امیر المومنین سیدنا عمر الفاروقؓ اور حضرت مالک اشترؒ کے متعلق روایت کا تحقیقی جائزہ
عینی شہادت کے مطابق سیدنا
عثمانؓ کا قاتل کون؟
(قسط نمبر 6)
[امیر المومنین سیدنا عمر
الفاروقؓ اور حضرت مالک اشترؒ کے متعلق روایت کا تحقیقی جائزہ]
پچھلی پانچ اقساط کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے عینی شاہد
اور سیدنا عثمانؓ کے بھائی کی گواہی انکے قاتلین کے متعلق باسند صحیح نقل کی، اسی
طرح ہم نے ان میں سے ایک قاتل کے متعلق آئمہ اہل سنت کا تواتر نقل کیا کہ ان سب نے
اسے قاتل عثمانؓ لکھا ہے، اسی طرح پھر ہم نے عینی شاہد ام المومنین سیدہ صفیہؓ کے
آزاد کردہ غلام کنانہؒ کی دیگر روایات نقل کی، پھر چوتھی قسط میں ہم نے سیدہ صفیہؓ
کا مالک اشترؒ کو کتا کہنے کی روایت پہ تفصیل سے بات کی تھی، پانچویں قسط میں ہم
نے سیدہ عائشہؓ کے حضرت محمد بن ابی بکرؓ اور حضرت مالک اشترؒ کے متعلق بددعا کی
روایت پہ تفصیل سے کلام کیا تھا۔ اب اگلی قسط میں ہم سیدنا عمر الفاروقؓ کے مالک
اشتر کے متعلق کلمات کی روایت کا تحقیقی جائزہ لینگے کہ نواصب کی پیش کردہ اس دلیل
کی حیثیت کیا ہے؟
֍
امام عبد الله بن احمد بن حنبلؒ (المتوفی 290ھ) لكهتے ہیں:
قال أبي في حديث يزيد بن زريع عن شعبة
قال أنبأني عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال دخلنا على عمر معاشر وفد مذحج
وكنت من أقربهم منه مجلسا فجعل عمر نظر إلى الأشتر ويصرف بصره فقال لي أمنكم هذا
قلت نعم يا أمير المؤمنين قال ما له قاتله الله كفى الله أمة محمد شره والله أني
لأحسب أن للمسلمين منه يوما عصيبا
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم قبیلہ
مدحج کے وفد کے ساتھ سیدنا عمرؓ کے پاس داخل ہوئے اور میں اس مجلس میں انکے قریب
ترین لوگوں میں سے تھا چناچہ سیدنا عمرؓ نے مالک اشتر کی طرف دیکھا اور وہ نظریں
چرانے لگا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ تمہارے ساتھ ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں امیر
المومنین، انہوں نے کہا کہ اسکا کیا معاملہ ہے؟ اللہ اسے قتل کرے، اللہ اسکے شر سے
امت محمد کیلیے کافی ہوجائے، اللہ کی قسم میرا گمان ہے کہ مسلمانوں پہ اسکی وجہ سے
مشکل دن آئے گا۔
(العلل ومعرفة الرجال
لأحمد رواية ابنه عبد الله: جلد 1 صفحہ 315 رقم 540)
֍
اسی روایت کو اسی سند سے امام ابو ابکر الخلالؒ (المتوفی
311ھ) بھی نقل کرتے ہیں:
أخبرنا عبد الله بن أحمد، قال: قال
أبي: في حديث يزيد بن زريع عن شعبة، قال: نبأني عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة،
قال:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(السنة لأبي بكر بن
الخلال: جلد 3 صفحہ 516 رقم 836)
֍
اسی روایت کو اسی سند سے امام خطیب بغدادیؒ (المتوفی
463ھ) بھی نقل کرتے ہیں:
قال: أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق،
وعلي بن محمد بن عبد الله المعدل، قالا: أخبرنا محمد بن أحمد بن الحسن الصواف،
قال: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: قال أبي في حديث يزيد بن زريع عن شعبة،
قال: أنبانا عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة، قال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تاريخ بغداد ت بشار:
جلد 7 صفحہ 617)
֍
اسی روایت کو امام ابن عساکرؒ (المتوفی 571ھ) بھی نقل
کرتے ہیں:
أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن
منصور نا وأبو منصور محمد بن عبد الملك قال أنا أبو بكر الخطيب أنا محمد بن أحمد
بن رزق وعلي بن محمد بن عبد الله المعدل قالا أنا محمد بن أحمد بن الحسن الصواف نا
عبد الله بن أحمد بن حنبل قال قال أبي في حديث يزيد بن زريع عن شعبة قال أنبأني
عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال دخلنا على عمر معاشر وفد مذحج وكنت من أقربهم
منه مجلسا فجعل ينظر إلى الأشتر ويصرف بصره فقال لي أمنكم هذا قلت نعم يا أمير
المؤمنين قال ماله قاتله الله كفى الله أمة محمد (صلى الله عليه وسلم) شره والله
إني لأحسب أن للمسلمين منه يوما عصيبا
(تاريخ دمشق لابن
عساكر: جلد 56 صفحہ 377)
֍
اس کے آگے امام ابن عساکرؒ نقل کرتے ہیں کہ:
قال عبد الله والحديث حدثناه بشار
الخفاف نا يزيد بن زريع حدثني شعبة
حدثني عمرو بن مرة وقال فيه كلاما
كثيرا أكثر من هذا قال عبد الله قال أبي قرأته في كتاب عمي صالح بن حنبل عن الهيثم
بن عدي عن عبد الله بن عمرو بن مرة عن أبيه يعني هذا الحديث
عبد اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث
بشار الخفاف نے بیان کی اور انہیں یزید بن زریع نے اور انہیں شعبہ نے اور انہوں نے
عمرو بن مرۃ سے اسے بیان کیا، اور کہا اس میں کثیر کلام موجود ہے، اس سے زیادہ عبد
اللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا، میں نے اپنے چچا صالح بن حنبل کی کتاب
سے پڑھا، ھیثم بن عدی عن عبد اللہ بن عمرو بن مرۃ عن ابیہ کے طریق سے، یعنی اس حدیث
کو۔
֍
اسکے بعد امام ابن عساکرؒ نقل کرتے ہیں:
قال وأنا أبو جعفر محمد بن جعفر بن
علان الوراق أنا محمد بن الحسين أبو الفتح الأزدي حدثني محمد بن جعفر بن أحمد
المطيري أنا عبد الله بن أحمد الدورقي قال مضيت إلى بشار بن موسى الخفاف فحدثنا عن
يزيد بن زريع عن شعبة عن عمرو ابن مرة عن عبد الله بن سلمة قال دخلنا على عمر بن
الخطاب في وفد مذحج ومعنا الأشتر فجعل ينظر إلى الأشتر ويصرف بصره عنه فقال ويل
لهذه الأمة منك ومن ولدك إن للمؤمنين منك يوما عصيبا
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ وہ سیدنا
عمر بن الخطاب کے پاس مذحج کے وفاد کے ساتھ داخل ہوئے، اور انکے ساتھ اشتر بھی
تھے، تو انکی نظر اس پہ پڑی تو وہ نظریں چرانے لگے۔ اس امت پہ تمہاری اور تمہاری
اولاد کی وجہ سے افسوس ہے، بےشک مومنین کو تمہاری وجہ سے مشکل دن دیکھنا پڑے گا۔
֍
اسکے بعد امام ابن عساکر لکھتے ہیں:
قال عبد الله فأتيت منزلنا فإذا فيه
يحيى بن معين وخلف بن سالم فناداني يحيى بن معين يا عبد الله أين كنت قلت كنت في
ذاك الجانب عند بشار بن موسى قال يحيى وأيش حدثكم قلت حدثنا عن يزيد بن زريع عن
شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة وذكرت له الحديث فقال له يحيى ما له فعل
الله به وفعل والله ما حدث بهذا يزيد بن زريع قط ولا سمعه شعبة من عمرو بن مرة قال
له خلف بن سالم يا أبا زكريا فأيش الحجة عندك قال سرقوه من حديث الهيثم بن عدي عن
ابن عمرو بن مرة عن أبيه
عبد اللہ کہتے ہیں کہ چنانچہ میں اپنے
گھر آیا تو وہاں امام یحیی بن معین اور خلف بن سالم موجود تھے، یحیی بن معین نے
آواز دی کہ اے عبد اللہ تم کہا تھے؟ میں نے کہا کہ میں اس طرف بشر بن موسی کی جانب
تھا، یحیی نے کہا: اس نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا: اس نے عن زریع عن شعبہ عن
عمرو بن مرۃ عن عبد اللہ بن سلمہ کی سند سے حدیث بیان کی اور میں نے یہ حدیث زکر کی۔
چناچہ یحیی نے ان سے کہا کہ اللہ نے اسکے ساتھ کیا کیا اور کیا کیا؟ اللہ کی قسم یزید
بن زریع نے یہ حدیث کبھی بیان نہیں کی اور نہ ہی شعبہ نے عمرو بن مرۃ سے اسے سنا
ہے، ان سے خلف بن سالم نے کہا کہ اے ابو زکریا تمہارے پاس اسکی کیا دلیل ہے؟ انہوں
نے کہا کہ اس حدیث میں ھہثم بن عدی عن عمرو بن مرۃ عن ابیہ کا سرقہ واقع ہوا ہے۔
֍
اسکے بعد امام ابن عساکرؒ لکھتے ہیں:
أخبرناه أبو نعيم الحافظ نا عبد الله
بن جعفر بن أحمد بن فارس نا إسماعيل بن عبد الله بن مسعود العبدي حدثني العباس بن
أبي طالب نا يزيد بن زريع نا شعبة عن عمرو بن مرة نا عبد الله بن سلمة أنا عمر بن
الخطاب نظر إلى الأشتر فصعد فيه النظر ثم صوبه ثم قال إن للمسلمين من هذا يوما عصيبا
یہ وہی روایت ہے مگر سند مختلف ہے۔
(تاريخ دمشق لابن
عساكر: جلد 56 صفحہ 377 تا 378)
֍
یہ چیزیں امام ابن عساکرؒ امام خطیب بغدادیؒ کے حوالے
سے نقل کرتے ہیں جن سے روایت اوپر نقل ہوچکی ہے، اسی حوالے پہ آپ خطیب بغدادیؒ کی
عمدہ بحث مل جائے گی۔
֍
امام خطیب بغدادیؒ سے ہی اس روایت کو امام جمال الدین یوسف
المزی (742ھ) بھی نقل کرتے ہیں:
(تهذيب الكمال في أسماء
الرجال: جلد 4 صفحہ 87)
֍
اسکے علاوہ حضرت مالک اشترؒ کے ترجمے میں بغیر کسی
حوالے اور سند کے یہ کہہ کر نقل کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن سلمہ سے یہ مروی ہے:
(تهذيب الكمال في أسماء
الرجال: جلد 27 صفحہ 128)
֍
اسکے علاوہ اسے امام تقی الدین المقریزیؒ (المتوفی
845ھ) بھی اسے بےسند نقل کرتے ہیں:
(المقفى الكبير: جلد 5
صفحہ 18)
تو یہ ہے اس روایت کی کل کائنات کہ
اسے کن کن آئمہ نے کس کس طرح نقل کیا ہے، اسکے علاوہ کوئی اور حوالہ مجھے نہیں
ملا۔
اس میں جن رویات کا تذکرہ امام ابن
عساکرؒ اور امام خطیب بغدادیؒ نے کیا ہے ان میں راوی کذاب و متروک موجود ہیں:
پہلی سند جو امام عبد اللہ بن احمد بن
حنبلؒ نے ھیثم بن عدی کے طریق سے نقل کی ہے
اس کے راوی ھہثم بن عدی کی حیثیت:
1۔ امام بخاریؒ اسے ضعفاء میں درج
کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پہ خاموشی ہے۔
(الضعفاء الصغير
للبخاري ت أبي العينين: صفحہ 138 رقم 410)
امام ذھبی لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے
کہا کہ یہ ثقہ نہیں ہے، یہ جھوٹ بولتا ہے۔
)ميزان الاعتدال: جلد 4 صفحہ 324 رقم 9311(
2۔ امام عجلی اسے کذاب قرار دیتے ہیں
)الثقات للعجلي ت قلعجي: صفحہ 462 رقم 1757(
3۔ امام یحیی بن معین کہتے ہیں کہ یہ
ثقہ نہیں ہے بلکہ یہ جھوٹ بولتا ہے۔
)الكامل في ضعفاء الرجال: جلد 8 صفحہ 400 رقم 2020(
4۔ امام نسائیؒ کہتے ہیں کہ یہ ھیثم
بن عدی متروک الحدیث ہے۔
)الكامل في ضعفاء الرجال: جلد 8 صفحہ 401 رقم 2020(
5۔ امام ابو داؤدؒ اسے کذاب قرار دیتے
ہیں۔
)ميزان الاعتدال: جلد 4 صفحہ 324 رقم 9311(
6۔ امام ذھبیؒ اسے متروک قرار دیتے ہیں:
)المغني في الضعفاء: جلد 2 صفحہ 717 رقم 6807(
7۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ اسے متھم
بالکذب قرار دیتے ہیں:
)طبقات المدلسين: صفحہ 57 رقم 151(
لہزا معلوم ہوا کہ یہ راوی کذاب اور
متروک ہے۔
دوسری سند میں دوسرا راوی بشار بن موسی
الخفاف کی حیثیت منددرجہ ذیل ہے:
1۔ امام نسائیؒ اسے ضعفاء اور متروکین
میں درج کرکے لکھتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔
)الضعفاء والمتروكون للنسائي: صفحہ 23 رقم 80(
2۔ امام ابو ذرعہؒ اسے ضعیف قرار دیتے
ہیں۔
)الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 2 صفحہ 417 رقم 1650(
3۔ امام یحیی بن معینؒ کہتے ہیں کہ
بشار الخفاف ثقہ نہیں ہے۔
)الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 2 صفحہ 41(
4۔ امام ابن ابی حاتمؒ لکھتے ہیں:
سألت أبي عن بشار الخفاف فقال:
يتكلمون فيه وينكر عن الثقات، أنكر عن يزيد بن زريع عن شعبة عن عمرو بن مرة حديث
الأشتر، وهو شيخ
میں نے اپنے والد سے بشار الخفاف کے
متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس میں کلام کیا ہے اور یہ ثقات سے منکرات بیان
کرتا ہے، انہوں نے یزید بن زریع عن شعبہ عن عمرو بن مرۃ کی سند سے اشتر کی حدیث کا
انکار کیا اور وہ شیخ ہیں۔
)الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 2 صفحہ 417(
5۔ امام بخاریؒ اسے منکر الحدیث قرار
دیتے ہیں:
)التاريخ الكبير للبخاري - ت الدباسي والنحال: جلد 2 صفحہ 547 رقم
1925(
امام ذھبی امام بخاری کا قول نقل کرتے
ہیں کہ انہوں نے کہا:
قد كتبت عنه، وتركت حديثه
میں نے اس سے لکھا ہے اور اسکی احادیث
کو ترک کردیا ہے۔
)ميزان الاعتدال: جلد 1 صفحہ 311 رقم 1180(
6۔ امام ابو يعلي الخليليؒ کہتے ہیں
کہ اس میں نرمی ہے۔
)الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي: جلد 1 صفحہ 246(
7۔ امام ذھبیؒ اسے ضعفاء میں درج کرتے
ہیں:
)ديوان الضعفاء: صفحہ 47 رقم 58(
8۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ کہتے ہیں کہ
یہ ضعیف ہے اور کثیر سے خطائیں کرنے والا ہے۔
)تقريب التهذيب: صفحہ 122 رقم 674(
9۔ امام ابو عبد الله حاكمؒ کہتے ہیں
کہ اس سے کچھ بھی قوی نہیں ہے۔
)تهذيب التهذيب: جلد 1 صفحہ 442 رقم 812(
معلوم ہوا کہ یہ راوی بھی کثیر الخطاء
ضعیف اور متروک ہے۔
اسکے بعد جو تیسری سند ہے اس ميں موجود راوی عباس بن ابی طالب خطا ہے، درست راوی عباس بن طالب ہے۔
کیونکہ یزید بن زریع سے عباس بن طالب نام کے راوی ہی روایت کرتے ہیں، یہی چیز واضع کرتے ہوئے امام خطیب بغدادیؒ ان دونو نام کے رواۃ کا ترجمہ انکے فرق کو واضع کرنے کیلیے ہی قائم کرتے ہیں:)غنية الملتمس إيضاح الملتبس: صفحہ 317 و 318(
انکی حیثیت کیا ہے؟ ملاحظہ کریں:
1۔ انکے متعلق ترجمہ امام ابن ابی
حاتمؒ قائم کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:
نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال
روى حديثا عن يزيد بن زريع فأنكره يحيى بن معين ووهى امره قليلا ثنا عبد الرحمن
قال سئل أبو زرعة عنه فقال بصري وقع إلى مصر ليس بذاك
عبد الرحمن کہتے ہیں کہ انہوں نے میرے
والد (ابو حاتم الرازیؒ) سے سوال کیا تو انہوں نے کہا یہ یزید بن زریع سے حدیث بیان
کرتے ہیں، تو امام یحیی بن معین نے انکا انکار کردیا اور انکی بات کو کچھ کمزور
کردیا، عبد الرحمن بيان كرتے ہيں امام ابو زرعہ سے انکے متعلق سوال ہو تو انہوں نے
کہا کہ بصری تھے، مصر چلے گئے، اس درجے کے نہیں تھے۔
)الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 6 صفحہ 216 رقم 1186(
2۔ امام ابن حبانؒ انکا تذکرہ الثقات
میں کرتے ہیں:
)الثقات لابن حبان: جلد 8 صفحہ 510(
3۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ اسکا ترجمہ
قائم کرکے لکھتے ہیں:
ومن مناكيره ما رواه إسماعيل سمويه
عنه
اور اسکے پاس مناکیر ہیں جنہیں اسماعیل
سمویہ نے اس سے بیان کیا ہے۔
)لسان الميزان: جلد 3 صفحہ 240 رقم 1063(
قارئين عبد اللہ بن طالب پہ یہی جرح و
تعدیل کے اقوال موجود ہیں، موجودہ زیر بحث روایت بھی اسماعیل بن عبد اللہ سمویہ نے
ہی اس سے بیان کی ہے، لہزا یہ روایت بھی اسکی مناکیر میں شامل ہے۔ اسماعیل سمویہ
کے تعارف کیلیے اسماعیل بن عبد اللہ بن مسعود بن جبیر العبدی سمویہ کا ترجمہ آپ
امام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء میں پڑھ سکتے ہیں۔
)سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 13 صفحه 10 رقم 6(
اس روایت کے مرکزی راوی عبد اللہ بن
سلمہ کی حیثیت:
1۔ امام محمد بن سعد الزہریؒ (المتوفی
230ھ) لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة الجملى من مراد.
روى عن: عمر، وعلي، وعبد الله، وسعد بن أبي وقاص، وعمار بن ياسر، وسلمان.
قال: أخبرنا إسحاق بن منصور عن زهير،
عن أبي إسحاق، عن أبي العالية وهو عبد الله بن سلمة.
قال: أخبرنا سليمان أبو داود الطيالسي
قال: أخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة قال: كان عبد الله بن سلمة قد كبر فكان
يحدث فنعرف وننكر
عبد اللہ بن سلمہ المجملی مراد سے ہے،
یہ سیدنا عمرؓ، سیدنا علیؑ، سیدنا سعد بن ابی وقاسؓ، سیدنا عمار بن یاسرؓ اور
سلمانؓ سے روایت کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ مجھے اسحاق بن منصور نے
خبر دی زہیر کی سند سے ابی اسحاق کی سند سے ابی العالیہ سے اور وہ عبد اللہ بن
سلمہ ہے۔
کہا کہ مجھے سلیمان ابو داؤد طیالسیؒ
نے خبر دی اور کہا کہ انہیں شعبہؒ نے خبر دی عمرو بن مرۃ کی سند سے کہ اس نے کہا: یہ
عبد اللہ بن سلمہ بوڑھے ہوچکے تھے، وہ احادیث بیان کرتے تھے تو ہم انہیں پہچان لیتے
اور انکار کردیتے۔
)الطبقات الكبرى - ط الخانجي: جلد 8 صفحہ 236 رقم 2822(
2۔ امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ
(المتوفی 256ھ) لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة، أبو العالية،
الهمداني، الكوفي.
عن سعد، وابن مسعود.
أو عبد الله بن سلمة، المرادي، عن
سعد، وابن مسعود، وعلى، وصفوان بن عسال، رضي الله عنهم.
روى عنه أبو إسحاق.
قال أبو داود، عن شعبة، عن عمرو بن مرة:
كان عبد الله يحدثنا فنعرف وننكر، وكان قد كبر.
لا يتابع في حديثه.
وقال ابن نمير: إن عبد الله بن سلمة،
الذي روى عنه أبو إسحاق، غير الذي روى عمرو بن مرة عنه.
قال عمرو بن مرة: هو رجل من الحي
عبد اللہ بن سلمہ ابو العالیہ الھمدانی
الکوفی
یہ سعد بن ابی وقاصؓ اور ابن مسعودؓ
سے روایت کرتے ہیں۔
ہاں عبد اللہ بن سلمہ المرادی، یہ
سعد، ابن مسعود، علی، صفوان بن عسال رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں۔
ان سے ابو اسحاق روایت کرتے ہیں۔
ابو داؤد کہتے ہیں کہ شعبہ کی سند سے
عمرو بن مرۃ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ عبد اللہ جب حدیث بیان کرتے تو ہم اسے پہچان
لیتے اور اسکا انکار کرتے، اور وہ بوڑھے ہوچکے تھے۔
انکی حدیث میں متابعت نہیں کی جاتی۔
اور ابن نمیر کہتے ہیں کہ یہ عبد اللہ
بن سلمہ، جس سے ابو اسحاق روایت کرتے ہیں مختلف ہیں اس سے جس سے عمرو بن مرۃ روایت
کرتے ہیں۔
عمرو بن مرۃ کہتے ہیں کہ وہ الحی کے
آدمی تھے۔
)التاريخ الكبير للبخاري بحواشي محمود خليل: جلد 5 صفحہ 99(
◉
امام بخاریؒ ایک اور مقام پہ لکھتے ہیں:
حدثنا آدم قال حدثنا شعبة قال حدثنا
عمرو بن مرة قال سمعت عبد الله بن سلمة وكان رجلا من قومه عمرو الجبلي هو مرادي
ويقال جهني
عمرو بن مرۃ کہتے ہیں کہ میں نے عبد
اللہ بن سلمہ کو سنا اور وہ عمرو الجبلی کی قوم کے آدمی ہیں جو مرادی ہیں اور انہیں
جھنی بھی کہا جاتا ہے۔
)تاریخ الاوسط: جلد 1 صفحہ 201 رقم 951(
4۔ امام ابو الحسین مسلم بن حجاجؒ
(المتوفی 261ھ) لکھتے ہیں:
وَلَا عَن عبد الله بن سَلمَة غير
عَمْرو بن مرّة
اور عبد اللہ بن سلمہ سے عمرو بن مرۃ
کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا۔
)المنفردات والوحدان: صفحہ 251 رقم 20(
5۔ امام ابو الحسن العجلیؒ (المتوفی
261ھ) عمرو بن مرۃ کے ترجمے میں لکھتے ہیں:
ولم يكن أحد أروى عن عبد الله بن سلمة
منه وعبد الله بن سلمة يكنى أبا العالية سمع منه بعد ما كبر
اور عبد اللہ بن علمہ سے انکے علاوہ
کوئی روایت کرنے والا نہیں تھا، اور عبد اللہ بن سلمہ کی کنیت ابو العالیہ ہے،
انہوں نے ان کے بوڑھے ہونے کے بعد سماع کیا۔
)الثقات للعجلي ت البستوي: جلد 2 صفحہ 185 رقم 1408(
◉
اسی طرح امام عجلیؒ اسکے متعلق لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة أبو العالية من
أصحاب على وعبد الله وزاد كوفى تابعي من ثقات الكوفيين
عبد اللہ بن سلمہ، ابو العالیہ، سیدنا
مولا علی کے اصحاب میں سے تھے، اور عبد اللہ ثقہ ہیں، اور مزید وہ کوفی ہیں، کوفہ
کے ثقات میں سے تابعی ہیں۔
)الثقات للعجلي ت البستوي: جلد 2 صفحہ 32 رقم 898(
6۔ امام احمد بن شعیب النسائیؒ
(المتوفی 303ھ) لکھتے ہیں:
ولا عن عبد الله بن سلمة غير عمرو
بن مرة
اور عبد اللہ بن سلمہ سے عمرو بن مرۃ
کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا۔
)تسمية من لم يرو عنه غير رجل واحد: صفحہ 121(
◉
دوسری جگہ امام نسائیؒ اسے ضعفاء اور متروکین میں لکھتے
ہیں:
عبد الله بن سلمة يروي عنه عمرو بن
مرة يعرف وينكر كنيته أبو العالية
عبد اللہ بن سلمہ، ان سے عمرو بن مرۃ
روایت کرتے ہیں، انہیں جانا جاتا ہے اور انکا کیا جاتا ہے، انکی کنیت ابو العالیہ
ہے۔
)الضعفاء والمتروكون للنسائي: صفحہ 64 رقم 347(
7۔ امام عبد اللہ بن احمد بن الکعبی
المعتزلیؒ (المتوفی 319ھ) لکھتے ہیں:
النضر قال: سمعت شعبة قال عمرو بن مرة:
كان عبد الله بن سلمة قد كبر يحدثنا وكنا نعرف وننكر
نضر کہتے ہیں کہ انہوں نے امام شعبہ
کو سنا کہ عمرو بن مرۃ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن سلمہ بوڑھے ہوچکے تھے، وہ ہمیں حدیث
بیان کرتے، ہم اسے جانتے اور انکار کرتے۔
)قبول الأخبار ومعرفة الرجال: جلد 1 صفحہ 149(
8۔ امام ابن ابی حاتم الرازیؒ (المتوفی
327ھ) لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة الهمداني الكوفي أبو
العالية روى عن علي وسعد بن أبي وقاص وابن مسعود وصفوان بن عسال روى عنه عمرو بن
مرة وأبو الزبير المكي سمعت أبي يقول ذلك.
نا عبد الرحمن أنا يونس بن حبيب نا
أبو داود نا شعبة عن عمرو بن مرة قال: كان يجلس إلي عبد الله بن سلمة وقد كبر
فيحدثنا فنعرف وننكر.
نا عبد الرحمن [سئل أبي عن عبد الله
بن سلمة فقال: تعرف وتنكر
عبد اللہ بن سلمہ الھمدانی الکوفی ابو
العالیہ، یہ علیؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، ابن مسعودؓ اور صفوان بن عسالؓ سے روایت کرتے
ہیں اور ان سے عمرو بن مرۃ اور ابو زبیر المکی روایت کرتے ہیں۔ میں نے اپنے والد
(امام ابو حاتم الرازیؒ) کو یہ کہتے ہوئے سنا۔
عبد الرحمن یونس بن حبیب سے روایت
کرتے ہیں اور وہ ابو داؤد سے روایت کرتے ہیں اور وہ شعبہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ
عمرو بن مرۃ سے روایت کہتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ عبد اللہ بن سلمہ کے پاس بیٹھے
اور وہ بوڑھے ہوچکے تھے تو وہ حدیث بیان کرتے اور میں اسے جان لیتا اور انکار
کرتا۔ عبد الرحمن کہتے ہیں کہ انہوں نے میرے والد سے عبد اللہ بن سلمہ کے متعلق
سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں اور انکار کرتے ہیں۔
)الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 5 صفحہ 73 رقم 345(
9۔ امام ابو حاتم ابن حبانؒ (354ھ)
لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة يروي عن علي بن
أبي طالب روى عنه عمرو بن مرة يخطأ
عبد اللہ بن سلمہ مولا علی بن ابی
طالبؑ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عمرو بن مرۃ روایت کرتے ہیں، اور یہ خطا کرتے ہیں۔
)الثقات لابن حبان: جلد 5 صفحہ 12(
10۔ امام احمد بن عدی الجرجانیؒ
(المتوفی 365ھ) اسکا ترجمہ قائم کرکے عمرو بن مرۃ اور امام بخاریؒ کے اقوال نقل
کرتے ہیں اور مزید لکھتے ہیں:
قال وحدثنا علي سمعت أبا داود، حدثنا
شعبة عن عمرو بن مرة، قال: كان عبد الله بن سلمة يحدثنا فكان قد كبر فكنا نعرف
وننكر فقال شعبة والله لأخرجنه من عنقي ولألقينه في أعناقكم
امام شعبہؒ کہتے ہیں کہ عمرو بن مرۃ
کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن سلمہ ہم سے احادیث بیان کرتے تھے اور وہ بوڑھے ہوچکے تھے
تو ہمیں اسے جانتے اور انکار کرتے۔ چناچہ شعبہ نے کہا اللہ کی قسم میں اسے اپنے
گلے سے اتار کر تمہارے گلے میں ڈال دونگا۔
◉
امام شعبہ کے اس قول کو امام ابن عدیؒ دوسری سند سے بھی
نقل کرتے ہیں:
حدثنا علي بن أحمد بن سليمان، حدثنا
أحمد بن سعد، حدثنا نعيم بن حماد، حدثنا عبد الله بن إدريس عن شعبة عن عمرو بن
مرة، حدثنا عبد الله بن سلمة ونحن نعرف من عقله وننكر قال ثم يقول أخرجته من عنقي
إلى أعناقكم
◉
اسکے بعد امام ابن عدیؒ انکی ایک روایت کو نقل کرکے اس
کے متعلق امام احمد بن حنبلؒ اور امام شعبہؒ کے اقوال نقل کرتے ہیں اور آخر میں اس
راوی پہ حکم لگاتے ہیں کہ:
وأرجو انه لا بأس به
اور میں امید کرتا ہوں کہ اس میں کوئی
حرج نہیں ہے۔
)الكامل في ضعفاء الرجال: جلد 5 صفحہ 279 رقم 989(
11۔ امام ابو الفرج ابن الجوزیؒ
(المتوفی 597ھ) لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة أبو العالية
الهمداني عن علي روى عنه عمرو بن مرة قال النسائي تعرف وتنكر
عبد اللہ بن سلمہ ابو العالیہ الھمدانی،
مولا علیؑ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عمرو بن مرۃ روایت کرتے ہیں، امام نسائیؒ
نے کہا کہ انہیں جانتے ہیں اور انکار کرتے ہیں۔
)الضعفاء والمتروكون لابن الجوزي: جلد 2 صفحہ 125 رقم 2038(
12۔ امام عبد الغنی المقدسیؒ (المتوفی
600ھ) لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة -بكسر اللام-
المرادي الكوفي .
روى عن: عمر بن الخطاب، وسمع: علي بن
أبي طالب، وعبد الله ابن مسعود، وعمار بن ياسر، وسعد بن أبي وقاص، وسلمان الفارسي،
وصفوان بن عسال.
روى عنه: أبو إسحاق السبيعي، وعمرو بن
مرة.
قال أحمد بن حنبل: لا أعلم روى عنه
غيرهما، وكنيته أبو العالية.
قال شعبة عن عمرو بن مرة: كان عبد
الله يحدثنا فنعرف وننكر، كان قد كبر، لا يتابع في حديثه.
قال أبو بكر الخطيب: وقد روى أبو
إسحاق السبيعي، عن أبي العالية عبد الله بن سلمة الهمداني: يزعم أحمد بن حنبل أنه
الذي روى عنه عمرو بن مرة.
وقال ابن نمير: ليس به بل هو رجل آخر،
وكان يحيى بن معين قال مثل قول أحمد بن حنبل، ثم رجع عنه، والله أعلم.
وقال أحمد بن عبد الله: هو تابعي، ثقة.
وقال ابن عدي: أرجو أنه لا بأس به.
وقال أحمد بن حميد، عن أحمد بن حنبل:
لم يرو أحد: "لا يقرأ الجنب" غير شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن
سلمة.
قال ابن عيينة: سمعت هذا الحديث من
شعبة. وقال: لم يرو عمرو بن مرة أحسن من هذا الحديث.
وقال شعبة: روى هذا الحديث عبد الله
بن سلمة بعد ما كبر، وقد روى هذا الحديث عن عمرو بن مرة: الأعمش، وشعبة، ومسعر،
وابن أبي ليلى، وبقية.
وقال شعبة: لا أروي أحسن منه عن عمرو
بن مرة، وهذا الحديث الذي يقول فيه شعبة: هو ثلث رأس مالي.
روي له: أبو داود، والترمذي،
والنسائي، وابن ماجه
عبد اللہ بن سلمہ بکسر الام المرادی
الکوفی
یہ عمر بن خطابؓ سے روایت کرتے ہیں،
اور انہوں نے علی بن ابی طالبؑ، عبد اللہ بن مسعودؓ، عمار بن یاسرؓ، سعد بن ابی
وقاصؓ، سلمان فارسیؓ اور صفوان بن عسال سے سماع کیا ہے۔
ان سے ابو اسحاق السبیعی اور عمرو بن
مرۃ روایت کرتے ہیں۔
امام احمد بن حنبلؒ نے کہا: انکے
علاوہ میں کسی اور کو ان سے روایت کرنے والا نہیں جانتا اور انکی کنیت ابو العالیہ
ہے۔
امام شعبہ عمرو بن مرۃ سے روایت کرتے
ہیں کہ عبد اللہ حدیث بیان کرتے تو وہ اسے جانتے اور انکار کرتے، وہ بوڑھے ہوچکے
تھے، انکی حدیث میں متابعت نہیں ہوتی۔
امام ابو بکر خطیبؒ کہتے ہیں: اور ابو
اسحاق السبیعی ابو العالیہ عبد اللہ بن سلمہ الھمدانی سے روایت کرتے ہیں، احمد بن
حنبلؒ کا دعوی ہے کہ وہ وہی ہیں جن سے عمرو بن مرۃ روایت کرتے ہیں۔
اور احمد بن عبد اللہ العجلیؒ کہتے ہیں:
یہ تابعی اور ثقہ تھے۔
اور امام ابن عدیؒ کہتے ہیں کہ: وہ امید
کرتے ہیں کہ ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور احمد بن حمید امام احمد بن حنبلؒ
سے روایت کرتے ہیں کہ: کسی ایک نے بھی یہ روایت نہیں کیا کہ جنبی شخص (قرآن مجید)
قرائت نہیں کرے سوائے شعبہ کے عمرو بن مرۃ کی سند سے عبد اللہ بن سلمہ سے۔
امام ابن عیینہؒ نے کہا: میں نے یہ حدیث
شعبہ سے سنی ہے اور انہوں نے کہا کہ عمرو بن مرۃ نے اس حدیث سے اچھی کوئی حدیث روایت
نہیں کی۔
اور شعبہ نے کہا: انہوں نے یہ حدیث
عبد اللہ بن سلمہ سے انکے بوڑھے ہونے کے بعد سنی، اور عمرو بن مرۃ سے اس حدیث کو
اعمش، شعبہ، معسر، ابن ابی یعلی اور یقیہ نے روایت کیا ہے۔
اور شعبہ نے کہا: میں عمرو بن مرۃ سے
اس سے بہتر کچھ روایت نہیں کرتا، اور یہ حدیث وہ ہے جس کے متعلق شعبہ کہتے ہیں کہ یہ
میرے سرمائے کا ایک تہائی ہے۔
ان سے ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن
ماجہ نے روایت کی ہے۔
)الكمال في أسماء الرجال: جلد 6 صفحہ 183 رقم 3574(
13۔ امام جمال الدین یوسف المزیؒ
(المتوفی 742ھ) بھی انکا ترجمہ قائم کرتے ہیں اور وہی اقوال نقل کرتے ہیں جو اوپر
ہم نقل کرچکے، اسکے علاوہ لکھتے ہیں:
وقال يعقوب بن شيبة: ثقة، يعد في
الطبقة الأولى من فقهاء الكوفة، بعد الصحابة
اور یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں کہ یہ ثقہ
ہیں، یہ صحابہ کے بعد کوفے کے فقہاء کے پہلے طبقے میں آتے ہیں۔
)تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 15 صفحہ 50 تا 55 رقم 3313(
14۔ امام شمس الدین الذھبیؒ (المتوفی
748ھ) لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة (م على) :
عن علي قال عمرو بن مرة وأبو حاتم
تعرف وتنكر
عبد اللہ بن سلمہ مولا علی المترضیؑ
سے روایت کرتے ہیں، عمرو بن مرۃ اور ابو حاتم الرازیؒ نے کہا کہ ہم انہیں جانتے
اور انکار کرتے ہیں۔
)من تكلم فيه وهو موثق ت أمرير: صفحہ 109 رقم 182(
◉
ایک دوسری جگہ پہ امام ذھبیؒ کہتے ہیں:
عبد الله بن سلمة عن علي صدوق قال ابو
حاتم والنسائي تعرف وتنكر وكذا قال قبلهما عمرو بن مرة
عبد اللہ بن سلمہ سیدنا علیؑ سے روایت
کرتے ہیں، یہ صدوق ہیں، امام ابو حاتم اور امام نسائیؒ کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں
اور انکار کرتے ہیں اور یہی بات ان سے پہلے عمرو بن مرۃ نے بھی کہی ہے۔
)المغني في الضعفاء: جلد 1 صفحہ 840 رقم 3199(
◉
ایک اور جگہ امام ذھبیؒ لکھتے ہیں:
عبد الله بن سلمة المرادي عن عمر
ومعاذ وعبد الله بن مسعود وعنه أبو إسحاق وأبو الزبير
صويلح قال بن عدي أرجو أنه لا بأس به
وقال البخاري لا يتابع في حديثه
عبد اللہ بن سلمہ المرادی عمرؓ،
معاذؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ابو اسحاق اور ابو زبیر
روایت کرتے ہیں۔
یہ صالح ہیں، ابن عدیؒ نے کہا کہ وہ
امید کرتے ہیں کہ ان میں کوئی حرج نہیں ہے اور امام بخاری نے کہا کہ انکی حدیث میں
متابعت نہیں ہوتی۔
)الكاشف: جلد 1 صفحہ 559 رقم 2760(
◉
اسكے علاوه امام ذھبیؒ نے درج ذیل کتب میں انکا ترجمہ
قائم کیا ہے:
)ميزان الاعتدال: جلد 2 صفحہ 430 رقم 4360(
)المقتنى في سرد الكنى: جلد 1 صفحہ 336 رقم 3394(
)تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 5 صفحہ 167 رقم 3361(
15۔ امام صلاح الدين العلائیؒ (المتوفی
761ھ) انکا تذکرہ مختلط راویوں میں کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
عبد الله بن سَلِمة ـ بكسر اللام ـ
المُرادي:
صاحب علي ـ رضي الله عنه ـ.
أخرجه له مسلم.
قال عمرو بن مرة: كان يحدثنا فنعرف
وننكر كان قد كبر
عبد اللہ بن سلمۃ، بکسر الام، المرادی۔
یہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی
تھے۔ان سے مسلم نے روایت لی ہے۔
عمرو بن مرۃ کہتے ہیں: یہ حدیث بیان
کرتے تھے تو وہ اسے جانتے اور انکار کرتے، یہ بوڑھے ہوچکے تھے۔
)المختلطين للعلائي: صفحہ 63 رقم 25(
16۔ امام علاء الدین مغلطای الحنفیؒ
(المتوفی 762ھ) بھی انکا ترجمہ قائم کرتے ہیں اور تفصیل سے ان پہ عمدہ ابحاث کرتے
ہیں، انہوں نے انکے ترجمے پہ تقریبا 3 صفحات لکھے ہیں، طوالت کے پیش نظر انکا
ترجمہ کرنا ممکن نہیں۔
)إكمال تهذيب الكمال - ط العلمية: جلد 4 صفحہ 416 رقم 3140(
17۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی
852ھ) لکھتے ہیں:
عبد الله" بن سلمة المرادي
الكوفي روى عن عمر ومعاذ وعلي وابن مسعود وسعد وسلمان الفارسي وصفوان بن عسال
وعمار بن ياسر وعبيدة بن عمرو السلماني وعنه أبو إسحاق السبيعي وعمرو بن مرة قال
أحمد بن حنبل لا أعلم روى عنه غيرهما وقال غيره روى عنه أبو الزبير أيضا وقال النسائي
في الكنى أبو العالية عبد الله بن سلمة كوفي مرادي وقال الخطيب قد روى أبو إسحاق
السبيعي عن أبي العالية عبد الله بن سلمة الهمداني فزعم أحمد ابن حنبل أنه الذي
روى عنه عمرو بن مرة وقال ابن نمير ليس به بل هو آخر وكان ابن معين يقول كقول أحمد
ثم رجع عنه وقال ابن حبان في الثقات عبد الله بن سلمة بن الحارث الهمداني أخو عمرو
وقال شعبة عن عمرو بن مرة كان عبد الله بن سلمة يحدثنا فيعرف وينكر كان قد كبر
وقال العجلي كوفي تابعي ثقة وقال يعقوب بن شيبة ثقة يعد في الطبقة الأولى من فقهاء
الكوفة بعد الصحابة وقال البخاري لا يتابع في حديثه وقال أبو حاتم يعرف وينكر وقال
ابن عدي أرجو أنه لا بأس به له عند د حديث لا يقرأ الجنب قلت قال البخاري في
تاريخه الصغير الذي قال ابن نمير أصح والذي روى عنه أبو إسحاق هو الهمداني والذي
روت عنه عمرو بن مرة وهو من رهط عمرو بن مرة جملي مرادي وكذا قال ابن معين
والدارقطني وابن ماكولا وقال النسائي في المرادي لا أعلم أحدا روى عنه غير عمرو بن
مرة وقال في الكنى أنا عبد الله بن أحمد سألت أبي عن ابن سلمة روى عنه غير عمرو بن
مرة فقال أبو إسحاق وقال ابن نمير هذا ليس هو ذاك صاحب عمر ولم يرو عنه إلا عمرو
والذي قاله بن نمير أصح وفرق بينهما أيضا بن حبان فقال في الهمداني ما حكاه عنه
المزي وقال في المرادي عبد الله بن سلمة يروي عن علي وعنه عمرو بن مرة يخطىء وقد
بينه الحاكم أبو أحمد بيانا شافيا في كتاب الكنى وقال عبد الله بن سلمة مرادي يروي
عن سعد وعلي وابن مسعود وصفوان بن عسال وعنه عمرو بن مرة وأبو الزبير حديثه ليس
بالقائم وعبد الله بن سلمة الهمداني إنما يعرف له قوله فقط ولا نعرفه له راويا غير
أبي إسحاق السبيعي ثم قال ما معناه إن الغلط إنما وقع عند من جعلهما واحدا بكنية
من كنى المرادي أبا العالية يعني من المتأخرين وإنما هي كنية الهمداني قال ولا
أعلم أحدا كنى المرادي قال وقد وقع الخطأ فيه لمسلم وغيره والله أعلم۔
عبد اللہ بن سلمہ المرادی الکوفی، یہ سیدنا عمرؓ، سیدنا معاذؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا
ابن مسعودؓ، سیدنا سعدؓ، سیدنا سلمان فارسیؓ، صفوان بن عسالؓ، عمار بن یاسرؓ اور
عبیدہ بن عمرو السلمانی سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے ابو اسحاق السبیعی اور عمرو
بن مرۃ روایت کرتے ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ نے کہا کہ وہ ان کے علاوہ ان سے کسی
اور کو روایت کرنے والا نہیں جانتے، اور کہا کہ دوسرے ابو زبیر بھی ان سے روایت
کرتے ہیں، اور امام نسائی نے الکنی میں کہا ابو العالیہ عبد اللہ بن سلمہ کوفی
مرادی، اور خطیب نے کہا کہ ابو اسحاق السبیعی ابی العالیہ عبد اللہ بن سلمۃ
الھمدانی سے روایت کرتے ہیں تو امام احمد بن حنبل کا دعوی ہے کہ وہ وہی ہیں جن سے
عمرو بن مرۃ نے روایت کی ہے،اور ابن نمیر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ کوئی اور
ہیں، اور ابن معین بھی احمد بن حنبل کے قول کی طرح کہتے تھے پھر انہوں نے ان سے
رجوع کرلیا، اور امام ابن حبان الثقات میں کہتے ہیں عبد اللہ بن سلمہ بن الحارث
الھمدانی بھائی ہیں عمرو کے۔ اور امام شعبہ عمرو بن مرۃ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں
کہ عبد اللہ بن سلمہ انہیں حدیث بیان کرتے تو وہ اسے جانتے اور اسکا انکار کرتے،
وہ بوڑھے ہوچکے تھے، امام عجلی کہتے ہیں کہ یہ کوفی، تابعی اور ثقہ ہیں، اور یعقوب
بن شیبہ کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں، یہ صحابہ کے بعد کوفی کے فقہاء کے پہلے طبقہ میں
شمار ہوتے ہیں۔ اور امام بخاریؒ نے کہا کہ انکی حدیث میں متابعت نہیں کی جاتی اور
امام ابو حاتم نے کہا کہ انہیں جانتے ہیں اور انکار کرتے ہیں، اور امام ابن عدی نے
کہا مجھے امید ہے کہا س میں کوئی حرج نہیں انکے پاس ایک حدیث ہے کہ جنبی (قرآن مجید)
کی قرائت نہیں کرے گا۔ میں کہتا ہوں کہ امام بخاری نے تاریخ الصغیر میں کہا کہ جیسے
ابن نمیر کہا وہ زیادہ صحیح ہے، جس سے ابو اسحاق نے روایت کی ہے وہ الھمدانی ہے
اور جن سے عمرو بن مرۃ روایت کرتے ہیں وہ عمرو بن مرۃ جملی مرادی کی جماعت میں سے ہے۔ اسی طرح امام
ابن معین، امام دارقطنی، امام ابن ماکولا اور امام نسائیؒ المرادی کے متعلق کہتے ہیں
کہ ان سے عمرو بن مرۃ کے علاوہ کسی کو روایت کرنے والا نہیں جانتا۔ اور انہوں نے
الکنی میں کہا کہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے اپنے والد سے ابی سلمہ سے عمرو بن
مرۃ کے علاوہ روایت کرنے والے ک ے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا ابو اسحاق اور
ابن نمیر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے یہ عمرو کے ساتھی ہیں اور ان سے عمرو کے علاوہ کسی
نے روایت نہیں کی۔ اور جو ابن نمیر نے کہا وہ زیادہ صحیح ہے اور ان کے درمیان فرق
ابن حبان نے بھی کیا ہے، انہوں نے الھمدانی کے متعلق وہی کہا جو المزی نے ان سے بیان
کی ہے، اور المرادی کے متعلق کہا کہ عبد اللہ بن سلمہ روایت کرتے ہیں علیؑ سے اور
ان سے عمرو بن مرۃ اور یہ خطاء کرتے ہیں۔ اور ابو احمد الحاکم نے اپنی کتاب الکنی
میں عمدہ وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ عبد اللہ بن سلمہ المرادی روایت کرتے ہیں سعد،
علی، ابن مسعود اور صفوان بن عسال سے، اور ان سے عمرو بن مرۃ اور ابو زبیر روایت
کرتے ہیں۔ انکی حدیث قائم نہیں ہے۔ اور عبد اللہ بن سلمہ الھمدانی صرف اپنے اقوال
کی بنیاد پہ جانا جاتا ہے اور ہم ابی اسحاق کے علاوہ کسی اور کی روایت میں اسے نہیں
جانتے۔ پھر فرمایا اسکا معنی یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کو غلطی واقعہ ہوئی ہے جنہوں
نے دونو کو ایک بنا دیا، کنیت کے ساتھ کنیت، المرادی ابا العالیہ یعنی متاخرین میں
سے، بلکہ یہ الھمدانی کی کنیت ہے، کہا: اور میں کسی کو نہیں جانتا جس نے المرادی کی
کنیت استعمال کی ہو، کہا: اس میں مسلم وغیرہ کو خطاء واقع ہوئی ہے۔ اور اللہ بہتر
جانتا ہے۔
)تهذيب التهذيب: جلد 5 صفحہ 241 تا 243 رقم 420(
◉
یہ ساری عمدہ بحث کرنے کے بعد امام ابن حجر عسقلانیؒ اس
چيز كا فرق كرتے ہيں كہ
عبد اللہ بن سلمہ الھمدانی اور راوی ہیں اور عبد اللہ بن سلمہ المرادی اور راوی ہیں۔
◉
پھر آپ اسی چیز کے ساتھ تقریب میں ان پہ حکم لگاتے ہیں:
عبد الله ابن سلمة بكسر اللام
المرادي الكوفي صدوق تغير حفظه من الثانية
عبد اللہ بن سلمہ بکسر الام المرادی
الکوفی، صدوق
ہیں، انکا ٓحافظہ خراب ہوگیا تھا، یہ طبقہ ثانیہ میں سے ہیں۔
(تقریب التھذیب: صفحہ
306 رقم 3364)
◉
امام ابن حجر عسقلانیؒ کے حکم کا رد کرتے ہوئے شیخ
دکتور بشار الاعواد معروف اور شیخ شعیب الارنوؤط اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں:
بل: ضعيف يعتبر به، فقد تفرد بالرواية
عنه عمرو بن مرة وأبو الزبير المكي، ولم يصح أنه هو الذي روى عنه أبو إسحاق
السبيعي، ذكر ذلك ابن معين، والنسائي، والدارقطني، والخطيب، والمصنف نفسه كما هو
ظاهر من إفراد الذي بعده تمييزا. وتال البخاري: لا يتابع في حديثه. وقال شعبة وأبو
حاتم والنسائي: تعرف وتنكر. وقال الدارقطني: ضعيف. وقال أبو أحمد الحاكم: حديثه
ليس بالقائم. وقال الذهبي: صويلح. وما وثقه سوى يعقوب بن شيبة والعجلي
بلکہ یہ ضعیف ہے (متابعت وغیرہ میں)
اس پہ اعتبار کیا جائے گا، اس سے روایت کرنے میں عمرو بن مرۃ اور ابو زبیر مکی کا
تفرد ہے، اور یہ صحیح نہیں کہ یہ وہ ہیں جن سے ابو اسحاق السبیعی روایت کرتے ہیں، یہ
چیز امام ابن معینؒ، امام نسائیؒ، امام
دارقطنیؒ، امام خطیب بغدادیؒ اور خود مصنف نے زکر کی ہے، جیسا ہے کہ انکے بعد آنے
والے کو امتیازی طور پہ علیحدہ کرنے سے واضع ہے، اور امام بخاری نے کہا: انکی حدیث
کی متابعت نہیں ہوتی، اور امام شعبہ، امام ابو حاتم اور امام نسائی نے کہا: ہم
جانتے ہیں اور انکار کرتے ہیں، اور امام دارقطنی نے کہا: ضعیف، اور امام ابو احمد
الحاکم نے کہا: انکی حدیث قائم نہیں ہوتی، اور امام ذھبی نے کہا کہ یہ صالح ہیں،
اور صرف امام یعقوب بن شیبہ اور امام عجلی
نے ثقہ کہا ہے۔
)تحرير تقريب التهذيب: جلد 2 صفحہ 217 رقم 3364(
◉
اسکے بعد امام ابن حجر عسقلانیؒ دونو راویوں میں تمیز
کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
عبد الله ابن سلمة الهمداني شيخ
لأبي إسحاق السبيعي يكنى أبا العالية [مقبول] من الثالثة وهم من خلطه بالذي قبله
تمييز
عبد اللہ بن سلمہ الھمدانی، ابی اسحاق
السبیعی کے استاد ہیں، انکی کنیت ابی العالیہ ہے، یہ مقبول ہیں اور تیسرے طبقے سے
ہیں، اور لوگ انہیں سابقہ سے مخلوط کرنے کی غلطی کرتے ہیں، اسکی تمیز کرنی چاہیے۔
)تقریب التھذیب: صفحہ 306 رقم 3365(
◉
امام ابن حجر عسقلانی کے حکم کا رد کرتے ہوئے شیخ بشار
الاعواد المعروف اور شیخ شعیب الارنوؤط لکھتے ہیں:
لم يذكر مرتبته، وهو مجهول، فقد تفرد
بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، وذكره ابن حبان في "الثقات"
انہوں نے انکے مرتبے کا زکر نہیں اور یہ
مجھول ہیں، ان سے روایت کرنے میں ابو اسحاق السبیعی کا تفرد ہے، اور انہیں ابن
حبان نے الثقات میں درج کیا ہے۔
)تحرير تقريب التهذيب: جلد 2 صفحہ 217 رقم 3365(
◉
اسی طرح امام ابن حجر عسقلانیؒ ان دونو کا ترجمہ
الاصابه میں بھی قائم کرکے ان میں تمیز کو واضع کرتے ہیں:
)الإصابة في تمييز الصحابة: جلد 5 صفحہ 70 و 71(
18۔ امام بدر الدين العينی الحنفیؒ
(المتوفی 855ھ) بھی انکا ترجمہ قائم کرتے ہیں:
)مغاني الأخيار في شرح أسامي رجال معاني الآثار: جلد 2 صفحہ 85 رقم
1260(
19۔ اسی طرح زین الدین ابن الکیالؒ
(المتوفی 929ھ) بھی انکا تزکرہ مختلط رواۃ میں کرتے ہیں۔
)الكواكب النيرات في معرفة من اختلط من الرواة الثقات: صفحہ 479 رقم
23(
20۔ اسی طرح شیخ ابو اسحاق الحوینیؒ
بھی یہی تذکرہ کرتے ہیں کہ یہ ضعیف الحفظ تھے اور انکا آخری عمر میں حافظہ خراب
ہوگیا تھا۔
)نثل النبال بمعجم الرجال: جلد 2 صفحہ 371 رقم 2176(
21۔ اسی طرح شیخ محمد بن طلعت بھی
انکا تذکرہ مختلط رواۃ میں کرتے ہیں:
)معجم المختلطين: صفحہ 183 رقم 76(
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو قارئین یہ تھی کل کائنات اس راوی
کے حالات کی، اس سے یہ واضع ہوا کہ عبد اللہ بن سلمہ المرادی جس سے عمرو بن مرۃ
روایت کرتے ہیں انکا حافظہ خراب ہوچکا تھا اور خود عمرو بن مرۃ اس بات کا اقرار
کرتے ہیں کہ وہ درست روایات بیان نہیں کرتے تھے۔اسکے علاوہ جمھور آئمہ نے انکے اسی
خراب حافظے کی وجہ سے ان کو ضعیف قرار دیا ہے اور ان کی روایت کو متابعت و شواہد میں
ہی قبول کیا جاسکتا ہے اور عمرو بن مرة کا عبد اللہ بن سلمہ سے سماع انکے اختلاط
کے بعد کا ہے جیسا ہے انکا اپنا قول واضع دلالت کرتا ہے۔
اس روایت کے تمام حوالہ جات میں امام
عبد اللہ بن احمد بن حنبل اپنے والد سے اس روایت کے متعلق سوال کرتے ہوئے اس روایت
کو سند اور متن کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور نقل کرتے ہیں. اسکی اصل اسناد جن سے
امام عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے اس روایت کو لیا ہے انہیں امام خطیب بغدادی اور
امام ابن عساکر نے نقل کیا ہے اور ان پہ تفصیل سے عمدہ ابحاث کی ہیں جوکہ اس روایت
کی علتوں کو واضع کردیتی ہیں. لہزا یہ ایک غلط فہمی ہے کہ یہ امام احمد بن حنبل کی
سند ہے بلکہ معاملہ یہ ہے کہ یہ ان کی سند نہیں ہے بلکہ ان سے یہ سند اور روایت
انکے بیٹے نے بیان کی ہے اور اسی بیان کرنے کو آگے انہوں نے بھی لکھا ہے اور ان سے
دیگر آئمہ نے بھی نقل کیا ہے.
اسكے
علاوه اس روايت کے راوی عباس بن طالب پہ مناکیر کی جرح ہے جو اس نے اسماعیل سمویہ
نے روایت کی ہیں اور موجودہ روایت بھی اسی سند سے آتی ہے، اسی طرح اسکی سند میں
سرقہ بھی واقع ہوا ہے جسکی نشاندہی امام یحیی بن معینؒ نے کی ہے کہ بشار الخفاف
متروک کذاب راوی نے اسکی سند میں سرقہ کرکے اسے بدل دیا اور اصل سند جو ھیثم بن عدی
کی سند سے تھی اسے بدل کر اسے امام شعبہ کی سند سے روایت کردیا، خود ھیثم بن عدی
بھی کذاب اور متروک راوی ہے۔
لہزا
ثابت ہوا کہ ہماری زیر بحث راویت بھی اسی وجہ سے ضعیف اور غیر ثابت ہے۔ نواصب کی یہ
دلیل بھی انکی طرح ہی فارغ ہے الحمد الله۔
تحریر: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment