-->

امام شافعیؒ اور یوم عرفہ اور عاشورہ کا روزہ

﴿امام شافعیؒ اور یوم عرفہ اور عاشورہ کا روزہ﴾

امام ابو ابراہیم اسماعیل بن یحیی المزنیؒ (المتوفی 264ھ) لکھتے ہیں:

قال الشافعي: أخبرنا سفيان بن عيينة، قال: أخبرنا داود بن شابور وغيره، عن أبي قزعة، عن أبي الخليل، عن أبي حرملة، عن أبي قتادة، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «صيام يوم عرفة كفارة السنة والسنة التي تليها، وصيام يوم عاشوراء يكفر سنة».

قال الشافعي: فأحب صيامهما، إلا أن يكون حاجا فأحب له ترك ‌صوم ‌يوم ‌عرفة؛ لأنه حاج، مضح، مسافر، ولترك النبي -صلى الله عليه وسلم- صومه في الحج، وليقوى بذلك على الدعاء، وأفضل الدعاء يوم عرفة

سیدنا ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ کا روزہ ایک سال اور اسکے بعد آنے والے سال کا کفارہ ہے اور یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے۔

امام شافعیؒ کہتے ہیں: ان دنوں کا روزہ رکھنا مجھے پسند ہے سوائے اس کے کوئی حاجی ہو تو اسکے لیے میں یوم عرفہ کا روزہ چھوڑنا پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ حاجی ہے، قربانی کرنے والا ہے اور مسافر ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے حج میں روزہ رکھنا چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ اپنی قوت دعا میں لگا سکیں اور افضل ترین دعا یوم عرفہ کی (دعا) ہے۔

[مختصر المزني - ت الداغستاني: جلد 1 صفحہ 324 رقم 784 و 785]

ابی حرملہ کی سند میں اضطراب واقع ہوا ہے، اول تو یہ راوی ہی مجھول/مستور ہے، سوائے اس روایت کے کچھ روایت نہیں کرتا نیز اس روایت میں بھی اسے سند کے اندر اضطراب واقع ہوا ہے البتہ یہ امام شافعیؒ کی امام سفیان بن عینہ والی سند ہی سب سے زیادہ محفوظ سند ہے جیسا کہ امام دارقطنیؒ نے اپنی علل میں تمام اسانید کا ذکر کرکے کہا ہے۔ البتہ یہ روایت اپنے معنی میں صحیح ہے اور سیدنا ابو قتادہؓ سے یوم عرفہ اور یوم عاشورہ کی حدیث صحیح مسلم میں باسند صحیح ثابت ہے (رقم: 1162)۔ اس پہ تمام اعتراضات فاسد ہیں۔ مذاہب اربعہ کا یوم عرفہ اور یوم عاشورہ کے روزے پہ اس حدیث سے احتجاج اور اسکی تصحیح پہ اتفاق ہے۔ لہزا تمام غیر حجاج حضرات یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ لازمی رکھیں۔

والسلام: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں