صحابہ کرام کی مساجد میں آمین کی گونج
﴿صحابہ کرام کی مساجد میں آمین کی گونج ﴾
استاد الآئمہ مجدد امام محمد بن
ادریس الشافعی (المتوفی 204ھ) روایت کرتے ہیں:
أخبرنا مسلم بن خالد، عن ابن جريج،
عن عطاء، قال: كنت أسمع الأئمة من ابن الزبير ومن بعده، يقولون: آمين، ومن خلفهم، حتى
إن للمسجد للجة
امام عطاء بن ابی رباحؒ سے روایت
ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن زبیر اور انکے بعد کے آئمہ کرام کو سنتا تھا کہ وہ آمین کہتے تھے اور ان کے پیچھے
مقتدی بھی آمین کہتے تھے یہاں تک کہ مسجد میں گونج پیدا ہوجاتی تھی۔
(مسند الشافعي - ترتيب سنجر:
جلد 1 صفحہ 265 رقم 217)
کتاب کے محقق شیخ ماہر بن یاسین الفحل اسے صحیح قرار
دیتے ہیں۔
مندرجہ بالا موقوف اثر کی اس سند پہ دو بنیادی اعتراض
کیے جاتے ہیں، اول ابن جریج مدلس ہے اور عنعنہ سے روایت کو بیان کررہا ہے، دوسرا مسلم
بن خالد ضعیف راوی ہے۔ جیسا کہ امام محمد ناصر الدین البانیؒ نے انہیں بیان کیا ہے۔
(سلسلة الأحاديث الضعيفة
والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة: جلد 2 صفحہ 368)
البتہ شیخ البانیؒ نے ہی اسی صفحے پہ پھر اس اثر کی تصحیح
بھی دیگر دلائل ملنے پہ کر رکھی ہے تاکہ اس پہ بحث واضح ہوسکے اور ہم ان اعتراضات
کا جواب مزید احسن طریقے سے دلائل سے واضح کرتے ہیں ۔
❶ ابن جریج کا عنعنہ:
پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ابن جریج اگرچہ مدلس ہیں
مگر جب یہ عطاء سے روایت کرتے ہیں تو انکی روایت سماع پہ محمول کی جاتی ہے، اسکی
دلیل مندرجہ ذیل ہے:
امام ابو بکر احمد بن ابی خیثمہؒ (المتوفی 279ھ) روایت کرتے ہیں:
حدثنا إبراهيم بن عرعرة، قال: نا يحيى
بن سعيد القطان، عن ابن جريج قال: إذا قلت: قال عطاء فأنا سمعته منه، وإن لم أقل
سمعت
امام ابن جریج سے روایت ہے کہ وہ
کہتے ہیں: جب میں کہوں کہ امام عطاء نے یہ کہا تو میں نے یہ ان سے سنا ہوتا ہے
اگرچہ میں یہ نہ کہوں کہ (سمعت) میں نے ان سے سنا ہے۔
(التاريخ الكبير لابن أبي
خيثمة - أخبار المكيين - ط الوطن: صفحہ 356 رقم 350)
اسی قول کی بنیاد پہ امام محمد
ناصر الدین البانیؒ (المتوفی 1420ھ) کہتے ہیں:
وابن جريج وإن كان مدلسا، فروايته عن
عطاء محمولة على السماع لقوله هو نفسه
اور ابن جریج اگرچہ وہ مدلس ہیں
مگر انکی عطاء سے روایت انکے اپنے اس قول کی وجہ سے سماع پہ محمول ہوتی ہے۔
(سلسلة الأحاديث الصحيحة
وشيء من فقهها وفوائدها: جلد 4 صفحہ 352)
اور شیخ زبیر علی زئیؒ اس قول کے
متعلق کہتے ہیں:
وفيه فائدة بأن عنعنة ابن جريج عن عطاء
محمولة على السماع.
اور اس میں یہ فائدہ ہے کہ ابن
جریج کا عطاء سے عنعنہ سماع پہ محمول ہوتا ہے۔
(الفتح المبين في تحقيق طبقات
المدلسين: صفحہ 102)
❷ مسلم بن خالد کی متابعت:
اسکے علاوہ مسلم بن خالد اگرچہ ضعیف راوی ہے مگر اس روایت کو بیان کرنے میں اسکا
تفرد نہیں ہے بلکہ اس روایت کو امام عبد الرزاقؒ نے بھی ابن جریج سے روایت کیا ہے
اور یوں ثقہ راوی کی متابعت ملنے سے ضعیف راوی کا تفرد باقی نہیں رہتا اور روایت
صحیح ثابت ہوجاتی ہے۔
امام عبد الرزاق (المتوفی 211ھ) روایت کرتے ہیں:
عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال: قلت
لعطاء: آمين؟ قال: لا أدعها أبدا على إثر أم القرآن في المكتوبة والتطوع. قال: ولقد
كنت أسمع الأئمة يقولون على إثر أم القرآن آمين، هم أنفسهم ومن وراءهم حتى إن للمسجد
للجة
امام ابن جریج سے روایت کہ وہ کہتے
ہیں: میں نے امام عطاء سے آمین کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں اسے فرض اور
نفلی نمازوں میں ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) کے بعد کبھی نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے کہا:
میں آئمہ کرام کو ام القرآن کے بعد آمین کہتے ہوئے سنتا تھا، وہ خود بھی اور انکے
مقتدی بھی کہتے تھے یہاں تک کہ مسجد میں گونج پیدا ہوجاتی تھی۔
(المصنف - عبد الرزاق - ط
التأصيل الثانية: جلد 2 صفحہ 387 رقم 2725)
لہزا واضح ہوا کہ امام عبد الرزاقؒ
کی روایت میں مسلم بن خالد کی متابعت موجود ہے، نیز اس روایت میں ابن جریج نے عطاء
سے روایت کرتے ہوئے سماع کی صراحت بھی بیان کی ہے کہ انہوں نے عطاء سے اسکے متعلق
سوال کیا تو انہوں نے یہ بیان فرمایا جوکہ اس روایت میں سماع کی واضح دلیل ہے۔
جیسا کہ امام عبد الرزاقؒ اسے ایک
اور مقام پہ بھی نقل کرتے ہیں کہ:
عبد الرزاق، عن ابن جريج، عن عطاء قال:
قلت له: أكان ابن الزبير يؤمن على إثر أم القرآن؟ قال: نعم، ويؤمن من وراءه حتى إن
للمسجد للجة، ثم قال: إنما آمين دعاء، قال: وكان أبو هريرة يدخل المسجد وقد قام الإمام
قبله، فيقول ويناديه: لا تسبقني بآمين
ابن جریج سے روایت ہے کہ وہ عطاء
سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے سوال کیا کہ کیا سیدنا ابن زبیر ام القرآن کے
بعد آمین کہتے تھے؟ انہوں نے کہا:ہاں اور انکے پیچھے مقتدی بھی آمین کہتے تھے یہاں
تک کہ مسجد میں گونج پیدا ہوجاتی تھی۔ پھر انہوں نے بتایا کہ آمین تو ایک دعا ہے۔
انہوں نے کہا: سیدنا ابو ہریرہ مسجد میں داخل ہوتے اور امام ان سے پہلے کھڑا ہوچکا ہوتا تو اسے
آواز دیکر فرماتے: مجھ سے پہلے آمین نہ کہنا۔
(المصنف - عبد الرزاق - ط
التأصيل الثانية: جلد 2 صفحہ 386 رقم 2722)
لہزا مندرجہ بالا تحقیق سے یہ بلکل واضح ہے کہ یہ روایت
صحیح ثابت ہے۔ اور امام شافعیؒ کی روایت پہ اعتراض اس روایت کی صحت پہ کوئی اثر
نہیں ڈالتے بلکہ یہ موقوف اثر صحیح ثابت ہوتا ہے۔
❸ امام بخاریؒ اور دیگر آئمہ کا اس روایت پہ حکم:
اس اثر کو امام محمد بن اسماعیل بخاری (المتوفی 256ھ) بھی تعلیقا نقل کرتے ہیں:
باب جهر الإمام بالتأمين وقال عطاء آمين دعاء أمن ابن الزبير
ومن وراءه حتى إن للمسجد للجة وكان أبو هريرة ينادي الإمام لا تفتني بآمين
(صحيح البخاري - ط السلطانية:
جلد 1 صفحہ 156)
اسی طرح امام ابو زکریا یحیی بن شرف النووی (المتوفی
676ھ) کہتے ہیں:
رواه الشافعي بإسناد صحيح، أو حسن
اسے امام شافعیؒ نے صحیح یا حسن اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(خلاصة الأحكام: جلد 1
صفحہ 381 رقم 1193)
اسی طرح ایک اور مقام پہ امام نووی کہتے ہیں:
وذكر البخاري في صحيحه هذا الاثر عن
ابن الزبير تعليقا فقال قال عطاء ابن الزبير ومن وراءه حتى إن للمسجد للجة وقد قدمنا
أن تعليق البخاري إذا كان بصيغة جزم مثل هذا كان صحيحا عنده وعند غيره
اور امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں
اس اثر کو سیدنا عبد اللہ بن زبیر سے تعلیقا ذکر کیا ہے، چناچہ انہوں نے کہا: عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا ابن زبیرؓ
اور انکے پیچھے مقتدی (آمین کہتے تھے) یہاں تک کہ مسجد گونج اٹھتی تھی۔ اور ہم پہلے
بیان کرچکے ہیں کہ امام بخاریؒ کی تعلیق جب اسطرح صیغہ جزم کے ساتھ ہو تو وہ انکے
اور دیگر محدثین کے نزدیک صحیح ہوتی ہے۔
(المجموع شرح المهذب - ط
المنيرية: جلد 3 صفحہ 370)
لہزا معلوم ہوا کہ امام نوویؒ کے
مطابق امام بخاریؒ نے اسے صیغہ جزم کے ساتھ تعلیقا نقل اسی وجہ سے کیا ہے کہ امام
بخاریؒ نے نزدیک بھی یہ روایت صحیح ہے۔ یہ قائدہ بیان کرنے میں امام نوویؒ کا تفرد
نہیں ہے بلکہ دیگر آئمہ محدثین نے بھی اسے بیان کیا ہے۔
امام ابو حفص عمر بن علی ابن الملقنؒ
(المتوفی 804ھ) کہتے ہیں:
وهذا تعليق (وهو) بصيغة جزم فيكون صحيحا
وأنكر شيخنا فتح الدين اليعمري على (بعض الفضلاء - وعنى به) النووي - حيث قال: إن مثل
هذا التعليق من البخاري يقتضي الصحة، وقال: إنه ليس بشيء. ولم يظهر لي وجه ذلك؛ فإن
هذا مقرر في علوم الحديث كما ذكره النووي
اور یہ تعلیق ہے جو صیغہ جزم کے
ساتھ ہے لہزا یہ صحیح ہوگی۔ اور ہمارے شیخ فتح الدین الیعمری نے بعض فضلاء پہ نکیر
کی ہے اور ان سے انکی مراد امام نوویؒ ہیں جب انہوں نے کہا: امام بخاریؒ کی جانب
سے اسطرح کی تعلیق صحت کا تقاضہ کرتی ہے۔ اور انہوں نے کہا: یہ بات کچھ بھی نہیں
ہے۔جبکہ مجھ پہ اس اعتراض کی وجہ واضح
نہیں ہوسکی کیونکہ یہ بات علومِ حدیث میں مقرر ہے جیسا کہ امام نوویؒ نے ذکر کیا
ہے۔
(البدر المنير في تخريج الأحاديث
والأثار الواقعة في الشرح الكبير: جلد 4 صفحہ 90)
امام ابن ملقن کا کلام بلکل واضح
ہے کہ علوم حدیث کا یہ قائدہ ہے کہ امام بخاریؒ جب صیغہ جزم کے ساتھ تعلیقا کوئی
روایت بیان کرتے ہیں تو وہ انکے نزدیک صحیح کا درجہ رکھتی ہے اور انکے نزدیک اس پہ اعتراض کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
اسی طرح امام ابو محمد عبد الرحیم بن الحسن الاسنویؒ (المتوفی 772ھ) کہتے ہیں:
واعلم أن البخاري ذكر هذا الأثر تعليقا،
أي: بغير إسناد، فاعلمه. فإن كلام المصنف قد يوهم خلافه، إلا أن تعليقات البخاري هكذا
صحيحة إذا كانت بصيغة جزم
اور یہ جان لو کہ امام بخاریؒ نے
اس اثر کو تعلیقا ذکر کیا ہے، یعنی بغیر اسناد کے۔ پس اسے ملحوظ رکھو کیونکہ مصنف
کا کلام اسکے برخلاف وہم پیدا کرسکتا ہے۔ تاہم امام بخاریؒ کی اس طرح کی تعلیقات
صحیح ہوتی ہیں جب وہ صیغہ جزم کے ساتھ ہوں۔
(الهداية إلى أوهام الكفاية:
جلد 20 صفحہ 78)
اختصار کے پیش نظر میرے خیال میں
اتنے اقوال کافی ہیں۔ چناچہ واضح ہوا کہ امام بخاریؒ کے نزدیک بھی یہ روایت صحیح
ہے۔
اسی طرح المجتہد امام ابن حزم الظاہری اس اثر سے اپنی کتاب المحلی میں
حجت پکڑتے ہیں:
(المحلى بالآثار: جلد 2
صفحہ 294)
امام ابن حزمؒ نے اپنی کتاب کے مقدمے
میں فرماتے ہیں:
وليعلم من قرأ كتابنا هذا أننا لم
نحتج إلا بخبر صحيح من رواية الثقات مسند ولا خالفنا إلا خبرا ضعيفا فبينا ضعفه،
أو منسوخا فأوضحنا نسخه. وما توفيقنا إلا بالله تعالى
جو شخص ہماری اس کتاب کو پڑھے جان
لے کہ ہم صرف ثقہ راویوں سے مسند مروی ہونے والی صحیح خبر کو ہی حجت بنایا ہے، اور
ہم نے صرف ضعیف خبر کی مخالفت کی ہے اور اسکا ضعف واضح کیا ہے یا منسوخ خبر کی
مخالفت کی ہے اور اسکا منسوخ ہونا واضح کیا ہے۔ اور ہماری توفیق تو صرف اللہ ہی کی
طرف سے ہے۔
(المحلى بالآثار: جلد 1
صفحہ 21)
چناچہ معلوم ہوا کہ امام ابن حزم کے نزدیک بھی یہ اثر بلکل صحیح ہے۔
اسی طرح علامہ شمس الدین محمد بن ابی
العباس الرملیؒ (المتوفی 1004ھ) اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
(نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج:
جلد 1 صفحہ 491)
علامہ ابو بکر عثمان بن محمد
الدمیاطیؒ (المتوفی 1310ھ) بھی اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
(إعانة الطالبين على حل ألفاظ
فتح المعين: جلد 1 صفحہ 173)
اسی طرح امام محمد ناصر الدین
البانیؒ مصنف عبد الرزاق کی سند کی بنیاد پہ اس اثر کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
(مختصر صحيح الإمام البخاري:
جلد 1 صفحہ 244)
اسی طرح شیخ کمال بن السید سالم اس
کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
(صحيح فقه السنة وأدلته وتوضيح
مذاهب الأئمة: جلد 1 صفحہ 547)
مسند الشافعی کے محقق شیخ ماہر بن
یاسین الفحل بھی اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
(مسند الشافعي - ترتيب سنجر:
جلد 1 صفحہ 265 رقم 217)
اسی طرح شیخ مصطفی العدوی بھی اسے
صحیح قرار دیتے ہیں۔
(فقه السنة ت العدوی:
جلد 1 صفحہ 269)
مختصرا ہم نے مندرجہ بالا محدثین کے حوالہ جات بطور
تاعید نقل کیے ہیں جنہوں نے اس اثر کو صحیح و ثابت قرار دیا ہے اور ہمارے نزدیک
بھی یہ اثر بلکل صحیح و ثابت ہے اور تمام تعریفیں اللہ ہی کیلیے ہیں جس نے ہمیں اس
قابل بنایا کہ ہم اسکے دین کی خدمت کرسکیں۔
❹ آمین
بالجہر کے متعلق فقہاء کرام کے اقوال:
وبه قال عطاء، والأوزاعي، واختلف فيه عن الأوزاعي، فحكى الوليد بن مسلم عنه أنه كان يرى الجهر بآمين، وحكى عنه الوليد بن يزيد أنه قال: خمس يخفيهن الإمام، فذكر آمين. وقال أحمد: يجهر بآمين، وبه قال إسحاق، ويحيى بن يحيى، وسليمان بن داود، وأبو خيثمة، وأبو بكر بن أبي شيبة، وقال أبو هريرة، وهلال بن يساف: آمين اسم من أسماء الله. وكان أصحاب الرأي يرون أن يخفي الإمام آمين، وقال سفيان الثوري: فإذا فرغت من قراءة فاتحة الكتاب فقل: آمين تخفيها
اور یہی امام عطاء بن ابی رباحؒ اور امام اوزاعیؒ کا قول ہے، اور امام اوزاعی سے روایت کرنے میں اختلاف ہوا ہے، چناچہ ولید بن مسلم نے ان سے حکایت کیا ہے کہ وہ بلند آواز سے آمین کہنے کے قائل تھے اور ان سے ولید بن یزید نے حکایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں امام آہستہ کہے گا اور انہوں نے آمین کا ذکر کیا۔ اور امام احمد بن حنبلؒ نے کہا: آمین بلند آواز سے کہی جائے گی۔ اور یہی امام اسحاق بن راہویہؒ، امام یحیی بن یحییؒ، امام سلیمان بن داودؒ، امام ابو خیثمہؒ، امام ابکر بن ابی شیبہؒ کا بھی قول ہے۔ اور سیدنا ابو ہریرہؓ اور امام ہلال بن یسافؒ نے کہا: آمین اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور اصحابِ رائے کی رائے یہ ہے کہ امام آہستہ آمین کہے، اور امام سفیان الثوریؒ نے کہا: جب تم سورۃ الفاتحہ سے فارغ ہوجاؤ تو آہستہ آواز میں آمین کہو۔
اسی طرح امام بخاریؒ کا قول بھی
یہی ہے کہ آمین اونچی آواز میں کہی جائے گی، جسکا حوالہ ہم صحیح بخاری سے اوپر نقل
کرچکے ہیں۔ نیز یہی قول امام ابن حزم ظاہریؒ کا بھی ہے۔
چناچہ امام ابن حزم ظاہری کہتے ہیں:
وأما قول: آمين فإنه كما ذكرنا يقوله
الإمام والمنفرد ندبا وسنة، ويقولها المأموم فرضا
اور جہاں تک آمین کہنے کا تعلق ہے
تو جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ امام اور منفرد کیلیے آمین کہنا سنت ہے اور مقتدی کیلیے
آمین کہنا فرض ہے۔
(المحلى بالآثار: جلد 2
صفحہ 293)
اسی طرح مزید کہتے ہیں:
فأما أحمد وإسحاق، وداود وجمهور أصحاب
الحديث فيرون الجهر بها للإمام، والمأموم، وبه نقول؛ لأن الثابت عن رسول الله - صلى
الله عليه وسلم -: الجهر
اور امام احمد بن حنبلؒ، امام
اسحاق بن راہویہؒ، امام داؤد ظاہریؒ اور جمہور اصحاب الحدیث امام اور مقتدی دونو
کیلیے آمین اونچی آواز میں کہنے کے قائل تھے، اور یہی ہم بھی کہتے ہیں کیونکہ رسول
اللہ سے آمین اونچی کہنے ہی ثابت ہے۔
(المحلى بالآثار: جلد 2 صفحہ
295)
اور جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے
کہ جب امام قرائت کرتے ہوئے سورۃ الفاتحہ کو مکمل کرے تو امام اور متقدی آمین
کہیں۔
اسی طرح امام ابو محمد حرب بن اسماعیل الکرمانیؒ (المتوفی 280ھ) کہتے ہیں:
سمعت أحمد بن حنبل يقول: «يجهر الإمام
ومن خلفه بـ: «آمين»
میں نے امام احمد بن حنبلؒ کو یہ کہتے
ہوئے سنا کہ امام اور اسکے پیچھے موجود مقتدی بلند آواز سے آمین کہیں گے۔
(مسائل حرب الكرماني كتاب
الطهارة والصلاة - ت السريع: صفحہ 418)
امام ابن رجب الحنبلیؒ (المتوفی
795ھ) کہتے ہیں:
دل هذا الحديث على أن الإمام والمأمومين
يؤمنون جميعا، وهذا قول جمهور أهل العلم. روي عن أبي بكر وعمر وابن عمر وأبي هريرة.
وقال عطاء: لقد كنت أسمع الآئمة يقولون
على إثر أم القرآن: أمين، هم أنفسهم ومن وراءهم، حتى إن للمسجد للجة.
وبهذا قال الثوري وأبو حنيفة والأوزاعي
وابن المبارك والشافعي وأحمد وإسحاق وأبو عبيد. وهو رواية المدنيين عن مالك واختيارهم
وروى ابن القاسم، عن مالك، أن الإمام لا يؤمن، إنما يؤمن من خلفه، وهو اختيار المصريين
من أصحابه
یہ حدیث اس پہ دلالت کرتی ہے کہ
امام اور تمام مقتدی سب کے سب آمین کہیں گے۔ یہی جمہور اہل علم کا قول ہے۔ یہی
سیدنا ابو بکر الصدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے۔ اور امام عطاء بن ابی رباحؒ نے کہا: میں آئمہ کو سنتا
تھا کہ وہ ام القرآن کے بعد آمین کہتے تھے، وہ خود بھی اور انکے پیچھے مقتدی بھی
یہاں تک کہ مسجد گونج اٹھتی تھی۔ اور یہی امام سفیان الثوریؒ ، امام ابو حنیفہؒ،
امام اوزاعیؒ، امام ابن مبارکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام اسحاق بن
راہویہؒ اور امام ابو عبیدؒ کا قول ہے۔ اور امام مالکؒ سے اہل مدینہ کی یہی روایت
ہے اور انکا اختیار کردہ قول ہے۔ اور ابن القاسمؒ نے امام مالکؒ سے یہ روایت کیا
ہے کہ امام آمین نہیں کہے گا بلکہ اسکے پیچھے مقتدی آمین کہیں گے، انکے اصحاب میں
سے اہل مصر کا یہ اختیار کردہ قول ہے۔
(فتح الباري لابن رجب:
جلد 7 صفحہ 95)
اسی طرح امام ابو محمد حسین بن
مسعود البغویؒ (المتوفی 516ھ) کہتے ہیں:
وذهب جماعة من الصحابة، والتابعين
فمن بعدهم إلى الجهر بالتأمين، وبه يقول الشافعي، وأحمد، وإسحاق، قال عطاء: كنت
أسمع الأئمة، وذكر ابن الزبير ومن بعده يقولون: آمين، ويقول من خلفه: آمين، حتى إن
للمسجد للجة
اور صحابہ کرام، تابعین اور انکے
بعد کے علماء میں سے ایک جماعت آمین کو اونچا کہنے کی طرف گئی ہے۔ یہی امام
شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام اسحاق بن راہویہؒ کا قول ہے۔امام عطاء نے
کہا: میں نے آئمہ کو سنتا تھا اور انہوں نے سیدنا ابن زبیرؓ اور انکے بعد والوں کا
ذکر کیا کہ وہ آمین کہتے تھے اور انکے پیچھے مقتدی بھی آمین کہتے تھے۔ حتی کہ مسجد
گونج اٹھتی تھی۔
(شرح السنة للبغوي: جلد
3 صفحہ 59)
اسی طرح امام محمد بن علی
الشوکانیؒ (المتوفی 1250ھ) اس مسئلے پہ سیر حاصل بحث کے آخر میں کہتے ہیں:
وهو يدل على مشروعية التأمين للإمام
والجهر ومد الصوت به. قال الترمذي: وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي
- صلى الله عليه وسلم - والتابعين ومن بعدهم يرون أن الرجل يرفع صوته بالتأمين ولا
يخفيها، وبه يقول الشافعي وأحمد وإسحاق
اور یہ امام کیلیے آمین کہنے اور
اس میں آواز کو بلند کرنے اور لمبا کرنے کی مشروعیت پہ دلالت کرتی ہے۔ امام ترمذیؒ
نے کہا: نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام، تابعین اور انکے بعد کے اہل علم میں سے کئی
افراد کا یہ کہنا ہے کہ آدمی آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے اور اسے آہستہ
نہ کہے۔ اور یہی امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام اسحاق بن راہویہؒ کا
قول ہے۔
(نيل الأوطار: جلد 2
صفحہ 260)
اسی طرح مذاہب اربعہ کے موقف کو
نقل کرتے ہوئے شیخ وہبہ بن مصطفی الزحیلیؒ (المتوفی 1436ھ) کہتے ہیں:
وذلك عند الحنفية والمالكية سرا، وعند
الشافعية والحنابلة: سرا في الصلاة السرية، وجهرا فيما يجهر فيه بالقراءة. ويؤمن المأموم
مع تأمين إمامه
اور یہ (آمین) احناف اور مالکیہ کے
نزدیک آہستہ جبکہ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک سری نمازوں میں آہستہ اور جہری قراءت
کی نمازوں میں بلند آواز سے کہی جائے گی، نیز مقتدی اپنے امام کے آمین کہنے کے
ساتھ آمین کہے گا۔
(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:
جلد 2 صفحہ 879)
اختصار کے پیش نظر میرے نزدیک
فقہاء کے اقوال کے حوالے سے اتنا نقل کرنا کافی ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اہل علم
میں سے جمہور فقہاء اور محدثین کا یہی قول ہے۔ یہی صحابہ کرام کا موقف ہے اور
یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ اس میں جو اختلاف ہے وہ مرجوع ہے اور راجع اور
درست بات یہی ہے جو ہم نے واضح کردی۔
اللہ تعالی ہمیں اپنے نبی کریم کی اس مبارک سنت پہ عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے اور فرقہ پرستوں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
تحریر و تحقیق: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں

Post a Comment