-->

کنانہ مولی صفیہ کی جناب مالک اشتر کے متعلق روایات

 

عینی شہادت کے مطابق سیدنا عثمان کا قاتل کون؟

(قسط نمبر 4)

[کنانہؒ مولی صفیہ کی جناب مالک اشترؒ کے متعلق روایات]


اس سلسلے کی اس قسط میں ہم کنانہ مولی صفیہ کی مالک اشترؒ کے متعلق جو روایات ہیں انکو سامنے رکھیں گے اور انکا تجزیہ کریں گے کہ آیا ان روایات سے واقعی مالک اشتر پہ کوئی اعتراض آتا ہے یاں وہ ان اکے اوپر جو نواصب کی تہمات ہیں اس سے انکو بری کرتی ہیں۔ تو سب سے پہلے ہم روایات کو درج کرتے ہیں اور پھر آخر میں ہم ان کے اوپر کلام کریں گے۔

֎: امام علی بن الجعد (المتوفی 230ھ) لکھتے ہیں:

حدثنا علي، أنا زهير، نا كنانة قال: كنت أقود بصفية بنت حيي لترد عن عثمان عليه السلام، فلقيها الأشتر فضرب وجه بغلتها حتى مالت، فقالت: " ردوني لا يفضحني هذا الكلب قال: فوضعت خشبا بين منزلها وبين منزل عثمان، ينقل عليه الطعام والشراب"

کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ صفیہ بن حییؓ کی سواری لے جارہا تھا تاکہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے جواب دیں، تو (رشتے میں) مالک اشترؒ ان سے ملے اور انہوں نے انکے خچر کے منہ پہ مارا یہاں تک کہ وہ جھک گئی، اور کہنے لگی: مجهے واپس لے چلو يه كتا مجهے رسوا نه كردے۔ کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے گھر اور سیدنا عثمانؓ کے گھر کے درمیان تختہ رکھ لیا جس سے آپ انہیں طعام و شراب (کھانا پانی) پہنچا دیا کرتی تھی۔

(مسند علی بن الجعد: صفحہ 390 رقم 2666 وسندہ صحیح)

امام ابن شبہؒ (المتوفی 262ھ) بھی اسی سند سے اسی روایت کو نقل کرتے ہیں۔

(تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1311)

امام ابن عساکر (المتوفی 571ھ) بھی امام علی بن الجعد سے باسند نقل کرتے ہیں۔

(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 39 صفحہ 415)

امام او الفضل ابن منظور صاحب لسان العرب (المتوفی 711ھ) نے بھی امام ابن عساکر سے اختصار کرتے ہوئے اسے نقل کیا ہے۔

(مختصر تاريخ دمشق: جلد 16 صفحہ 228)

֎: امام ابن سعد الزھری الھاشمی (المتوفی 230ھ) نقل کرتے ہیں:

أخبرنا مالك بن إسماعيل والحسن بن موسى قالا: حدثنا زهير قال: حدثنا كنانة قال: ‌كنت ‌أقود ‌بصفية لترد عن عثمان فلقيها الأشتر فضرب وجه بغلتها حتى مالت فقالت: ردوني لا يفضحني هذا. قال الحسن في حديثه: ثم وضعت خشبا من منزلها ومنزل عثمان تنقل عليه الماء والطعام

کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں سیدہ صفیہؓ کی سواری لیکر جارہا تھا تاکہ وہ سيدنا عثمانؓ کی طرف سے جواب دیں، تو (رستے میں) مالک اشترؒ ان سے ملے اور انکے خچر کے منہ پہ مارا یہاں تک کہ وہ جھک گئی اور کہنے لگی: مجھے واپس لے چلو، کہیں یہ مجھے رسوا نہ کردے۔ حسن بن موسی حدیث میں کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے گھر اور سیدنا عثمان کے گھر کے درمیان تختہ رکھ لیا جس سے آپ انہیں کھانا پانی پہنچایا کرتی تھی۔

(الطبقات الكبرى - ط العلمية: جلد 8 صفحہ 101 وسندہ صحیح)

امام شمس الدین الذھبیؒ (المتوفی 748ھ) بھی سیر اعلام النبلاء میں اس روایت کو نقل کرتے ہیں اور کتاب کے محقق شیخ شعیب الارنووط اسکے رجال کو ثقہ قرار دیتے ہیں اور تخریخ طبقات ابن سعد کی کرتے ہیں۔

(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 2 صفحہ 237)

امام ذھبیؒ ایک اور کتاب میں اس روایت کو نقل کرتے ہیں اور محقق طبقات الکبری کا حوالہ حاشیے میں نقل کرتے ہیں۔

(تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 11 صفحہ 147 رقم 8692)

امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) بھی اس روایت کو سیدہ صفیہ کے ترجمے میں نقل کرتے ہیں اور اسکی سند کو حسن قرار دیتے ہیں۔

(الإصابة في تمييز الصحابة: جلد 8 صفحہ 212)

شیخ سعید بن محمد حوی (المتوفی 1409ھ) بھی اس روایت کو نقل کرتے ہیں اور اسکے رجال کو ثقہ قرار دیتے ہیں۔

(الأساس في السنة وفقهها - السيرة النبوية: جلد 3 صفحہ 1345)

֎: امام ابن ابی شیبہؒ (لمتوفی 235ھ) نقل کرتے ہیں:

حدثنا مالك بن إسماعيل قال: حدثنا زهير قال: حدثنا كنانة قال: ‌كنت (‌أقود ‌بصفية): (لترد) (عن) عثمان، قال: فلقيها الأشتر فضرب وجه (بغلها) (حتى مالت وحتى) قالت: ردوني لا يفضحني هذا۔

کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں سیدنا صفیہ کی سواری لیکر جارہا تھا تاکہ وہ سیدنا عثمانؓ کی طرف سے جواب دیں، کہتے ہیں: تو (رستے میں) مالک اشترؒ ملے اور انہوں نے انکے خچر کے منہ پہ یہاں تک کہ وہ جھک گئی اور یہاں تک کہ انہوں نے کہا مجھے واپس لے چلو، کہیں یہ مجھے رسوا نہ کردے۔

(المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 17 صفحہ 129 رقم 32646 وسندہ صحیح، قال محقق شیخ سعد بن ناصر الشثری حسن)

֎: امام بخاریؒ (المتوفی 256ھ) لکھتے ہیں:

وقال أحمد بن يونس: نا زهير قال: نا كنانة، مولى صفية قال: ‌كنت ‌أقود ‌بصفية لترد عن عثمان، فلقيها الأشتر، فضرب وجه بغلتها، حتى قالت: ردوني، ولا يفضحني هذا الكلب.

وكنت فيمن حمل الحسن جريحا، ورأيت قاتل عثمان من أهل مصر، يقال له: جبلة

کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں سیدہ صفیہؓ کی سواری لیکر جارہا تھا تاکہ وہ سیدنا عثمانؓ کی طرف سے جواب دیں، تو (راستے میں) مالک اشترؒ ملے تو انہوں نے انکے خچر کے منہ پہ مارا یہاں تک کہ انہوں نے کہا: مجھے واپس لے چلو، کہیں یہ کتا مجھے رسوا نہ کردے۔

(کنانہ کہتے ہیں) اور میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے سیدنا عثمان کو زخمی حالت میں اٹھایا، اور میں نے اہل مصر میں سے سیدنا عثمان کے قاتل کو دیکھا، جسے جبلۃ کہا جاتا تھا۔

(التاريخ الكبير للبخاري - ت الدباسي والنحال: جلد 8 صفحہ 441 رقم 10231 وسندہ صحیح)

֎: امام اسحاق بن راھویہؒ (المتوفی 238ھ) لکھتے ہیں:

أخبرنا أبو عامر العقدي، نا محمد وهو ابن طلحة بن مصرف، حدثني ‌كنانة ‌مولى ‌صفية بنت حيي أنه " شهد مقتل عثمان رضي الله عنه، قال: وأنا يومئذ ابن أربع عشرة سنة، قال: أمرتنا صفية بنت حيي أن نرحل بغلة بهودج فرحلناها، ثم مشينا حولها إلى الباب، فإذا الأشتر وناس معه، فقال الأشتر لها: ارجعي إلى بيتك فأبت، فرفع قناة معه، أو رمحا، فضرب عجز البغلة، فشبت البغلة، ومال الهودج حتى كاد أن يقع، فلما رأت ذلك قالت: ردوني، ردوني، وأخرج من الدار أربعة نفر من قريش مضروبين محمولين، كانوا يدرءون عن عثمان، فذكر الحسن بن علي، وعبد الله بن الزبير، وأبا حاطب ومروان بن الحكم، قلت: فهل يدي محمد بن أبي بكر بشيء من دمه، فقال: معاذ الله دخل عليه، فقال له عثمان: لست بصاحبه، وكلمه بكلام فخرج ولم يتد من دمه بشيء، قلت: فمن قتله؟ قال رجل من أهل مضر يقال له جبلة بن أيهم فجعل ثلاثا يقول: أنا قاتل نعثل قلت: فأين عثمان يومئذ؟ قال: في الدار

کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں: میں نے شہادت عثمان کا مشاہدہ کیا، کہتے ہیں: اور اس وقت میری عمر چودہ سال تھی۔ کہتے ہیں: ام المومنین سیدہ صفیہ بن حییؓ نے ہمیں خچر پہ کجاوہ ڈالنے کا کہا تو ہم نے کجاوہ ڈال دیا، پھر ہم نے انکے ارد گرد (سیدنا عثمانؓ) کے دروازے تک چلنا شروع کیا، تو وہاں مالک اشتر اور انکے ساتھی موجود تھے۔ مالک اشتر نے سیدہ صفیہؓ سے کہا: آپ اپنے گھر واپس چلی جائیں، تو انہوں نے انکار کردیا۔ پھر مالک اشتر نے نیزہ اٹھایا اور خچر کی پیٹھ پہ مارا تو خچر بدک گیا، اور کجاوہ جھک گیا یہاں تک کہ

تقریبا گرنے والا ہوگیا، جب سیدہ صفیہؓ نے یہ دیکھا تو کہا: مجھے واپس لے چلو، مجھے واپس لے چلو۔ اور (میں نے دیکھا کہ) قریش کے چار افراد كو گهر سے زخمی حالت میں اٹھا کر باہر لایا گیا۔ وہ سیدنا عثمان کی طرف سے حفاظت پہ معمور تھے۔ انہوں نے امام حسن بن علیؑ، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرت محمد بن حاطبؓ اور مروان بن حکم (ملعون) کا ذکر کیا۔ (محمدبن طلحہ کہتے ہیں) میں نے کنانہ سے پوچھا: کیا حضرت محمد بن ابی بکر کا انکے خون میں کوئی ہاتھ ہے؟ انہوں نے کہا: معاذ اللہ، وہ انکے یہاں داخل ہوئے تو سیدنا عثمان نے ان سے کہا: تم میرے ساتھی نہیں ہو؟ اور ان سے ایسے الفاظ میں بات کی تو وہ باہر چلے گئے اور انکے خون میں سے کچھ نہیں لیا، میں (محمد بن طلحۃ) نے کہا: انہیں کس نے شہید کیا؟ انہوں نے کہا: اہل مصر کے ایک آدمی نے جسے جبلۃ بن ایھم کہا جاتا تھا، اس نے تین بار یہ کہا: میں نعثل کا قاتل ہوں۔ میں (محمد بن طلحہ) نے کہا: سیدنا عثمانؓ اس دن کہاں تھے؟ انہوں نے کہا: اپنے گھر میں۔

(مسند اسحاق بن راھویہ: جلد 4 صفحہ 261 رقم 2088 وسندہ صحیح)

امام ابن حجر عسقلانيؒ (المتوفی 852ھ) بھی اس روایت کو نقل کرتے ہیں۔

(المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية: جلد 18 صفحہ 97 رقم 4392)

امام ابن حجر عسقلانیؒ کی یہی کتاب شیخ محمد بن سعد الشثریؒ کی تنسیق کے ساتھ شائع ہوتی ہے تو اس میں اسکی سند کو حسن قرار دیا گیا ہے۔

(المطالب العالیہ محققا: جلد 18 صفحہ 97)

تو قارئین کرام یہ تمام روایات تمام کتب سے ہے، اسكے علاوه كوئی اور سند اور متن مجھے معلوم نہیں ہوا۔

سب سے پہلے تو یہکہ ان روایات کو کنانہ بن مولی صفیہ سے دو لوگ روایت کررہے ہیں، محمد بن طلحہ بن مصرف اور زھیر بن معاویہ، اور زھیر بن معاویہ سے اس روایت کو چار افراد روایت کررہے ہیں، مالک بن اسماعیل، حسن بن موسی، علی بن الجعد اور احمد بن یونس۔ لہزا سیدنا صفیہ کا مالک اشتر کو کتا کہنے کے الفاظ کی محمد بن طلحہ سے کوئی اصل نہیں ہے کہ وہ ان کو روایت نہیں کررہے اور زھیر بن معاویہ کے شاگردوں میں بھی اس پہ اختلاف واقع ہوا ہے، علی بن الجعد اور احمد بن یونس انکو روایت کررہے اور مالک بن اسماعیل اور حسن بن موسی ان الفاظ کو روایت نہیں کررہے۔ عين ممکن ہے کہ یہ معاملہ اضطراب کا ہو کہ زھیر بن معاویہ مضطرب ہوگئے ہوں اور اپنے بعض شاگردوں کو یہ الفاظ بیان کیے ہوں اور بعض کو نہیں، اور احتمال ہے کہ یہ الفاظ ثابت ہوں، مگر یہ بات واضع ہونی چاہیے کہ ان الفاظ میں اختلاف ہے اور زیادہ راویوں نے اسکو بیان نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر آئمہ نے جب اس روایت کو نقل کیا تو وہ اسناد و روایت نقل کی جس میں یہ کتے والے الفاظ موجود نہیں ہیں۔

بہرحال اگر کوئی ان الفاظ کو درست بھی مانتا ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ یہ سیدہ صفیہؓ نے ناراضگی کی بنیاد پہ کہا تھا کہ وہ واپس نہیں جانا چاہتی تھی اور مالک اشتر انکو فتنہ و فساد کی جگہ واپس بھیجنا چاہتے تھے، جہاں خلیفہ راشد کی جان و آبرو محفوظ نہ ہو وہاں بھلا خواتین کی حفاظت کی گارنٹی کون دے سکتا ہے؟، مالک اشتر کا انکے گدھے کو مارنے پہ بھی ان پہ کوئی گرفت نہیں بنتی کیونکہ جانور (جس پہ سیدہ صفیہؓ بیٹھی تھی) کو ایسے ہی سدھایا جاتا ہے، سیدہ صفیہ چونکہ فتنے کی جگہ سے واپس نہیں جانا چاہ رہی تو انہوں نے ایسا بحالت مجبوری میں کیا تاکہ وہ واپس چلی جائیں، انکا مقصد آپکو گرانے کا کوئی مقصد نہیں تھا چونکہ انکے ایسا کرنے سے خچر بدکا تو بدکنے کی وجہ سے سیدہ صفیہ جھک گئے اور آپکو لگا کہ میں گرجاتی تو رسوائی ہوتی لہزا اس وجہ سے آپکی زبان سے یہ الفاظ نکلے، اگر سیدہ صفیہؓ کے نزدیک مالک اشتر واقعی ایسے انسان ہوتے جیسے انہوں نے گالی دے کر کہا تو سیدہ صفیہؓ ام المومنین کے شایان شان نہیں کہ وہ اپنے گھر کے باہر جاکر ایسے شخص سے ہم کلام ہوں۔ اور صحابه وغيره ميں يه چيز عام ملتی ہے وہ آپسی اختلاف میں ایسے کلمات کہہ دیتے تھے مگر حقیقت سے اسکا تعلق زرہ برابر نہیں ہوتا تھا۔ چند مثالیں اختصار کرتے ہوئے درج کرتا ہوں، روایات کی تفصیل آپ حوالہ جات سے دیکھ سکتے ہیں:

صحیح بخاری و صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے:

فتح مکہ کے موقع پہ جب بدری صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے کفار مکہ کو رسول اللہ ﷺ کے رازوں کی خبر دی تو حضرت عمر نے انکو منافق قرار دیا اور انکا سر قلم کرنے کی اجازت طلب کی، مگر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ اصحاب بدر کی اگلی پچھلی خطائیں پہلے ہی معاف کرچکا ہے۔

(صحیح بخاری: 3007، صحیح مسلم 6401)

اب اگر کسی صحابی کے اسطرح کے الفاظ کہنے سے مخالف واقعی ویسا ہوجاتا ہے تو سیدنا عمرؓ کے نزدیک بھی بدری صحابی منافق ہوئے؟

صحیح بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے:

سیدنا معاذ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ کر وہ اپنے قبیلے میں بھی نماز پڑھاتے تھے، ایک بار ایک شخص نے ان سے الگ ہوکر نماز پڑھی تو لوگوں نے اور سیدنا معاذ نے اسے منافق شمار کرلیا، پھر جب معاملہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور اس نے اپنا عذر بیان کیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے معتبر جانتے ہوئے سیدنا معاذ کو ہی تلقین کی۔

(صحیح بخاری: 709، صحیح مسلم: 1040، 1041، سنن ابو داؤد: 790)

صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ:

ایک بار تحائف وغیرہ کے معاملے میں امہات المومنین کے درمیان اختلاف ہوا، تو رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں سیدہ زینب بنت جحشؓ اور سیدہ عائشہؓ کے درمیان سخت کلامی ہوئی تو پھر سب بھی ہوا۔

(صحیح بخاری: 2581، سنن ابو داؤد: 4898 وسندہ ضعیف)

صحیح مسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ:

ایک بار سیدنا حنظلہ اور سیدنا ابو بکر صدیق رضوان اللہ علیھم نے بھی ایک غلط فہمی کی بنیاد پہ خود کو منافق سمجھ لیا تھا پھر جاکر رسول اللہ ﷺ سے اسکی بات کی تو آپ نے وضاحت کی ایسا تو ممکن ہی نہیں کہ انسان ہر وقت آخرت کے خوف میں رہے اور دنیا میں ہنسی کھیل کو یکسر ترک کردے، اور انکے اس شبہے کو دور کردیا۔

(صحیح مسلم 6966، سنن الترمذی: 2514، سنن ابن ماجہ: 4239)

یہ حدیث مبارکہ یہ واضع کررہی ہے غلط فہمی کی بنیاد پہ انسان اپنے آپکو بھی منافق وغیرہ سمجھنا شروع کردیتا ہے جبکہ دوسرے کو سمجھنا تو اس سے چھوٹی اور آسان بات ہے، اپنے متعلق انسان حد درجہ مطمئن ہوتا ہے۔ اس روایت کو صحابہ کرام کی ایسے معاملے میں غلط فہمی کو واضع کرنے کیلیے بنایا ہے کہ غلط فہمی عین ممکن ہے۔

میرے خیال میں اتنا کافی ہے، اسکے علاوہ مشہور روایات تو ہر بندے کی زبان زد عام ہیں، اور سمجھدار کیلیے اشارہ کافی ہوتا ہے، ہمارا ان روایات کو نقل کرنے کا مقصد کسی کی توہین معاذ اللہ ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ ایسے کسی صحابی وغیرہ کا کسی کے متعلق سب و شتم کرنا اسکے اوپر من و عن صادر نہیں آتا، بلکہ دیگر معامات کو دیکھ کر پھر اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کہیں انکو کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوگئی؟ یہی معاملہ یہاں سیدہ صفیہؓ کے قول کے ساتھ ہے۔ اور کسی کو کتا کہنے سے اسکا قاتل ہونا ثابت نہیں ہوتا، معلوم نہیں کہ یہ کونسی شریعت کے مطابق اس روایت سے استدلال کرکے انکو قاتل کہتے ہیں، یہ نرالی منطق شریعت اسلامی کے مزاج کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان روایات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مالک اشتر شہادت عثمانؓ کے وقت انکے گھر کے باہر تھے اور یہ اشارہ ملتا ہے کہ حفاظت کرنے والوں میں شامل تھے، جیسا کہ روایات کا سیاق بتاتا ہے کہ وہ اس وقت حفاظت کیلیے باہر تھے جب اسی طرح جسطرح سیدنا امام حسن علیہ السلام، سیدنا امام حسین علیہ السلام، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم (ملعون) گھر کے اندر حفاظت کر رہے تھے۔ لہزا آپ پہ قتل کا الزام لگانا جائز نہیں، کیونکہ آپ تو اس وقت گھر کے باہر دفاعی گروہ میں موجود تھے۔

اس عینی شہادت سے یہ بات روشن سورج کی طرح واضع ہے کہ مالک اشتر اور محمد بن ابی بکرؓ کا سیدنا عثمان کے قتل سے کوئی تعلق نہیں، اور آپ اس الزام سے بری ہیں، عینی شہادت کے مطابق قاتل مصری سیاہ فام کا تذکرہ ہم پچھلی اقساط میں کرچکے ہیں۔ ان جو الزامات جو کوئی بھی لگاتا ہے وہ درست نہیں، انکے پاس کوئی قوی دلیل موجود نہیں۔ الحمد اللہ۔

تحریر: شہزاد احمد آرائیں