-->

اے اللہ کے بندو میری مدد کرو - روایت کی تحقیق


تحقیق: ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں   

 

روایت نمبر: 1:
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا
مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ‌إِذَا ‌انْفَلَتَتْ ‌دَابَّةُ ‌أَحَدِكُمْ ‌بِأَرْضِ ‌فَلَاةٍ ‌فَلْيُنَادِ: يَا عِبَادَ اللهِ، احْبِسُوا عَلَيَّ، يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ حَاضِرًا سَيَحْبِسُهُ عَلَيْكُمْ "
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی سواری بیاباں میں چھوٹ جائے تو اس (شخص) کو (یہ) پکارنا چاہیے , اے اﷲ کے بندو! میری سواری پکڑا دو، اے اﷲ کے بندو! میری سواری پکڑا دو کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے بہت سے (ایسے) بندے اس زمین میں ہوتے ہیں، وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔


حوالہ جات:

 1۔ المعجم الکبیر طبرانی: جلد 10، صفحہ 217، رقم 10518۔

2۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 10، صفحہ 132، رقم 17105۔

سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة: جلد 2، صفحه 108، رقم 655۔

4۔ مسند أبي يعلى: جلد 9، صفحه 177، رقم 5269۔

5۔ ضعيف الجامع الصغير وزيادته: صفحه 58، رقم 404۔

6۔ عمل اليوم والليلة لابن السني: صفحه 455، رقم 508۔

 

حكم حديث:

علت نمبر 1: ان تمام حوالہ جات میں ایک راوی (معروف بن حسان سمرقندی) ضعیف ہے۔ اسکے ضعف کی جرح کے دلائل:
1۔ امام ھیثمی: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 10، صفحہ 132، رقم 17105۔

وَفِيهِ مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ۔
2۔ امام ذھبی: میزان اعتدال: جلد 4، صفحہ 143۔
قال ابن عدي: منكر الحديث۔
3۔ شیخ البانی: 
سلسلة الأحاديث والموضوعة: جلد 2، صفحه 108، رقم 655۔

حکم البانی: ضعیف، سند ضعیف۔ اس کی جتنے طریق ہیں ان میں راوی معروف بن حسان سمرقندی ہے اور سند ضعیف ہے۔اور اس میں دیگر علتیں بھی موجود ہیں۔
4۔ محقق شیخ  حسين سليم أسد:
 مسند أبي يعلى: جلد 9، صفحه 177، رقم 5269۔
حسین سلیم اسد بھی مسند ابی یعلی کی تحکیم میں اس روایت پہ ضعیف کا حکم لگاتے ہیں۔

علت نمبر 2: قتادۃ مدلس ہے اور عن سے روایت کررہا ہے، لہزا تدلیس کی وجہ سے بھی اسکی سند ضعیف ہے۔

(طبقات المدلسین: صفحہ 43، رقم 92)۔

روايت نمبر 2:
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثَنَا
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ‌إِذَا ‌أَضَلَّ ‌أَحَدُكُمْ ‌شَيْئًا ‌أَوْ ‌أَرَادَ ‌أَحَدُكُمْ ‌عَوْنًا ‌وَهُوَ ‌بِأَرْضٍ ‌لَيْسَ ‌بِهَا ‌أَنِيسٌ، فَلْيَقُلْ: يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ " وَقَدْ جُرِّبَ ذَلِكَ۔
حضرت عتبہ بن عزوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے اور وہ کوئی مدد چاہے اور وہ ایسی جگہ ہو کہ جہاں اس کا کوئی مدد گار بھی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ کہے : اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، یقینًا اﷲ تعالیٰ کے ایسے بھی بندے ہیں جنہیں ہم دیکھ تو نہیں سکتے (لیکن وہ لوگوں کی مدد کرنے پر مامور ہیں) اور یہ تجربہ شدہ بات ہے۔

حواله جات:

1۔ المعجم الكبير للطبراني: جلد 17، صفحه 117، رقم 290۔

2۔ سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة: جلد جلد 2، صفحه 109، رقم 656۔
3۔ ضعيف الجامع الصغير وزيادته: صفحه 55، رقم 383۔
4۔ الفتح الكبير: جلد 1، صفحه 78، رقم 734۔
5۔ جامع الأحاديث: جلد 2، صفحه 349، رقم 1409۔

6۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 10، صفحه 132، رقم 17103۔

7۔ كنزل الاعمال: جلد 6، صفحه 706، رقم 17498۔

8۔ الجامع الصغير وزيادته: صفحه 1396، رقم 1396۔

حكم حديث:

شیخ البانی نے اس روایت ضعیف کہا ہے:  ضعيف الجامع الصغير وزيادته: صفحه 55، رقم 383۔
علت نمبر 1:
اس میں ایک راوی (
عبد الرحمن بن شريك وهو ابن عبد الله القاضي) کثیر الخطاء راوی ہے، اسکی جرح کے دلائل:
1۔ اسکو شیخ البانی نے ضعیف لکھا ہے (
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة: جلد جلد 2، صفحه 110، رقم 656)۔

2۔ قال أبو حاتم: واهي الحديث (یہ حدیث میں کمزور ہے). وقال ابن حبان في الثقات: ربَّما أخطأ (ان سے غلطی ہوسکتی ہے) (تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 5، صفحہ 424، رقم 3915)۔
3۔ امام ھیثمی ایک راویت پہ لکھتے ہیں کہ عبدالرحمن بن شریک اپنے والد کے اختیار پہ ہے اور ان دونو ثقہ بھی ہیں اور ضعیف بھی۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 8، صفحہ 68، 12979)


علت نمبر 2:

اس ميں ايك دوسرا راوي شريك بن عبدالله القاضى الكوفي كے حافظے په جرح هے، دلائل:

1۔ حافظ ابن حجر العسقلانی (المتوفی 852) شریک کے متعلق فرماتے ہیں: "صدوق يخطىء كثيرا تغير حفظه منذ ولي القضاء بالكوفة وكان عادلا فاضلا عابدا شديدا على أهل البدع" "صدوق کثیر غلطیاں کرتے تھے، ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا جب سے انہوں نے کوفہ میں قضاءۃ کا عہدہ سنبھالا، اور وہ عادل فاضل عابد اور اہل البدعت پر شدید رد کرنے والے تھے" (تقريب التهذيب: صفحه 266، رقم 2787)۔

2۔ امام هيثمي (لمتوفي 807) لكهتے هيں كه شريك بن عبدالله یہ ثقہ بھی ہے اور اس میں ضعف بھی ہے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 10، صفحہ 347، رقم 18376)

علت نمبر 3:
اس میں دو راویوں
زید بن علی اور عتبہ عزوان رضی اللہ عنہ کی ملاقات اور انکا سماع ثابت نہیں ہے، اور اسطرح یہ روایت منقطع ہے۔ جيسا كه امام هيثمي نے بهي زكر كيا  كه اسكے راوی ثقہ ہیں اور بعض میں ضعف پایا جاتا ہے یہاں تک کہ زید بن علی عتبہ تک نہیں پہنچے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 10، صفحه 132، رقم 17103۔)

 

مندرجہ بالا تمام تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کہ یہ دونو اسناد ضعیف ہیں۔