-->

عینی شہادت کے مطابق سیدنا عثمان کا قاتل کون؟

 

عینی شہادت کے مطابق سیدنا عثمان کا قاتل کون؟

(قسط نمبر 1)

نواصب کی جانب سے بےبنیاد اور ضعیف و موضوع و مبہم روایات کی بنیاد پہ سیدنا مولا کائنات امام علی المرتضی علیہ الاسلام کے اصحاب پہ طعن کیا جاتا ہے کہ وہ قتل عثمان پہ ملوث تھے مگر ان منافق نواصب کی جانب سے آپکو کبھی یہ نہیں بتایا جائے گا کہ عینی شاہدین اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حقیقی ولی کس کو قاتل کہتے تھے، جعلی ولی نے جعلی دعوی قصاص والے اس روایت کو کیونکر بیان نہیں کرتے؟ امام حاکم بخاری و مسلم کی شرط پہ لائے ہیں اور امام ذھبی نے سکوت اختیار کیا ہے، اس میں جن قاتلین کے نام ہیں کبھی انکا نام لیکر کیوں کبھی کوئی شور و غل نہیں کیا گیا؟ ضعیف و معلول و مبہم روایات کی بنیاد پہ جو انہوں نے اپنی خیالی دنیا بنائی ہوئی ہے وہاں یہ لوگ صحیح و حسن روایات کو کیوں ترجیح نہیں دیتے؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ ناصبی ہیں اور انکو بہانہ چاہیے بس۔ خیر

امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخراساني، ثنا عبد الله بن روح المدايني، ثنا شبابة بن سوار، ثنا محمد بن طلحة، ثنا كنانة العدوي قال: «كنت فيمن حاصر عثمان» ، قال: قلت: محمد بن أبي بكر قتله؟ قال: " لا، قتله جبلة بن الأيهم رجل من أهل مصر، قال: وقيل: قتله كبيرة السكوني، فقتل في الوقت، وقيل: قتله كنانة بن بشر التجيبي، ولعلهم اشتركوا في قتله لعنهم الله"، وقال الوليد بن عقبة:

[البحر الطويل]

ألا إن خير الناس بعد نبيهم … قتيل التجيبي الذي جاء من مصر

يعني بالتجيبي قاتل عثمان رضي الله عنه


کنانہ عدوی کہتے ہیں : حضرت عثمانؓ کا محاصرہ کرنے والوں میں، میں بھی شامل تھا۔ میں نے کہا: محمد بن ابو بکرؓ نے حضرت عثمانؓ کو شہید کیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ان کو مصر کے ایک "جبلہ بن الایہم" نامی آدمی نے شہید کیا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کو "کبیرہ السکونی" نے شہید کیا تھا لیکن اس وقت وہ خود بھی مارا گیا تھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عثمانؓ کو "کنانہ بن بشر التجيبي" نے شہید کیا تھا۔ اور ہو سکتا ہے آپ کی شہادت میں یہ سب لوگ شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر لعنت ہو۔

حضرت ولید بن عقبہؓ نے کہا:

خبردار! ان کے نبی کے بعد تمام مخلوقات میں سب سے افضل آدمی، اس تجيبی کے ہاتھوں شہید ہوا جو مصر سے آیا تھا۔

یعنی سیدنا عثمانؓ کا قاتل التجیبی ہے۔

(المستدرك الحاكم علی الصحیحین: رقم 4568، سکت عنہ ذھبی فی تلخیص، وسندہ حسن)


اس سند میں کنانہ العدوی خطا ہے، درست راوی کنانہ مولی صفیہ ہیں، ام المومنین سیدہ صفیہ سلام اللہ علیہ کے غلام، دیگر کتب میں دیگر اسناد اسکی وضاحت کرتی ہیں اور اسکی زبردست شاہد ہیں، مثلا تاريخ ابن عساكر، تاريخ طبری، مسند اسحاق، معرفۃ الصحابہ وغیرہ میں۔

انہی کے متعلق امام ابن حبان کہتے ہیں:

‌كنانة ‌مولى ‌صفية بنت حي أدرك عثمان بن عفان وشهد قتله

 

كنانه ملی صفیہ بنت حی نے سیدنا عثمان بن عفان کو پایا ہے اور انکی شہادت کا مشاہدہ کیا ہے۔

(الثقات لابن حبان: جلد 5 صفحہ 339)

 

واضع رہے کہ کنانہ مولی صفیہ بھی ثقہ صدوق ہیں، انکے اوپر کوئی معتبر جرح موجود نہیں۔

امام ابن حبانؒ نے انکو ثقہ قرار دیا۔

امام العجلیؒ نے انکو ثقہ قرار دیا:

‌كنانة ‌مولى ‌صفية مدني تابعي ثقة

(الثقات للعجلي ت البستوي: جلد 2 صفحہ 228 رقم 1560)


امام حاکمؒ نے انکی روایت کو بخاری و مسلم کی شرط پہ اپنی مستدرک میں درج کیا اور صراحت کے ساتھ فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر امام بخاری و مسلم نے اسے درج نہیں کیا۔

(المستدرک للحاکم: رقم 2008)


امام ابن حجر عسقلانیؒ کہتے ہیں
:

مقبول ضعفه الأزدي بلا حجة


یہ مقبول ہے، ازدی نے بغیر حجت کے ضعیف قرار دیا ہے۔

(تقریب التھذیب: صفحہ 462 رقم 5650)

ایک جگہ امام ابن حجرؒ اسکی روایت کو حسن قرار دیتے ہیں:

(الإصابة في تمييز الصحابة: جلد 8 صفحہ 212)

ایک اور جگہ امام ابن حجر عسقلانیؒ انکی روایت کو نقل کرتے ہیں تو کتاب کے محقق اسے حسن قرار دیتے ہیں اور انکی توثیق مقبول ووثق کے کلمے سے کرتے ہیں۔

(المطالب العالية محققا: جلد 18 صفحہ 97)

امام ذهبیؒ نے انکے لیے وثق کا کلمہ استعمال کیا ہے، یعنی انکے نزدیک بھی اسکی توثیق کی گئی ہے۔

(الکاشف: جلد 2 صفحہ 150 رقم 4679)

شیخ سعید بن محمد حوی (المتوفی 1409ھ) بھی اسکی روایت کو نقل کرتے ہیں اور اسکے رجال کو ثقہ قرار دیتے ہیں۔

(الأساس في السنة وفقهها - السيرة النبوية: جلد 3 صفحہ 1345)

اسی طرح دیگر بہت سے محققین و علماء بھی انکی تحسین کرتے ہیں.

امام ابو القاسم محمد بن عبد اللہ البغویؒ (المتوفی 317ھ) نقل کرتے ہیں:

حدثني محمد بن بكار قال: سمعت محمد بن طلحة بن مصرف يقول: سمعت كنانة يقول: ‌شهدت ‌قتل ‌عثمان قال: فسمعت رجلا من أهل مصر يطوف حول دار عثمان وهو يقول: انا قاتل نعثل ما يعرض له أحد من الناس

(ثقہ صدوق تابعی) کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کو دیکھا، انہوں نے کہا کہ پھر میں نے اہل مصر کے ایک شخص کو سیدنا عثمان کے گھر کے ارد گرد گھومتے ہوئے سنا اور وہ کہہ رہا تھا: میں نعثل کا قاتل ہوں جو لوگوں ميں سے روگردانی کرتا ہے۔

(معجم الصحابة للبغوی: جلد 4 صفحہ 335 وسندہ صحیح، رواۃ کلھم ثقات و صدوق)


اس روایت سے نواصب کے کئی عقائد کا رد ہوتا ہے۔

اول: تفضیل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ قطعی نہیں ہے، بلکہ صحابہ میں اس پہ شدید اختلاف تھا۔

دوئم: سیدنا عثمان کے ماں شریک بھائی صحابی حضرت ولید بن عقبہؓ سیدنا عثمانؓ کی سیدنا ابکر صدیق و سیدنا عمر الفاروق رضوان اللہ علیھم پہ بھی تفضیل کے قائل تھے۔

سوئم: عینی شاہد کی گواہی کے مطابق سیدنا عثمان کے قتل کا الزام مولا علیؑ کے اصحاب پہ جو لگایا جاتا ہے وہ غٖلط اور بےبنیاد ہے۔

چہارم: عینی شہادت اور سیدنا عثمان کے بھائی کے نزدیک بھی قاتل مصری تجیبی تھا، ناکہ سیدنا مولا علیؑ کے اصحاب، اور اس میں سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت مالک اشتر رحمہ اللہ کی برائت کا صاف اعلان موجود ہے لہزا یہ بھی ثابت ہوا کہ نواصب صحابہ کا جعلی دفاع کرتے ہیں اور صحابہؓ، اہل بیتؑ اور انکے اصحاب پہ تہمتیں لگاتے ہیں کہ وہ قتل عثمان میں ملوث تھے یاں قاتلین کی پشت پناہی کرتے تھے، اللہ ایسے دشمنان صحابہ کو غارت کرے کہ وہ دفاع صحابہ کے نام پہ صحابہ پہ ہی تہمتیں لگاتے ہیں۔

پنجم: نواصب قاتلین کو چھپاتے ہیں، انکا دفاع کرتے ہیں اور اہل بیتؑ کے خلاف زہر اگلتے ہیں، کن کے طرف قاتل ہونے کے اشارے کیے گئے تھے وہ نہیں بتاتے۔

ششم: اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عینی شاہدین کے مطابق بھی قطعی طور پہ کوئی قاتل نامزد نہیں ہوا، بس انکا غالب گمان تھا کہ اہل مصر میں سے فلاں یا فلاں شخص قاتل ہے، یوں تیسرے ملک بیٹھے نواصب کے ماموں کو کسطرح معلوم ہوسکتا ہے کہ قاتلین کون ہیں؟

ہفتم: اب نواصب فیصلہ کریں کہ وہ سچے ہیں یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بھائی صحابی سیدنا ولید بن عقبہ رض اور سیدہ ام المومنین صفیہ رض کے آزاد کردہ ثقہ صدوق غلام؟

آہستہ آہستہ ہم اس سلسلے کی اسی سند کی روایات سامنے لاتے رہیں گے، ان نواصب کو کوئی راہ فرار نہیں ملے گی ان شاءاللہ۔

تحرير و تحکیم: شہزاد احمد آرائیں۔