-->

الدراسة وتحقيق قول الإمام ابن حزم الظاہری في ابن ملجم

 

﴿الرد فی الاصول علی الخائن متعصب من الآئمہ اہل السنۃ﴾

﴿الدراسة وتحقيق قول الإمام ابن حزم الظاہری في ابن ملجم﴾

تحریر و تحقیق: ابو الحسنین شہزاداحمد آرائیں۔

ہم نواصب کی امام ابن حزمؒ پہ ناصبیت کی تہمت کی حقیقت پچھلی تحریر میں واضع کرچکے ہیں، اس تحریر اور ان شاء اللہ اب ہم امام ابن حزمؒ کا دفاع اور ناصبیت و خوارج کی حقیقت پہ مفصل اصولی ابحاث کریں گے۔ اور ان شاء اللہ ہم اس مقالے کو عربی زبان میں بھی نشر کریں تاکہ عرب و عجم میں ایک بڑی عوام تک اسکا فائدہ پہنچے۔

نواصب اور خوارج میں فرق:

سب سے پہلے عوام الناس کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نواصب اور خوارج میں واضع فرق کیا ہے، اس فرق جو جاننا نہایت ضروری ہے تاکہ عوام الناس اس میں تفریق کا ادراک کرسکے ناصبی کسے کہا جاتا ہے اور خارجی کسے کہا جاتا ہے، جیسا کہ:

֍ امام ابن حجر عسقلانی الشافعیؒ (المتوفی 852ھ) لکھتے ہیں:

ووقع في شرح الوجيز للرافعي عند ذكر الخوارج قال هم فرقة من المبتدعة خرجوا على علي حيث اعتقدوا أنه يعرف قتلة عثمان ويقدر عليهم ولا يقتص منهم لرضاه بقتله ومواطأته إياهم ويعتقدون أن من أتى كبيرة فقد كفر واستحق الخلود في النار ويطعنون لذلك في الأئمة انتهى

 

اور امام رافعی کی شرح الوجیز میں خوارج کے ذکر کے موقع پر کہا گیا ہے کہ:

وہ ایک بدعتی فرقہ ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر گیا تھا کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو جانتے ہیں اور ان پر قدرت رکھتے ہیں لیکن ان سے قصاص نہیں لیتے کیونکہ وہ ان کے قتل سے راضی ہیں اور ان کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں۔ اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص کبیرہ گناہ کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے اور جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اور اس لیے وہ ائمہ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔

 

وليس الوصف الأول في كلامه وصف الخوارج المبتدعة وإنما هو وصف ‌النواصب ‌أتباع ‌معاوية بصفين وأما الخوارج فمن معتقدهم تكفير عثمان وأنه قتل بحق ولم يزالوا مع علي حتى وقع التحكيم بصفين فأنكروا التحكيم وخرجوا على علي وكفروه

 

اور ان کے کلام میں پہلی صفت بدعتی خوارج کی صفت نہیں ہے بلکہ نواصب کی صفت ہے جو صفین میں حضرت معاویہ کے پیروکار تھے۔ اور خوارج کا عقیدہ یہ ہے کہ سیدنا عثمانؓ مرتد تھے (معاذ اللہ) اور اسے حق کے ساتھ قتل کیا گیا۔ اور وہ سیدنا علیؑ کے ساتھ اس وقت تک رہے جب تک کہ صفین میں تحکیم کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ پھر انہوں نے تحکیم کو مسترد کر دیا اور سیدنا علیؑ سے بغاوت کر دی اور انہیں کافر قرار دیا۔

 (فتح الباري لابن حجر: جلد 13 صفحہ 537)

بلکل واضع معلوم ہو رہا ہے کہ خوارج کا عقیدہ کیا ہے اور نواصب کا عقیدہ کیا ہے۔ امیر شام کی اتباع کرنے والے نواصب کا عقیدہ امام رافعیؒ نے غلطی سے خوارج کی طرف منسوب کردیا تو امام ابن حجر عسقلانیؒ نے اسکی تصحیح کی کہ یہ خوارج نہیں بلکہ نواصب ہیں، خوارج تو مولا علی المرتضیؑ اور امیر المومنین سیدنا عثمان غنیؑ دونو کو کافر مانتے ہیں جبکہ نواصب صرف سیدنا علی المرتضیؑ کے متعلق گمراہ کن عقائد رکھتے ہیں اور انکے خلاف بغاوت ميں امیر شام کی پیروی کرنے والے ہیں۔

 

֍ امام شمس الدین الذھبی الشافعیؒ (المتوفی 748ھ) لکھتے ہیں:

وخلف معاوية خلق كثير يحبونه ويتغالون فيه، ويفضلونه، إما قد ملكهم بالكرم والحلم والعطاء، وإما قد ولدوا في الشام على حبه، وتربى أولادهم على ذلك.

وفيهم جماعة يسيرة من الصحابة، وعدد كثير من التابعين والفضلاء، وحاربوا معه أهل العراق، ونشؤوا على النصب - نعوذ بالله من الهوى۔

 

اور معاویہ کے ساتھ کثیر مخلوق ایسی رہی ہے جو اس سے محبت کرتی، اسکے متعلق غلو کرتی اور اسے فضیلت دیتی تھی، اس لیے کہ یاں تو انہوں نے ان پہ سخاوت، حلم اور عطا سے بادشاہی کی، یاں تو پھر اس لیے کہ وہ شام میں اس کی محبت پہ پیدا ہوئے اور اسی پہ انکی اولادوں کی تربیت ہوئی۔

اور انکی جماعت میں تھوڑے سے صحابہؓ اور کثیر تعداد میں تابعین اور عارفین تھے، انہوں نے اس کے ساتھ اہل عراق (مراد امیر المومنین خلیفہ راشد مولا علیؑ) سے جنگ کی، اور انکی نشو نماء ناصبیت پہ ہوئی۔ ہم خواہش نفس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 3 صفحہ 128)

امام ذهبىؒ نے بھی نواصب کی خصوصیات اور وہ کیسے پروان چڑھے، اسکی بلکل کھل کر وضاحت کررہے ہیں کہ نواصب امیر شام سے محبت کرنے والے، اس کے متعلق غلو کرنے والے، اسے افضلیت دینے والے، مولا علی المرتضیؑ کی مخالفت میں اسکا ساتھ دینے والے ہیں۔ یہ نقطہ نہایت اہم ہے جو نواصب کی تعریف میں یاد رکھا جانا چاہیے کہ ناصبی ہمیشہ امیر شام کا طرفدار ضرور ہوگا۔ امام ذھبیؒ نے اس چیز کو سب سے پہلے اسی لیے ذکر کیا ہے کیونکہ نواصب کی یہ پہلی نشانی ہے۔

֍ اسی طرح امام ذھبیؒ الشافعی اہل سنت، شیعہ اور نواصب کی تفریق کرتے ہوئے نواصب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ثم ‌نواصب: وهم الذين حاربوا عليا يوم صفين، ويقرون بإسلام ‌علي وسابقيه، ويقولون: خذل الخليفة عثمان

 

پھر نواصب: وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کی تھی۔ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسلام اور ان کی سبقتیں تسلیم کرتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ: خلیفہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مظلوم (قتل) کیا گیا۔

(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 5 صفحہ 374)

لہزا معلوم ہوا کہ نواصب وہی لوگ تھے جو صفین میں مولا علی المرتضیؑ سے جنگ کرنے کیلیے آئے تھے۔ آج تک یہ نواصب یہی نشانی رکھتے ہیں کہ وہ بظاہر تو سیدنا علیؑ کے اسلام اور انکی فضیلت کا اقرار کریں گے مگر پھر سیدنا عثمانؓ کی مظلومانہ شہادت کا بہانہ بنا کر اہل بیتؓ پہ اپنا بغض بھی پھیلائیں گے۔ نواصب ہمیشہ اہل بیت اور مولا علیؑ کے خلاف حضرت معاویہ اور بنو امیہ کی اندھی پیروی اور انکا دفاع کرتے نظر آئیں گے۔

تنبیہ! یہ بات یاد رکھیے کہ مولا علی المرتضیؑ کے خلاف خروج کرنے والے تمام گروہ باغی ہیں، مگر ناصبی صرف اہل صفین ہیں، اور خارجی صرف اہل نہروان ہیں۔ لہزا اس فرق کو سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ اہل جمل ناصبی نہیں ہیں۔

 

֍ جیسا کہ امام حاکمؒ حدیث عمار کو لکھنے کے بعد امام ابن خزیمہؒ کے قول سے انکا اور امام شافعیؒ کا موقف لکھتے ہیں کہ:

قال أبو بكر: فنشهد أن ‌كل ‌من ‌نازع ‌أمير ‌المؤمنين ‌علي ‌بن ‌أبي ‌طالب ‌رضي ‌الله ‌عنه ‌في ‌خلافته ‌فهو ‌باغ على هذا عهدت مشايخنا، وبه قال ابن إدريس رضي الله عنه

 

امام ابو بکر ابن خثیمہؒ کہتے ہیں: سو ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس نے امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان سے تنازع کیا وہ باغی ہے، یہی ہمارے شیوخ کا عہد ہے اور یہی امام ابن ادریس (شافعی) رضی اللہ عنہ کا بھی کہنا ہے۔

(معرفة علوم الحديث: صفحہ 84)

֍ اسی طرح امام شمس الدین محمد بن احمد القرطبیؒ (المتوفی 671ھ) لکھتے ہیں:

وقال فقهاء الإسلام فيما حكاه الإمام عبد القاهر في كتاب الإمامة من تأليفه، وأجمع فقهاء الحجاز والعراق من فريقي الحديث والرأي منهم مالك والشافعي وأبو حنيفة والأوزاعي، والجمهور الأعظم من المتكلمين إلى ‌أن ‌علياً ‌مصيب ‌في ‌قتاله ‌لأهل ‌صفين كما فالوا بإصابته في قتل أصحاب الجمل، وقالوا أيضاً بأن الذين قاتلوه بغاة ظالمون له، ولكن لا يجوز تكفيرهم ببغيهم

 

اور اسلام کے فقہاء نے کہا ہے، جیسا کہ امام عبد القاہرؒ نے اپنی کتاب "الامامہ" میں بیان کیا ہے، حجاز اور عراق کے تمام فقہاء، حدیث اور رائے کے دونوں گروہ، جن میں امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام ابو حنیفہؒ اور امام اوزاعیؒ شامل ہیں، اور جمہور الاعظم متکلمین کا اس بات پر اجماع ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل صفین سے قتال میں حق پر تھے، جیسا کہ وہ اصحاب جمل سے قتال میں بھی حق پر تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنہوں نے ان سے جنگ کی وہ باغی اور ظالم تھے، لیکن ان کے بغاوت کی وجہ سے انہیں کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

(التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة: صفحہ 1089)

امام قرطبیؒ کے نقل کردہ اجماع سے معلوم ہوا کہ اہل صفین کے ساتھ ساتھ اہل جمل بھی باغی تھے، اس میں انہوں نے امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ اور امام اوزاعیؒ کو تخصیص سے ذکر کیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اہل جمل صرف باغی تھے، مگر اہل صفین باغی ہونے کے ساتھ ساتھ ناصبی بھی تھے، نواصب کی تعریف میں یہ چیز شامل ہے کہ ناصبی امیر شام کے پیروکار ہیں۔ یہی بات امام بیہقیؒ، امام حاکمؒ نے امام ابن خزيمهؒ سے اور انكے مشائخ سے نقل کیا ہے۔

 

امام ابن حزمؒ کا خوارج کے متعلق کلام کی حقیقت:

جب احباب یہ بات جان چکے ہیں کہ خوارج اور نواصب میں کیا فرق ہے، تو اب یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ امام ابن حزمؒ کا کلام کس چیز کے متعلق ہے۔

֍ امام ابو محمد علی بن احمد ابن حزم الظاہریؒ (المتوفی 456ھ) لکھتے ہیں:

وقال أبو محمد: فكان من اعتراض الشافعيين أن قالوا: إن الحسن بن علي - رضي الله عنهما - كان إماما فنظر في ذلك بحق الإمامة، أو قتله بالمحاربة لا قودا - وهذا ليس بشيء، لأن عبد الرحمن بن ملجم لم يحارب، ولا أخاف السبيل.

وليس للإمام - عند الشافعيين - ولا للوصي، أن يأخذ القود لصغير حتى يبلغ - فبطل تشنيعهم إلا أن هذه القصة عائدة على الحنفيين بمثل ما شغبوا به على الشافعيين سواء سواء، لأنهم والمالكيون لا يختلفون في أن من قتل آخر على تأويل فلا قود في ذلك

 

امام ابن حزمؒ کہتے ہیں: تو شافعیوں کا اعتراض یہ تھا کہ انہوں نے کہا: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما امام تھے، اس لیے انہوں نے امامت کے حق میں اس پر نظر کی، یا اسے بغاوت کے بجائے قصاص کے طور پر قتل کیا۔ یہ چیز کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن ملجم نے بغاوت نہیں کی تھی، اور نہ ہی اس نے راستہ روکا تھا۔

اور شافعیوں کے نزدیک امام یا وصی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ نابالغ کے لیے قصاص لے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔ تو ان کا اعتراض باطل ہے، ہاں یہ کہانی حنفیوں پر بھی اسی طرح لاگو ہوتی ہے جیسا کہ انہوں نے شافعیوں پر اعتراض کیا تھا، کیونکہ وہ اور مالکی اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص کسی دوسرے کو تاویل کے ذریعے قتل کرتا ہے تو اس میں قصاص نہیں ہوتا۔

 

ولا خلاف بين أحد من الأمة في أن عبد الرحمن بن ملجم لم يقتل عليا - رضي الله عنه - إلا متأولا مجتهدا مقدرا أنه على صواب

وفي ذلك يقول عمران بن حطان شاعر الصفرية:

يا ضربة من تقي ما أراد بها … إلا ليبلغ من ذي العرش رضوانا

إني لأذكره حينا فأحسبه … أوفى البرية عند الله ميزانا

 

اور امت میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں قتل کیا تھا مگر تاویل کرتے ہوئے، مجتہد ہو کر، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ صحیح پر ہے۔

اور اس حوالے سے صفرية کا شاعر عمران بن حطان کہتا ہے:

اے متقی کی ضرب! اس سے اس نے کچھ نہیں چاہا

مگر یہ کہ صاحب العرش کی رضا حاصل کرے

میں کبھی کبھی اسے یاد کرتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے

کہ وہ اللہ کے ہاں تمام مخلوقات سے زیادہ وزنی ہے

(المحلى بالآثار: جلد 11 صفحہ 130)

 

یہاں سب سے پہلے انکے کلام میں چند نقاط کو دیکھیں اور اسے سمجھیں، جنہیں جہلاء نظر انداز کرتے ہیں اور امام رحمہ اللہ پہ بکواس کرتے ہیں۔

امام ابن حزمؒ یہاں فقہاء کے اختلاف کی بات کررہے ہیں کہ مالکی اور حنفی علماء شافعی علماء سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ قاتل سے قصاص نہیں لیا جائے گا اگر وہ تاویل کے ساتھ قتل کرے، ان علماء کی اس بات کے متعلق امام ابن حزمؒ نے یہ بات لکھی کہ ابن ملجم خارجی نے بھی سیدنا علی المرتضیؑ کو تاویل کرتے ہوئے مجتہد بن کر قتل کیا تھا، وہ یہی سمجھتا تھا وہ جو کررہا ہے وہ صحیح ہے۔

امام ابن حزمؒ یہاں آئمہ کا اس بات پہ اتفاق نقل کیا ہے کہ ابن ملجم خارجی کا اپنا دعوی یہ تھا۔ یہ امام ابن حزمؒ نہ تو اپنا قول و بیان یہاں بیان کررہے ہیں اور نہ ہی وہ ابن ملجم کے اجتہاد کو درست قرار دے رہے ہیں بلکہ وہ صرف خوارج کا نقطہ نظر اور خوارج کے عقیدے کے متعلق آئمہ کا اتفاق نقل کررہے ہیں۔ یہاں کہیں بھی یہ موجود نہیں ہے کہ امام ابن حزمؒ کا اپنا ماننا یہی ہے۔

 

֍ بلکہ امام ابن حزمؒ خود ابن ملجم پہ لعنت ڈالنے کے قائل ہیں، چناچہ وہ لکھتے ہیں:

ولعنة الله علي ابن ملجم

اور الله تعالی کی ابن ملجم پہ لعنت ہو

(الفصل في الملل والأهواء والنحل - ط الجيل: جلد 5 صفحہ 50)

 

یہاں یہ بات کہنا کہ امام ابن حزمؒ کا المحلی کا کلام آخری ہے اور الفصل کا کلام پہلے کا ہے، فضول اور بےوقوفانہ بات ہے کیونکہ انکے کلام پہ اول و آخر کی بحث ہم تب کریں جب انہوں نے کوئی رجوع کیا ہو، یا ایک کلام دوسرے کا مخالف ہو، جبکہ یہاں تو ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ دونو کلام ایک دوسرے کے عین موافق ہیں۔

وہ اسطرح کہ المحلی کے کلام میں قاتل کے تاویل کے ساتھ قتل کرنے پہ قصاص نہ لینے کے متعلق فقہاء کے بیان کے ذیل میں امام ابن حزمؒ یہ لکھتے ہیں کہ اگر یہ بات ہے تو پھر ملجم نے بھی تاویل و اجتہاد کیا تھا۔

(المحلی میں ہی امام ابن حزمؒ نے دوسری جگہ اس قسم کی تاویل اور اجتہاد کو سرے سے ہی باطل قرار دیا ہے کہ اسکا کوئی اجر وغیرہ نہیں ہے بلکہ یہ واضع گمراہی ہے، جسکا ذکر ان شاء اللہ آگے ہم تفصیل سے کریں گے)۔

اور الفصل کے کلام میں امام ابن حزمؒ اپنا ذاتی موقف بیان کررہے ہیں کہ انکے نزدیک ابن ملجم ملعون ہے۔

ان دونو کلام میں نہ تو کوئی تضاد ہے اور نہ کوئی اول و آخر کا معاملہ ہے۔ بلکہ دونو جگہ بات ہی الگ الگ ہورہی ہے جسے ایک سمجھا اور کہنا جاہل گدھے کا کام ہے۔

مزید احباب کو معلوم ہو کہ امام ذھبیؒ نے بھی امام ابن حزمؒ کا ایسا ہی کلام نقل فرمایا جو کہ مکمل و مفصل ہے، انکا منہج اور موقف واضع کرنے کیلیے کافی ہے۔ امام ذھبیؒ کی تو امام ابن حزمؒ کے تمام متون پہ نظر تھی، وہ انکا کلام بھی نقل کررہے ہیں تو کیا امام ذھبی شافعیؒ بھی جاہل تھے کہ انہیں امام ابن حزمؒ کے متعلق وہ چیز معلوم نہ ہوئی جو نواصب کو ہوگئی ہے؟۔

 

֍ بہرحال امام ذھبیؒ لکھتے ہیں:

قلت: ثم أدركه الكتاب، وفعل ما فعل، وهو عند الخوارج من أفضل الأمة، وكذلك تعظمه النصيرية.

قال الفقيه أبو محمد بن حزم: يقولون: إن ابن ملجم أفضل أهل الأرض، خلص روح اللاهوت من ظلمة الجسد وكدره.

فاعجبوا يا مسلمون لهذا الجنون.

وفي ابن ملجم يقول عمران بن حطان الخارجي.

يا ضربة من تقي ما أراد بها … إلا ليبلغ من ذي العرش رضوانا

إني لأذكره حينا فأحسبه … أوفى البرية عند الله ميزانا

وابن ملجم عند الروافض أشقى الخلق في الآخرة. وهو عندنا أهل السنة ممن نرجو له النار، ونجوز أن الله يتجاوز عنه، لا كما يقول الخوارج والروافض فيه، وحكمه حكم قاتل عثمان، وقاتل الزبير، وقاتل طلحة، وقاتل سعيد بن جبير، وقاتل عمار، وقاتل خارجة، وقاتل الحسين، فكل هؤلاء نبرأ منهم ونبغضهم في الله، ونكل أمورهم إلى الله عز وجل۔

 

میں (ذھبی) کہتا ہوں: پھر اس نے کتاب کو پایا، اور اس نے وہ کیا جو اس نے کیا۔ خوارج کے نزدیک وہ امت کے بہترین لوگوں میں سے ہیں، اور اسی طرح نصیریہ بھی اسے عظمت دیتے ہیں۔

فقہی ابو محمد بن حزمؒ کہتے ہیں:

وہ کہتے ہیں کہ ابن ملجم زمین کے بہترین لوگوں میں سے ہے، اس نے روح اللاهوت کو جسم کی تاریکی اور گندگی سے پاک کر دیا۔

اے مسلمانو، اس جنون پر حیران رہو۔

اور ابن ملجم کے متعلق خارجی عمران بن حطان کہتا ہے:

اے متقی کی ضرب! اس سے اس نے کچھ نہیں چاہا

مگر یہ کہ صاحب العرش کی رضا حاصل کرے

میں کبھی کبھی اسے یاد کرتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے

کہ وہ اللہ کے ہاں تمام مخلوقات سے زیادہ وزنی ہے

اور ابن ملجم روافض کے نزدیک آخرت میں سب سے بدبخت شخص ہے۔ اور ہمارے اہل سنت کے نزدیک وہ ہے جس کے لیے ہم جہنم کی امید کرتے ہیں، اور ہم یہ جائز سمجھتے ہیں کہ اللہ اسے معاف کر دے، جیسا کہ خوارج اور روافض اس کے بارے میں نہیں کہتے، اور اس کا حکم عثمان کے قاتل، زبیر کے قاتل، طلحة کے قاتل، سعید بن جبیر کے قاتل، عمار کے قاتل، خارجہ کے قاتل، اور حسین کے قاتل کے حکم کے برابر ہے۔ پس ہم ان سب سے بیزار ہیں اور اللہ کی خاطر ان سے نفرت کرتے ہیں، اور ان کے معاملات کو اللہ عزوجل کے حوالے کرتے ہیں۔

(سير أعلام النبلاء - ط الحديث: جلد 2 صفحہ 539)

 

امام ذھبیؒ کے کلام سے یہ چیز بلکل واضع ہے کہ امام ابن حزمؒ کا موقف ابن ملجم کو لیکر کیا تھا۔ امام ابن حزمؒ کا کلام نقل کرتے ہوئے امام ذھبیؒ کا انہیں فقہی ماننا اور پکارنا اور پھر انکے کلام سے حجت پکڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ امام ذھبی کے نزدیک امام ابن حزمؒ حجت تھے اور اہل سنت میں سے ہی تھے، برخلاف نواصب کے کہ وہ امام ابن حزمؒ کو اہل سنت سے خارج کہنے لگ گئے ہیں، اور امام ذھبیؒ کا امام ابن حزمؒ کا کلام نقل کرکے اس کی تردید نہ کرنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ امام ذھبیؒ کا بھی وہی موقف ہے جو امام ابن حزمؒ کا ہے۔

اور امام ابن حزمؒ المحلی کے کلام میں تفرد بھی نہیں رکھتے بلکہ یہی کلام دیگر آئمہ نے بھی ابن ملجم کے متعلق کہا ہے، جسکی ایک دو مثالیں میں ذیل میں درج کردیتا ہوں:

 

֍ احناف کے امام علاء الدین علی بن عثمان ابن الترکمانی الحنفی (المتوفی 750ھ) بھی بلکل یہی چیز لکھتے ہیں:

وقال محمد بن جرير الطبري في التهذيب اهل السير لا تدافع عنهم ان عليا أمر بقتل قاتله قصاصا ونهى ان يمثل به ولا خلاف بين احد من الامة ان ابن ملجم قتل عليا متأولا مجتهدا مقدرا على انه على صواب وفى ذلك يقول عمران بن حطان (شعر)

يا ضربة من تقى ما اراد بها * الا ليبلغ من ذى العرش رضوانا

انى لافكر فيه ثم احسبه * اوفى البرية عند الله ميزانا

 

امام محمد بن جریر الطبریؒ نے "التہذیب" میں کہا کہ اہل سیر اس میں اختلاف نہیں کرتے کہ سیدنا علیؑ نے اپنے قاتل کو بطور قصاص قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور اس (کی لاش) کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا تھا اور امت میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اجتہاد اور تاویل کی بنیاد پر قتل کیا تھا، اس خیال کے ساتھ کہ وہ صحیح ہے۔ اور اس سلسلے میں عمران بن حطان (خارجی) کہتا ہے:

اے متقی کی ضرب! اس سے اس نے کچھ نہیں چاہا

مگر یہ کہ صاحب العرش کی رضا حاصل کرے

میں کبھی کبھی اسے یاد کرتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے

کہ وہ اللہ کے ہاں تمام مخلوقات سے زیادہ وزنی ہے

(الجوهر النقي: جلد 8 صفحہ 58)

 

اب جرعت کرکے احناف اپنے حنفی امام کو ناصبی وغیرہ قرار دیں جسطرح وہ لوگ امام ابن حزمؒ کے اوپر بکواسات کررہے تھے۔ امام ابن ترکمانی حنفیؒ نے بھی بلکل وہی بات کہی ہے جو امام ابن حزمؒ نے کہی ہے۔   اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ بات امام ابن حزمؒ سے بھی پہلے امام طبریؒ (المتوفى 310ھ) نے بھی بیان کی ہے اور امام ابن ترکمانی حنفی نے انکی کتاب سے برائے راست اسکو بیان کیا ہے۔ اور یہی بات معمولی سے لفظوں کے اختلاف سے امام ذھبی شافعیؒ بھی کرتے ہیں، ملاحظہ کریں:

֍ امام ذھبی شافعیؒ (التموفی 748ھ) لکھتے ہیں:

ومعلوم أن شر الذين يبغضونه هم ‌الخوارج الذين ‌كفروه واعتقدوا أنه مرتد عن الإسلام واستحلوا قتله تقربا إلى الله تعالى حتى قال شاعرهم عمران بن حطان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اور یہ معلوم ہے کہ جو لوگ ان (سیدنا علی المرتضیؑ) سے سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں وہ خوارج ہیں جنہوں نے انہیں کافر قرار دیا اور یہ عقیدہ رکھا کہ وہ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں اور اسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھا یہاں تک کہ ان کے شاعر عمران بن حطان نے کہا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

(المنتقى من منهاج الاعتدال: صفحہ 303)

 

اب امام ذھبیؒ نے بھی خوارج کا وہی عقیدہ بیان کیا ہے جو امام ابن حزمؒ نے کیا کہ خوارج تاویل کرتے تھے یہ سمجھتے تھے کہ وہ صحیح ہیں، انہیں اجر ملے گا انکے اجتہاد پہ۔ وہ اللہ کا قرب حاصل کررہے ہیں۔ تو کیا خوارج کا یہ عقیدہ بیان کرنے سے امام ذھبیؒ بھی خارجی ہوگئے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ حصول برکت کیلیے ایک اور شافعی امام کا حوالہ نقل کردیتا ہوں کہ:

 

֍ امام زکریا بن محمد الانصاری السنیکی الشافعیؒ (المتوفی 926ھ) لکھتے ہیں:

ولأن ‌ابن ‌ملجم ‌قتل ‌عليا ‌متأولا بأنه وكيل امرأة قتل علي أباها فاقتص منه

 

اور ابن ملجم نے سیدنا علیؑ کو تاویل کے ساتھ قتل کیا کہ وہ ایک (خارجی) عورت کا وکیل تھا جس کے (خارجی) والد کو سیدنا علیؑ نے قتل کر دیا تھا۔ اس لیے اس نے ان سے قصاص لیا۔

(أسنى المطالب في شرح روض الطالب: جلد 4 صفحہ 112)

 

سمجھدار کیلیے اشارہ کافی ہے کہ ابن ملجم اور خوارج کا یہ عقیدہ بیان کرنے میں امام ابن حزمؒ کا تفرد نہیں ہے بلکہ دیگر آئمہ کرام نے بھی وہی باتیں کہی ہوئی ہیں، امام ابن ترکمانی حنفی نے تو بلکل امام ابن حزمؒ جیسی بات ہی بیان کی ہے تو کیا اب احناف کو خارجی وغیرہ کہنا شروع کردیا جائے؟ کیا یہ انصاف ہے؟ یہ جہلاء اور عقل سے پیدل لوگوں کی حرکتیں ہیں جنہیں بنیادی اصطلاحات کا علم نہیں ہے۔ جنہیں آئمہ کا کلام پڑھنا اور سمجھنا تک نہیں آتا۔ لہزا معلوم ہوا کہ اس بات کا ناصبیت وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ اس کا ابن ملجم کی کوئی تعریف وغیرہ سے تعلق ہے۔

 

امام ابن حزمؒ کا خوارج اور نواصب کے متعلق موقف:

لہزا جب یہ بات بلکل واضع ہوگئی کہ خارجی کسے کہتے ہیں اور ناصبی کسے کہتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوچکا کہ امام ابن حزمؒ نے اپنی کتاب المحلی میں ابن ملجم خارجی کا عقیدہ و موقف بیان کیا ہے اور اپنی کتاب الفصل میں ابن ملجم پہ لعنت ڈالنے کا اپنا عقیدہ بیان کیا ہے، تو اس کے بعد آپ احباب کو معلوم ہونا چاہیے کہ امام ابن حزمؒ نے نواصب یعنی اہل صفین اور خوارج یعنی اہل نہروان کا بہت عمدہ اور شدید رد اپنی اسی کتاب المحلی میں کیا ہے۔

 

֍ چناچہ امام ابن حزمؒ اپنی کتاب میں باغیوں کے متعلق باب قائم کرتے ہیں تو اہل صفین یعنی نواصب اور خوارج کو باغیوں کی پہلی قسم میں درج درتے ہیں چناچہ وہ لکھتے ہیں:

 

فكان قتال المسلمين فيما بينهم على وجهين : قتال البغاة ، وقتال المحاربين - فالبغاة قسمان لا ثالث لهما : إما قسم خرجوا على تأويل في الدين فأخطئوا فيه ، كالخوارج وما جرى مجراهم من سائر الأهواء المخالفة للحق .

وإما قسم أرادوا لأنفسهم دنيا فخرجوا على إمام حق ، أو على من هو في السيرة مثلهم ، فإن تعدت هذه الطائفة إلى إخافة الطريق ، أو إلى أخذ مال من لقوا ، أو سفك الدماء هملا : انتقل حكمهم إلى حكم المحاربين ، وهم ما لم يفعلوا ذلك في حكم البغاة .

 

مسلمانوں کے آپس میں قتال کی دو صورتیں ہیں:

باغیوں سے قتال اور محاربین سے قتال

باغی دو قسم کے ہوتے ہیں، ان میں کوئی تیسری قسم نہیں ہے:

پہلی قسم وہ ہے جو دین میں تاویل کی بنیاد پر بغاوت کرتے ہیں اور اس میں غلطی کرتے ہیں، جیسے خوارج اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے تمام گمراہ لوگ۔

دوسری قسم وہ ہے جو اپنی دنیاوی خواہشات کے لیے بغاوت کرتے ہیں اور کسی جائز امام یا اپنے جیسے شخص کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ اگر یہ گروہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے، ان سے مال چھیننے یا بے گناہ خون بہانے تک پہنچ جائے تو ان کا حکم محاربین کے حکم میں بدل جاتا ہے، اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتے تب تک وہ باغیوں کے حکم میں رہتے ہیں۔

 

فالقسم الأول من أهل البغي يبين حكمهم : ما نا هشام بن سعد الخير نا عبد الجبار بن أحمد المقرئ نا الحسن بن الحسين البجيرمي نا جعفر بن محمد الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو داود الطيالسي نا شعبة أخبرني أيوب السختياني ، وخالد الحذاء ، كلاهما قال : عن الحسن البصري أخبرتنا أمنا عن أم سلمة : { أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في عمار تقتلك الفئة الباغية } قال أبو محمد رحمه الله : وإنما قتل عمار رضي الله عنه - أصحاب معاوية رضي الله عنه وكانوا متأولين تأويلهم فيه - وإن أخطئوا الحق - مأجورون أجرا واحدا : لقصدهم الخير .

 

پہلے قسم کے باغیوں کا حکم اس حدیث سے واضح ہوتا ہے جو ہشام بن سعد خیر نے عبد الجبار بن احمد المقرئ سے روایت کی ہے، انہوں نے الحسن بن الحسین البجيرمي سے، انہوں نے جعفر بن محمد الأصبهاني سے، انہوں نے یونس بن حبيب سے، انہوں نے ابو داود الطيالسي سے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے ایوب السختياني اور خالد الحذاء سے روایت کی ہے کہ دونوں نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ ان کی والدہ نے ام سلمہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: "تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔"

 

امام ابو محمد ابن حزم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قتل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے ہاتھوں ہوا۔ اور وہ اپنے تاویل میں تشريح کر رہے تھے۔ اگرچہ وہ حق سے دور تھے، لیکن انہیں ایک ہی اجر ملے گا کیونکہ ان کا مقصد خیر تھا۔

 

ويكون من المتأولين قوم لا يعذرون ، ولا أجر لهم : كما روينا من طريق البخاري نا عمر بن حفص بن غياث نا أبي نا الأعمش نا خيثمة نا سويد بن غفلة قال قال علي : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول { سيخرج قوم في آخر الزمان ، أحداث الأسنان ، سفهاء الأحلام ، يقولون من قول خير البرية ، لا يجاوز إيمانهم حناجرهم ، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ، فأينما لقيتموهم فاقتلوهم ، فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة } .

 

اور تاویل کرنے والوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جسے کوئی عذر نہیں ہے اور ان کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ (مراد خوارج کا گروہ ہے)

جیسا کہ ہم نے بخاری کے طریق سے روایت کیا ہے، عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد سے، انہوں نے الاعمش سے، انہوں نے خيثمة سے، انہوں نے سويد بن غفلة سے روایت کی کہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آخر الزمان میں ایک قوم نمودار ہوگی۔ وہ کم عمر ہوں گے، کمزور عقل کے ہوں گے، اور اچھی باتیں کریں گے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ جہاں کہیں تم ان سے ملو، انہیں قتل کر دو۔ کیونکہ انہیں قتل کرنے والے قاتل کے لیے قیامت کے دن اجر ہے۔

 

وروينا من طريق مسلم نا محمد بن المثنى نا محمد بن أبي عدي عن سليمان هو الأعمش - عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري { أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر قوما يكونون في أمته يخرجون في فرقة من الناس ، سيماهم التحالق ، هم شر الخلق ، أو من شر الخلق ، تقتلهم أدنى الطائفتين إلى الحق } وذكر الحديث .

 

اور ہم نے مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے، محمد بن المثنیٰ نے، محمد بن ابی عدی نے، سلیمان یہ الاعمش ہیں سے، ابو نضرہ سے، ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کا ذکر کیا جو ان کی امت میں ہوگی۔ وہ لوگوں کے ایک گروہ میں سے نکلیں گے، ان کی علامت سر منڈوانا ہوگی، وہ بدترین مخلوق ہیں، یا بدترین مخلوق میں سے ہیں، انہیں حق کے قریب ترین گروہ قتل کر دے گا۔

 

قال أبو محمد رحمه الله : ففي هذا الحديث نص جلي بما قلنا ، وهو أن النبي صلى الله عليه وسلم ذكر هؤلاء القوم فذمهم أشد الذم ، وأنهم من شر الخلق ، وأنهم يخرجون في فرقة من الناس .

فصح أن أولئك أيضا : مفترقون ، وأن الطائفة المذمومة تقتلها أدنى الطائفتين المفترقتين إلى الحق ، فجعل عليه السلام في الافتراق تفاضلا ، وجعل إحدى الطائفتين المفترقتين لها دنو من الحق - وإن كانت الأخرى أولى به - ولم يجعل للثالثة شيئا من الدنو إلى الحق .

 

امام ابو محمد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث میں ہماری بات کی واضح دلیل ہے، اور وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا ذکر کیا اور ان کی سخت مذمت کی، اور وہ بدترین مخلوق میں سے ہیں، اور وہ لوگوں کے ایک گروہ میں سے نکلیں گے۔

تو یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ بھی تفرقہ میں ہیں، اور مذموم فرقہ کو حق کے قریب ترین فرقہ قتل کرے گا۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گروہوں میں ترجيح دی ہے، اور دونو گروہوں میں الگ الگ گروہ کو حق کے قریب قرار دیا، اور دوسرا گروہ اس سے زیادہ حق دار تھا، اور تیسرا گروہ (یعنی خوارج کا) حق کے قریب تر نہیں تھا۔

 

فصح أن التأويل يختلف ، فأي طائفة تأولت في بغيتها طمسا لشيء من السنة ، كمن قام برأي الخوارج ليخرج الأمر عن قريش ، أو ليرد الناس إلى القول بإبطال الرجم ، أو تكفير أهل الذنوب ، أو استقراض المسلمين ، أو قتل الأطفال والنساء ، وإظهار القول بإبطال القدر ، أو إبطال الرؤية ، أو إلى أن الله تعالى لا يعلم شيئا إلا حتى يكون ، أو إلى البراءة عن بعض الصحابة ، أو إبطال الشفاعة ، أو إلى إبطال العمل بالسنن الثابتة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ودعا إلى الرد إلى من دون رسول الله صلى الله عليه وسلم أو إلى المنع من الزكاة ، أو من أداء حق من مسلم ، أو حق لله تعالى : فهؤلاء لا يعذرون بالتأويل الفاسد ; لأنها جهالة تامة .

 

تو صحیح بات یہ ہے کہ تاویل مختلف ہوتی ہے، لہذا کوئی گروہ ہے جس نے اپنی بغاوت میں سنت کے کسی حصے کو مٹانے کی تاویل کی، جیسے کہ خوارج کے رائے پر عمل کرنے والا، تاکہ امارت کو قریش سے چھین لے، یا لوگوں کے رجم کو باطل قرار دینے، یا گنہگاروں کو کافر قرار دینے، یا مسلمانوں سے قرض لینے، یا بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے، اور تقدیر کو باطل قرار دینے کے قول کو ظاہر کرنے، یا رؤیت کو باطل قرار دینے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کچھ نہیں جانتا جب تک کہ وہ نہ ہو جائے، یا بعض صحابہ سے برائت کرنے، یا شفاعت کو باطل قرار دینے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ سنتوں پر عمل کو باطل قرار دینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دینے، یا زکوٰۃ دینے سے منع کرنے، یا کسی مسلمان کا حق، یا اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے سے منع کرنے والے: تو یہ لوگ فاسد تاویل کی وجہ سے معذور نہیں ہیں؛ کیونکہ یہ مکمل جہالت ہے۔

 

وأما من دعا إلى تأويل لا يحل به سنة ، لكن مثل تأويل معاوية في أن يقتص من قتلة عثمان قبل البيعة لعلي : فهذا يعذر ; لأنه ليس فيه إحالة شيء من الدين ، وإنما هو خطأ خاص في قصة بعينها لا تتعدى .

 

اور جہاں تک اسکا تعلق ہے جس نے ایسی تاویل کی طرف دعوت دی جو سنت میں جائز نہیں، تو یہ معاویہ کی تاویل کی طرح ہے کہ سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں سے سیدنا علیؑ کی بیعت سے پہلے قصاص لیا جائے: لہزا یہ عذر ہے؛ کیونکہ اس میں دین کے کسی حکم کو تبدیل نہیں کیا گیا، بلکہ یہ ایک خاص واقعہ میں ایک خاص غلطی ہے جو اس سے آگے نہیں بڑھتی۔

 

ومن قام لعرض دنيا فقط ، كما فعل يزيد بن معاوية ، ومروان بن الحكم ، وعبد الملك بن مروان في القيام على ابن الزبير ، وكما فعل مروان بن محمد في القيام على يزيد بن الوليد ، وكمن قام أيضا عن مروان ، فهؤلاء لا يعذرون ، لأنهم لا تأويل لهم أصلا ، وهو بغي مجرد .

 

اور جو شخص صرف دنیاوی مفاد کے لیے بغاوت کرتا ہے، جیسا کہ یزید بن معاویہ، مروان بن حکم، اور عبدالملک بن مروان نے ابن زبیر کے خلاف بغاوت کرنے میں کیا، اور جیسا کہ مروان بن محمد نے یزید بن ولید کے خلاف بغاوت کرنے میں کیا، اور جیسا کہ مروان کے خلاف بھی بغاوت کرنے والے نے کیا، تو یہ لوگ معذور نہیں ہیں، کیونکہ ان کے پاس اصلا کوئی تاویل ہی نہیں ہے، اور یہ تو واضع بغاوت ہے۔

 

وأما من دعا إلى أمر بمعروف ، أو نهي عن منكر ، وإظهار القرآن ، والسنن ، والحكم بالعدل : فليس باغيا ، بل الباغي من خالفه - وبالله تعالى التوفيق .

 

اور جو شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، قرآن اور سنت کو ظاہر کرنے، اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی دعوت دیتا ہے، وہ باغی نہیں ہے، بلکہ باغی وہ ہے جو اس کی مخالفت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ (یہاں امام ابن حزمؒ کی مراد سیدنا امام حسینؑ ہیں)

(المحلى بالآثار: جلد 11 صفحہ 333 تا 335)

 

امام ابن حزمؒ کا المحلی میں ہی یہ کلام نواصب اور خوارج کے متعلق انکا موقف بلکل واضع بیان کرتا ہے کہ وہ ان دونو گروہوں کو باغی اور امام برحق کے خلاف خروج کی وجہ سے گمراہ سمجھتے تھے، چند نقاط آپ احباب ملاحظہ کریں کہ:

1۔ امام ابن حزمؒ نے باغیوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

پہلے وہ جو تاویل کرتے ہیں اور دوسرے وہ جنکی کوئی تاویل نہیں ہے اور وہ خواہش نفسانی کے پیروکار ہیں۔

2۔ امام ابن حزمؒ نے پہلی قسم میں پہلے باغی اہل صفین وغیرہ کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بھی تاویل کی مگر وہ درست نہیں تھی مگر چونکہ بظاہر انہوں نے ایک خیر کا عذر بنایا تھا یعنی دعوی قصاص عثمانؓ، تو حسن نظر کی امید ہے انہیں اس عذر میں خیر کا اجر ملے۔

3۔ مگر امام ابن حزمؒ پہلی قسم میں پھر باغی خوارج کے متعلق لکھتے ہیں کہ خوارج کا گروہ ایسا ہے جنکی نہ تو تاویل درست ہے اور نہ ہی انکا کوئی عذر تھا جسکی ڈھال وہ لے سکتے برخلاف نواصب کے، لہزا انہوں نے خوارج کے متعلق صحیحین کی احادیث بیان کی اور انہیں واجب القتل اور دنیا کی بدترین مخلوق قرار دیا ہے۔ یہ چیز امام ابن حزمؒ کا خوارج بشمول ابن ملجم وغیرہ کے متعلق انکا عقیدہ و منہج بتانے کیلیے صریح دلیل ہے۔

4۔ امام ابن حزمؒ پھر ان گروہوں کی تاویل و اجتہاد وغیرہ پہ بھی بات کرتے ہیں کہ اگر تاویل کرنے والے شرعی نصوص اور سنت رسول ﷺ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تاویل کریں تو نہ تو انکی تاویل درست ہے اور نہ ہی انکی تاویل کی وجہ سے انکا عذر قبول ہے، نہ ہی یہ کوئی اجتہاد ہے بلکہ یہ صریح جہالت ہے۔ امام ابن حزمؒ کا یہ کلام اس بات کی بھی بلکل واضح دلیل ہے کہ امام ابن حزمؒ نے جویہ بات لکھی تھی کہ ابن ملجم اور خوارج نے جو سیدنا علی المرتضیؑ کے قتل کے متعلق تاویل و اجتہاد کیا تھا وہ امام ابن حزمؒ کے نزدیک باطل اور جہالت ہے۔ نہ تو اسکا اجتہاد امام ابن حزمؒ کے نزدیک قبول ہے اور نہ ہی اسکی تاویل۔

5۔ امام ابن حزمؒ انکا ذکر کرتے ہیں جو صرف دنیاوی خواہش نفسانی کی پیروی کرتے ہوئے بغاوت کرتے ہیں، جن میں امام ابن حزمؒ نے بنو امیہ کے لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ چیز امام ابن حزمؒ کا بنو امیہ کے متعلق موقف بھی بلکل واضع کرتا ہے کہ بنو امیہ کے باغیوں کی اوقات امام ابن حزمؒ کے نزدیک کیا تھی۔

6۔ امام ابن حزمؒ نے آخر میں یہ بات کرکے یہ بھی بتا دیا کہ جو لوگ دین کو قائم کرنے کیلیے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلیے قیام کرتے ہیں تو وہ لوگ باغی نہیں ہوتے بلکہ وہاں باغی انکے مخالفین ہوتے ہیں اگرچہ حکومت انکے پاس کیوں نہ ہو۔ یہاں امام ابن حزمؒ کی مراد سیدنا امام حسینؑ واقعہ کربلا اور واقعہ حرہ میں شامل ہونے والے صحابہ کرامؓ اور تابعین کرامؒ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ساری تحریر سے آپ احباب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امام ابن حزمؒ کا ابن ملجم اور خوارج کے متعلق کیا موقف ہے اور نواصب کے متعلق کیا موقف ہے۔ امام ابن حزمؒ نے ابن ملجم کی ذاتی تاویل و اجتہاد کو بیان کیا ہے تو نواصب کے ابو جہل اس میں تحریف کرکے اسے امام ابن حزمؒ کے سر تھوپ رہے ہیں جبکہ امام ابن حزمؒ نے اپنی اسی کتاب میں خوارج کی ایسی تاویل کو جہالت اور باطل قرار دیا ہے۔ مزید امام ابن حزمؒ نے ابن ملجم کو ملعون قرار دیا ہے، اس پہ لعنت کی ہے۔ یہاں انکے کلام کا اول و آخر ناسخ منسوخ ہونا ممکن ہی نہیں کیونکہ ایک جگہ امام ابن حزمؒ ابن ملجم کو ملعون قرار دیتے ہوئے اپنا موقف بیان کررہے ہیں اور دوسری جگہ امام ابن حزمؒ کا کلام انکا اپنا موقف بتانا نہیں ہے بلکہ وہ ابن ملجم کا موقف بتانا ہے۔ لہزا دونو کلام کی نوعیت ہی مختلف ہے، اور جہلاء اس سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔

نیز بعض ابو جہل قسم کے لوگوں کو دیکھا ہے کہ انہیں نواصب و خوارج کی تفریق ہی معلوم نہیں ہے، وہ بات خوارج کے متعلق کریں گے تو الزام ناصبی ہونے کا لگائیں گے، اس کی وضاحت کیلیے ہم نے عوام الناس کو بتانے کیلیے تحریر کے شروع میں ہی نواصب اور خوارج کی تفریق واضع بیان کردی ہیں کہ امیر شام حضرت معاویہ کے پیروکاروں کو ناصبی قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ خوارج تو سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؑ کے ساتھ ساتھ کثیر صحابہ کرامؓ کی تکفیر کرتے تھے۔ یہ بنیادی فرق اور بنیادی تعریف بھی جس کو معلوم نہیں تو اسے ابو جہل کہنا بلکل بجا ہے۔

لہزا معلوم ہوا کہ امام ابن حزمؒ کو ناصبی کہنا کذب ہے۔ اور الحمد اللہ امام ابن حزمؒ اس قسم کے تمام الزامات سے مطلقا بری ہیں، اور آپؒ اہل سنت کے آئمہ میں سے جلیل القدر امام ہیں بلکل ویسے ہی جیسے امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ہمارے امام ہیں۔

اللہ تعالی ہم سب کو آئمہ اہل سنت سے محبت کرنے والا بنائے، اور نواصب کے حملوں سے انکا دفاع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اللہ تعالی ہمیں خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا مولا علی المرتضیؑ کا دفاع کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نواصب کو غارت فرمائے۔آمین

تحریر و تحقیق: ابو الحسنین ڈاکٹرشہزاد احمد آرائیں۔