امام عبد الرزاق کا اختلاط

﴿الرسالۃ التحقیق فی تدلیس امام عبد الرزاق الصنعانی  ﷬﴾

قسط نمبر 2

[امام عبد الرزاق ﷬ کا اختلاط]

 

پچھلی قسط میں ہم نے مختلط راوی کے متعلق آئمہ محدثین متقدمین، متاخرین اور معاصرین تک سے اصول نقل کردیا کہ اس سے صرف وہی چیز مقبول ہوگی جو اس سے اختلاط سے قبل ہو، اختلاط کے بعد کی ہر چیز مردود ہوگی اور وہ بھی جسکے متعلق ہمیں معلوم نہ ہو کہ وہ اختلاط سے پہلے ہے یا بعد میں تو وہ بھی مردود ہوگی۔ اب ہم امام عبد الرزاقؒ کے اختلاط کو آپکے سامنے رکھتے ہیں کہ امام عبد الرزاقؒ بہت بڑے حفاظ میں سے تھے مگر بطور انسان بڑھاپے کی باعث وہ نابینا ہوگئے جسکی وجہ سے لوگ انکو تلقین کرتے تو وہ اختلاط کے باعث اسے قبول کرلیتے تھے۔

امام ابو ذرعہ الدمشقی ﷫ (المتوفی 281ھ) لکھتے ہیں:

وأخبرني أحمد بن حنبل قال: أتينا ‌عبد ‌الرزاق قبل المائتين، وهو صحيح البصر ومن سمع منه بعدما ذهب بصرهن فهو ضعيف السماع

اور مجھے امام احمد بن حنبلؒ نے خبر دی کہ انہوں نے کہا: ہم سن دو سو ہجری سے پہلے امام عبد الرزاقؒ کے پاس آئے، اور انکی بصارت (یعنی نظر) صحیح تھے، اور جو ان سے بصارت جانے کے بعد سماع کرے تو اسکا سماع ضعیف ہے۔

(تاريخ أبي زرعة الدمشقي: صفحہ 457)

امام اسحاق بن ابراہیم بن ہانی ﷫ (المتوفی  275ھ) لکھتے ہیں:

وسمعت أبا عبد الله يقول: حدث عبد الرزاق حديث أبي هريرة "النار جبار" إنما هو "البئر جبار" وإنما كتبنا كُتبه على الوجه وهؤلاء الذين كتبوا عنه سنة ست ومائتين، إنما ذهبوا إليه وهو أعمى فلُقن فقبله ومرَّ فيه۔

اور میں ابو عبد اللہ (احمد بن حنبلؒ) کو کہتے ہوئے سنا کہ: امام عبد الرزاقؒ نے سیدنا ابو ہریرۃؓ کی حدیث بیان کی "آگ زبردست ہے" جبکہ وہ ہے "کنواں زبردست ہے"۔ لیکن ہم نے انکی کتابیں صحیح طریقے سے لکھی اور وہ جنہوں نے ان سے سن دو سو چھ ہجری کے بعد لکھا، وہ انکے پاس اس وقت گئے جب وہ نابینا تھے، پس اسے تلقین کی گئی، تو اس نے اسے قبول کر لیا اور اس میں غلطی کر دی۔

(مسائل أحمد بن حنبل رواية ابن هانئ: جلد 2 صفحہ 202 رقم 2101)

اسی طرح امام اسحاق بن ابراہیم بن ہانی ﷫ مزید لکھتے ہیں:

سألته عمن سمع من عبد الرزاق سنة ثمان؟

قال: لا يعبأ بحديث من سمع منه وقد ذهب بصره، كان يلقن أحاديث باطلة، وقد حدث عن الزهري أحاديث كتبها عنه من أصل كتابه، وهو ينظر جادا بخلا فيها.

میں نے ان سے پوچھا کہ آٹھویں سال امام عبد الرزاقؒ سے کس نے سماع کیا تھا؟

انہوں (امام احمد بن حنبلؒ) نے کہا: انکی احادیث کی پرواہ نہیں کی جاتی جو ان سے تب سنی جب انکی بینائی چلی گئی تھی، وہ باطل احادیث پڑھاتے تھے، اور انہوں نے زہری سے وہ احادیث روایت کی جو انہوں نے ان سے انکی اصل کتاب سے لکھی تھی، اور وہ دیکھتے ہیں جو اس میں انکے برخلاف آیا ہے۔

(مسائل أحمد بن حنبل رواية ابن هانئ: جلد 2 صفحہ 233 رقم 2285)

اس روایت کے عربی متن کے آخری جملے میں خطا واقع ہوئی ہے، درست جملہ امام ابن رجب الحنبلیؒ نے اپنی شرح علل الترمذی میں نقل کیا ہے، جس سے درست معنی و مفہوم سمجھ آتا ہے۔

(شرح علل الترمذي: جلد 2 صفحہ 752)

امام ابن رجب الحنبلیؒ بھی آخری عمر میں جنکا حافظہ خراب ہوا تھا، اس باب کو قائم کرکے سب سے پہلا ترجمہ ہی امام عبد الرزاقؒ کا قائم کرتے ہیں اور پھر آپؒ کی مدح کرنے کے بعد یہ قول نقل کرتے ہیں اور

اس قول کو نقل کرنے کے بعد امام ابن رجب الحنبلی ﷫ (المتوفی 795ھ) لکھتے ہیں:

وذكر الأثرم عن أحمد أنه ذكر له حديث "النار جبار" فقال: هذا باطل ليس من هذا شيء.

ثم قال: ومن يحدث (به) عن عبد الرزاق؟ قلت: حدثني به أحمد بن شبويه. قال: هؤلاء سمعوا بعدما عمي، كان يلقن فلقنه، وليس هو في كتابه وقد أسندوا عنه أحاديث ليست في كتبه، كان يلقنها بعدما عمي

اور الاثرم نے امام احمدؒ کی سند سے ذکر کیا کہ انہوں نے ان سے حدیث "آگ زبردست ہے" کا ذکر کیا۔

تو انہوں نے کہا: یہ باطل ہے، اس میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

پھر انہوں نے کہا: اسے امام عبد الرزاقؒ سے کون روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: اس کو احمد بن شبویہ روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: انہوں نے ان سے نابینا ہونے کے بعد سماع کیا تھا، وہ انہیں پڑھاتے تھے اور وہ انکی کتاب میں نہیں ہوتا تھا، انہوں نے ان سے وہ احادیث روايت كی جو انکی کتاب میں نہیں تھی، وہ انہیں نابینا ہونے کے بعد پڑھاتے تھے۔

(شرح علل الترمذي: جلد 2 صفحہ 752 و 753)

لہزا امام ابن رجب الحنبلیؒ کے نزدیک بھی ان دلائل کی بنیاد پہ امام عبد الرزاقؒ کا حافظہ آخری عمر میں انکے نابینا ہونے کے بعد خراب ہوگیا تھا اور وہ اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔

اسی طرح امام شمس الدین الذھبی ﷫ (المتوفی 748ھ) لکھتے ہیں:

عبد الله بن أحمد: قلت لابن معين: ‌تخشى ‌السن ‌على ‌عبد ‌الرزاق? فقال: أما حيث رأيناه فما كان بلغ الثمانين نحو من سبعين. ثم قال يحيى: ذكر أبو جعفر السويدي أن قوما من الخراسانية من أصحاب الحديث جاءوا إلى عبد الرزاق بأحاديث للقاضي هشام بن يوسف، تلقطوها عن معمر من حديث هشام، وكان ابن ثور ثقة فجاءوا بها إلى عبد الرزاق فنظر فيها فقال: بعضها سمعتها، وبعضها لا أعرفها ولم أسمعها قال: فلم يفارقوه حتى قرأها، ولم يقل لهم: حدثنا ولا أخبرنا حدثني السويدي بهذا

عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں میں نے امام یحیی بن معینؒ سے کہا: کیا آپ امام عبد الرزاقؒ کی عمر سے ڈرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے جب انہیں دیکھا تو وہ لگ بھگ ستر یا اسی سال کو پہنچ چکے تھے۔ پھر یحیی بن معینؒ نے کہا: ابو جعفر السویدی نے ذکر کیا کہ اصحاب الحدیث کی ایک قوم خراسان سے امام عبد الرزاقؒ کے پاس قاضی ہشام بن یوسف کی احادیث لیکر آئے۔ انہوں نے معمر کی سند سے ہشام کی حدیث کو اٹھایا، اور ابن ثور ثقہ تھے تو وہ اسے عبد الرزاقؒ کے پاس لے گئے اور انہوں نے اسے دیکھا اور کہا: اس میں سے کچھ میں نے سنا ہے، اور کچھ کو میں نہیں جانتا اور نہ ہی میں نے انہیں سنا ہے۔ وہ کہتے ہیں: وہ ان سے جدا نہ ہوئے حتی کہ انہوں نے اسے پڑھا اور انہوں نے ہم سے نہیں کہا: حدثنی اور ناہی اخبرنا، کہ مجھے السویدی نے ایسے بتایا۔

(سير أعلام النبلاء - ط الحديث: جلد 8 صفحہ 226)

یہ قول بھی واضع دلیل ہے کہ امام عبد الرزاقؒ اپنے اختلاط کے باعث سماع کی صراحت اور اسناد وغیرہ میں بہت واضع خطائیں کرجاتے تھے۔ لہزا اس قسم کی کوئی اختلاط کے بعد کی دلیل انہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچاتی۔ مزید یہکہ امام عبد الرزاقؒ پہ جو بھی خطاء کی جروحات ہیں وہ بھی انکے اختلاط پہ ہی محمول ہیں، جیسا کہ امیر المومنین فی الحدیث امام نسائیؒ نے صراحت کی ہے:

لہزا امام نسائی ﷫ (المتوفی 303ھ)  لکھتے ہیں:

عبد ‌الرزاق ‌بن ‌همام ‌فيه ‌نظر ‌لمن ‌كتب ‌عنه ‌بأخرة

عبد الرزاق بن ہمام: جنہوں نے ان سے آخری دور میں لکھا اس میں نظر ہے۔

(الضعفاء والمتروكون للنسائي: صفحہ 69 رقم 379)

امام نسائیؒ کا فیہ نظر کا کلام اسی زمرے میں ہے کہ آخری دور میں انہیں اختلاط ہوا تو انکی روایات پھر محفوظ نہیں رہی جو یہ اپنے حافظے سے بیان کرتے تھے اور اس میں خطا کر جاتے تھے۔ جیسا کہ ہم نے ابھی امام ذھبیؒ کی کتاب سے نقل کیا کہ امام عبد الرزاقؒ اختلاط کا شکار ہوئے اور وہ بھول گئے کہ انہیں السویدی نے معمر کی سند سے ہشام کی احادیث دکھائی تھی مگر اسکے بعد جب خود انہوں نے اس کو اپنے حافظے سے پڑھا تو اس میں وہ خطا کرگئے۔

امام صلاح الدين العلائی ﷫ (المتوفی 761ھ) بھی امام عبد الرزاق ﷫  کو مشہور امام قرار دیتے ہوئے مختلطین میں ذکر کرتے ہوئے آئمہ کرام سے دلائل نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وقال ابن الصلاح: إنه استنكر كثيرا من حديث إسحاق الدبري عنه لأنه كتب عنه في آخر عمره وبالجملة فهو حجة على الإطلاق

اور امام ابن صلاحؒ نے کہا: انہوں نے خود سے مروی اسحاق الدبری کی بہت ساری احادیث کی مذمت کی کیونکہ وہ ان سے آخری عمر میں لکھی گئی تھی۔ اور مجوموعی طور پہ وہ علی الاطلاق حجت ہیں۔

(المختلطين للعلائي: صفحہ 74 رقم 29)

اسی طرح امام زین الدین عراقی ﷫ (المتوفی 802ھ) لکھتے ہیں:

عبد الرزاق بن همام: ذكر أحمد بن حنبل: أنه عمي في آخر عمره فكان يلقن فيتلقن فسماع من سمع منه بعد ما عمي لا شيء. قال النسائي: فيه نظر لمن كتب عنه بآخرة

قلت: وعلى هذا نحمل قول عباس بن عبد العظيم لما رجع من صنعاء: والله لقد تجشمت إلى عبد الرزاق وإنه لكذاب والواقدي أصدق منه.

قلت: قد وجدت فيما روي عن الطبراني عن إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق أحاديث استنكرتها جدا فأحلت أمرها على ذلك فإن سماع الدبري منه متأخر جدا. قال إبراهيم الحربي: مات عبد الرزاق وللدبري ست سنين أو سبع سنين ويحصل أيضا في نظر من كثير من العوالي الواقعة عمن تأخر سماعه من سفيان بن عيينة وأشباهه

امام عبد الرزاق بن ہمامؒ: امام احمد بن حنبلؒ نے ذکر کیا کہ وہ آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے اور انہیں تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین قبول کرلیتے تھے لہزا جس نے انکے نابینا ہونے کے بعد ان سے سماع کیا تو وہ کچھ بھی نہیں ہے، امام نسائیؒ نے کہا: جس نے ان سے آخری زمانے میں لکھا ہے اس میں نظر ہے۔

میں کہتا ہوں کہ ہم اسی پہ عباس بن عبد العظیم کے قول کو محمول کرتے ہیں جب وہ صنعاء سے واپس آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم میں نے عبد الرزاق تک پہنچنے کیلیے مشقت اٹھائی حالانکہ وہ کذاب ہے اور واقدی اس سے زیادہ سچا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ میں نے امام طبرانیؒ سے مروی روایات میں سے جنہیں اسحاق بن ابراہیم الدبری نے امام عبد الرزاقؒ سے روایت کی ہیں کچھ ایسی احادیث پائی جنہیں میں نے منکر جدا سمجھا تو میں نے اس معاملے کو اسی پہ محمول کیا کہ دبری کا سماع ان سے بہت بعد کے زمانے میں ہوا ہے۔

ابراہیم الحربی کہتے ہیں: امام عبد الرزاقؒ کی وفات ہوئی تو دبری کی عمر چھ یا سات سال تھی۔ اور یہ معاملہ ان عالی اسانید میں بھی پایا جاتا ہے جو امام سفیان بن عیینہؒ اور ان جیسے دیگر لوگوں سے آخری زمانے میں سماع کیا ہے۔

(التقييد والإيضاح شرح مقدمة ابن الصلاح: صفحہ 459 و 460)

بس معلوم ہوا کہ امام عبد الرزاقؒ کا اختلاط بہت شدید قسم کا تھا یہاں تک آخری عمر میں ان سے سماع کرنے والے ان پہ شدید جروحات کرتے تھے، اختلاط کے باعث ان پہ کذب کی جرح ہوسکتی ہے تو اسکے باعث ان پہ تدلیس کی جرح کا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ لہزا اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو امام عبد الرزاقؒ کے اختلاط کے بعد کی مرویات سے حجت پکڑ کر انکو مدلس ثابت کرتے ہیں تو وہ پھر انکو کذاب اور صاحب مناکیر بھی مان سکتے ہیں، کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ان شاء اللہ آگے چل کر ہم امام عبد الرزاقؒ پہ تدلیس کے الزام کا تفصیل سے جائزہ لیں گے تو ان چیزوں کو وہاں تفصیل سے زیر بحث لائیں گے۔

اسی طرح امام شمس الدین سخاوی ﷫ (المتوفی 902ھ)  لکھتے ہیں:

وقال الحاكم: قلت للدارقطني: أيدخل في الصحيح؟ قال: إي والله. ‌وكأنهم ‌لم ‌يبالوا ‌بتغير ‌عبد ‌الرزاق ; لكونه إنما حدثه من كتبه، لا من حفظه، قاله المصنف

امام حاکمؒ کہتے ہیں کہ میں نے امام دارقطنیؒ سے کہا: کیا انہیں 'الصحیح' میں شامل کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم!

گویا انہوں نے امام عبد الرزاقؒ میں پائی جانے والی تبدیلی کی کوئی پرواہ نہیں کی، کیونکہ وہ صرف اپنی کتابوں سے روایت کرتے ہیں، ناکہ اپنے حافظے سے۔ یہ مصنف نے کہا ہے۔

(فتح المغيث بشرح ألفية الحديث: جلد 4 صفحہ 378)

اس کے بعد امام سخاویؒ اپنے استاد یعنی امام ابن حجر عسقلانیؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ دبری کی امام عبد الرزاقؒ سے کونسی روایات صحیح ہیں اور کونسی غلط، یعنی ان روایات میں خطائیں پائی جاتی ہیں جو اس نے اختلاط کے دوران سنی ناکہ ان روایات میں جو انہوں نے اپنی کتاب سے بیان کی، میں اسکو یہاں نقل نہیں کررہا تاکہ طوالت پیدا نہ ہو اور قاری پہ مطالعہ گراں نہ گزرے۔

اسکے علاوہ بطور تنبیہ ہم یہ بات واضع کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی روایت امام عبد الرزاقؒ کی کتاب سے روایت ہورہی ہو تو وہ امام عبد الرزاق سے محفوظ مانی جاتی ہے اور جو روایت امام عبد الرزاق نے اپنی کتاب میں روایت نہیں کی وہ روایات اگر اختلاط سے قبل سماع کرنے والے راوی روایت کریں تو وہ صحیح شمار ہونگی اور اگر اختلاط کے بعد سماع کرنے والے روایت کریں تو انکی روایت ضعیف ہوگی اور اسی طرح ان رواۃ کی روایت بھی ضعیف ہوگی جنکے متعلق یہ معلوم نہ چل رہا ہو کہ انہوں نے اختلاط کے بعد سماع کیا ہے یا پہلے، جیسا کہ ہم پہلی قسط میں واضح کرچکے ہیں۔

امام محمد بن اسماعیل البخاری﷫ (المتوفی 256ھ)  امام عبد الرزاقؒ کے متعلق لکھتے ہیں:

ما حدث من كتابه فهو أصح

جو کچھ انہوں نے اپنی کتاب سے بیان کیا، وہ زیادہ صحیح ہے۔

(التاريخ الكبير للبخاري - ت المعلمي اليماني: جلد 6 صفحہ 130)

اسی طرح امام ابن رجب الحنبلیؒ بھی امام عبد الرزاقؒ کے متعلق لکھتے ہیں:

وقد تقدم أنه لما كان بصيرا ويحدث من كتابه كان حديثه جيدا، وما حدث من حفظه خلط

اور پہلے گزر چکا ہے کہ وہ جب بصیرت تھے اور اپنی کتاب سے احادیث بیان کرتے تھے تو انکی احادیث جید ہوتی تھی اور جب وہ اپنے حفظ سے حدیث بیان کرتے تھے تو اختلاط کرتے تھے۔

(شرح علل الترمذي: جلد 2 صفحہ 756)

مختصر یہکہ مندرجہ بالا آئمہ کرام کی تصریحات سے یہ بات واضع ہوگئی کہ امام عبد الرزاقؒ اپنی آخری عمر میں نابینا ہوئے تو وہ اختلاط کا شکار ہوگئے، اور اس وجہ سے وہ احادیث میں کثرت سے خطائیں کرنے لگے، انکی کتابوں میں جو احادیث موجود ہیں وہ صحیح ہیں مگر نابینا ہونے کے بعد وہ اپنے حافظے سے جو احادیث بیان کرتے تھے ان میں بوجہ اختلاط ضعف ہے۔ اور اسی وجہ سے امام عبد الرزاقؒ اس دور میں تلقین بھی قبول کرلیتے تھے کیونکہ ایک تو وہ اختلاط کا شکار ہے دوئم یہکہ وہ نابینا بھی ہوگئے تھے تو وہ اپنی کتب سے خود دیکھ کر اپنی غلطیوں کو درست نہیں کرسکتے تھے لہزا دوسروں سے تلقین قبول کرنے لگے تھے اور یہ چیز بھی ایک راوی کیلیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ بہرحال مختصرا یہ بیان کردیا ہے کہ امام عبد الرزاقؒ کی روایات میں انکے اختلاط کا کیا معاملہ ہے۔ اب ان شاء اللہ اگلی قسط میں امام عبد الرزاقؒ کی تدلیس پہ بات کریں گے۔

از قلم: ابو الحسنین ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں