امام ابراہیم النخعی کے امام حسین کی شہادت کے متعلق تاثرات
﴿امام ابراہیم النخعیؒ کے امام حسینؑ کی شہادت کے متعلق تاثرات﴾
امام سلیمان بن احمد الطبرانیؒ (المتوفی 360ھ) روایت کرتے ہیں:
حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا
عثمان بن أبي شيبة، ثنا سعيد بن خثيم، عن محمد بن خالد الضبي، عن إبراهيم، قال: «لو
كنت فيمن قتل الحسين بن علي، ثم غفر لي، ثم أدخلت الجنة، استحييت أن أمر على النبي
صلى الله عليه وسلم، فينظر في وجهي»
امام ابراہیم النخعی الکوفیؒ (المتوفی 96ھ) کہتے ہیں: اگر میں امام حسین بن علیؑ
کو شہید کرنے والوں میں شامل ہوتا، پھر میری مغفرت کردی جاتی پھر مجھے جنت میں بھی
داخل کردیا جاتا تب بھی مجھے شرم آتی کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزروں اور وہ
میرے چہرے کی جانب دیکھیں۔
(المعجم الكبير للطبراني: جلد 3 صفحہ 112 رقم 2829 وسندہ حسن)
اس روایت کے متعلق امام ابو الحسن الہیثمیؒ (المتوفی 807ھ) کہتے ہیں:
رواه الطبراني، ورجاله ثقات
اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اسکے راوی ثقہ ہیں۔
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 9 صفحہ 195 رقم 15147)
امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
(الإصابة في تمييز الصحابة: جلد 2 صفحہ 71)
اس روایت کو امام احمد بن محمد ابن الاعرابیؒ (المتوفی 340ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔
(معجم ابن الأعرابي: جلد
2 صفحہ 707 رقم 1435)
اور انہی کی
سند سے اس قول کو امام ابن عساکرؒ
(المتوفی 571ھ) نے امام حسینؑ کے ترجمے میں باسند روایت کیا ہے۔
(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 14 صفحہ 237)
امام ابراہیم النخعی الکوفیؒ کا یہ
کہنا بلکل بجا تھا کیونکہ اسکی اصل صحیح بخاری کی وہ حدیث مبارکہ ہے کہ جس میں
رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سیدنا حمزہؓ کے قاتل کو اسلام لانے کے بعد بھی اپنا چہرہ
دکھانے سے منع کردیا تھا، تو بھلا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے لاڈلے
نواسے کے قاتلین کا چہرہ دیکھنا گوارا کریں؟ لہزا اس بنا پہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺکبھی اپنے نواسوں کے قاتلین کے چہرے دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔
(صحیح بخاری: رقم 4072)
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب۔
ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں

Post a Comment