-->

سیدہ عائشہؓ کا سیدنا محمد بن ابی بکرؓ اور مالک اشترؒ پہ بددعا کرنے کی روایت کی حقیقت

 

عينی شہادت کے مطابق سیدنا عثمانؓ کا قاتل کون؟

(قسط نمبر 5)

[سیدہ عائشہؓ کا سیدنا محمد بن ابی بکرؓ اور مالک اشترؒ پہ بددعا کرنے کی روایت کی حقیقت]

ہم پچھلی اقساط میں سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے عینی شاہد کنانہؒ مولی صفیہ کی گواہی پیش کرچکے ہیں کہ سیدنا ابو القاسم محمد بن ابی بکر صدیق اور جناب مالک اشترؒ کا سیدنا عثمان کی شہادت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان پہ جو بھی الزامات ہیں وہ تمام کمزور اور بےبنیاد ہیں، اسی طرح ہم نے یہ بھی واضع کیا تھا کہ کنانہ بن بشر التجیبی کو عینی شاہد نے قاتل عثمان کہا اور تمام آئمہ نے تواتر سے اسکا ذکر قاتل عثمان کے طور پہ کیا ہے۔ اسکے علاوہ بھی جن کا زکر قاتل کے طور پہ کیا گیا ہے ہم نے اسکو پچھلی اقساط میں بیان کردیا ہے۔ نام نہاد دفاع صحابہ اور سلف کے منہج اور آئمہ کے مقلدین نواصب کبھی آپکو ان کا نام لیکر ڈھنڈورا پیٹتے نظر نہیں آئیں گے۔ خیر اسی کے پیش نظر اس قسط میں اس روایت کا تجزیہ کریں گے جسے نواصب اکثر اصحاب مولا علیؑ پہ طعن کرنے کیلیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ روایت مندرجہ ذہل ہے:

۔ امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانیؒ (المتوفی 360ھ) نقل کرتے ہیں:

حدثنا الفضل بن الحباب أبو خليفة، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحجبي، ثنا حزم، عن أبي الأسود، قال: سمعت طليق بن خشاف، يقول: وفدنا إلى المدينة لننظر فيم قتل عثمان، فلما قدمنا مر منا بعض إلى علي، وبعض إلى الحسين بن علي رضي الله عنهما، وبعض إلى أمهات المؤمنين رضي الله عنهن، فانطلقت حتى أتيت عائشة فسلمت عليها فردت السلام، فقالت: ومن الرجل؟ قلت: من أهل البصرة، فقالت: من أي أهل البصرة؟ قلت: من بكر بن وائل، قالت: من أي بكر بن وائل؟ قلت: من بني قيس بن ثعلبة قالت: أمن أهل فلان؟ فقلت لها: يا أم المؤمنين، فيم قتل عثمان أمير المؤمنين رضي الله عنه؟ قالت: «قتل والله مظلوما، لعن الله قتلته، أقاد الله ابن أبي بكر به، وساق الله إلى أعين بني تميم هوانا في بيته، وأهراق الله دماء بني بديل على ضلالة، وساق الله إلى الأشتر سهما من سهامه» ، فوالله ما من القوم رجل إلا أصابته دعوتها

طلیق (؟) بن خشاف کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میں مدینہ آئے تا کہ دیکھیں کہ عثمانؓ کو کیوں شہید کیا گیا ہے۔ جب ہم وہاں آئے تو ہم میں سے کوئی سیدناعلیؑ کی طرف چلا گیا ، کوئی حسین بن علیؑ کی طرف اور کوئی امہات المؤمنین کی طرف چلا گیا۔ لیکن میں سیدہ عائشہؓ پہنچا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انھیں سلام کہا انھوں نے سلام کا جواب دیا اور انھوں نے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا: اہل بصرہ میں سے ہوں۔ انھوں نے فرمایا: اہل بصرہ میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو؟ میں نے کہا: بکر بن وائل سے۔ انھوں نے فرمایا: بکر بن وائل کی کس شاخ سے؟ میں نے کہا: بنو قیس بن ثعلبہ سے۔ انھوں نے فرمایا: کیا فلاں خاندان والوں میں سے ہو؟ بہر حال میں نے کہا: اے ام المؤمنین! امیر المؤمنین عثمان کو کیوں شہید کیا گیا؟ انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم ! انھیں مظلومانہ شہید کیا گیا ہے۔ اللہ اس پر لعنت کرے جس نے انھیں شہید کیا۔ اللہ تعالیٰ ابن ابی بکر سے بدلہ لے۔ بنو تمیم کے وڈیروں کی طرف اللہ تعالیٰ ان کے گھروں میں ذلت ورسوائی بھیج دے۔ بنو بدیل کی ضلالت پر اللہ تعالیٰ ان کا خون بہائے۔ اشتر کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے تیروں میں سے کوئی تیر بھیج دے۔ اللہ کی قسم! ان لوگوں میں سے ہر ایک کو سیدہ عائشهؓ کی بددعا پہنچی۔

(المعجم الكبير طبرانی: جلد 1 صفحہ 88 رقم 133)

دیگر کتب میں یہ روایت اور اسکی اسانید:


۔ امام ابو نعیم اصبھانیؒ (المتوفی 430ھ) نقل کرتے ہیں:

حدثنا سليمان بن أحمد قال ثنا الخليفة؟ ؟ ثنا عبد الله بن عبد الوهاب، ثنا حازم بن أبي حازم، عن أبي الأسود قال: سمعت طلق بن حسان يقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(الإمامة والرد على الرافضة: صفحہ 330)

۔ امام نور الدین الھیثمیؒ (المتوفی 807ھ) اسے امام طبرانی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

رواه الطبراني، ورجاله رجال الصحيح غير طلق، وهو ثقة۔

اسے طبرانی نے روایت کیا ہے، اور اسکے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے طلق کے اور وہ ثقہ ہے۔

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 9 صفحہ 97 رقم 14567)

۔ امام بخاریؒ (المتوفی 256ھ) نقل کرتے ہیں:

حدثني يحيى بن موسى، حدثنا أبو داود، حدثنا حزم القطعي، حدثنا أبو الأسود سوادة، قال: أخبرني طلق بن خشاف: قتل عثمان، فتفرقنا في أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم نسألهم عن قتله، فسمعت عائشة قالت: قتل مظلوما، لعن الله قتلته

طلق بن خشاف کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان قتل ہوگئے تو ہم رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں منتشر ہوگئے اور ان سے انکے قتل کے متعلق دریافت کیا، پھر میں نے سیدہ عائشہؓ کو کہتے سنا کہ وہ مظلوم شہید ہوئے، انکے قاتل پہ اللہ کی لعنت ہو۔

(التاريخ الكبير للبخاري: جلد 4 صفحہ 358 رقم 3137)

۔ امام ابن عساکرؒ (المتوفی 571ھ) بھی اس روایت کو اپنی سے امام بخاریؒ کے واسطے سے نقل کرتے ہیں:

(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 39 صفحہ 488)

۔ امام بخاریؒ تاریخ الاوسط میں نقل کرتے ہیں:

حدثنا موسى ثنا حزم قال سمعت مسلم بن مخراق أبا سوادة قال سمعت ‌طلق ‌بن ‌خشاف قال أتيت عائشة قلت فيم قتل أمير المؤمنين قالت قتل مظلوما لعن الله قتلته أباد الله بن أبي بكر وساق إلى أعين بني تميم هوانا وأهراق دم ابني بديل على ضلالة وساق الله إلى الأشتر كذا قال طلق لا والله إن بقي من القوم رجل إلا أصابته دعوتها أخذ بن أبي بكر فأقيد ودخل على أعين بني تميم رجل فقتله وخرج ابنا بديل في بعض تلك الفتن فقتلا وخرج الأشتر إلى الشام فأتي بشربة فقتلته

طلق بن خشاف کہتے ہیں میں سیدہ عائشہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: امیر المومنین کو کیوں قتل کیا گیا؟ انہوں نے کہا: انہیں مظلوم قتل کیا گیا، اللہ کی قاتل پہ لعنت ہو، اللہ ابن ابی بکر سے بدلہ لے، بنو تمیم کے گھروں میں رسوائی بھیجے اور بنی بدیل کی گمراہی پہ انکا خون بہائے، اور اللہ اشتر کی طرف بھیجے۔ اسی طرح کہا: کوئی اس سے چھوٹا، نہیں، اللہ کی قسم کوئی شخص باقی نہیں بچا جس کو انکی بددعا نہ پہنچی ہو۔ ابن ابی بکر کو قید کرلیا گیا، بنی تمیم کے گھروں میں ایک شخص داخل ہوا تو اسے قتل کردیا گیا اور بنی بدیل میں سے کچھ فتنے میں نکلے تو انہیں قتل کردیا گیا، اور اشتر شام کی طرف نکلے تو جب وہاں پہنچے تو مشروب لایا گیا جس نے انہیں قتل کردیا۔

(التاريخ الأوسط: جلد 1 صفحہ 95 رقم 381)

۔ امام بخاریؒ کی انہی روایات کا تذکرہ امام ابن عساکرؒ بھی کرتے ہیں:

وقد روى البخاري بعض هذه الحكاية في تاريخه فقال حدثني يحيى بن موسى نا أبو داود نا حزم القطعي نا أبو الأسود سوادة أخبرني ‌طلق ‌بن ‌خشاف فالله أعلم بالصواب

(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 56 صفحہ 382)

۔ امام عمر بن شبۃ البصری (المتوفی 262ھ) نقل کرتے ہیں:

حدثنا موسى بن إسماعيل قال: حدثنا حزم بن أبي حزم، عن مسلم بن مخراق، عن ‌طلق ‌بن ‌خشاف قال: قلت لعائشة رضي الله عنها: فيم قتل أمير المؤمنين عثمان رضي الله عنه؟ قالت: «قتل مظلوما، لعن الله قتلته، أقاد الله ابن أبي بكر به وأهراق دم ابني بديل على ضلالة، ورمى الأشتر بسهم من سهامه، وساق إلى أعين بني تميم هوانا في بيته» قال: «فما منهم أحد إلا أصابته دعوتها»

طلق بن خشاف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ سے پوچھا: امیر المومنین سیدنا عثمانؓ كو كيوں قتل کیا گیا؟ انہوں نے کہا: وہ مظلوم قتل ہوئے، انکے قاتل پہ اللہ کی لعنت ہو، الله ابن ابی بکر سے انکا بدلہ لے اور بنی بدیل کا انکی گمراہی پہ خون بہائے، اور مالک اشتر کی طرف اپنے تیروں میں کوئی تیر بھیجے، اور الله بنو تميم كے گهروں كي طرف رسوائي بهيجے۔ کہا: ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جاس انکی بددعا ست متاثر نہ ہوا ہو۔

(تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1244)

۔ اسکے بعد امام ابن شبہ نقل کرتے ہیں:

حدثنا خالد بن عبد العزيز الثقفي، قال: حدثني حزم بن مهران، قال: حدثنا أبو سوادة، عن ‌طلق ‌بن ‌خشاف رجل من بني قيس بن ثعلبة قال: خرجت في وفد من أهل البصرة نسأل فيم قتل أمير المؤمنين عثمان رضي الله عنه، فلما قدمنا المدينة تفرقنا. فانطلق بعض القوم إلى علي رضي الله عنه، وأتى بعضهم الحسن بن علي رضي الله عنهما، وأتى بعضهم أمهات المؤمنين، فكنت فيمن أتى عائشة رضي الله عنها فسلمت عليها فردت السلام وقالت: من الرجل؟ فقلت: من أهل العراق، فقالت: من أي أهل العراق؟ قلت: من أهل البصرة، قالت: من أي أهل البصرة؟ قلت: من بكر بن وائل، قالت: من أي بكر بن وائل؟ قلت: من بني قيس بن ثعلبة، قالت: أمن قوم فلان المقنعذ، ما أهلك الناس إلا مثل فلان. قلت: يا أم المؤمنين فيم قتل أمير المؤمنين عثمان رضي الله عنه؟ فقالت مثل ما في الحديث الأول

قیس بن ثعلبہ سے ایک شخص طلق بن خشاف سے مروی ہے کہ وہ کہتا ہے: میں اہل بصرہ کے ایک وفد کے ساتھ یہ پوچھنے کیلیے نکلا کہ امیر المومنین سیدنا عثمانؓ کو کیوں شہید کیا گیا؟ تو جب ہم مدینے پہنچے تو علیحدہ ہوگئے، چناچہ کچھ لوگ سیدنا علیؑ کے پاس گئے، اور کچھ لوگ امام حسن بن علیؑ کے پاس گئے، اور بعض لوگ امہات المومنینؓ کے پاس چلے گئے، میں ان میں شامل تھا جو سیدہ عائشہؓ کے پاس آئے، میں نے انکو سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: یہ شخص کون ہے؟ میں نے کہا: اہل عراق میں سے، انہوں نے کہا: اہل عراق میں کس سے تعلق رکھتے ہو؟ میں نے کہا: اہل بصرہ سے، انہوں نے کہا اہل بصرہ میں کن لوگوں سے؟ میں نے کہا: بکر بن وائل سے، انہوں نے کہا: بکر بن وائل میں کن سے؟ میں نے کہا: بنی قیس بن ثعلبہ سے، انہوں نے کہا: فلاں قوم امن میں ہے نقاب پوش کے جس نے لوگوں کو تباہ کیا، سوائے فلاں کے، میں نے کہا:یا ام المومنین امیر المومنین سیدنا عثمانؓ کو کس نے شہید کیا؟ تو انہوں نے وہی کہا جو پہلی حدیث میں ہے۔

(تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1244، اسکی سند میں خالد بن عبد العزيز الثقفي مجهول الحال هے)

۔ حدثنا أبو عامر، قال: حدثنا سوادة بن أبي الأسود، قال: حدثني أبي، عن ‌طلق ‌بن ‌خشاف، قال: انطلقنا إلى المدينة ومعنا قرط بن خيثمة فلقينا الحسن بن علي رضي الله عنه فقال له قرط: فيم قتل أمير المؤمنين عثمان رضي الله عنه؟ قال: قتل مظلوما. فقال قرط: فوالله لا نجتمع على قتلته. فقال الحسن: إن تجتمعوا خير من أن تفرقوا. قال: فأتينا عليا رضي الله عنه فدخلنا عليه فقال: أبايعتم؟ قلنا: لا. قال: فبايعوا. فقال قرط: نبايعك على سنة محمد ما استقمت. قال: فبايعناه

طلق بن خشاف کہتے ہیں: ہم مدینے کی طرف روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ قرط بن خیثمہ تھے، چناچہ ہم امام حسن بن علیؑ کے پاس پہنچے، تو ان سے قرط نے کہا: امیر المومنین سیدنا عثمانؓ کو کیوں قتل کیا گیا؟ انہوں نے کہا: انہیں ناحق مظلوم قتل کیا گیا۔ قرط نے کہا: اللہ کی قسم ہم انکے قتل پہ اکٹھا نہیں ہوسکتے، تو حسنؑ نے کہا: آپکے لیے الگ ہوجانے سے جمع ہوجانا بہتر ہے، کہا: پھر ہم سیدنا علیؑ کے پاس آئے اور انکے پاس داخل ہوگئے، انہوں نے پوچھا: کیا تم بیعت کی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: تو بیعت کرلو، قرط نے کہا: ہم محمد ﷺ کی سنت پہ آپ کی بیعت کرتے ہیں جب تک آپ استقامت پہ ہے، کہا: ہم نے بیعت کرلی۔

(تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1245)

۔ امام احمد بن یحیی البلازریؒ (المتوفی 279ھ) نقل کرتے ہیں:

وحدثني أحمد بن إبراهيم عن أبي داود عن حزم القطعي عن أبي الأسود عن ‌طلق ‌بن ‌خشاف قال: قدمت المدينة بعد مقتل عثمان فسألت عائشة عن قتله فقالت: لعن الله قتلته فقد قتل مظلوما، أقاد الله من ابن أبي بكر وأهدى إلى الأشتر سهما من سهامه وهراق دم ابني بديل، فو الله ما من القوم أحد إلا أصابته دعوتها

طلق بن خشاف کہتے ہیں: میں سیدنا عثمانؓ کے قتل کے بعد مدینے آیا تو سیدہ عائشہؓ سے انکے قتل کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: انکے قاتل پہ اللہ کی لعنت ہو انہیں مظلوم شہید کیا گیا۔ اللہ ابن ابی بکر سے بدلہ لے اور اشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیجے، اور بنی بدیل کا خون بہائے، اللہ کی قسم ان لوگوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جسے اس بددعا کا اثر نہ پہنچا ہو۔

(أنساب الأشراف للبلاذري: جلد 5 صفحہ 596 رقم 1535)

۔ امام ابو احمد الحاکمؒ (المتوفی 378ھ) نقل کرتے ہیں:

أخبرنا محمد بن سليمان، حدثنا محمد، يعني ابن إسماعيل، حدثنا موسى، يعني ابن إسماعيل، حدثنا حزم، يعني القطعي قال: سمعت مسلم بن مخراق أبا سوادة قال: سمعت طلق بن خشاف، قال: أتيت عائشة، قلت: فيم قتل أمير المؤمنين؟ قال: فقالت: قتل مظلوما

طلق بن خشاف کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہؓ کے پاس آیا تو ان سے کہا: امیر المومنین کو کیوں قتل کیا گیا؟ تو انہوں نے کہا: انہیں ناحق مظلوم قتل کیا گیا۔

(الأسامي والكنى - ت الأزهري: جلد 4 صفحہ 207 رقم 3242)

۔ امام ابن عساکرؒ (المتوفی 571ھ) نقل کرتے ہیں:

قالا أنا محمد وأحمد بن الحسن بن سهل ابنا الصباح قالا أنا أحمد بن إبراهيم ابن أحمد الإمام نا علي بن حرب نا زيد بن الحباب حدثني حزم القطعي نا زياد بن محراق عن ‌طلق ‌بن ‌خشاف البكري قال لما قتل أمير المؤمنين عثمان قدمنا المدينة فتفرقنا فمنا من أتى عليا ومنا من أتى الحسن بن علي ومنا من أتى أزواج النبي (صلى الله عليه وسلم) فأتيت عائشة فقلت يا أم المؤمنين فيم قتل عثمان قالت قتل والله مظلوما قاد الله به ابن أبي بكر وأهرق الله دم ابن بديل على ضلالة وساق الله إلي الأشتر هوانا في بيته وفعل الله بفلان وفعل بفلان قال فوالله ما منهم إلا أصابته دعوتها

طلق بن خشاف کہتے ہیں: جب امیر المومنین سیدنا عثمان کو شہید کردیا گیا تو ہم مدینے آئے تو ہم لوگ الگ الگ ہوگئے، کچھ لوگ سیدنا مولا علیؑ کے پاس گئے، کچھ لوگ سیدنا امام حسنؑ کے پاس گئے اور کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے پاس گئے۔ میں سیدہ عائشہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اے ام المومنین سیدنا عثمان کو کیوں قتل کیا گیا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم انہیں مظلوم قتل کیا گیا۔ اللہ ابن ابی بکر سے انکا بدلہ لے، بنو بدیل کی ضلالت پہ انکا خون بہائے، اور الله اشتر کی طرف تیر چلائے، میں انکے گھر میں ہوں، اور اللہ نے فلاں کے ساتھ ایسا کیا اور فلاں کے ساتھ بھی ایسا کیا، اس نے کہا: ان میں سے ہر ایک کو اسکی سزا ملی۔

(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 56 صفحہ 381)

۔ امام ابن کثیرؒ (المتوفی 773ھ) نقل کرتے ہیں:

وقال أبو داود الطيالسي: حدثنا حزم القطعي، ثنا أبو الأسود بن سوادة، أخبرني ‌طلق ‌بن ‌خشاف. قال: قتل عثمان فتفرقنا في أصحاب محمد، صلى الله عليه وسلم، نسألهم عن قتله، فسمعت عائشة تقول: قتل مظلوما لعن الله قتلته

طلق بن خشاف کہتے ہیں: سیدنا عثمان قتل ہوئے تو ہم رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں منتشر ہوگئے، ہم ان سے انکے قتل کے متعلق پوچھتے، چناچہ میں نے سیدہ عائشہؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: انہیں ناحق مظلوم قتل کیا گیا، اللہ کی ہو اس پہ جس نے انہیں قتل کیا۔

(البداية والنهاية ت التركي: جلد 10 صفحہ 340)

۞۔ روایت کی حقیقت:


۞۔ سب سے پہلے تو ہم اس روایت کی اسنادی حیثیت پہ بات کرتے ہیں۔

۔ امام طبرانیؒ اس کو عبد اللہ بن عبد الوھاب کی طریق سے حزم سے روایت نقل کرتے ہیں، یہاں حزم کا پورا نام نقل نہیں ہوا اور امام ابو نعیمؒ جب اسی سند سے اس روایت کو نقل کرتے ہیں تو حزم کے بجائے حازم بن ابی حازم نقل کرتے ہیں، جوکہ خطا ہے، اگر اسکو خطا قرار نہ دیا جائے تو سند منقطع ہوجاتی ہے کیونکہ حازم بن ابی حازم جنگ صفین میں مولا علیؑ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔

امام ابن اثيرؒ اور امام ابن حجر عسقلانیؒ کے ساتھ امام ابن عبد البر القرطبیؒ بھی حازم بن ابی حازم کا ترجمہ قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

حازم ‌بن ‌أبي ‌حازم الأحمسي، أخو قيس بن أبي حازم، واسم أبي حازم عبد عوف بن الحارث، وكان حازم وقيس أخوه مسلمين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولم يرياه، وقتل حازم بصفين مع علي رضي الله عنه تحت راية أحمس وبجيلة يومئذ

حازم بن ابی حازم الاحمسی، قیس بن ابی حازم کے بھائی ہیں، اور حازم کے والد کا نام عبد عوف بن الحارث ہے، اور حازم اور انکے بھائی قیس رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمان تھے مگر آپکو دیکھ نہیں پائے، اور حازم صفین میں مولا علیؑ کے ساتھ اس دن احمس اور بجیلہ (دو قبیلوں کے نام) کے جھنڈے تلے شہید ہوئے۔

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب: جلد 1 صفحہ 311 رقم 453)

واضع رہے کہ جنگ صفین سن 37ھ میں ہوئی ہے اور عبد اللہ بن عبد الوھاب کی سن وفات 228ھ ہے، لہزا یہ ممکن ہی نہیں کہ اس راوی سے یہ سند متصل مانی جائے۔
(الهداية المعروف برجال صحيح البخاري: جلد 1 صفحہ 417، المعلم بشيوخ البخاري ومسلم: صفحه 366 رقم 312)

لہزا درست راوی یہاں حزم بن ابی حزم القطعی ہے، اسکی تاریخ وفات 175ھ ہے (الطبقات الكبرى - ط العلمية: جلد 7 صفحہ 209 رقم 3293)، جس سے یہ سند امکان سماع کی بنیاد پہ طلق بن خشاف تک متصل ہوجاتی ہے۔

۔ طلق بن خشاف کے متعلق ایک قول یہ ملتا ہے کہ یہ صحابی ہے، جيسا کہ امام ابن سعد (المتوفی 230ھ) نقل کرتے ہیں:

أخبرنا مسلم بن إبراهيم قال: حدثنا سوادة بن أبي الأسود القيسي القطان قال: حدثني أبي أنهم دخلوا على ‌طلق ‌بن ‌خشاف رجل من أصحاب النبي۔۔۔۔۔۔۔

سوادہ بن ابی الاسود القیسی کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص طلق بن خشاف کے پاس داخل ہوئے۔۔۔۔۔

(الطبقات الكبرى - ط دار صادر: جلد 7 صفحہ 60)

البتہ یہ قول قابل قبول نہیں ہے کہ کیونکہ سوائے طلق بن خشاف کے اپنے شاگرد کے کوئی اور ثبوت اور قول موجود ہی نہیں ہے جو اسے صحابی ثابت کرتا ہو، ناہی اسکا رسول اللہ ﷺ سے روایت کرنا ثابت ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام آئمہ نے اسکے تابعی ہونے کو راجع قرار دیا ہے اور اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ مثلا:

۔ امام بخاریؒ (المتوفی 256ھ) لکھتے ہیں:

طلق ‌بن ‌خشاف

من بني بكر بن وائل، ثم من بني قيس بن ثعلبة.

أدرك عثمان، وعائشة

طلق بن خشاف، بنی بکر بن وائل سے، پھر بنی قیس بن ثعلبہ سے ہے۔ اس نے سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ کا ادراک کیا ہے۔

(التاريخ الكبير للبخاري - ت الدباسي والنحال: جلد 5 صفحہ 634 رقم 5981)

اسی کے آگے امام بخاری اسکے متعلق دو روایات نقل کرتے ہیں، ایک جو ہماری زیر بحث روایت ہے اور دوسری اسکے صحابی ہونے کا قول، مگر امام بخاری کے نزدیک یہ صحیح نہیں، اسی وجہ سے آپ نے اسکو تابعی قرار دیا اور صرف سیدنا عثمانؓ اور سیدہ عائشہؓ کے اصحاب میں اسکا زکر کیا۔

۔ امام ابن ابی حاتم الرازیؒ (المتوفی 327ھ) لکھتے ہیں:

‌طلق ‌بن ‌خشاف بن بكر بن وائل من بني قيس بن ثعلبة روى عن عثمان وعائشة روى عنه أبو سوادة مسلم سمعت أبي يقول ذلك

طلق بن خشاف بن بکر بن وائل بنی قیس بن ثعلبہ سے ہے، یہ سیدنا عثمانؓ اور سیدہ عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ابو سوادہ مسلم روایت کرتے ہیں، میں نے اپنے والد ابو حاتم الرازیؒ (المتوفی 277ھ) کو یہ کہتے ہوئے سنا۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 4 صفحہ 490 رقم 2156)


معلوم ہوا کہ امام ابو حاتم الرازی اور انکے بیٹے امام ابن ابو حاتم الرازی دونو کا موقف یہی ہے کہ یہ تابعی ہے۔

۔ امام ابن حبانؒ البستی (المتوفی 354ھ) لکھتے ہیں:

‌طلق ‌بن ‌خشاف من بنى بكر بن وائل ثم من بنى قيس بن ثعلبة يروي عن عثمان وعائشة روى عنه سواد بن مسلم ومسلم بن أبي الأسود


طلق بن خشاف بنی بکر بن وائل سے ہے پھر بنی قیس بن ثعلبہ سے، یہ سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ سے روایت کرتے ہی، اور ان سے سواد بن مسلم اور مسلم بن ابی الاسود روایت کرتے ہیں۔

(الثقات لابن حبان: جلد 4 صفحہ 396)

۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) طلق بن خشاف کے ترجمے میں لکھتے ہیں:

قال مسلم بن إبراهيم، عن سوادة بن أبي الأسود القيسي، عن أبيه- أنه سمع ‌طلق ‌بن ‌خشّاف يدعو، وكانت له صحبة.

استدركه الذّهبيّ في «التجريد» ، ونقلته من خطه، وأما البخاريّ وابن حبّان وابن أبي حاتم فذكروا أنه تابعيّ، وأنه يروي عن عثمان وعائشة

سواده بن ابي الاسود القيسي اپنے والد سے روايت كرتے هيں كه انہوں نے طلق بن خشاف سے سماع کیا وہ انہیں بلاتا اور اس نے صحبت کی ہے۔ ذهبي نے التجريد ميں اسکا استدراک کیا ہے، اور میں نے انکی لکھائی سے اسے نقل کیا ہے۔ اور جہاں تک امام بخاری، امام ابن حبان، اور امام ابن ابی حاتم کا تعلق ہے تو انہوں نے اسے تابعی زکر کیا ہے، اور یہ سیدہ عائشہؓ اور سیدنا عثمانؓ سے روایت کرتے ہیں۔

(الإصابة في تمييز الصحابة: جلد 3 صفحه 437)

۔ امام زین الدین قاسم بن قطلوبغا الحنفی (المتوفی 879ھ) لکھتے ہیں:

‌طَلْق ‌بن ‌خُشَّاف، من بني بكر بن وائل، ثم من بني قيس بن ثعلبة.

يروي عن عثمان، وعائشة. روى عنه سواد بن سلم، ومسلم بن أبي الأسود.

وقال العجلي: بصري.

وقال ابن أبي حاتم: روى عنه أبو سوادة مسلم

طلق بن خشاف بنی بکر بن وائل سے ہے، پھر بنی قیس بن ثعلبہ سے۔ یہ سیدنا عثمانؓ اور سیدہ عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے سواد بن سلم اور مسلم بن ابی الاسود روایت کرتے ہیں۔ اور امام عجلی کہتے ہیں کہ یہ بصری ہے، اور امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ ان سے ابو سوادہ مسلم روایت کرتے ہیں۔

(الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة: جلد 5 صفحہ 394 رقم 5480)

اس ساری بحث سے یہ واضع ہوگیا کہ آئمہ کرام کے نزدیک طلق بن خشاف تابعی ہے، اور اسکے شاگرد کا قول کہ یہ صحابی ہے قابل قبول نہیں ہے۔

چونکہ یہ راجع ہے کہ طلق بن خشاف تابعی ہے تو اسکا معتبر ذرائع سے ثقہ صدوق ثابت ہونا ضروری ہے۔ ہم اوپر نقل کرچکے ہیں کہ اسے صرف امام ھیثمیؒ نے ثقہ قرار دیا ہے، اس سے پہلی بات تو یہ ثابت ہوگیا کہ امام ھیثمیؒ کے نزدیک بھی طلق بن خشاف تابعی ہے صحابی نہیں، کیونکہ صحابی کے متعلق ثقہ کہہ کر اسکی توثیق نہیں کی جاتی کیونکہ ہم اہل سنت کے نزدیک صحابہ تمام کے تمام روایت حدیث میں عادل ہیں۔ باقی رہ گئی امام ھیثمیؒ کی تحسین کی تو انکے ثقہ کہنے کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے مجمع الزوائد میں اسناد و روایات کی تحسین میں بہت واضع خطائیں کی ہیں، مثال کے طور پہ:

۔ حديث انسؓ مرفوعا: "إن لله سيارة من الملائكة۔۔۔"

قال الھیثمی: رواه البزار من طريق زائدة بن أبي الرقاد، عن ‌زياد ‌النميري، ‌وكلاهما ‌وثق ‌على ‌ضعفه، فعاد هذا إسناده حسن۔

اسے امام بزار نے زائدہ بن ابی الرقاد کے طریق سے روایت کیا ہے زیاد النمیری کی سند سے، اور ان تمام کی توثیق معبتر ہے ضعف پہ لہزا یہ اسناد حسن ہیں۔
(المجمع الزوائد: جلد 10 صفحہ 77 رقم 16769)

امام ابی حاتم الرازیؒ (التموفی 277ھ) سے زائدہ بن ابی الرقاد کے متعلق سوال ہوا تو کہتے ہیں:

‌يحدث ‌عن ‌زياد ‌النميري ‌عن ‌أنس ‌احاديث مرفوعة منكرة فلا ندري منه أو من زياد؟ ولا أعلم روى عن غير زياد فكنا نعتبر بحديثه


یہ زیاد النمیری سے سیدنا انس کی سند پہ مرفوع احادیث روایت کرتا ہے جوکہ منکر ہیں، ہم نہیں جانتے کہ یہ (نکارت) اس میں ہے یا زیاد میں؟ اور ہم نہیں جانتے کہ اسے زیاد کے علاوہ کس نے روایت کیا ہے، چناچه ہم اسکی حدیث پہ غور کرتے ہیں۔

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: جلد 3 صفحہ 613 رقم 2778)

اسی طرح امام بخاریؒ زائدہ بن ابی الرقاد کو منکر الحدیث قرار دیتے ہیں (التاريخ الكبير للبخاري: جلد 3 صفحہ 433 رقم 1445)۔ امام ابن حبانؒ اسکا ترجمہ الجروحین میں قائم کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: يروي المناكير عن المشاهير لا يحتج به ولا يكتب إلا للاعتبار۔ یہ مشھور رواۃ سے مناکیر روایت کرتا ہے، اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا اور اسے صرف اعتبار کے طور پہ لکھا جائے گا (المجروحین: جلد 1 صفحہ 308)، اسی طرح امام ابن عدی الجرجانیؒ نے اسکا ترجمہ قائم کرکے اس کی روایات پہ منکر کی جرح کرتے ہیں (الکامل فی ضعفاء الرجال: جلد 4 صفحہ 196)، امام ابن شاہینؒ اسے ضعفاء اور متروکین کی فہرست میں درج کرکے امام یحیی بن معینؒ سے نقل کرتے ہیں کہ یہ کوئی شے نہیں ہے (تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين: جلد 94 رقم 219)، اسی طرح امام نسائیؒ بھی اسے منکر الحدیث قرار دیتے ہیں (الضعفاء والمتروكون للنسائي: صفحه 43 رقم 219)، امام البزارؒ ايک بار اسے لا باس بہ اور ایک بار اسے ضعیف قرار دیتے ہیں (کشف الاستار: رقم 347 اور 3063)۔

۔ حدیث معاذ بن انسؓ مرفوعا: "‌من ‌قال: ‌سبحان ‌الله ‌العظيم، نبت له غرس في الجنة"

قال الھیثمی: رواه أحمد، وإسناده حسن۔

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 10 صفحہ 95 رقم 16881)


مسند احمد ميں اسکی سند مندرجہ ذیل ہے:

حدثنا حسن، حدثنا ابن لهيعة، حدثنا زبان، عن سهل، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ ۔۔۔۔۔

اس میں ابن لھیعۃ معروف ضعیف راوی ہے۔ اسے امام ابن سعد ضعیف قرار دیتے ہیں (الطبقات الكبرى - ط الخانجي: جلد 9 صفحہ 524 رقم 4900)، امام بخاریؒ اسے ضعفاء میں نقل کرتے ہیں (الضعفاء الصغير للبخاري ت زاید: صفحہ 66 رقم 190)، امام مسلمؒ لکھتے ہیں کہ اسے امام ابن مہدی، امام یحیی اور امام وکیع نے ترک کردیا (الكنى والأسماء: جلد 1 صفحہ 519 رقم 2059)، امام ابو ذرعہ الرازیؒ بھی ضعیف قرار دیتے ہیں (أسامي الضعفاء -  ت الهاشمي: جلد 2 صفحہ 630 رقم 169)، امام نسائیؒ ضعیف قرار دیتے ہیں (الضعفاء والمتروكون: صفحہ 64 رقم 346)، امام ترمذی کہتے ہیں کہ ابن لھیعہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے، اسے امام ٰیحیی بن سعید القطان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے (سنن الترمذی: رقم 10)، امام خطیب بغدادیؒ کہتے ہیں کہ اسکی روایات میں تساہل کی وجہ سے مناکیر کی کثرت ہوگئی تھی (تھذیب التھذیب: جلد 5 صفحہ 378)، امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں کہ ابن لھیعہ جابر بن عبد اللہ سے منکر احادیث روایت کرتا ہے (العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله: جلد 3 صفحہ 146 رقم 4645) اسی طرح جمھور محدثین نے ابن لھیعہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔

۔ حدیث سمرہ بن جندبؓ مرفوعا: "‌إنكم ‌تحشرون ‌إلى ‌بيت المقدس۔۔۔۔"

قال الھیثمیؒ: رواه البزار، والطبراني، وإسناد الطبراني حسن۔

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 10 صفحہ 343 رقم 18354)

مسند البزار میں اسکی سند یہ ہے
:

حدثنا خالد بن يوسف بن خالد، قال: حدثني أبي، قال: حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة، قال: حدثني خبيب بن سليمان بن سمرة، عن أبيه سليمان بن سمرة عن سمرة بن جندبؓ۔۔۔۔۔۔۔
 (مسند البزار: جلد 10 صفحہ 473 رقم 4670)


اس سند میں خالد بن يوسف ضعيف هے اور اسكا والد يوسف بن خالد بن عمير متروک اور متھم بالکذب ہے، اسے امام ابن حبانؒ اور امام یحیی بن معینؒ نے کذاب قرار دیا ہے (المجروحين لابن حبان ت زايد: جلد 3 صفحہ 131)، امام ابو احمد الحاکم الکبیرؒ اسے متروک الحدیث قرار دیتے ہیں (الأسامي والكنى -  ت الأزهري: جلد 3 صفحہ 118 رقم 2148)، امام ابو نعیم اصبھانیؒ اسے ضعفاء میں زکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ثقات سے مناکیر بیان کرتا ہے (الضعفاء لأبي نعيم: رقم 280)، امام عباس الدوریؒ اسے کذاب زندیق کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے لکھا نہیں جائے گا (الكمال في أسماء الرجال: جلد 9 صفحہ 465 رقم 6231)، اسی طرح دیگر آئمہ نے بھی اس پہ بہت سخت جروحات کر رکھی ہیں۔

امام طبرانی کی سند یہ ہے:

حدثنا موسى بن هارون، ثنا مروان بن جعفر، ثنا محمد بن إبراهيم بن خبيب بن سليمان بن سمرة، ثنا جعفر بن سعد بن سمرة، عن خبيب بن سليمان بن سمرة، عن أبيه، عن سمرة بن جندب رضي الله عنه ۔۔۔۔۔۔۔

(المعجم الکبیر للطبرانی: جد 7 صفحہ 264 رقم 7076)

اسکی سند میں اول تو محمد بن ابراہیم بن خبیب ضعیف ہے امام ابن حبانؒ اسکا زکر الثقات میں کرکے اس پہ جرح کردیتے ہیں کہ اگر اسناد میں اسکا تفرد ہو تو اسکا اعتبار نہیں کیا جائے گا (الثقات لابن حبان: جلد 9 صفحہ 58)، اسکے علاوہ اسکی کوئی توثیق مجھے نہیں معلوم ہوئی۔ اسکے بعد اس میں جعفر بن سعد بن سمرۃ بھی ضعیف ہے، اسے امام ابن حبانؒ الثقات میں زکر کرتے ہیں (الثقات لابن حبان: جلد 6 صفحہ 137)، امام ابن حزمؒ اسے مجھول کہتے ہیں (المغني في الضعفاء: جلد 1 صفحہ 133 رقم 1145)، امام ابن عبد البر کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ہے (إكمال تهذيب الكمال - ط العلمية: جلد 2 صفحہ 106 رقم 996)، امام عبد الحق ابن الخراط الاشبیلیؒ کہتے ہیں کہ یہ ان میں سے نہیں ہے جنکا اعتبار کیا جائے، امام ابن القطانؒ بھی یہی کہتے ہیں کہ انہیں نہیں جانتے (تهذيب التهذيب: جلد 2 صفحہ 93 رقم 143)، اسی طرح امام ذھبیؒ بھی اس پہ کلام کرتے ہیں (میزان الاعتدال: جلد 1 صفحہ 407 رقم 1504) امام ابن حجر عسقلانیؒ کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ہے (تقریب التھذیب 140 رقم 941)، شیخ بشار الاعواد اور شیخ شعیب الارنووط اسکا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلکہ یہ ضعیف ہے (تحریر تقریب التھذیب: جلد 1 صفحہ 217 رقم 941)۔

..................

مندرجہ بالا تین مثالوں سے یہ بات واضع کی گئی ہے کہ امام ھیثمیؒ کی مجمع الزوائد میں کی گئی تحسین کو انکھیں بند کرکے قبول نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ تو یہاں تحسین کرنے میں بڑی واضع خطائیں کرجاتے ہیں، اسکی مزید کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں، مگر میں طوالت کے ڈر سے انہی پہ اکتفا کررہا ہوں، اس پہ کافی کام ہوچکا ہے اور متلاشی حضرات اس کام کو باآسانی ڈھونڈ سکتے ہیں۔ لہزا ہماری تحقیق میں امام ھیثمیؒ کی تحسین انکی خطا ہے کیونکہ ان سے پہلے اور انکے بعد میں کسی امام نے بھی طلق بن خشاف کی معتبر توثیق نہیں کی، جہاں تک امام ابن حبانؒ کا الثقات میں درج کرنے کا تعلق ہے تو اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ امام ابن حبانؒ اپنے ایک خاص منہج کے تحت الثقات میں رواۃ کو درج کرتے ہیں اور اکثر مجھول الحال راویوں کو وہ ثقہ قرار دے دیتے ہیں، جیسا کہ اوپر ہم نے زکر کیا کہ امام ابن حبان محمد بن ابراہیم بن خبیب کو الثقات میں درج کرکے اس پہ جرح بھی کردی، انکے اس خاص منہج پہ کئی علماء اور آئمہ تفصیلی بحث کرچکے ہیں اور انکا یہ تساہل معروف و مشہور ہے، تفصیلات کیلیے آپ امام ابن حجر عسقلانیؒ کی لسان المیزان کے مقدمے کا مطالعہ کریں، اسی طرح آپ شیخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع کی کتاب تحریر علوم الحدیث اور اس طرح دیگر کتب کا مطالعہ کرسکتے ہیں جس میں علماء نے امام ابن حبان کے منہج پہ عمدہ ابحاث کی ہیں۔ خیر یہ بتانا مقصود ہے کہ امام ابن حبانؒ کا الثقات میں راوی کو ثقہ کہنے کے منہج پہ بھی طلق بن خشاف پورا نہیں اترتا، کیونکہ نہ تو اسکے تلامذہ میں کوئی خاص تعداد ثقہ رواۃ کی موجود ہے اور ناہی اسکی روایات کی کوئی زیادہ موجود ہیں، سوائے اس روایت کے اس کی کوئی اور روایت منقول ہی نہیں ہے، جو شخص اتنا زیادہ غریب الروایہ ہو اسکے متعلق کسطرح یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ثقہ ہے؟

۞۔ اس روایت کے متن میں جھول:

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا شہادت عثمانؓ کے وقت مدینے میں ہونا ثابت ہی نہیں ہے، امام ابن عساکرؒ زیر بحث روایات کو درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
المحفوظ أن عائشة لم تكن وقت قتل عثمان بالمدينة وإنما كانت حاجة


محفوظ یہ ہے کہ شہادت عثمانؓ کے وقت سیدہ عائشہؓ مدینے میں نہیں تھیں بلکہ وہ تو حج پہ تھیں۔

(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 56 صفحہ 382)

لہزا یہ معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہؓ تک یہ خبر کسی اور شخص نے پہنچائی ہے اور وہ شخص کون ہے؟ اسکا کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ سیدہ عائشہؓ تک کنانہ مولی صفیہ جوکہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے عینی شاہدین میں سے انکی گواہی ان تک نہیں پہنچی کہ یہ حضرات سیدنا عثمانؓ کے قتل سے بری ہیں، ہم کنانہ مولی صفیہ رحمہ اللہ کی گواہی کا تذکرہ پچھلی اقساط میں کرچکے ہیں۔ اگر یہ روایت واقعی درست ہوتی تو سیدہ عائشہ سلام اللہ علیہ اپنے بھائی سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی شہادت پہ کبھی رنجیدہ نہ ہوتی۔

صحيح مسلم کی حدیث ہے کہ
:

عبدالرحمٰن بن شمامہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کی خاطر حاضر ہوا، تو انہوں نے پوچھا، تم کہاں سے ہو، (کن لوگوں سے ہو)؟ میں نے عرض کیا، میں اہل مصر سے ہوں، انہوں نے پوچھا، تمہارا امیر، تمہارے اس غزوہ میں تمہارے حق میں کیسا تھا؟ تو اس نے کہا، ہم نے اس میں کوئی ناپسندیدہ، ناگوار بات نہیں دیکھی، صورت حال یہ تھی، جب ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا تھا، تو وہ اونٹ دے دیتا تھا، اگر غلام مرتا تھا، تو غلام دیتا تھا اور جب وہ خرچ کا محتاج ہوتا تھا تو اسے خرچ دیتا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایاِ ہاں، اس نے میرے بھائی محمد بن ابوبکر کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ مجھے اس حدیث کے بیان کرنے سے نہیں روکتا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس گھر میں سنی، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی کام کا والی بنا اور ان سے نرمی برتی، تو اس سے نرمی کا سلوک فرمانا۔

(صحیح مسلم: رقم 4722)

اس سے واضع ہوا کہ سیدہ عائشہؓ اپنے بھائی کی شہادت پہ کس قدر رنجیدہ تھی مگر آپ نے پھر بھی حدیث بیان کردی، اگر انکے نزدیک انکا بھائی قاتل عثمانؓ ہوتا اور وہ خود انکے لیے بددعا بھی کرتی تو پھر انکی شہادت پہ کیونکر رنجیدہ ہوتی؟ اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ:

أخبرنا ابن أبي عمر، نا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن القاسم، قال: قدم معاوية المدينة فاستأذن على ‌عائشة ‌فأذنت ‌له ‌وحده، ‌ولم ‌يدخل ‌معه ‌أحد، ‌فلما دخل قالت عائشة: «أكنت تأمن أن أقعد لك رجلا فيقتلك كما قتلت أخي محمد بن أبي بكر؟» قال: ما كنت تفعلين ذلك. قالت: «لم؟» قال: إني في بيت أمن. قالت: «أجل»

قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: جب معاویہ مدینے آئے تو انہوں نے سیدہ عائشہؓ سے اجازت طلب کی تو انہوں نے اس اکیلے کو اجازت دے دی اور انکے ساتھ کوئی داخل نہ ہوا، جب وہ داخل ہوئے تو سیدہ عائشہؓ نے ان سے کہا: کیا تم اس چیز سے محفوظ ہو کہ کوئی شخص تمہارے لیے بیٹھ جائے اور تمہیں قتل کردے جسطرح تم نے میرے بھائی محمد بن ابی بکرؓ کو شہید کیا تھا؟ معاویہ نے کہا: آپ ایسا نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا: کیوں؟ معاویہ نے کہا: کیونکہ میں محفوظ گھر میں ہوں۔ انہوں نے کہا صحیح۔

(الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم: جلد 1 صفحہ 474 رقم 663 وسندہ صحیح علی شرط شیخین)

معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہؓ اپنے بھائی کی شہادت پہ نہ صرف رنجیدہ تھی بلکہ انکا بدلہ بھی چاہتی تھی، تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ انکا وہ بھائی قاتل عثمان ہو؟

اسی طرح ہم اوپر ایک طریق طلق بن خشاف سے نقل کرچکے ہیں کہ وہ سیدنا مولا علی علیہ السلام کے پاس ایا تو تو انہوں نے آپ کے مستقیم ہونے کا اقرار کرتے ہوئے آپکی بیعت رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت قرار دیتے ہوئے کی. اگر سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور مالک اشتر رحمہ اللہ قاتل عثمان رضی اللہ عنہ ہوتے تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انہیں اپنے اصحاب میں شامل کرنا استقامت کیسے ہوا؟ طلق بن خشاف کی اپنی روایت اس پہ سوال کھڑا کرتی ہے. بہرحال طلق بن خشاف مجھول الحال ہے. ہم ساری بحث اوپر کرچکے ہیں.

اس ساری بحث سے یہ واضع ہوا کہ سیدہ عائشہ سلام اللہ علیہ کا سیدنا محمد بن ابی بکرؓ اور جناب مالک اشترؒ کے متعلق جو بددعا کی روایت ہے وہ سندا بھی ضعیف ہے اور متن کے اعتبار سے بھی منکر ہے۔

تحریر و تحقیق: شہزاد احمد آرائیں