ام المومنین سیدہ صفیہ سلام اللہ علیہا کے آزاد کردہ غلام کنانہ کی دیگر روایات
عینی شہادت كے مطابق سيدنا عثمان كا
قاتل كون؟
(قسط
نمبر 3)
[ام
المومنین سیدہ صفیہ سلام اللہ علیہا کے آزاد کردہ غلام کنانہؒ کی دیگر روایات]
ہم نے پچھلی دو اقساط میں یہ واضع کیا کہ المستدرک للحاکم میں باسند حسن سیدنا
عثمانؓ کے قاتلین کے جو نام آئے ہیں، ان میں کنانہ بن بشر التجیبی کو آئمہ اہل سنت
نے تواتر سے قاتل لکھا ہے، مگر نواصب کی طرف سے اسکو چھپایا جاتا ہے۔ اسی کے پیش
نظر ہم نے چاہا کہ ہم کنانہ مولی صفیہ کی مزید روایات بھی نقل کریں جو باسند صحیح
روایت ہوئی ہیں کیونکہ وہ عینی شاہدین میں سے ہیں اور انکا کلام ایک واضع اور بڑی
دلیل رکھتا ہے۔
֎: امام ابن سعد الزھری
(المتوفی 230ھ) لکھتے ہیں:
قال: أخبرنا أحمد بن عبد الله بن يونس قال: أخبرنا زهير
بن معاوية. قال:
أخبرنا كنانة مولى صفية قال: رأيت قاتل عثمان في
الدار رجلا أسود من أهل مصر يقال له جبلة. باسط يديه. أو قال رافع يديه. يقول: أنا
قاتل نعثل
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفانؓ
کے قاتل کو گھر میں دیکھا، وہ اہل مصر میں ایک ساہ فام شخص تھا جسے جبلہ کہتے تھے
وہ ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا یا ہاتھ اٹھائے ہوا تھا اور کہہ رہا تھا: میں نعثل کا
قاتل ہوں۔
(الطبقات الكبرى - ط العلمية: جلد 3 صفحہ 61 وسندہ صحیح)
֎: ابو عمرو خلیفہ بن خیاط
البصری (المتوفی 240ھ) لکھتے ہیں:
حدثنا أبو داود قال نا محمد بن طلحة قال نا كنانة مولى
صفية قال شهدت مقتل عثمان قال قلت من قتله قال رجل من أهل مصر يقال له حمار
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفانؓ
کی شہادت کا مشاہدہ کیا، میں (محمد بن طلحہ) نے کہا کہ انہیں کس نے قتل کیا؟ تو
انہوں نے کہا: اہل مصر کے ایک شخص نے جسے حمار کہا جاتا تھا۔
(تاريخ
خليفة بن خياط: صفحہ 175 وسندہ صحیح)
• اسی روایت کو امام ابن
عساکر (المتوفی 571ھ) نے بھی روايت کیا ہے:
(تاریخ
دمشق لابن عساکر: جلد 39 صفحہ 408)
• امام ابن عساکر کے حوالے
سے ہی اس روایت کو امام جلال الدین سیوطیؒ (المتوفی 911ھ) نے بھی نقل کیا ہے، اور
مصری شخص کے نام أزرق أشقر کا اضافہ کیا ہے:
وأخرج ابن عساكر عن كنانة مولى صفية وغيره قالوا:
قتل عثمان رجل من أهل مصر أزرق أشقر، يقال له: حمار
اور امام ابن عساکر نے کنانہ مولی صفیہ وغیرہ سے روایت
کی ہے کہ وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمانؓ کو مصر کے ایک شخص ارزق اشقر نے قتل کیا جسے
حمار کہا جاتا تھا۔
(تاریخ
الخلفاء: صفحہ 126)
• صحیح و ضعیف تاریخ طبری
کے محقق محمد بن طاهر البرزنجي بھی انکی اسناد کو حسن قرار دیا ہے۔
)صحيح وضعيف تاريخ الطبري: جلد 3 صفحہ 348(
֎: امام علی بن الجعدؒ
(المتوفی 230ھ) اپنی سند سے نقل کرتے ہیں:
وبإسناده عن كنانة مولى صفية قال: " رأيت قاتل
عثمان، رجلا أسود من أهل مصر، وهو في الدار رافعا يديه، أو باسطا يديه يقول: أنا
قاتل نعثل
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان کے قاتل
کو دیکھا، مصر کا ایک سیاہ فام شخص تھا، اور وہ گھر میں ہاتھ اٹھائے ہوئے یا ہاتھ
پھیلائے ہوئے کہہ رہا تھا: میں نعثل کا قاتل ہوں۔
)مسند علی بن الجعد: صفحہ 390 رقم 2664 وسندہ صحیح(
• اسی سند سے امام علی بن
جعدؒ ایک اور روایت لاتے ہیں:
وبه عن كنانة قال: «كنت فيمن حمل الحسن بن علي جريحا من
دار عثمان»
اور اسی کے ساتھ کنانہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں
سیدنا عثمانؓ کے گھر سے سیدنا امام حسنؑ کو زخمی حالت میں اٹھا کر لانے والے لوگوں
میں شامل تھا۔
)مسند علی بن الجعد: صفحہ 390 رقم 2665 وسندہ صحیح(
֎: امام عمر بن شبة النميري
البصري (المتوفی 262ھ) لکھتے ہیں:
حدثنا علي بن الجعد، والأصمعي قالا: حدثنا زهير بن
معاوية قال: حدثنا كنانة مولي صفية قال: «كنت فيمن يحمل الحسين بن علي رضي الله
عنهما جريحا من دار عثمان رضي الله عنه»
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں سیدنا امام حسین بن علیؓ
کو سیدنا عثمان بن عفانؓ كے گهر سے زخمی حالت میں اٹھا کر لانے والے لوگوں میں
شامل تھا۔
)تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 3 صفحہ 1131 وسندہ صحیح(
• مذید نقل کرتے ہیں:
حدثنا علي بن الجعد، والأصمعي قالا: حدثنا زهير بن
معاوية قال: حدثنا كنانة مولى صفية قال: كنت فيمن يحمل الحسن بن علي رضي الله
عنهما جريحا من دار عثمان رضي الله عنه
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان کے گھر سے
سیدنا امام حسنؑ کو زخمی حالت میں اٹھا کر لانے والوں میں شامل تھا۔
)تاریخ المدینۃ لابن شبۃ: جلد 4 صفحہ 1275 وسندہ صحیح(
• مزید روایت نقل کرتے ہیں
کہ:
حدثنا هارون بن عمر قال: حدثنا أسد بن موسى قال: حدثنا
محمد بن طلحة قال: حدثني كنانة مولى صفية قال: شهدت مقتل عثمان رضي الله عنه،
فأخرج من الدار أربعة من شباب قريش مدرجين محمولين كانوا يدرءون عن عثمان رضي الله
عنه، فذكر الحسن بن علي، وعبد الله بن الزبير، ومحمد بن حاطب، ومروان بن الحكم رضي
الله عنهم، فقلت له: هل ندي محمد بن أبي بكر بشيء من دمه؟ فقال: معاذ الله دخل
عليه ، فقال له عثمان رضي الله عنه: لست بصاحبي، وكلمه بكلام فخرج ولم يند بشيء من
دمه. فقلت لكنانة: من قتله؟ قال: رجل من أهل مصر يقال له: جبلة بن الأيهم، ثم طاف
بالمدينة ثلاثا يقول: أنا قاتل نعثل، فأين كان علي رضي الله عنه؟ قال: في داره.
فهذان الحديثان يبرئان محمد بن أبي بكر من أن يكون نوى قتل عثمان رضي الله عنه،
وسائر الأحاديث جاءت بخلافهما
محمد بن طلحہ
کہتے ہیں کہ کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کے قتل کا مشائدہ کیا
اور تو قريش کے چار نوجوانوں کو گهر سے اٹھا کر باہر لایا گیا جو سيدنا عثمانؓ کی
حفاظت پہ معمور تھے، انہوں نے سیدنا مولا حسن بن علی، سیدنا عبد اللہ بن زبیر،
سیدنا محمد بن حاطب اور مروان بن الحکم کا زکر کیا۔ میں نے ان سے کہا: کیا سیدنا
محمد بن ابی بکرؓ کا انکے خون سے کوئی تعلق ہے؟ انہوں نے کہا: معاذ اللہ وہ داخل
ہوئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم میرے صحابی نہیں ہو، اور ایسے
لفظوں میں بات کی تو وہ باہر چلے گئے اور انکے خون سے کچھ نہیں لیا۔ میں نے کنانہ
مولی صفیہ سے کہا: انہیں کس نے قتل کیا؟ اہل مصر کے ایک شخص نے جسے جبلۃ بن الایھم
کہا جاتا تھا، پھر اس نے مدینے کا تین بار طواف کیا اور کہا: میں نعثل کا قاتل
ہوں۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہاں تھے؟ انہوں نے کہا: گھر میں۔
(امام ابن شبۃ (المتوفی: 262ھ) کہتے ہیں:) پس
یہ دونو حدیثیں محمد بن بکرؓ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے ارادے سے بری
کرتی ہیں، اور باقی حدیثین اسکی مخالفت میں آئی ہیں۔
(تاريخ
المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1298 وسندہ حسن)
• اسی روایت کو امام ابن
عبد البر القرطبیؒ (المتوفی 463ھ) نے بھی نقل کیا ہے اور اس میں رضی اللہ عنھم کے
الفاظ ذکر نہیں
کیے۔
)الاستيعاب في معرفة الأصحاب: جلد 3 صفحہ 1046(
• ایک اور جگہ اسی روایت کو
اختصار کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
(الاستيعاب
في معرفة الأصحاب: جلد 3 صفحہ 1367)
• اس روایت کو امام محمد بن
أبي بكر بن عبد الله الأنصاري بالبری (لمتوفی 645ھ) بھی نقل کرتے ہیں
(الجوهرة
في نسب النبي وأصحابه العشرة: جلد 2 صفحہ 178 و 179)
• اسی روایت کو شهاب الدين
النويري (المتوفی 733ھ) بھی نقل کرتے ہیں:
(نهاية
الأرب في فنون الأدب: جلد 19 صفحہ 500)
• صلاح الدین خلیل بن ایبک
الصفدی (المتوفی 864ھ) بھی اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
(الوافي
بالوفيات: جلد 20 صفحہ 30)
• صحیح و ضعیف تاریخ طبری
کے محقق محمد بن طاهر البرزنجی نے بھی اسکی تحسین کی ہے۔
(صحیح
و ضعیف تاریخ طبری: جلد 8 صفحہ 847)
֎: امام ابو نعیم اصبھانی
(المتوفی 430ھ) اپنی سند سے لکھتے ہیں:
حدثنا سليمان بن أحمد، ثنا المقدام بن داود، ثنا أسد بن
موسى ح وثنا أحمد بن محمد بن الفضل، ثنا محمد بن إسحاق السراج، ثنا عمر بن محمد بن
الحسن، ثنا أبي، قالا: ثنا محمد بن طلحة، قال: سمعت كنانة، مولى صفية بنت حيي،
قال: " شهدت مقتل عثمان، وأنا ابن أربع عشرة سنة، فقلت: هل أندى محمد بن أبي
بكر بشيء من دمه، فقال: معاذ الله، دخل عليه، فقال عثمان: يا ابن أخي لست بصاحبي،
فخرج ولم يند من دمه بشيء، فقلت لكنانة: من قتله؟ قال: رجل من أهل البصرة، وقال
عمر بن محمد بن الحسن: من أهل مصر، يقال له: جبلة بن الأهتم، وقال أسد في حديثه:
جبلة بن الأهيم۔
محمد بن طلحہ کہتے ہیں میں نے کنانہ مولی صفیہ بن حیی
سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا مشاہدہ کیا، اور میں چودہ
سال کا تھا۔ میں نے کہا: کیا محمد بن ابی بکرؓ کا انکے خون سے کوئی تعلق ہے؟ انہوں
نے کہا: معاذ اللہ، وہ انکے پاس داخل ہوئے، تو عثمانؓ نے کہا: اے میرے بھائی کے
بیٹے تم میرے صحابی نہیں ہو، چناچہ وہ نکل آئے اور انکے خون میں کچھ نہیں لیا۔ میں
نے کنانہ سے کہا: انہیں کس نے قتل کیا؟ انہوں نے کہا: اہل مصر کے ایک شخص نے۔ اور
عمر بن محمد بن الحسن نے کہا: اہل مصر میں سے جسے جبلۃ بن الھتم کہا جاتا تھا۔ اور
اسد نے حدیث میں کہا: جبلۃ بن الاھیم۔
)معرفة الصحابة لأبي نعيم: جلد 1 صفحہ 66 رقم 257 وإسناده
حسن لغيره، ومتابعة أني ذكرتها قبل ذلك(
• شهاب الدين النويري
(المتوفی 733ھ) بھی اس روایت کو نقل کرتے ہیں۔
)نهاية الأرب في فنون الأدب: جلد 19 صفحہ 142(
֎: امام
ابن عساکر (المتوفی 571ھ) لکھتے ہیں:
قال ونا سليمان بن أحمد نا المقدام بن داود نا أسد بن
موسى
ح قال ونا أحمد بن محمد بن الفضل الصايغ نا محمد بن
إسحاق الثقفي نا عمر بن محمد بن الحسن الأسدي نا أبي
قالا أنا محمد بن طلحة قال سمعت كنانة مولى صفية بنت
حيي قال
شهدت مقتل عثمان وأنا ابن أربع عشرة سنة قلت هل أندى
محمد بن أبي بكر بشئ من دمه فقال معاذ الله دخل عليه فقال عثمان فقال يا ابن أخي
لست بصاحبي فخرج ولم يند من دمه بشئ قلت لكنانة من قتله قال رجل من أهل البصرة
وقال عمر بن محمد [بن الحسن] من أهل مصر يقال له جبلة بن الأيهم وقال أسد جبلة بن
الأهتم
محمد بن طلحہ کہتے ہیں میں نے کنانہ مولی صفیہ کو سنا
وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کی شہادت کو دیکھا، اور میں چودہ سال کا تھا،
میں نے کہا: انکے خون سے محمد بن ابی بکرؓ کا کوئی تعلق ہے؟ تو انہوں نے کہا: معاذ
اللہ وہ داخل ہوئے تو سیدنا عثمان نے ان سے کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے تم میرے
صحابی نہیں ہو چناچہ وہ باہر نکل آئے اور ان کے خون سے کچھ نہیں لیا۔ میں نے کنانہ
سے کہا: انہیں کس نے قتل کیا؟ انہوں نے کہا: اہل مصر میں سے ایک شخص تھا۔
اور عمر بن محمد بن الحسن نے کہا: ایک مصر میں سے جسے
جبلۃ بن الاھیم کہا جاتا تھا اور اسد نے کہا: جبلۃ بن الاھتم۔
)تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 39 صفحہ 407، انظر الحكم السابق(
• اسی طرح امام ابن عساکر
اپنی سند سے نقل کرتے ہیں:
أخبرنا أبو غالب الماوردي أنا أبو الحسن السيرافي أنا
أحمد بن إسحاق نا أحمد بن عمران نا موسى نا خليفة نا أبو داود نا محمد بن طلحة نا كنانة
مولى صفية قال شهدت مقتل عثمان قلت من قتله قال رجل من أهل مصر يقال له حمار
محمد بن طلحہ کنانہ مولی صفیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں
نے کہا: میں نے سیدنا عثمان کی شہادت کا مشاہدہ کیا، میں نے کہا: انکو کس نے شہید
کیا؟ انہوں نے کہا: اہل مصر کے ایک شخص نے جسے حمار کہا جاتا تھا۔
)تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 39 صفحه 408، تاريخ خليفه بن
خياط: صفحه 175 صحيح(
• اسی طرح امام ابن عساکر
اپنی سند سے نقل کرتے ہیں:
أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو الحسين بن
النقور ح وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن الحسين أنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن
محمد بن علي قالا أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عمران بن موسى أنا عبد الله بن
محمد البغوي أنا محمد بن بكار بن الريان نا محمد بن طلحة بن مصرف يقول سمعت كنانة
يقول شهدت قتل عثمان قال فسمعت رجلا من أهل مصر يطوف حول دار عثمان ويقول أنا قاتل
نعثل ما تعرض له أحد من الناس
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں نے قتل عثمان کا مشاہدہ
کیا تو اہل مصر کے ایک شخص کو سنا جو سیدنا عثمانؓ کے گھر کا طواف کررہا تھا اور
وہ کہتا تھا: میں نعثل کا قاتل ہوں، جو لوگوں میں سے روگردانی کرتا ہے۔
)تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 39 صفحہ 412، معجم الصحابة
للبغوی: جلد 4 صفحہ 335 وسندہ صحیح(
• اسی صفحے پہ امام ابن
عساکرؒ مزید نقل کرتے ہیں:
أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي وأبو عبد الله محمد بن
طلحة بن علي قالا أنا أبو محمد الصريفيني أنا أبو القاسم بن حبابة [نا أبو القاسم]
البغوي نا علي بن الجعد أنا زهير عن كنانة مولى صفية قال رأيت قاتل عثمان رجلا
أسود من أهل مصر وهو في الدار رافعا يديه [أو باسطا يديه] وهو يقول أنا قاتل نعثل
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کے قاتل
کو دیکھا، مصر کا ایک سیاہ فام شخص تھا، اور وہ گھر میں ہاتھ اٹھائے ہوئے یا ہاتھ
پھیلائے ہوئے کہہ رہا تھا: میں نعثل کا قاتل ہوں۔
)تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 39 صفحہ 412، مسند علی بن
الجعد: صفحہ 390 رقم 2664 وسندہ صحیح(
֎: امام شمس الدين السخاویؒ
(المتوفی: 902ھ) لکھتے ہیں:
رواه ابن سعد عن كنانة مولى صفية قال: رأيت قاتل
عثمان في الدار رجل أسود من أهل مصر يقال له: جبلة. باسط يده أو رافع يده يقول:
أنا قاتل نعثل. يعني عثمان رضي الله عنه
ابن سعد کنانہ مولی صفیہ سے روایت کرتے ہیں: میں نے
سیدنا عثمانؓ کے قاتل کو گھر میں دیکھا، وہ مصر کا ایک سیاہ فام شخص تھا جسے جبلۃ
تھا، وہ ہاتھ کھولے ہوئے یا اٹھائے ہوئے کہتا ہے: میں نعثل کا قاتل ہوں، یعنی
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ۔
)فتح المغيث بشرح ألفية الحديث: جلد 4 صفحہ 322(
①: ان روایات سے یہ ثابت ہوا
کہ سیدنا عثمانؓ بن عفان کا قاتل ایک مصری سیاہ فام تھا، جسے جبلہ بن الاھیم یا
جبلہ بن الاھتم کہا جاتا تھا۔
②: یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا
عثمان کی حفاظت پہ قریش کے چار پانچ نوجوان مامور تھے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ
کی حفاظت کرتے ہوئے شدید زخمی ہوئے، جن میں سيدنا امام حسن علیہ السلام، سیدنا
امام حسين عليہ
السلام، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ اور
مروان بن حکم (ملعون) شامل تھے۔
③: یہ روایات اس بات کی بھی
دلیل ہے کہ سیدنا عثمان کی حفاظت پہ مامور یہ لوگ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے بھی
عینی شاہد ہیں۔
④: ان روایات کی عینی شہادت
سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابو القاسم محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا سیدنا
عثمانؓ کی شہادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان پہ موجود تمام تہمات اس عینی گواہی کے
ساتھ رد ہوجاتی ہیں جیسا کہ امام ابن شبہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ روایات سیدنا
محمد بن ابی بکرؓ کی برائت کی دلیل ہیں۔
⑤: نعثل مدینے کے ایک یہودی
کا نام تھا، سیدنا عثمانؓ کے قاتل نے اس سے سیدنا عثمانؓ کی تشبیہ دی ہے۔
تحریر: شہزاد احمد آرائیں

Post a Comment