آئمہ اہل سنت کا کنانہ بن بشر التجیبی کے متعلق موقف
عینی شہادت كے مطابق
سيدنا عثمان كا قاتل كون؟
(قسط نمبر 2)
[آئمہ اہل سنت کا کنانہ بن بشر التجیبی کے
متعلق موقف]
پچھلی قسط میں ہم نے یہ بتایا تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے عینی
شاہد ام المومنین سیدہ صفیہ سلام اللہ علیہ کے آزاد کردہ غلام کنانہ نے اہل مصر کے
چند افراد کو سیدنا عثمان کا قاتل قرار دیا تھا، اور سیدنا عثمان کے بھائی صحابی
حضرت ولید بن عقبہ نے بھی انہی میں سے ایک قاتل کا نام لیکر اشعار بھی کہے تھے۔ اب
ہم ان شاءاللہ یہ واضع کریں گے اسی شخص کو ہمارے آئمہ اہل سنت نے بھی قاتل عثمان
قرار دیا ہوا ہے۔ مثال کیلیے عرض ہے:
֍:
امام ابو سعید ابن یونس الصدفی المصری (المتوفی 347ھ)
لکھتے ہیں:
كنانة بن بشر بن غياث بن عوف بن حارثة
بن قتيرة بن حارثة بن تجيب التّجيبىّ: شهد فتح مصر، وقتل بفلسطين سنة ست وثلاثين،
وكان ممن قتل عثمان
كنانه بن بشر بن عياث بن عوف بن حارثه
بن قتيره بن حارثه بن تجيب التجيبي: اس سے مصر کی فتح کا مشاہدہ کیا اور اسے سن
36ھ میں فلسطین میں قتل کیا گیا، اور یہ سیدنا عثمان کے قتل میں شامل تھا۔
(تاریخ ابن یونس
المصری: جلد 1 صفحہ 414 رقم 1109)
֍:
امام ابن حزمؒ (المتوفی 456ھ) سیدنا عثمان کے قتل کے
متعلق لکھتے ہیں:
وقتل في ذي الحجة سنة خمس وثلاثين.
وكانت ولايته اثني عشر عاما كاملة غير عشرة أيام. وقتله أول خرم دخل في الإسلام،
فإن المسلمين استضيموا في قتله غيلة. واشترك في قتله جماعة، منهم: كنانة بن بشر
التجيبي، وقتيرة السكوني، وعبد الرحمن بن عديس البلوي، وكلهم من أهل مصر۔
اور آپکو ذوالحجہ 35ھ شہید کیا گیا،
اور آپکی خلافت کی مدت بارہ سال سے دس دن کم تھی، اور آپکو اس پہلے اس شخص نے قتل
کیا جو اسلام میں داخل تھا، تو مسلمان حملہ کرکے انکو قتل کرنے پہ آمادہ ہوگئے،
اور ایک جماعت نے انکے قتل میں حصہ لیا، جس میں کنانہ بن بشر التجیبی، قتیرۃ
الکسونی (کنیرہ الکشوی) اور عبد الرحمن بن عدیس البلوی تھے اور یہ سب مصر سے تھے۔
(رسائل ابن حزم: جلد 2
صفحہ 138)
֍:
امام ابن عساکرؒ (المتوفی 456ھ) لکھتے ہیں:
كنانة بن بشر بن سلمان ويقال بن بشر
بن عتاب التجيبي الأيدعاني أحد من سار إلى حصر عثمان بن عفان وممن تولى قتله
کنانہ بن بشر ان لوگوں میں سے تھا
جنہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا اور انکے قتل کے ذمہوار
ہوئے۔
(تاریخ دمشق لابن
عساکر: جلد 50 صفحہ 257)
֍:
امام ابن الاثیرؒ (المتوفی 630ھ) لکھتے ہیں:
وقيل: الذي قتله كنانة بن بشر التجيبي
اور کہا گیا ہے کہ سیدنا عثمانؓ کو
کنانہ بن بشر التجیبی نے قتل کیا۔
(الكامل في التاريخ - ت
تدمری: جلد 2 صفحہ 544)
֍:
امام شمس الدین القرطبیؒ (المتوفی 671ھ) لکھتے ہیں:
قال العلماء بالسير والأخبار: إنه دخل
على أمير المؤمنين عثمان بن عفان رضي الله عنه في الدار جماعة من الفجار منهم:
كنانة بن بشر التجيبي فأشعره مشقصاً أي قتله به فافتضح الدم على المصحف ووقع على
قوله تعالى {فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم} وقيل ذبحه رجل من أهل مصر يقال له
عمار، وقيل ذبحه رومان، وقيل قتله الموت الأسود يقال له أيضاً الدم الأسود من طغاة
مصر، فقطع يده، فقال عثمان: أما والله إنها لأول كف خطت في المصحف، وهذه البلوى
التي ثبتت في الصحيح
سیرت و تاریخ کے علماء نے کہا ہے کہ:
امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر میں فاجر لوگوں کی ایک
جماعت داخل ہوئی، جن میں سے کنانہ بن بشر الجتیبی نے آپکے سر کے بال کاٹ دیے یعنی
آپکو قتل کردیا اور آپکا خون مصحف پہ گرا جہاں اللہ تعالی کا قول موجود تھا:
{فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم} ، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہوجائے گا
اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے (سورۃ البقرہ: آیت 137)۔ اور کہا
جاتا ہے كه اہل مصر کے شخص نے آپکو ذبح کیا جسکو عمار کہا جاتا تها، اور يه بھی
کہا جاتا ہے کہ رومان نے ذبح کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ آپکو اس شخص نے قتل کیا جسے
کالی موت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اسے مصر کے ظالموں کا کالا خون کہا جاتا ہے اس نے
(آپکا) ہاتھ کاٹا۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یہ پہلے چیز
ہے جو اس ہاتھ نے قرآن میں لکھی، اور یہ پہلی آفت ہے جو صحیح سے ثابت ہے۔
(التذكرة بأحوال الموتى
وأمور الآخرة: صفحہ 1071)
֍:
امام جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور (المتوفی 711ھ)
بھی تاریخ دمشق کے اختصار میں لکھتے ہیں:
كنانة بن بشر بن سلمان - ويقال:
ابن بشر بن عتاب - التجيبي الأيداعي أحد من سار إلى حصر عثمان بن عفان، وممن تولى
قتله
کنانہ بن بشر ان لوگوں میں سے تھا
جنہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا اور انکے قتل کے ذمہوار
ہوئے۔
(مختصر تاریخ دمشق: جلد
21 صفحہ 221)
֍:
امام شمس الدین الذھبیؒ (المتوفی 748ھ) لکھتے ہیں:
كنانة بن بشر التجيبي أحد رؤوس
المصريين الذين ساروا إلى حصار عثمان، ثم إنه هرب وقتل في هذه المدة
كنانه بن بشر التجيبي مصری سرداروں
میں سے ایک تھا جو روانہ ہوئے یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کا محاصرہ کیا، پهر يه فرار
ہوگیا اور اسی مدت میں قتل ہوگیا۔
(تاريخ الإسلام - ت
بشار: جلد 2 صفحہ 299)
֍:
امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) کنانہ بن بشر کے
ترجمے میں لکھتے ہیں:
قال ابن يونس: شهد فتح مصر، وقتل
بفلسطين سنة ست وثلاثين، وكان ممن قتل عثمان، وإنما ذكرته لأن الذهبي ذكر عبد
الرحمن بن ملجم، لأن له إدراكا، وينبغي أن ينزه عنهما كتاب الصحابة.
وقتيرة في نسبه بقاف ومثناة بوزن
عظيمة، وتجيب بضم أوله، وإلى كنانة أشار الوليد بن عقبة بقوله في مرثية عثمان
ألا إنّ خير النّاس بعد ثلاثة … قتيل
التّجيبيّ الّذي جاء من مصر
[الطويل]
امام ابن یونس المصریؒ نے کہا: اس نے
مصر کی فتح کا مشاہدہ کیا ہے، اور یہ سن 36ھ میں فلسطین میں قتل ہوگیا، اور یہ
سیدنا عثمان کے قتل میں شامل تھا۔
اور میں نے انکا زکر صرف اسلیے کیا کہ
ذھبی نے عبد الرحمن بن ملجم کا ذکر کیا، کیونکہ اس نے نبوت کے زمانے کو پایا ہے،
صحابہ کی کتاب کو ان سے پاک رکھنا چاہیے۔ حضرت ولید بن عقبہ نے حضرت عثمان کے
مرثیے میں اس شعر میں کنانہ کی طرف اشارہ کیا ہے:
تين كے بعد لوگوں ميں سب سے بہترین
شخص
اس تجیبی کے ہاتھوں قتل ہوا جو مصر سے
آیا
(الإصابة في تمييز
الصحابة: جلد 5 صفحہ 487)
֍:
امام ملا علی قاری الحنفیؒ (المتوفی 1014ھ) بھی کنانہ
بن بشر کو قاتل عثمانؓ ہی لکھتے ہیں۔
كنانة بن بشر التجيبي قاتل عثمان
رضي الله تعالى عنه
(شرح الشفا: جلد 2 صفحہ
48)
֍:
مصطفی بن عبد اللہ کاتب جلبی (المتوفی 1067ھ) بھی لکھتے
ہیں:
كِنانة بن بشر، قاتل عثمان
(سلم الوصول إلى طبقات الفحول: جلد 4
صفحہ 285 رقم 6845)
֍:
اسی طرح شیخ محمد مرتضی الحسینی الزبیدی (المتوفی
1205ھ) امام ابن حزمؒ کا قول نقل کرتے ہیں:
قال ابن حزم: كل تجيبي سكوني ولا عكس
(منهم كنانة بن بشر التجيبي قاتل أمير المؤمنين (عثمان، رضي الله عنه)
امام ابن حزمؒ نے کہا: تمام تجیبی
خاموش تھے اور کوئی مخالف نہیں تھا، ان میں کنانہ بن بشر التجیبی بھی تھا جو امیر
المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے۔
(تاج العروس من جواهر
القاموس: جلد 2 صفحہ 59)
اسی کتاب میں ایک اور جگہ آپ سيدنا
عثمان اور سيدنا علي كے قاتلين كے درميان فرق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لأن الوليد رثى بهذا الشعر عثمان بن
عفان رضي الله عنه، وقاتله كنانة بن بشر التجيبي، وأما قاتل علي رضي الله عنه فهو
التجوبي
کیونکہ حضرت ولید بن عقبہ نے ان اشعار
سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مرثیہ پڑھا، اور انکا قاتل کنانہ بن بشر
التجیبی ہے، اور جہاں تک مولا علی رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو انکا قاتل التجوبی
ہے۔
(تاج العروس من جواهر
القاموس: جلد 2 صفحہ 207)
֍:
اسي طرح شیخ خير الدين بن محمود الزكلی الدمشقی
(المتوفی 1396ھ) بھی کنانہ بن بشر التجیبی کو قاتل عثمان لکھتے ہیں۔
(الاعلام للزکلی: جلد 5
صفحہ 234)
اسی طرح دیگر بہت سے آئمہ نے باسند
اور بےسند یہ بات نقل کی ہے کہ کنانہ بن بشر التجیبی ہی سیدنا عثمان کا قاتل ہے،
جن میں امام طبری، امام ابن سعد، امام ابن کثیر، ابن خلدون، ابن حبان اور دیگر بہت
سے ائمہ نے بھی یہی تذکرہ کیا ہوا ہے، جن کو ہم نے نقل کرنا ضروری نہیں سمجھا،
عقلمند کیلیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔
اس تحریر سے یہ واضع ہوا کہ آئمہ اہل
سنت نے تواتر سے اس شخص کا نام قاتل سیدنا امیر المومنین ذولنورین عثمان بن عفان
الغنی رضی اللہ عنہ کے نام سے لکھا ہے، اس سے کوئی روایت نہیں لی گئی اور ناہی کسی
امام نے اسکی توثیق کی ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو قطعی طور پہ قاتل نامزد کرنا نہیں ہے
بلکہ ہم تو کتابوں میں چھپی ہوئی وہ باتیں آشکار کرنا چاہ رہے ہیں جنکو نواصب
وغیرہ چھپانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ لہزا تو میرا ان لوگوں سے سوال ہے جنکو سیدنا
محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت مالک اشتر رحمہ اللہ سے سخت تکلیف ہے اور
بلا دلیل صرف اپنے نفس کی بنا پہ ان کو قتل عثمان میں ملوث قرار دیتے ہیں وہ کبھی
ان ناموں کو لیکر شور غل کیوں نہیں کرتے؟ کیونکہ انکو بھی معلوم ہے کہ ان ناموں کو
زکر کرنے سے سیدنا مولا علی المرتضیؑ کے اصحاب پہ طعن نہیں کرسکیں گے۔ اللہ ایسے
دوغلے پن اور نفاق سے بچائے۔ آمین۔
تحریر: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment