ابو مسہر کی سعید بن عبد العزیز التنوخی سے روایت کا حکم
﴿ابو مسہر کی
سعید بن عبد العزیز التنوخی سے روایت کا حکم﴾
سعید بن عبد العزیز التنوخی اہل شام کی فقیہ اور دمشق کے مفتی تھے اور اسی طرح ایک ثقہ
راوی بھی ہیں اور اپنی ثقاہت میں اس قدر پختہ ہیں کہ انکا موازنہ امام اوزاعی سے کیا جاتا تھا،
البتہ انہیں وفات سے قبل اختلاط ہوا تھا۔ جیسا کہ
امام ابو الفضل عباس بن محمد الدوری (المتوفی 271ھ) لکھتے ہیں:
سمعت يحيى يقول قال أبو مسهر كان سعيد بن عبد العزيز قد
اختلط قبل موته وكان يعرض عليه قبل أن يموت وكان يقول لا أجيزها
میں نے امام یحیی بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا: ابو مسہر نے کہا: سعید بن عبد العزیز اپنی
وفات سے پہلے اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، انکی وفات سے پہلے ان کے سامنے (احادیث و
روایات) پیش کی جاتی تو وہ کہتے تھے کہ میں اسکی اجازت نہیں دیتا۔
(تاريخ ابن معين - رواية الدوري: جلد 4 صفحہ 479
رقم 5377)
ابو مسہر کا نام عبد الاعلی بن مسہر ہے، یہ بھی ثقہ آئمہ میں سے ہیں اور انکی تاریخ وفات 218ھ
ہے۔ یہ سعید بن عبد العزیز کے شاگرد ہیں، اور اپنے استاد کے متعلق یہ بتا
رہے ہیں کہ انہیں انکی وفات سے قبل اختلاط ہوگیا تھا۔ یہاں انہوں نے بھی اختلاط کی
صورتحال بھی بیان کی ہے کہ اختلاط کسطرح واقع ہوا تھا، یعنی سعید بن عبد العزیزؒ
پہ انکی احادیث و روایات کو پیش کیا جاتا تھا تو اختلاط ہونے کے باعث اسے پہچان
نہیں پاتے تھے اور اپنے تلامذہ کو ان روایات کو بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
یہ بنیادی قول ہے جسکی بنیاد پہ سعید بن عبد العزیز کو مختلط راوی قرار دیا گیا
ہے۔ اسکے علاوہ دیگر آئمہ نے بھی اسکی صراحت کی ہے۔ جیسے کہ امام مغلطاى بن قلیج مندرجہ بالا امام
عباس الدوریؒ کے نقل کردہ قول کو ابو مسہر کے بجائے امام یحیی بن معینؒ کے قول کے
طور پہ نقل کرتے ہیں۔
(إكمال تهذيب الكمال - ط العلمية: جلد 3 صفحہ
323)
امام مغلطائی خود بھی انہیں مختلط کہتے ہیں۔
(إكمال تهذيب الكمال - ط العلمية: جلد 3 صفحہ 322
رقم 2176)
امام ابن حجر عسقلانی (المتوفی 852ھ) لکھتے ہیں:
وقال الآجري عن أبي داود تغير قبل موته وكذا قال حمزة
الكناني
اور الآجری نے امام ابو داؤد السجستانی سے روایت کرتے ہوئے کہا: وہ اپنے وفات سے
پہلے متغیر ہوگئے تھے، اور اسی طرح حمزہ الکنانی نے بھی کہا ہے۔
(تهذيب التهذيب: جلد 4 صفحہ 60)
امام ابن حجر عسقلانی مزید کہتے ہیں:
لكنه اختلط في آخر أمره
لیکن وہ اپنے زندگی کے آخر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔
(تقريب التهذيب: صفحہ 238 رقم 2358)
اسی طرح امام سبط ابن المعجمی (المتوفی 841ھ) بھی انہیں مختلط رواۃ میں درج
کرتے ہیں۔
(الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط: صفحہ 136
رقم 42)
فلہال اختصار کے پیش نظر محدثین کے اتنے حوالہ جات کافی ہیں
جو یہ واضح کرتے ہیں کہ سعید بن عبد العزیز التنوخی رحمہ اللہ اپنی زندگی کے آخر
میں اپنی وفات سے قبل اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابو
مسہر جو انکے برائے راست شاگرد ہیں اور اختلاط کی خبر دینے والے ہیں، جب وہ ان سے
روایت کریں تو انکی روایت قبول کی جائے گی یا رد کی جائے گی۔
ہمارے نزدیک اسکا جواب یہ ہے کہ ابو مسہر کی سعید بن عبد العزیز سے روایت کو قبول
کیا جائے گا کیونکہ وہ انکے اختلاط کی پہچان کرنے والے اور اختلاط کی نوعیت کا علم
رکھنے والے مرکزی شخص ہیں۔ نیز سعید بن عبد العزیز کا اختلاط اس نوعیت کا بھی نہیں
ہے کہ اس سے ضعیف اور غیر ثابت روایات آگے پھیلی ہوں بلکہ اختلاط کے دوران بھی اس
معاملے میں شدید احتیاط برتتے تھے اور ان روایات کی اجازت نہیں دیتے تھے جو ان کے
سامنے اختلاط کے دوران پیش کی جاتی تھی۔ جوکہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سعید بن
عبد العزیز کی مرویات انکے اختلاط کی وجہ سے متاثر نہیں ہوئی اور یہی قوی احتمال
ہے۔ بالفرض کوئی یہ کہے کہ یہ کوئی قوی معاملہ نہیں ہے، تب بھی ابو مسہر کی سعید
بن عبد العزیز سے مرویات کو آئمہ نے مقبول قرار دیا ہے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ ابو
مسہر اسکی پہچان رکھتے تھے اور یہ بعید ہے کہ وہ ایسی روایات بیان کریں جنکی اجازت
انہیں انکے شیخ نہیں دی جبکہ وہ اپنے استاد کو دیگر آئمہ پہ فضیلت دینے والے شخص
ہیں۔
جیسا کہ امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذہبی (المتوفی 748ھ)
کہتے ہیں:
ورجاله ثقات إن كان سعيد بن عبد العزيز التنوخي حدث به قبل
اختلاطه، وهذا هو الراجح عندي لأن الراوي له عنه أبو مسهر، مع أنه هو الذي أخبرنا
باختلاطه، فغالب الظن أنه لا يروي عنه في حالته هذه، لا سيما وهو معظم له
جدا، فقد قال أبو حاتم: كان أبو مسهر يقدم سعيد بن عبد العزيز على الأوزاعي، ومن
البديهي أن هذا التقديم منه لا يكون إلا في روايته قبل الاختلاط، فكذا روايته عنه
لا تكون إلا في هذه الحالة والله أعلم
اور اسکے رجال ثقہ ہیں اگر سعید بن عبد العزیز التنوخی نے
اسے اپنے اختلاط سے قبل بیان کیا ہو، اور یہی میرے نزدیک راجع ہے کیونکہ اسے ان سے
ابو مسہر نے روایت کیا ہے۔ اسکے باوجود کہ وہ وہی شخص ہیں جنہوں نے انکے اختلاط کی
خبر ہمیں دی ہے۔ لہزا غالب گمان یہی ہے کہ وہ ان سے اس حالت میں روایت نہیں کرتے
ہونگے۔ بالخصوص وہ انہیں بہت زیادہ معظم سمجھتے تھے۔ چناچہ امام ابو حاتمؒ نے کہا:
ابو مسہر سعید بن عبد العزیز کو اوزاعی پہ مقدم رکھتے تھے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ
انکی طرف سے یہ تقدیم صرف اختلاط سے پہلے کی اسکی روایات کی بنیاد پہ ہوگی، لہزا
انکی ان سے روایت بھی صرف اسی حالت میں ہوگی۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
(مختصر العلو للعلي العظيم: صفحہ 103)
معلوم ہوا کہ ابو مسہر کی روایت ان قرائن کی بنیاد پہ بلکل
واضح ہے کہ وہ سعید بن عبد العزیز سے بلکل صحیح اور اختلاط سے قبل شمار ہوتی ہے۔
میں اختصار کے پیش نظر اس کا اختتام مندرجہ ذیل کلام پہ کرتا ہوں کہ:
امام ابو عبد الرحمن محمد ناصر الدین البانی (المتوفی 1420ھ)
کہتے ہیں:
واذا كان كذلك فإني أستبعد جدا أن يكون أبو مسهر روى عنه
هذا الحديث في حال اختلاطه
اور جب صورتحال یہ ہے تو میں نہایت بعید سمجھتا ہوں کہ ابو
مسہر نے ان سے یہ حدیث انکے حالت اختلاط میں روایت کی ہو۔
(التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان: جلد 2 صفحہ
82 رقم 618)
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب۔

Post a Comment