ہے، بلکہ یہ ان نواصب کا گمراہ کن فتنہ ہے۔ جیسا کہ یہ گمراہ لوگ
امام ابن حزمؒ کو متعہ پارٹی کا امام اور ناصبی کہہ کر اپنی گمراہی پہ مہر ثبت
کررہے ہیں۔ روئے زمین پہ کبھی آئمہ اہل سنت نے امام ابن حزمؒ کو ناصبی نہیں کہا،
بلکہ انہیں اہل سنت کا مجتہد امام مانا ہے۔ مگر جاہل اور گدھا عقل اور علم دونو سے
پیدل ہوتا ہے جسکی یہ لوگ واضع مثال ہیں۔
اور ایسے ہی امام ذھبیؒ الشافعي (المتوفی 748ھ) بھی ابن ملجم کے متعلق امام ابن
حزمؒ کے کلام نقل کرتے ہیں، اس سے حجت لیتے ہوئے انکی تاعید کرتے ہیں، چناچہ وہ
لکھتے ہیں:
قلت: ثم أدركه الكتاب، وفعل ما فعل،
وهو عند الخوارج من أفضل الأمة، وكذلك تعظمه النصيرية.
قال الفقيه أبو محمد بن حزم: يقولون:
إن ابن ملجم أفضل أهل الأرض، خلص روح اللاهوت من ظلمة الجسد وكدره.
فاعجبوا يا مسلمون لهذا الجنون.
وفي ابن ملجم يقول عمران بن حطان
الخارجي.
يا ضربة من تقي ما أراد بها … إلا
ليبلغ من ذي العرش رضوانا
إني لأذكره حينا فأحسبه … أوفى البرية
عند الله ميزانا
وابن ملجم عند الروافض أشقى الخلق في
الآخرة. وهو عندنا أهل السنة ممن نرجو له النار، ونجوز أن الله يتجاوز عنه، لا كما
يقول الخوارج والروافض فيه، وحكمه حكم قاتل عثمان، وقاتل الزبير، وقاتل طلحة،
وقاتل سعيد بن جبير، وقاتل عمار، وقاتل خارجة، وقاتل الحسين، فكل هؤلاء نبرأ منهم
ونبغضهم في الله، ونكل أمورهم إلى الله عز وجل۔
میں کہتا ہوں: پھر اس نے کتاب کو پایا، اور اس نے وہ کیا جو اس نے کیا۔ خوارج کے
نزدیک وہ امت کے بہترین لوگوں میں سے ہیں، اور اسی طرح نصیریہ بھی اسے عظمت دیتے
ہیں۔
فقہی ابو محمد بن حزمؒ کہتے ہیں:
وہ (خارجی) کہتے ہیں کہ ابن ملجم زمین
کے بہترین لوگوں میں سے ہے، اس نے روح اللاهوت کو جسم کی تاریکی اور گندگی سے پاک
کر دیا۔
اے مسلمانو، اس جنون پر حیران رہو۔
اور ابن ملجم کے متعلق خارجی عمران بن
حطان کہتا ہے:
اے متقی کی ضرب! اس سے اس نے کچھ نہیں
چاہا
مگر یہ کہ صاحب العرش کی رضا حاصل کرے
میں کبھی کبھی اسے یاد کرتا ہوں تو
مجھے خیال آتا ہے
کہ وہ اللہ کے ہاں تمام مخلوقات سے
زیادہ وزنی ہے
اور ابن ملجم روافض کے نزدیک آخرت میں
سب سے بدبخت شخص ہے۔ اور ہمارے اہل سنت کے نزدیک وہ ہے جس کے لیے ہم جہنم کی امید
کرتے ہیں، اور ہم یہ جائز سمجھتے ہیں کہ اللہ اسے معاف کر دے، جیسا کہ خوارج اور
روافض اس کے بارے میں نہیں کہتے، اور اس کا حکم عثمان کے قاتل، زبیر کے قاتل، طلحہ کے قاتل، سعید بن جبیر کے قاتل، عمار کے قاتل، خارجہ کے قاتل، اور حسین کے قاتل کے
حکم کے برابر ہے۔ پس ہم ان سب سے بیزار ہیں اور اللہ کی خاطر ان سے نفرت کرتے ہیں،
اور ان کے معاملات کو اللہ عزوجل کے حوالے کرتے ہیں۔
(سير أعلام النبلاء - ط الحديث: جلد 2 صفحہ 539)
امام ذھبی شافعیؒ کا امام ابن حزمؒ کا
یہ کلام نقل کرنا بلکل واضع ہے اور امام ابن حزمؒ کے اس سارے کلام انکا موقف بلکل
سورج کی طرح واضح ہے، امام ابن حزمؒ نے خود کو اہل سنت کہا ہے اور امام ذھبیؒ
شافعی نے انکو فقہی مان کر انکے کلام کو اپنی تاعید میں پیش کیا ہے۔ اللہ کی لعنت
ہو ابن ملجم پہ بھی۔ اللہ ان ناصبیوں ان ناصبیوں کو بھی تباہ و برباد کرے جو اس
چمکتے سورج کی طرح واضع چیزوں میں تحریف کرکے آئمہ اہل سنت پہ بکواس بازی کرتے
ہیں۔
موصوف ناصبی صاحب اپنے نام کے ساتھ
عسقلانی شافعی لکھتے ہیں، جسطرح اسکا مشہور ناصبی شاگرد اپنے نام کے ساتھ طحاوی
حنفی لکھتا ہے، دونو جہلاء گدھے آئمہ کا نام استعمال کرکے جہلاء میں گمراہی کا
وبال دن بدن بڑھاتے جارہے ہیں۔ خیر امام ابن حزمؒ کو ناصبی اور متعہ پارٹی کا امام
کہنے پہ اپنی نسبت کی وجہ سے یہ خود متعہ پارٹی بن جاتے ہیں، کیونکہ جنکی تقلید
اور نسبت یہ استعمال کرتے ہیں انہوں نے اپنی کتب میں جگہ جگہ امام ابن حزمؒ کو حجت
اور امام مانا ہے اور ان سے جگہ جگہ حجت پکڑی ہے۔ اسکی مثالیں اور حوالہ جات یہاں
ذکر کرنا طوالت کا باعث ہے، کوئی بھی شخص امام ابن حجر عسقلانیؒ کی کتب میں اس چیز
کو واضع دیکھ سکتا ہے۔
آپ احباب واضع دیکھ سکتے ہیں کہ ان
نواصب کا کیا علمی حال ہے۔ یہ نواصب روافض کے بھائی ہیں، انہی کی طرف سب سے پہلے
آئمہ اہل سنت پہ حملہ آور ہوتے ہیں اور ان پہ تہمتیں لگاتے ہیں، انکے کلام میں
تحریفات کرتے ہیں، اور سیاق و سباق سے چیزوں کو ہٹا کر رکھتے ہیں۔ یہی حقیقت ہے،
اور اللہ ان دونو گمراہ گروہوں یعنی روافض اور نواصب کو تباہ و برباد کرے، آمین ثم
آمین۔
اس ماہ بابرکت کی وجہ سے فلہال ہم نے
بطور نمونہ نواصب کی گمراہی واضع کی ہے، ان شاء اللہ آئندہ ہم الزامی جواب بھی
دینگے اور پھر جب اس طرح کی حرکتوں کی مزید مثالیں جب انکو بطور رد ملیں گی تو
شاید انکی موٹی کھوپڑی میں شاید یہ بات گھس جائے کہ اسطرح کی حرکتیں صرف اپنے لیے
نقصان دہ ہوتی ہیں، جہلاء تو واہ واہ کردیں گے مگر اللہ تعالی کے یہاں اسکا جواب
تو دینا ہوگا اور اہل علم بھی جب یہ حرکتیں دیکھیں گے تو وہ بھی آپکی گمراہی پہ
خوب ہنسیں گے۔ فلہال کیلیے اتنا کافی ہے۔
والسلام: شہزاد احمد آرائیں

Post a Comment