مروان بن حکم کا سیدنا طلحہؓ کو بطور انتقام شہید کرنا
عینی
شہادت کے مطابق سیدنا عثمانؓ کا قاتل کون؟
قسط
نمبر 8
[مروان
بن حکم کا سیدنا طلحہؓ کو بطور انتقام شہید کرنا]
اس سلسلے کی اس قسط میں
ہم اس بات کا جائزہ لینگے کہ مروان بن حکم کے نزدیک سیدنا عثمانؓ کے قتل کا ذمہدار
کون تھا؟ اور اس نے سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا انتقام کس شخص سے لیا اور اسکا اعلان
بھی کیا۔
سیدنا
عثمانؓ کی شہادت کے متعلق وہ افراد جو انکی شہادت کے موقع پہ موجود تھے ان میں مروان
بن حکم کا نام بھی شامل ہے، ہم پچھلی اقساط میں اسکا ذکر کرچکے ہیں۔ اور وہ سیدنا عثمانؓ
کی حفاظت کرنے والے افراد میں شامل تھا۔ مثال کے طور پہ:
֍ امام خلیفہ بن خیاطؒ (المتوفی 240ھ) روایت کرتے ہیں:
عبد الرحمن بن مهدي
قال نا حصين بن بكر عن يحيى بن عتيق عن محمد بن سيرين قال انطلق الحسن والحسين وابن
عمر وابن الزبير ومروان كلهم شاكي السلاح حتى دخلوا الدار فقال عثمان أعزم
عليكم لما رجعتم فوضعتم أسلحتكم ولزمتم بيوتكم فخرج ابن عمر والحسن والحسين فقال
ابن الزبير ومروان ونحن نعزم على أنفسنا أن لا نبرح
تابعی امام ابن سیرینؒ
کہتے ہیں: سیدنا امام حسنؑ، سیدنا امام حسینؑ، سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ، سیدنا عبد اللہ
بن زبیرؓ اور مروان سب کے سب ہتھاروں سے لیس ہوکر روانہ ہوئے حتی کہ وہ (سیدنا عثمانؓ
کے) گھر داخل ہوگئے تو سیدنا عثمانؓ نے کہا: میں تمہیں (اللہ کی) قسم دیتا ہوں کہ تم
ضرور (واپس) لوٹ جاؤ، اپنا اسلحہ رکھ دو اور اپنے گھروں میں ٹہرے رہو، تو سیدنا ابن
عمرؓ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ باہر آگئے اور سیدنا ابن زبیرؓ اور مروان نے کہا: ہم
نے اپنے اوپر یہ لازم کرلیا ہے کہ ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔
(تاريخ
خليفة بن خياط: صفحہ 174 وسندہ صحیح)
اسکی سند میں حصن بن ابی بکر کے نام میں تضعیف ہوئی ہے اور اس میں سے ابی کا لفظ حذف ہوگیا ہے۔ درست نام حصن بن ابی بکر ہے اور اسے حصین بن ابی بکر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ثقہ راوی ہیں۔ اسکے کئی دلائل ذکر کیے جاسکتے ہیں مگر میں فلہال چند ایک پہ اکتفاء کررہا ہوں۔
امام بخاریؒ نے حصن بن ابی بکرؒ کا
ترجمہ قائم کیا اور کہا:
حصن بن أبي بكر
أبو رياح، سمع يحيى بن عتيق عن ابن سيرين قوله
حصن بن ابی بکر ابو ریاح نے یحیی بن عتیق سے سماع کیا کہ انہوں نے ابن سیرین سے
انکا قول روایت کیا۔
(التاريخ
الكبير للبخاري - ت المعلمي اليماني: جلد 3 صفحہ 119)
اسی طرح امام جمال الدین المزیؒ بھی یحیی بن عتیق کے ترجمے میں حصن بن ابی بکر
الباہلی کا ذکر کرتے ہیں۔
(تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 31 صفحہ 456)
حصن بن ابی بکر کو امام یحیی بن معینؒ نے ثقہ قرار دیا ہے۔
(الجرح
والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 3 صفحہ 306)
امام ابن حبانؒ نے ثقات
میں درج کیا ہے۔
(الثقات
لابن حبان: جلد 8 صفحہ 214)
امام ابو حاتم الرازیؒ
اسے صدوق قرار دیتے ہیں۔
(الجرح
والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 3 صفحہ 190)
۞ امام ابن سیرینؒ کی مرسل کا حکم:
اسکے علاوہ اس کی سند
میں امام ابن سیرینؒ کا ارسال ہے۔ آپکی تاریخ پیدائش 33ھ ہے، اور سیدنا عثمانؓ کی شہادت
35ھ میں ہوئی۔ مگر اس سے اس روایت کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ امام ابن سیرینؒ
کی مرسل صحیح شمار ہوتی ہے۔
● امام ابن عبد البرؒ
(المتوفی 463ھ) کہتے ہیں:
ومراسيل ابن سيرين عندهم
صحاح كمراسيل سعيد بن المسيب
اور امام ابن سیرینؒ کی
مراسیل ان (محدثین) کے نزدیک اسی طرح صحیح ہیں جیسے امام سعید بن المسیبؒ کی مراسیل۔
(التمهيد
- ابن عبد البر - ت بشار: جلد 15 صفحہ 456)
● اسی طرح مزید ایک
اور مقام پہ کہتے ہیں:
أجمع أهل العلم بالحديث
أن ابن سيرين أصح التابعين مراسل، وأنه كان لا يروي ولا يأخذ إلا عن ثقة، وأن
مراسله صحاح كلها، ليس كالحسن وعطاء في ذلك، والله أعلم
حدیث کے تمام اہل علم
کا اجماع ہے کہ امام ابن سیرینؒ کی مراسیل تابعین میں سب سے زیادہ صحیح ہیں، اور یہکہ
وہ ثقہ کے علاوہ کسی سے نہ تو اخذ کرتے تھے اور نہ ہی روایت کرتے تھے، اور انکی تمام
مراسیل صحیح ہیں، وہ اس معاملے میں امام حسنؒ اور امام عطاءؒ جیسے نہیں ہیں۔ واللہ
اعلم۔
(التمهيد
- ابن عبد البر - ت بشار: جلد 5 صفحہ 615)
● اسی طرح امام ابو
یعلی الفراءؒ (المتوفی 458ھ) کہتے ہیں:
وقال في رواية أبي الحارث:
مرسلات ابن سيرين صحاح حسنة المخرج
اور امام احمد بن حنبلؒ
نے ابی الحارث کی روایت میں کہا: امام ابن سیرینؒ کی مراسیل صحیح ہیں اور انکے مخرج
عمدہ ہیں۔
(العدة
في أصول الفقه: جلد 3 صفحہ 942)
فلہال میں اختصار کرتے
ہوئے اسی پہ اکتفاء کرتا ہوں۔ اور مندرجہ بالا بحث سے یہ معلوم ہوا کہ یہ روایت صحیح
ہے۔
اس روایت کو ڈاکٹر محمد
بن عبد اللہ غبان الصبحی بھی اس روایت کو صحیح الاسناد قرار دیتے ہیں۔
(فتنة مقتل
عثمان بن عفان: جلد 1 صفحہ 199)
اور اسی طرح مزید ایک
مقام پہ کہتے ہیں:
إسناده صحيح إلى ابن سيرين؛
رجاله ثقات، رجال الشيخين، إلا حصن وهو ثقة. ولكن ابن سيرين لم يدرك الحادثة، فهو منقطع
اسکی اسناد امام ابن سیرینؒ
تک صحیح ہیں، اسکے رجال ثقہ ہیں اور شیخین کے رجال ہیں سوائے حصن کے اور وہ ثقہ ہے،
لیکن امام ابن سیرینؒ نے اس حادثے کا ادراک نہیں کیا اور یہ منقطع ہے۔
(فتنة مقتل
عثمان بن عفان: جلد 1 صفحہ 431)
اور ہم نے اس ارسال کی
علت کا جواب پہلے ہی بیان کردیا ہے اور خود ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ غبان الصبحی کے
مطابق بھی اس علت سے اس روایت کی صحت پہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہوں نے اس روایت کو
صحیح اور حسن روایات کے باب میں درج کیا ہے۔
اس روایت سے یہ معلوم
ہوا کہ سیدنا عثمانؓ کی حفاظت پہ کونسے افراد مامور تھے، جنکے نام ہمیں اس روایت سے
مل جاتے ہیں جو اس فتنے میں مسلسل سیدنا عثمانؓ کی حفاظت کیلیے لڑنے کو تیار تھے اور
انکی حفاظت پہ مامور بھی تھے۔ ان میں مروان بن الحکم بھی شامل تھا اور اس نے اپنے اوپر
یہ لازم کر رکھا تھا کہ یہ ہرگز وہاں سے نہیں ہلے گا جبکہ دیگر افراد جوکہ صحابہ کرامؓ
تھے وہ اپنی باریاں تبدیل کرتے رہتے تھے۔ تاریخ کی کتب میں کثیر روایات موجود ہیں،
ہم نے یہاں یہ بات ثابت کرنی تھی کہ مروان سیدنا عثمانؓ کی شہادت سے پہلے ہی انکی حفاظت
کیلیے موجود تھا اور انکی شہادت کے وقت بھی وہاں موجود تھا اور یہ سیدنا عثمانؓ کی
حفاظت کرتے ہوئے زخمی بھی ہوا تھا۔
جیسا کہ
֍ امام ابو عمر ابن عبد البرؒ (المتوفی 463ھ) روایت کرتے ہیں:
وقال أسد: حدثنا محمد
بن طلحة، قال: حدثنا كنانة مولى صفية بنت حيي بن أخطب، قال: شهدت مقتل عثمان، فأخرج
من الدار أمامى أربعة من شبان قريش ملطخين [2] بالدم محمولين، كانوا يدرءون [3]
عن عثمان رضي الله عنه:
الحسن بن علي، وعبد الله
بن الزبير، ومحمد بن حاطب، ومروان بن الحكم
وقال محمد بن طلحة: فقلت
له: هل ندى محمد بن أبي بكر بشيء من دمه؟ قال:
معاذ الله! دخل عليه،
فقال له عثمان: يا بن أخي، لست بصاحبي. وكلمه بكلام، فخرج ولم يند بشيء من دمه، قال:
فقلت لكنانة: من قتله؟ قال: قتله رجل من أهل مصر، يقال له جبلة بن الأيهم. ثم طاف بالمدينة
ثلاثا يقول: أنا قاتل نعثل
محمد بن طلحہ کہتے ہیں
کہ مجھے ام المومنین سیدہ صفیہؓ کے آزاد کردہ کنانہؒ نے بتایا کہ انہوں نے سیدنا عثمانؓ
کے قتل کا مشاہدہ کیا تو میرے سامنے قریش کے چار نوجوان خون میں لت پت اٹھا کر باہر
لائے گئے جو سیدنا عثمانؓ کی طرف سے دفاع کررہے تھے، وہ امام حسن بن علیؓ، سیدنا عبد
اللہ بن زبیرؓ، سیدنا محمد بن حاطبؓ اور مروان بن حکم تھے۔
اور محمد بن طلحہ کہتے
ہیں: میں نے ان سے کہا: کیا محمد بن ابی بکرؒ کے ہاتھ انکے خون سے زرا سے بھی رنگے
تھے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! وہ انکے پاس داخل ہوئے تو ان سے سیدنا عثمانؓ نے
کہا: اے میرے بھتیجے، تم میرے صاحب (ساتھی) نہیں ہو اور ان سے کچھ کلام کیا تو وہ چلے
گئے اور انکے خون سے زرہ بھی آلودہ نہ ہوئے۔ محمد بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے کنانہؒ
سے کہا: تو انہیں کس نے شہید کیا؟ انہوں نے کہا: انہیں اہل مصر کے ایک شخص نے قتل کیا
جسے جبلہ بن الایہم کہا جاتا تھا، پھر اس نے مدینے کا تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے طواف
کیا کہ میں نعثل کا قاتل ہوں۔
(الاستيعاب
في معرفة الأصحاب: جلد 3 صفحہ 1046 وسندہ صحیح)
امام ابن عبد البرؒ نے
یہ روایت دیگر آئمہ کی کتب سے نقل کی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ روایت
امام ابن شبہؒ (المتوفی 262ھ) وغیرہ سے نقل کی ہے اور یہ روایت متصل صحیح ثابت ہے،
ہم پچھلی اقساط میں اسکی مکمل تخریج نقل کرچکے ہیں۔ لہزا اگر کوئی جاہل انسان اعتراض
کرنا چاہے تو ہم نے اس کے متعلق پہلے ہی آگاہ کردیا ہے کہ وہ اپنا فضول وقت ضائع نہ
کرے۔
اور یہ ہمارے پاس سیدنا
عثمانؓ کی شہادت کے عینی شاہد کی گواہی موجود ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے وقت وہاں
کون کون سے افراد موجود تھے۔ اس میں انہوں نے مروان بن الحکم کا بھی ذکر کیا ہے۔
اس روایت کو ہمارے علاوہ
مندرجہ ذیل علماء نے ثابت قرار دیا ہے:
تاریخ طبریؒ پہ تحقیق
لکھنے والے محقق شیخ محمد بن طاہر البرزنجی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
(صحيح وضعيف
تاريخ الطبري: جلد 8 صفحہ 581)
اسی طرح شیخ سعد بن ناصر
الشثری اسکی سند کو حسن قرار دیتے ہیں۔
(المطالب
العالية محققا: جلد 18 صفحہ 97 رقم 4392)
اسی طرح شیخ اکرم بن ضیاء
العمری بھی الاستیعاب لابن عبد البر کی سند کو حسن قرار دیتے ہیں۔
(عصر الخلافة
الراشدة محاولة لنقد الرواية التاريخية وفق منهج المحدثين: صفحہ 430)
اسی طرح ڈاکٹر محمد بن
عبد اللہ غبان الصبحی نے اس روایت کو اپنی تحقیق میں سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے متعلق
صحیح اور حسن تاریخی روایات میں درج کیا ہے۔
(فتنة مقتل
عثمان بن عفان: جلد 1 صفحہ 487)
اور دوسرے مقام پہ صراحتا
اسکی سند کو حسن قرار دیتے ہیں۔
(فتنة مقتل
عثمان بن عفان: جلد 1 صفحہ 206)
یہ ہم نے مختصرا ان علماء
کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے اس روایت کو ثابت قرار دیا ہے اور جو ہمیں معلوم ہوسکے ہیں،
اسکے علاوہ مورخین نے دیگر کئی شواہد بھی اسکے ذکر کیے ہیں مگر یہ روایت اس سلسلے میں
سب سے قوی ہے اور ہم نے اسی لیے اس کو حجت بنایا ہے۔
لہزا معلوم ہوا کہ دیگر
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجعمین کے ساتھ ساتھ مروان بھی نہ صرف سیدنا عثمانؓ کے
دفاع کیلیے موجود تھا بلکہ انکی شہادت کے وقت بھی وہاں موجود تھا۔ یہ تاریخی حقیقت
ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرتا۔
֍ سیدنا طلحہؓ کی شہادت:
جب یہ بات ثابت ہوگئی
کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے موقع پہ مروان بن الحکم موجود تھا اور انکی شہادت کے عینی
شاہدین میں سے تھا، تو اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا مروان نے کس کو سیدنا عثمانؓ کے
قتل کا ذمہدار قرار دیا تھا اور اسے بطور انتقام قتل کیا تھا۔
۞ مروان کا سیدنا طلحہؓ کو بطور انتقام قتل کرنا:
֍ امام ابن ابی شیبہؒ (المتوفی 235ھ) روایت کرتے ہیں:
حدثنا وكيع عن إسماعيل
عن قيس قال: كان مروان مع طلحة يوم الجمل، قال: فلما (اشتبكت) الحرب (قال مروان): لا
أطلب بثأري بعد اليوم، قال: ثم رماه بسهم فأصاب ركبته، فما رقأ الدم حتى مات، قال:
وقال طلحة: دعوه، فإنما هو سهم أرسله الله
تابعی امام قیس بن ابی
حازمؒ کہتے ہیں: مروان جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہؓ کے ساتھ تھا، جب جنگ چھڑ گئی تو مروان
نے کہا: میں آج کے بعد (سیدنا عثمان کا) انتقام طلب نہیں کرونگا، پھر انکی طرف تیر
پھینکا جو سیدنا طلحہؓ کے گھٹنے میں لگا اور خون مسلسل بہتا رہا حتی کہ انکی وفات ہوگئی،
اور سیدنا طلحہؓ نے (شہادت سے پہلے) کہا: اس (زخم) کو چھوڑ دو کیونکہ یہ وہ تیر جسے
اللہ نے بھیجا ہے۔
(المصنف
- ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحہ 501 رقم 40607 وسندہ صحیح)
● روایت کی تخریج:
امام قیس بن ابی حازمؒ
سے اس روایت صرف اسماعیل بن ابی خالد روایت کرتے ہیں، اسماعیل بن ابی خالد سے اسے مندرجہ
ذیل افراد روایت کرتے ہیں:
①۔ علي بن مسهر القرشي
اسکی روایت میں عبد السلام
بن صالح الهروي منکر الحدیث ہے۔ لہزا یہ طرق فی نفسی ضعیف سند سے مروی ہے۔
(قبول الأخبار
ومعرفة الرجال: جلد 1 صفحه 230)
②۔ أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي
ان سے امام ابن ابی شیبہؒ
نے اپنی مصنف میں روایت لی ہے، امام ابن سعدؒ نے اپنی کتاب الطبقات میں اس سے روایت
لی ہے اور امام بلاذری نے بھی انکی روایت انساب الاشراف میں درج کی ہے اور اسکی سند
بلکل صحیح ہے۔
(المصنف
- ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحه 481 رقم 40573)
(الطبقات
الكبرى - ط الخانجي: جلد 3 صفحه 204)
(أنساب
الأشراف للبلاذري: جلد 2 صفحه 247)
③۔ خلیفہ بن خیاط
انہوں نے اسماعیل بن ابی
خالد سے یہ روایت اپنی کتاب میں درج کی ہے۔
(تاريخ
خليفة بن خياط: صفحه 186)
④۔ امام وكيع بن الجراح الرؤاسي
ان سے مندرجہ ذیل افراد
نے اس کو روایت کیا ہے:
❶۔ امام ابن ابی شیبہؒ:
ثقہ ثبت
(المصنف
- ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحہ 501 رقم 40607 وسندہ صحیح)
❷۔ عبد الحميد بن
صالح البرجمي: ثقہ
ان سے امام یعقوب بن سفیان
الفسویؒ نے اسے روایت کیا ہے، انکی کتاب سے یہ روایت مفقود ہے مگر ان سے اس روایت کو
امام ابن عساکرؒ نے ان سے باسند صحیح نقل کیا ہے۔
أخبرنا أبو محمد نا أبو
بكر الخطيب ح وأخبرنا أبو القاسم أنا أبو بكر بن الطبري قالا أنا محمد بن الحسين أنا
عبد الله نا يعقوب نا عبد الحميد بن صالح نا وكيع نا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس أبن
أبي حازم أن مروان بن الحكم رأى طلحة بن عبيد الله في الجمل فقال ماذا قالوا طلحة قال
هذا أعان على قتل عثمان لا أطلب بثأري بعد اليوم فرمى بسهم في ركبته قال فما زال
الدم حتى مات
قیس بن ابی حازمؒ کہتے
ہیں: مروان بن الحکم نے جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ کو دیکھا تو اس نے
کہا۔ اس نے سیدنا طلحہؓ کے بارے میں کیا کہا؟ اس نے کہا: اس نے سیدنا عثمانؓ کے قتل
میں مدد کی تھی، آج کے بعد میں انتقام طلب نہیں کرونگا، تو اس نے انکے گھٹنے میں تیر
مارا، پھر مسلسل خون بہتا رہا یہاں تک کہ انکی وفات ہوگئی۔
(تاريخ
دمشق لابن عساكر: جلد 25 صفحه 112 وسندہ صحیح)
اسکے علاوہ امام ذہبیؒ
بھی انکی روایت کو بغیر سند کے نقل کرتے ہیں:
(تاريخ
الإسلام - ط التوفيقية: جلد 3 صفحہ 197)
اور امام ابن حجر عسقلانیؒ
اسے امام یعقوب بن سفیان الفسویؒ سے نقل کرتے ہوئے اسکی اسانید کو صحیح قرار دیا ہے۔
(الإصابة
في تمييز الصحابة: جلد 3 صفحہ 423)
❸۔ يحيى بن سليمان
الجعفي: صدوق یخطی
انکی روایت کو امام طبرانیؒ
نے درج کیا ہے اور امام حاکمؒ نے اپنی المستدرک میں انکی روایت بیان کی ہے۔
(المعجم
الكبير للطبراني: جلد 1 صفحہ 113 رقم 201)
(المستدرك
على الصحيحين للحاكم - ط العلمية: جلد 3 صفحہ 418 رقم 5591)
ان سے روایت کرنے میں
ایک خطا ہوئی ہے اور یہ کہ انہوں دیکھنے کا لفظ قیس بن ابی حازم کی طرف منسوب کردیا
کہ انہوں نے مروان کو دیکھا جبکہ دیگر ثقات اسے اسطرح روایت کرتے ہیں کہ مروان نے سیدنا
طلحہؓ کو دیکھا۔ اگرچہ امام حاکمؒ اور امام ذہبیؒ دونو نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
اسکے علاوہ شیخ شعیب الارنوؤط الحنفی بھی اسکی سند کو "سیر اعلام النبلاء"
کی تحقیق میں صحیح قرار دیتے ہیں۔
❹۔ امام احمد بن حنبلؒ:
ثقہ ثبت
انکی روایت کو امام ابو
بکر بن الخلالؒ نے نقل کیا ہے، ہم اسکو ترجمے سمیت آگے بھی نقل کررہے ہیں۔
(السنة
لأبي بكر بن الخلال: جلد 3 صفحه 517 رقم 839)
❺۔ عبد الله بن نمير
الهمداني: ثقہ
انکی روایت امام ابن عساکرؒ
نے اپنی تاریخ میں باسند نقل کی ہے اور یہ بھی امام یعقوب بن سفیان الفسویؒ کی سند
سے ہے مگر انکی کتاب میں سے مفقود ہے۔
(تاريخ
دمشق لابن عساكر: جلد 25 صفحه 112)
یہ اس روایت کی مختصر
تخریج ہے جو میں فلہال تلاش کرسکا ہوں۔ بعد میں اگر کوئی مزید سند ملی تو اس کا اضافہ
اس تحریر میں کردیا جائے گا۔ میں نے ہر ایک راوی کے متن اور سند کو نقل نہیں بلکہ انکا
حوالہ ذکر کردیا ہے تاکہ طوالت سے بچا جاسکے اور مقصد بھی پورا ہوجائے۔
۞ اس روایت کو صحیح قرار دینے والے آئمہ:
اس روایت
کو متعدد آئمہ کرام نے صحیح قرار دیا ہے، جن کے نام باحوالہ مندرجہ ذیل ہیں:
● امام ہیثمیؒ:
امام ابو الحسن علی بن
ابی بکر الہیثمیؒ (المتوفی 807ھ) اس روایت کے متعلق کہتے ہیں:
رواه الطبراني، ورجاله
رجال الصحيح
اسے امام طبرانیؒ نے روایت
کیا ہے اور اسکے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
(مجمع الزوائد
ومنبع الفوائد: جلد 9 صفحہ 150 رقم 14822)
● امام ذہبیؒ:
امام ابو عبد اللہ الذہبیؒ
اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
(مختصر
تلخيص الذهبي: جلد 4 صفحہ 2078 رقم 720)
● امام ابن حجر عسقلانیؒ:
امام ابن حجر عسقلانیؒ
بھی اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
(الإصابة
في تمييز الصحابة: جلد 3 صفحہ 432)
● امام احمد بن حنبلؒ:
امام ابو بکر بن الخلالؒ
(المتوفی 311ھ) کہتے ہیں:
أخبرني محمد بن علي، قال:
ثنا مهنى، قال: سألت أحمد عن طلحة بن عبيد الله، من قتله؟، قال: يقولون: مروان، قلت:
كيف؟ قال إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: نظر مروان إلى طلحة بن عبيد
الله يوم الجمل، فقال: «لا أطلب بثأري بعد اليوم» ، قال: فرمى بسهم فقتله، قلت: من
يقول هذا؟ فقال: وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد
مجھے محمد بن علی نے خبر
دی کہ انہیں مہنی نے بتایا کہ انہوں نے امام احمد بن حنبلؒ سے سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ
کے متعلق سوال کیا کہ انہیں کس نے قتل کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: لوگ کہتے ہیں کہ
مروان نے۔ میں نے کہا: کیسے؟ امام احمد بن حنبلؒ نے کہا: اسماعیل بن ابی خالد روایت
کرتے ہیں قیس بن ابی حازم سے کہ انہوں نے کہا: مروان نے جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہ بن
عبد اللہؓ کو دیکھا تو کہا: میں آج کے بعد انتقام طلب نہیں کرونگا۔ پھر مروان نے تیر
مارا جس نے انہیں قتل کردیا۔ میں نے پوچھا: یہ بات کون کہتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: امام
وکیع اسے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کرتے ہیں۔
(السنة
لأبي بكر بن الخلال: جلد 3 صفحہ 517 رقم 839 وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ امام احمد
بن حنبلؒ کے نزدیک بھی مروان بن الحکم ہی سیدنا طلحہؓ کا قاتل ہے اور اس نے یہ ان سے
انتقام لیا تھا۔ جیسا کہ مندرجہ بالا ہم ذکر کرچکے ہیں اس نے یہ انتقام سیدنا عثمانؓ
کی شہادت کا لیا تھا۔ اور امام احمد بن حنبلؒ نے صریحا اس روایت سے حجت پکڑی ہے جوکہ
اس بات کی دلیل ہے کہ انکے نزدیک یہ روایت صحیح اور ثابت ہے۔ اگر امام احمد بن حنبلؒ
کے نزدیک ایسا نہ ہوتا تو وہ ہرگز اپنے شاگرد کو غلط جوابات نہ دیتے اور اپنے شاگرد
کو غلط علم نہ پڑھاتے۔
● امام سبط ابن الجوزیؒ:
امام سبط ابن الجوزیؒ
الحنفی (المتوفی 654ھ) طبقات ابن سعد کی روایت نقل کرکے کہتے ہیں:
قلت: والأصح أن مروان
قتله، وعليه اجتماع العلماء
اور یہی زیادہ صحیح ہے
کہ مروان نے انہیں قتل کیا ہے، اور اس پہ علماء کا اجماع ہے۔
(مرآة الزمان
في تواريخ الأعيان: جلد 6 صفحہ 249)
● شیخ سعد بن ناصر
الشثری:
اسی طرح مصنف ابن ابی
شیبہ کے محقق شیخ سعد بن ناصر الشثری بھی اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
(المصنف
- ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحہ 481 رقم 40573)
● شیخ شعیب الارنوؤط:
اسی طرح شیخ شعیب الارناؤوط
اسکی سند کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
(سير أعلام
النبلاء - ط الرسالة: جلد 1 صفحہ 36)
یہ مندرجہ بالا تمام علماء
کو ہم نے اپنی تاعید میں پیش کیا ہے کہ ان تمام آئمہ اور علم حدیث کے جید علماء نے
اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور ہمارے ناقص علم کے مطابق کوئی ایک مایہ ناز عالم
ایسا موجود نہیں جس نے ان روایات کی صحت کا انکار کیا ہو اور سوائے نواصب کے کوئی اعتراض
نہیں کرتا، جنکے اعتراض كا جائزہ ہم آگے لے رہے ہیں۔
۞ اس روایت سے احتجاج کرنے اور مروان کو قاتل قرار دینے والے آئمہ:
اب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں
کہ کیا آئمہ کرام نے صرف اس روایت محض صحیح قرار نہیں دیا بلکہ اس روایت سے حجت بھی
پکڑی ہے اور مروان بن الحکم کو سیدنا عثمانؓ کا قاتل قرار دیا ہے۔ ہم یہاں صرف ان آئمہ
کا ذکر کررہے ہیں جنہوں نے اس روایت کو بھی سیدنا طلحہؓ کے قتل کے واقعے کے طور پہ
لیا ہے اور پھر مروان کو صریحا قاتل بھی قرار دیا ہے۔ اسکے علاوہ جو آئمہ ہیں جنکا
کلام متفرق ہے تو ہم فلہال انکا ذکر نہیں کررہے۔
● امام ابن عبد البرؒ:
انہوں نے سیدنا طلحہؓ
کے ترجمے میں قیس بن ابی حازمؒ کی روایت انکی شہادت کے واقعے کو بیان کرنے کیلیے متعدد
طرق سے نقل کی ہے، اور اس سے قبل اسکی صراحت بھی کی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کا قاتل مروان
ہے۔
چناچہ امام ابن عبد البرؒ
(المتوفی 463ھ) کہتے ہیں:
ولا يختلف العلماء الثقات
في أن مروان قتل طلحة يومئذ، وكان في حزبه
اور ثقہ علماء کا اس بات
پہ کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مروان نے سیدنا طلحہؓ کو اس دن قتل کیا تھا اور وہ انہی
کے لشکر میں شامل تھا۔
(الاستيعاب
في معرفة الأصحاب: جلد 2 صفحہ 766)
● امام سخاویؒ:
اور امام سخاویؒ بھی انکی
بات کو نقل کرتے ہیں اور مروان کو سیدنا طلحہؓ کا قاتل قرار دیتے ہیں اور قیس بن ابی
حازمؒ کی روایت کو ہی بیان کرتے ہیں، چناچہ وہ کہتے ہیں:
وقاتل طلحة هو مروان بن
الحكم بن أبي العاص، قال ابن عبد البر بلا خلاف أخذا بثأره منه، لكونه فيما قيل: أعان
على قتل ابن عمه عثمان بن عفان بن أبي العاص، فبادر حين نظر إليه في اليوم المذكور
وقال: لا أطلب ثأري بعد اليوم، ثم نزع له بسهم فوقع في عين ركبته، فما زال الدم يسيح
إلى أن مات، هذا مع أن كلا من مروان وطلحة كانا مع عائشة، فهما في حزب واحد، وعد قتل
طلحة من موبقات مروان
اور سیدنا طلحہؓ کا قاتل
مروان بن الحکم بن ابی العاص ہے۔ امام ابن عبد البرؒ نے بلا اختلاف کہا ہے کہ اس نے
ان سے انتقام لیا ہے، اس وجہ سے کہ جیسا کہا گیا ہے کہ انہوں نے انکے چچا زاد بھائی
سیدنا عثمانؓ بن عفان بن ابی العاص کے قتل میں مدد کی تھی۔ پس جیسے ہی مروان نے مذکورہ
دن میں انکی طرف دیکھا تو فورا پہل کی اور کہا: میں آج کے بعد انتقام طلب نہیں کرونگا،
پھر اس نے ان پہ تیر چلایا جو انکے گھٹنے کی آنکھ (یعنی رگ) میں لگا اور خون مسلسل
بہتا رہا یہاں تک کہ انکی وفات ہوگئی، یہ اسکے باوجود ہے کہ مروان اور سیدنا طلحہؓ
دونو سیدہ عائشہؓ کے ساتھ تھے، پس دونو ایک ہی لشکر میں تھے، اور سیدنا طلحہؓ کے قتل
کو مروان کے مہلک گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
(فتح المغيث
بشرح ألفية الحديث: جلد 4 صفحہ 326)
قارئین امام سخاویؒ کا
کلام ملاحظہ کریں کہ انہوں نے صراحتا مروان کو قاتل قرار دیا ہے اور جو روایت انہوں
نے بیان کی ہے اسکا سارا متن قیس بن ابی حازمؒ کی روایت ہے۔ اور انہوں نے بھی امام
ابن عبد البرؒ کے نقل کردہ اجماع سے کوئی اختلاف نہیں کیا بلکہ انکے نقل کردہ اجماع
کو آگے مزید بیان کیا ہے۔
● امام سبط ابن الجوزیؒ:
امام سبط ابن الجوزیؒ
الحنفی (المتوفی 654ھ) طبقات ابن سعد کی روایت نقل کرکے کہتے ہیں:
قلت: والأصح أن مروان
قتله، وعليه اجتماع العلماء
اور زیادہ صحیح یہی ہے
کہ مروان نے انہیں قتل کیا ہے، اور اس پہ علماء کا اجماع ہے۔
(مرآة الزمان
في تواريخ الأعيان: جلد 6 صفحہ 249)
● امام ذہبیؒ:
امام محمد بن احمد الذہبیؒ
(المتوفی 748ھ) بھی قیس بن ابی حازمؒ کی روایت کو نقل کرکے کہتے ہیں:
قلت: قاتل طلحة في الوزر،
بمنزلة قاتل علي
میں کہتا ہوں: سیدنا طلحہؓ
کا قاتل جرم (گناہ) میں سیدنا علیؓ کے قاتل کے برابر ہے۔
(سير أعلام
النبلاء - ط الرسالة: جلد 1 صفحہ 36)
قارئین ملاحظہ کیجیے کہ
امام ذہبیؒ کا قیس بن ابی حازمؒ کی روایت پہ اپنا کلام کرنا اور سیدنا طلحہؓ کے قاتل
کو گناہ میں سیدنا علیؑ کے قاتل کے برابر قرار دینا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ انکے
نزدیک نہ صرف یہ روایت قابل قبول ہے بلکہ مروان بن الحکم قاتل طلحہ بھی ہے اور اپنے
جرم میں سیدنا علی المرتضیؑ کے قاتل کے بابر ہے۔ اور انکے ترجمے کے آخر میں بھی جب
سیدنا طلحہؓ کے قاتل کا نام ذکر کرتے ہیں تو صرف مروان کا نام ذکر کرتے ہیں اور کہتے
ہیں:
قال يحيى بن بكير ، وخليفة
بن خياط ، وأبو نصر الكلاباذي : إن الذي قتل طلحة ، مروان بن الحكم .
یحیی بن بکیر، خلیفہ بن
خیاط اور ابو نصر الکلاباذی نے کہا: بلاشبہ جس نے سیدنا طلحہؓ کو قتل کیا وہ مروان
بن الحکم تھا۔
(سير أعلام
النبلاء - ط الرسالة: جلد 1 صفحہ 40)
اگر قیس بن ابی حازمؒ
کی روایت واقعی منقطع ہوتی تو امام ذہبیؒ جیسا رجال کا ماہر ترین انسان ضرور اسکا تذکرہ
کرتا یا کم از کم قیس بن ابی حازمؒ کی روایت پہ اسکا تبصرہ ضرور کرتا مگر انہوں نے
جو تبصرہ کیا وہ الٹا اس روایت کی انکے نزدیک حجت ہونے پہ دلالت کررہا ہے کہ وہ اس
روایت سے سیدنا طلحہؓ کے قاتل کو اخذ کررہے ہیں۔
● امام ابن حجر عسقلانیؒ:
امام ابن حجر عسقلانی
نے سیدنا طلحہؓ کی شہادت کا ذکر کیا تو سب سے پہلے قیس بن ابی حازمؒ کی روایات کا تذکرہ
کیا اور انکو صحیح قرار دیا اور ساتھ اسکی صراحت بھی کی سیدنا طلحہؓ کا قاتل مروان
ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں:
وروى ابن عساكر من طرق
متعددة أن مروان بن الحكم هو الذي رماه فقتله منها
اور امام ابن عساکرؒ نے
متعدد طرق سے روایت کیا کہ مروان بن الحکم ہی وہ شخص ہے جس نے ان (سیدنا طلحہؓ) کو
تیر مار کر قتل کیا تھا، انہی میں سے
(الإصابة
في تمييز الصحابة: جلد 3 صفحہ 423)
اسکے بعد امام ابن حجر
عسقلانیؒ نے قیس بن ابی حازمؒ کی روایات کو نقل کرکے انہیں صحیح قرار دیتے ہیں اور
یہاں انہوں نے اسکی صراحت کردی ہے کہ انکی روایت سے مروان کا قاتل طلحہؓ ہونا ثابت
ہوتا ہے۔
میں بطور اختصار ان چند
جید ترین آئمہ کرام کے حوالہ جات پہ اکتفاء کررہا ہوں کیونکہ نقل کرنے کو کلام بہت
سارا ہے جو کہ تحریر کے طوالت کا باعث ہی بنے گا۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ آئمہ کرام
نے نہ صرف قیس بن ابی حازمؒ کی روایت کو صحیح اور ثابت مانا ہے بلکہ اس روایت سے حجت
پکڑی ہے اور مروان کو سیدنا طلحہؓ کا قاتل قرار دیا ہے۔
۞ اس روایت پہ نواصب کا اعتراض:
مندرجہ
بالا مختصر تحقیق سے جو بات ثابت ہوتی ہے اسکے انکار کے طور پہ جو جاہل لوگ فضول اعتراضات
اٹھا کر لے آتے ہیں جنکا علم کی حیثیت میں زرہ برابر اوقات نہیں ہے اور متعدد علماء
انکا رد پہلے ہی لکھ چکے ہیں اور یہاں مختصرا
ہم انکا جائزہ لے لیتے ہیں۔
● کیا امام قیس بن
ابی حازمؒ جنگ جمل میں موجود نہ تھے؟
اس حوالے سے نواصب کا
بنیادی اعتراض یہ سامنے آتا ہے کہ قیس بن ابی حازم تو جنگ جمل میں موجود نہیں تھے لہزا
یہ روایت مرسل ہے منقطع ہے۔ اول تو یہ اعتراض کرنے والے خود اپنی بات کی پاسداری نہیں
کرتے اور جب اہل بیت پہ جھوٹی تہمتیں لگانی ہوتی ہیں تب انہیں یہ ہرگز خیال نہیں رہتا
کہ اسانید قطیعت کے ساتھ متصل ہیں یا نہیں۔ اس اعتراض کی بنیادی اور اکلوتی دلیل امام
علی بن المدینیؒ کا قول ہے۔
امام علی ابن المدینیؒ
(المتوفی 234ھ) کی کتاب العلل میں یہ انکا قول موجود ہے کہ:
قيل لعلي هؤلاء كلهم سمع
منهم قيس بن أبي حازم سماعا قال نعم سمع منهم سماعا ولولا ذلك لم نعد له سماعا قيل
له شهد الجمل قال لا كان عثمانيا
امام علی بن المدینی سے
کہا گیا کہ کیا ان سب سے قیس بن ابی حازمؒ کا سماع ثابت ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں انکا
سماع ثابت ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم انکا سماع شمار نہ کرتے۔ ان سے کہا گیا: کیا
وہ جنگ جمل میں حاضر تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، وہ عثمانی تھے۔
(العلل
لابن المديني: صفحہ 50)
یہ اکلوتی اور بنیادی
دلیل ہے نواصب کی جس کی بنیاد پہ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ مرسل روایت ہے۔ اور امام
علی بن المدینیؒ کے علاوہ آئمہ میں سے کسی ایک شخص نے بھی یہ بات نہیں کہی۔ اب سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی آئمہ کرام کیوں پھر قیس بن ابی حازم کی اس روایت کو صحیح قرار
دیتے رہے؟ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ آئمہ محدثین اور مورخین قیس بن ابی حازم کی اس
روایت کو نقل کرتے رہے اور اس سے مروان کے قاتل طلحہ ہونے کی دلیل لیتے رہے مگر کسی
نے بھی امام علی بن المدینیؒ کے قول کو زرا برابر اہمیت نہیں دی کہ اس سے استدلال کرلیں؟
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ محدثین کے نزدیک امام علی بن المدینیؒ کا قول مردود تھا
اور یہی وجہ تھی انہوں نے انکے قول کے بجائے امام قیس بن ابی حازمؒ کی روایت سے دلیل
پکڑی ہے۔
اور اس پہ ہمارا الزامی
جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ قیس بن ابی حازمؒ جو جنگ جمل کی روایات
بیان کررہے ہیں انہوں نے جنگ جمل کا ادراک نہیں کیا تو امام علی المدینی نے دو سو سال
کے وقفے کے بعد اسکا ادراک کیسے کرلیا؟ جو شخص اس دور کا فرد ہے اور اس دور میں ہونے
والے اتنے بڑے واقعہ میں موجود ہونے کی روایات بیان کررہا ہے اسکی نفی دو سو سال بعد
آنے والے فرد کے محض کہہ دینے سے ہوجاتی ہے؟ اگر کسی کا کہہ دینا کافی ہے اور اپنے
قول کی دلیل بیان کرنا ضروری نہیں تو پھر یہ لازم ہے کہ قیس بن ابی حازمؒ کا کہہ دینا
کافی ہوگا اور زیادہ حجت کا حامل ہوگا۔ اگر انکا قول قابل قبول نہیں پھر علی بن المدینی
کا قول بغیر کسی دلیل کے کسطرح قابل قبول ہے؟ اس تضاد کا کوئی حل نہیں ہے الا یہکہ
آپ ان تمام محدثین کو جھٹلائیں جنہوں نے اس روایت کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ اس سے
کو مروان کے قاتل طلحہ ہونے پہ حجت مانا ہے۔
اسکے علاوہ ہم امام حاکمؒ
اور امام ذہبیؒ کی تصحیح سے یہ دلیل مہیا کرتے ہیں کہ انہوں نے جس طرق کو صحیح قرار
دیا ہے کہ قیس بن ابی حازمؒ ان آئمہ کے نزدیک جنگ جمل میں موجود تھے اور اسکے عینی
شاہد تھے۔ اس میں دیکھنے کی نسبت کی قیس بن ابی حازمؒ کی جانب کی گئی ہے کہ قیس بن
ابی حازمؒ نے مروان کو جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہؓ کو تیر مارتے ہوئے دیکھا۔ اسکی تصحیح
کرنے سے صریحا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان آئمہ کے نزدیک قیس بن ابی حازمؒ کے متعلق امام
علی بن المدینیؒ کا قول مردود ہے اور درست بات اسکے خلاف ہے۔
● قیس بن ابی حازم کی مرسل کا حکم:
دوسرا یہکہ بالفرض ہم
اگر یہ تصور بھی کرلیں کہ تمام کے تمام آئمہ محدثین جنہوں نے قیس بن ابی حازمؒ کی روایت
کو صحیح اور ثابت مانا ہے اور اس سے حجت پکڑی ہے، اور کسی نے بھی قیس بن ابی حازم کے
جنگ جمل میں موجود ہونے سے انکار نہیں کیا تو ان سب سے خطا ہوئی ہے اور اکیلے امام
علی بن المدینیؒ کا قول درست ہے کہ یہ جنگ جمل میں موجود نہ تھے، انہوں نے اسکا مشاہدہ
نہیں کیا بلکہ انہوں نے ارسال کیا ہے، تو ہمارا سوال یہ ہے کہ پھر انکی مرسل کا کیا
حکم ہے؟
امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذہبیؒ (المتوفی 748ھ) لکھتے ہیں:
فمن صحاح المراسيل مرسل سعيد بن المسيب. و: مرسل
مسروق. و: مرسل الصنابحي. و: مرسل
قيس بن أبي حازم. ونحو ذلك
چناچہ صحیح ترین مراسیل
میں سعید بن المسیب کی مرسل، مسروق کی مرسل، الصنابحی کی مرسل اور قیس بن ابی حازم
کی مرسل اور اسطرح کے دیگر (لوگوں) کی مرسل ہے۔
(الموقظة
- ت أبي غدة: صفحہ 38 و 39)
لہزا معلوم ہوا کہ قیس
بن ابی حازم کی مرسل روایت صحیح ہوتی ہے۔ یہ صریح نص میں نے امام ذہبیؒ کی اصول حدیث
پہ مبنی کتاب سے نقل کی ہے۔
مزید یہکہ ہماری ناقص
تحقیق میں قیس بن ابی حازم صرف اور صرف صحابہ کرامؓ اور ثقہ صدوق راویوں سے ہی روایت
کرتے ہیں، انکے اساتذہ میں کوئی ایک راوی بھی نہ تو مجھول ہے اور نہ ہی ضعیف ہے۔ لہزا
اصول حدیث کی روشنی میں انکی مرسل روایت صحیح شمار ہوگی۔ اس کو رد کرنے والے پہ یہ
لازم ہے کہ وہ اس بات کی دلیل مہیا کرے کہ انکی مرسل روایت ضعیف ہے اور اس وجہ سے قابل
رد ہوگی۔
● قیس بن ابی حازم کے اساتذہ:
ہم یہاں قیس بن ابی حازمؒ
کے اساتذہ کا تذکرہ کتب رجال سے کررہے ہیں، جہاں آئمہ محدثین نے انکے اساتذہ کے نام
بیان کیے ہیں جنہوں سے انہوں نے روایات بیان کی ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ کس سے انکی روایت
کرنا صحیح ادلہ سے ثابت ہے اور کس سے ثابت نہیں، ہم محض انکی فہرست تیار کررہے ہیں
جن سے قیس بن ابی حازم کا روایت کرنا کتب میں بیان ہوا ہے۔
امام ابو الحجاج یوسف
المزیؒ (المتوفی 742ھ) انکے اساتذہ جنہوں سے انہوں نے روایات بیان کی ہیں انکے نام
مندرجہ ذیل لکھتے ہیں:
1۔ اشعث بن قیس الکندیؓ
: صحابی
2۔ بلال بن رباح الحبشیؓ
: صحابی
3۔ جریر بن عبد اللہ البجلیؓ
: صحابی
4۔ حذیفہ بن الیمانؓ
: صحابی
5۔ خالد بن الولیدؓ :
صحابی
6۔ خباب بن الارتؓ : صحابی
7۔ دکین بن سعید المزنیؓ
: صحابی
8۔ زبیر بن العوامؓ :
صحابی
9۔ سعد بن ابی وقاصؓ
: صحابی
10۔ سعید بن زیدؓ : صحابی
11۔ ابو سفیان صخر بن
حربؓ : صحابی
12۔ صنابح بن الاعسرؓ
: صحابی
13۔ طلحہ بن عبید اللہؓ
: صحابی
14۔ عبد اللہ بن رواحہؓ
: صحابی
15۔ عبد اللہ بن مسعودؓ
: صحابی
16۔ عبد الرحمن بن عوفؓ
: صحابی
17۔ عتبہ بن فرقدؓ : صحابی
18۔ عثمان بن عفانؓ :
صحابی
19۔ عدی بن عمیرہؓ : صحابی
20۔ عقبہ بن عامرؓ : صحابی
21۔ علی بن ابی طالبؓ
: صحابی
22۔ عمار بن یاسرؓ : صحابی
23۔ عمر بن الخطابؓ :
صحابی
24۔ عمرو بن العاصؓ :
صحابی
25۔ قیس بن عمروؓ : صحابی
26۔ مرداس بن مالک الاسلمیؓ
: صحابی
27۔ المستورد بن شدادؓ
: صحابی
28۔ معاذ بن جبلؓ : صحابی
29۔ معاویہ بن ابی سفیانؓ
: صحابی
30۔ مغیرہ بن شعبہؓ :
صحابی
31۔ ابو بکر الصدیقؓ
: صحابی
32۔ ابو جحیفہ السوائیؓ
: صحابی
33۔ ابو حازم البجلیؓ
: صحابی
34۔ ابو سہلہ مولی عثمان
بن عفان : ثقہ
35۔ ابو شہم یزید بن ابی
شیبہؓ : صحابی
36۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ
: صحابی
37۔ ابی مسعود عقبہ بن
عمروؓ : صحابی
38۔ ابو موسی الاشعریؓ
: صحابی
39۔ ابو ہریرہ الدوسیؓ
: صحابی
40۔ اسماء بنت ابی بکرؓ
: صحابیہ
41۔ عائشہ بنت ابی بکرؓ
: ام المومنین
(تهذيب
الكمال في أسماء الرجال: جلد 24 صفحه 11 و 12)
یہ تمام نام امام المزیؒ
نے انکے اساتذہ میں نقل کیے ہیں جن سے قیس بن ابی حازمؒ روایت کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ
مندرجہ ذیل راویوں کے تلامذہ میں قیس بن ابی حازم کا ذکر امام المزیؒ نے کیا ہے۔
42۔ شریح بن الحارث بن
قیس : ثقہ
(تهذيب
الكمال في أسماء الرجال: جلد 12 صفحہ 437)
43۔ عدی بن حاتم الطائیؓ
: صحابی
(تهذيب
الكمال في أسماء الرجال: جلد 19 صفحه 526)
44۔ عروه بن ابی الجعدؓ
: صحابی
(تهذيب
الكمال في أسماء الرجال: جلد 20 صفحہ 6)
45۔ عويمر بن مالک الانصاریؓ
: صحابی
(تهذيب
الكمال في أسماء الرجال: جلد 22 صفحه 471)
46۔ ابو جبیرہ بن الضحاکؓ
: صحابی
(تهذيب
الكمال في أسماء الرجال: جلد 33 صفحہ 182)
مندرجہ بالا وہ راوی تھے
جنکا ذکر امام المزیؒ نے کیا ہے، اسکے علاوہ ہمیں مندرجہ ذیل رواۃ سے انکا روایت کرنا
ملتا ہے۔
47۔ اسماء بنت عمیسؓ
: صحابیہ
(المعجم
الكبير للطبراني: جلد 24 رقم 153)
48۔ سعد بن مسعود الکندیؓ
: مختلف فی صحبۃ
(العلل
لابن المديني: صفحہ 50 رقم 48)
49۔ زینب امراۃ قیس بن
ابی حازم :
(الطبقات
الكبرى - ط العلمية: جلد 8 صفحه 358 رقم 4712)
قيس بن ابی حازم کی اپنی
بیوی سے صرف ایک ہی روایت مجھے معلوم ہوسکی ہے اور اسکے علاوہ کوئی دوسری روایت مجھے
ذخیرہ حدیث میں نہیں ملی، اور انکی اس روایت کو امام عبد الرزاقؒ نے روایت کیا ہے کہ:
عبد الرزاق، عن ابن عيينة،
عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن امرأة: أنها كانت عند عائشة فسألتها
امرأة أتصدق المرأة من بيت زوجها؟ قالت: نعم، ما لم تتق مالها بماله
قیس بن ابی حازمؒ اپنی
عورت سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہؓ کے پاس موجود تھی تو ایک دوسری عورت نے ان
سے سوال کیا کہ کیا عورت اپنے شوہر کے گھر سے کوئی صدقہ کرسکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:
ہاں جب تک وہ اپنے مال کو اسکے مال سے نہ بچائے۔
(المصنف
- عبد الرزاق - ط التأصيل الثانية: جلد 4 صفحہ 447 رقم 7504)
(المصنف
- عبد الرزاق - ت الأعظمي: جلد 4 صفحہ 148 رقم 7276)
امام ابن حزمؒ اس روایت
کو امام عبد الرزاقؒ سے اپنی کتاب المحلی میں نقل کرتے ہیں تو وہ "امرأته"
یعنی ہ کی ضمیر بیان کرتے ہیں جس سے یہ بات بلکل واضح ہوجاتی ہے کہ یہ عورت قیس بن
ابی حازمؒ کی بیوی تھی ناکہ کوئی نامعلوم عورت۔
(المحلى
بالآثار: جلد 7 صفحہ 194)
اور امام ابن حزمؒ نے
اس روایت کو صریحا صحیح قرار دیا ہے۔
(المحلى
بالآثار: جلد 7 صفحہ 193)
مزید یہکہ اس روایت کا
شاہد صحیح بخاری میں بھی موجود ہے اور وہ سیدہ عائشہؓ سے ہی مرفوعا رسول اللہ ﷺ کی
حدیث کے طور پہ مروی ہے، اور یہ روایت اسی حدیث پہ سیدہ عائشہؓ کا اپنا عمل بیان کررہی
ہے۔ اور اس میں ایسی کوئی نکارت نہیں ہے جس کی وجہ سے روایت کا متن مردود ہو۔ بلکہ
اسی کے موافق متن ہے لہزا شواہد کی بنیاد پہ یہ روایت مقبول ہے۔
(صحيح البخاري:
رقم 1439)
50۔ زینب بنت ابی حازم
: ثقہ
(الثقات
لابن حبان: جلد 4 صفحہ 272)
ان سے قیس بن ابی حازمؒ
کی روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔
(صحيح البخاري:
رقم 3834)
میری اب تک کی ناقص تحقیق
میں مندرجہ بالا تمام نام ہی ملے ہیں جو قیس بن ابی حازمؒ کے اساتذہ میں شمار کیے گئے
ہیں جن سے قیس بن ابی حازم نے روایت بیان کی ہے۔ ان میں سوائے چار (4) راویوں کو چھوڑ
کر باقی سب صحابہ میں سے ہیں، اور ان چار میں سے بھی دو افراد انکے اپنے گھر کے افراد
ہیں، یعنی انکی بہن زینب اور انکی بیوی زینب۔ اسکے علاوہ صرف دو افراد ایسے ہیں جو
غیر ہیں اور وہ دونو ثقہ ہیں۔ اور ایک راوی ایسا ہے جسکے صحابی ہونے میں محدثین کا
اختلاف ہے البتہ اسکی مرویات قابل قبول ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ قیس بن ابی حازم
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایت کرنے والے ہیں، اور صحابہ کرام کے علاوہ
اکا دکا روایت اگر انہوں نے کسی اور سے لی ہیں تو وہ بھی محدثین کے یہاں علم الجرح
والتعدیل میں ثقہ ہیں۔ لہزا یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ قیس بن ابی حازم صرف ثقہ راویوں
سے ہی روایت کرتے ہیں اور انکے علاوہ کسی اور سے روایت نہیں کرتے۔
۞ صرف صحابہ کرامؓ سے روایت کرنے والے راوی کی مرسل کا حکم:
● امام مبارک بن محمد
بن محمد بن محمد ابن اثیر الجزریؒ (المتوفی 606ھ) کہتے ہیں:
والمختار على قياس رد
المرسل: أن التابعي والصحابي إذا عرف تصريح خبره، أو بعادته أنه لا يروي إلا عن صحابي
قبل مرسله؛ وإن لم يعرف ذلك فلا يقبل
اور مرسل کو رد کرنے کے
قائدے میں مختار یہ ہے کہ تابعی یا صحابی جب انکی خبر کی تصریح سے یا انکی عادت سے
یہ پہچان لیا جائے کہ وہ صحابی کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے تو انکی مرسل قبول
کی جائیگی اور اگر یہ نہ پہچانا جاسکے تو اسکی مرسل قبول نہیں کی جائے گی۔
(الشافي
في شرح مسند الشافعي: جلد 1 صفحہ 253)
معلوم ہوا کہ اگر ایک
تابعی کی عادت یہ ہو کہ وہ صرف صحابہ کرامؓ سے ہی روایت کرتا ہو تو اسکی مرسل کو اصول
محدثین کی روشنی میں قبول کیا جائے گا۔ اور قیس بن ابی حازمؒ کی عادت یہی ہے کہ وہ
صرف صحابہ کرام سے روایت کرتے ہیں اور جو دو چار باقی لوگ ہیں تو وہ ثقہ ہیں اور اس
متعلق بحث مندرجہ ذیل ہے۔
۞ صرف ثقات سے روایت کرنے والے راوی کی مرسل کا حکم:
مندرجہ ذیل مختصرا میں
ان چند جید آئمہ کا تذکرہ کررہا ہوں، جنہوں نے اصول حدیث میں صرف ثقہ راوی سے روایت
کرنے والے کبائر تابعین کی مراسیل کو قابل حجت قرار دیا ہے۔
● امام شافعیؒ:
امام ابن کثیر الدمشقیؒ
(المتوفی 774ھ) لکھتے ہیں:
وأما الشافعي فنص على
أن مرسلات سعيد بن المسيب: حسان، قالوا: لأنه تتبعها فوجدها مسندة. والله أعلم
والذي عول عليه كلامه
في الرسالة " أن مراسيل كبار التابعين حجة، إن جاءت من وجه آخر ولو مرسلة، أو
اعتضدت بقول صحابي أو أكثر العلماء، أو كان المرسل لو سمى لا يسمي إلا ثقة، فحينئذ
يكون مرسله حجة، ولا ينتهض إلى رتبة المتصل ".
قال الشافعي، وأما مراسيل
غير كبار التابعين فلا أعلم أحد أقبلها
اور جہاں تک امام شافعیؒ
کا تعلق ہے تو انہوں نے سعید بن المسیب کی مرسلات کو حسن قرار دیا ہے۔ کہا جاتا ہے
کہ: انہوں نے اس پہ تتبع کیا تو اسے مسند پالیا۔ اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔
اور انکی کتاب الرسالہ
میں انکے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ" کبائر تابعین کی مراسیل حجت ہیں، اگر وہ کسی
اور طریقے سے آئیں اگرچہ مرسل ہی ہوں، یا کسی صحابیؓ یا اکثر علماء کے قول سے تقویت
حاصل کریں، یا مرسل (بیان کرنے والا) کسی کا نام لے تو سوائے ثقہ کے کسی کا نام نہ
لے، پھر اس وقت مرسل حجت ہوتی ہے لیکن یہ متصل کے درجے تک نہیں پہنچتی۔
امام شافعیؒ کہتے ہیں:
کبائر تابعین کے علاوہ میں کسی کو نہیں جانتا جو ان (صغائر تابعین) کی مراسیل کو قبول
کرتا ہو۔
(اختصار
علوم الحديث: صفحہ 48، 49)
معلوم ہوا کہ اگر ارسال
کرنے والا کبیر تابعی صرف ثقہ سے روایت کرنے والا ہو تو امام شافعیؒ کے نزدیک اسکی
مرسل قابل قبول ہوتی ہے۔
● امام ابن عبد البرؒ:
اسی طرح امام ابن عبد
البرؒ (المتوفی 463ھ) کہتے ہیں:
وأما الإرسال، فكل من
عرف بالأخذ عن الضعفاء، والمسامحة في ذلك، لم يحتج بما أرسله؛ تابعا كان أو من دونه،
وكل من عرف أنه لا يأخذ إلا عن ثقة، فتدليسه ومرسله مقبول
اور جہاں تک ارسال کا
تعلق ہے تو ہر وہ شخص جو ضعفاء سے اخذ (روایت) کرنے اور اس معاملے میں نرمی برتنے میں
معروف ہو، اسکے ارسال سے حجت نہیں پکڑی جائے گی، چاہے وہ تابعی ہو یا اسکے علاوہ کوئی
اور ہو۔
اور ہر وہ راوی جو ثقہ
کے علاوہ کسی سے اخذ (روایت) نہ کرنے میں معروف ہو تو اسکی تدلیس اور اسکا ارسال مقبول
ہے۔
(التمهيد
- ابن عبد البر - ت بشار: جلد 1 صفحہ 220)
● امام ابن حجر عسقلانیؒ:
اپنی آخری کتب میں سے
ایک میں انہوں نے مرسل روایت کے حکم پہ بہت تفصیلی کلام کیا ہے اور آئمہ کے اختلاف
کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور آخر میں اس قول کو بیان کیا کہ اگر ارسال کرنے والا
راوی صرف ثقہ سے روایت کرتا ہو تو اسکی مرسل قبول کی جائے گی اور اگر ثقہ کے علاوہ
غیر ثقات سے بھی روایت کرتا ہے تو اسکی روایت رد کی جائے گی۔ چناچہ وہ امام شافعیؒ کے سعید بن المسیب کی مراسیل کو حجت
بنانے کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:
فهذا يدل على أنه قبل
مراسيل سعيد بن المسيب، لكونه كان لا يسمي إلا (عن) ثقة، وأما غيره، فلم يتبين له ذلك
منه، فلم يقبله مطلقا وأحال الأمر في قبوله على وجود الشرط المذكور
پس یہ اس پہ دلالت کرتا
ہے کہ انہوں نے سعید بن المسیب کی مراسیل کو اس وجہ سے قبول کیا کہ وہ صرف ثقہ سے روایت
کے علاوہ کسی کا نام نہیں لیتے تھے، اور جہاں تک ان (سعید بن المسیب) کے علاوہ کا تعلق
ہے تو انکے لیے یہ بات اس سے واضح نہیں ہوئی۔ اس لیے انہوں نے اسے مطلقا قبول نہیں
کیا اور اسکی قبولیت کے معاملے کو مذکورہ شرط کے وجود پہ منحصر کردیا۔
(النكت
على كتاب ابن الصلاح لابن حجر: جلد 2 صفحہ 554)
● امام ابن عبد الہادیؒ
(المتوفی 744ھ):
مرسل روایت کے متعلق اختلاف
کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
فمن علم من حاله أنه
لا يرسل إلا عن ثقة قبل مرسله
چناچہ جس راوی کے حال
کے متعلق یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ثقہ کے علاوہ کسی سے ارسال نہیں کرتا تو اسکی مرسل
قبول کی جائے گی۔
(مجموع
رسائل الحافظ ابن عبد الهادي: صفحہ 111)
فلہال میں اسی پہ اختصار
کررہا ہوں، میں نے یہاں محدثین کا راجع موقف بیان ہے اور جس پہ محدثین کا عمومی طور
پہ عمل بھی ہے۔ اور تمام محدثین تقریبا اس اصول پہ عمل پیرا ہیں جنہوں نے امام سعید
بن المسیبؒ اور امام ابن سیرینؒ وغیرہ کی مراسیل کو صحیح قرار دیا ہے ان سب نے اسی
اصول پہ عمل کیا ہے اور اسکی بنیاد پہ ہی انکی مراسیل پہ مقبولیت کا حکم لگایا گیا
ہے۔
اور اسی بنیاد پہ بالفرض
یہ مان بھی لیا جائے کہ قیس بن ابی حازمؒ کی جنگ جمل کی روایت مرسل ہے تو یہ کوئی ایسی
علت نہیں جو انکی روایت کو نقصان پہنچا سکے کیونکہ انہوں نے جو بھی روایات صحابہ کرام
کے علاوہ دیگر افراد سے روایت کی ہیں تو وہ افراد ثقہ ہیں، اور انکے اساتذہ میں 92
فیصد افراد صحابہ کرام ہیں، یعنی کہ بہت ہی کم شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ صحابہ
کرام کے علاوہ غیر صحابی سے روایت لیں۔
پس یہ ثابت ہوا کہ قیس
بن ابی حازمؒ کی جنگ جمل کی روایت کہ سیدنا طلحہؓ کا قاتل مروان ہے بلکل صحیح اور ثابت
ہے۔ محدثین اور مورخین نے اسکو صحیح بھی قرار دیا ہے اور اس سے حجت لیتے ہوئے مروان
کو سیدنا طلحہؓ کا قاتل بھی قرار دیا ہے۔ ہمیں اپنی ناقص ترین تحقیق میں آئمہ میں سے
کوئی ایک بھی امام ایسا نہیں ملا جس نے اس روایت کا انکار کیا ہو یا اسے ضعیف ٹہرایا
ہو وغیرہ وغیرہ۔ سب نے ہی اس روایت کو قبول کیا ہے اور اسے بیان کیا ہے۔ والحمد اللہ
تعالی۔
اس کے مختلف شواہد بھی
ہیں، جن میں سے بعض ضعیف ہیں اور بعض قوی ہیں۔ ہم فلہال طوالت کے باعث انکو حذف کررہے
ہیں۔ ان شاء اللہ اگلی کسی قسط میں انکا احاطہ کرلیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تحقیق سے مندرجہ ذیل نقاط صریحا ثابت ہوتے ہیں:
1۔ سیدنا عثمانؓ کی شہادت
کے موقع پہ مروان بن الحکم موجود تھا اور انکی حفاظت کرتے ہوئے یہ زخمی ہوا تھا، لہزا
مروان بن الحکم یہ بات زیادہ اچھے سے جانتا تھا کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنے والے
افراد کون تھے۔
2۔ سیدنا عثمانؓ کی شہادت
کے بعد جنگ جمل میں مروان نے سیدنا طلحہؓ کو موقع پا کر تیر مار کر شہید کردیا تاکہ
وہ ان سے سیدنا عثمانؓ کا انتقام لے سکے کیونکہ مروان یہ سمجھتا تھا کہ سیدنا عثمانؓ
کے قتل میں سیدنا طلحہؓ ملوث تھے۔ (ایسے عظیم جھوٹ سے اللہ کی پناہ)۔
3۔ محدثین اور مورخین
میں سے کئی آئمہ کرام نے صریحا قیس بن ابی حازم کی جنگ جمل کی روایات کو نہ صرف صحیح
اور ثابت قرار دیا ہے بلکہ ان سے حجت بھی قائم کی ہے۔
4۔ جمہور محدثین اور مورخین
نے مروان بن الحکم کو ہی سیدنا طلحہؓ کا قاتل قرار دیا ہے۔
5۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ
مروان ایک کذاب شخص تھا، اس نے عشرہ مبشرہ صحابی کو نہ صرف دھوکے سے قتل کیا بلکہ ان
پہ جھوٹی تہمت بھی لگائی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر معاملہ شرعی طور پہ دیکھا جائے
گا تو وہ اپنا الزام ثابت نہیں کرسکے گا، اسی لیے وہ موقع کی تلاش میں تھا اور اسے
یہ موقع جنگ جمل کے دن مل گیا۔
6۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ
سیدنا عثمانؓ کی حفاظت پہ مروان اکیلا نہیں تھا جو اس اکیلے کی گواہی کافی ہوتی، بلکہ
دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجعمین بھی موجود تھے اور ان میں سے کسی نے کبھی
بھی سیدنا طلحہؓ پہ اس طرح کا کوئی الزام نہیں لگایا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مروان
نے ان پہ جھوٹا الزام لگایا تھا۔
7۔ جو لوگ مروان کو صحابی
مانتے ہیں تو انکو چاہیے یہاں مروان کے دعوے کا اعتراف بھی کریں اور اسکی بنیاد پہ
عشرہ مبشرہ صحابی پہ سیدنا عثمانؓ کے قتل کی تہمت لگائیں، کیونکہ مروان کو صحابی ماننے
سے اسکا عادل ماننا لازم آجائے گا اور ویسے بھی نواصب تو ان لوگوں کو معصوم بنائے بیٹھے
ہیں اور اگر ایسا نہیں مانتے تو معلوم ہوا کہ مروان کذاب ہے اور عشرہ مبشرہ صحابی کا
قاتل ہے۔
8۔ امام علی بن المدینیؒ
کے قول کو محدثین اور مورخین میں سے کسی نے بھی قابل قبول نہیں سمجھا، بلکہ اسکے خلاف
انہوں نے قیس بن ابی حازمؒ کی جنگ جمل کی روایات کو نہ صرف صحیح اور ثابت مانا بلکہ
اسکی بنیاد پہ انہوں نے حجت بھی پکڑی ہے۔ لہزا امام علی ابن المدینیؒ کا قول منہج محدثین
اور منہج مورخین کی روشنی میں مردود ہے اور اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
9۔ ہم نے بھی دیکھا کہ
بالفرض اگر کوئی جاہل دنیا میں اس اکلوتے قول کو ہی حرف آخر سمجھ لے تو یہ قول قیس
بن ابی حازمؒ کی روایت پہ کوئی حرف نہیں ڈالتا کیونکہ قیس بن ابی حازمؒ کے تمام اساتذہ
صحابہ کرام میں سے ہیں جن سے وہ روایت کرتے ہیں سوائے دو چار کے اور وہ بھی ثقہ ہیں
یا انکے گھر کے افراد ہیں۔ لہزا قیس بن ابی حازمؒ کی مراسیل حجت ہیں اور انہیں منہج
محدثین کی روشنی میں بھی قبول کیا جائے گا اور اسکو رد کرنا جائز نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلہال کیلیے صرف اتنا
ہی، اپنی دعاؤں میں ناچیز کو یاد رکھیے۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا
والسلام: ابو الحسنین
ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں

Post a Comment