-->

کیا امیر شام نے مولا علی ع کی خلافت کا اعتراف قاتلین عثمان کے بدلے کرنا چاہا تھا؟

 

کیا امیر شام نے مولا علی ع کی خلافت کا اعتراف قاتلین عثمان کے بدلے کرنا چاہا تھا؟

نواصب ایک روایت پیش کرکے اس سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امیر شام نے تو اعتراف کیا تھا کہ وہ نہ تو مولا کائنات علی ع سے افضل ہیں اور ناہی وہ خلافت میں ان کے مخالف ہیں بلکہ وہ تو صرف قاتلین عثمان کا مطالبہ کررہے تھے؟

 

يحيى بن سليمان الجعفى رحمہ اللہ (المتوفی238) نے کہا:

قال الجعفي: حدثنا يعلى بن عبيد، عن أبيه، قال: جاء أبو مسلم الخولاني وأناس إلى معاوية، وقالوا: أنت تنازع عليا، أم أنت مثله؟ فقال: لا والله، إني لأعلم أنه أفضل مني، وأحق بالأمر مني، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، والطالب بدمه، فائتوه، فقولوا له، فليدفع إلي قتلة عثمان، وأسلم له. فأتوا عليا، فكلموه، فلم يدفعهم إليه.

ابومسلم الخولانی اور کئی حضرات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں یا خود کو ان کی طرح سمجھتے ہیں ؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ! اللہ کی قسم ! مجھے پتہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں ، اور خلافت کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں ، لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ مظلومانہ قتل کئے گئے ، اور میں ان کا چچازاد بھائی ہوں اور ان کے خون کا طالب ہوں ، لہٰذا تم لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ قاتلین عثمان کو میرے حوالے کردیں میں ان کی خلافت تسلیم کرلیتاہوں ۔ پھر یہ حضرات علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اوران سے بات کی لیکن علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان کو امیر معاویہ کے حوالے نہیں کیا۔

) سير أعلام النبلاء للذهبي: جلد 3 صفحہ 140(

 

اول تو یہ کہ نواصب کی جانب سے اس روایت کو مکمل پیش بھی نہیں کیا جاتا، یہ روایت مزید اضافے کے ساتھ بھی مروی ہے جسے نواصب و خوارج چھپا لیتے ہیں تاکہ عوام کو گمراہ کرسکیں اور آگے کی بات کہ یہ مطالبہ کیوں تسلیم نہ کیا گیا، عوام الناس کو نہ بیان کرسکیں۔ ھم اس حصے کو بھی ساتھ نقل کرتے ہیں اور پھر ھم اس کی صحت اور اس سے حاصل ہونے والے استدلال پہ بات کریں گے۔

 

یہی روایت امام ابن حجر عسقلانیؒ نقل کرتے ہیں تو کیسے نقل کرتے ہیں ملاحظہ کیجیے۔

 وقد ذكر يحيى بن سليمان الجعفي أحد شيوخ البخاري في كتاب صفين في تأليفه بسند جيد عن أبي مسلم الخولاني أنه قال لمعاوية أنت تنازع عليا في الخلافة أو أنت مثله قال لا وإني لأعلم أنه أفضل مني وأحق بالأمر ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما وأنا بن عمه ووليه أطلب بدمه فأتوا عليا فقولوا له يدفع لنا قتلة عثمان فأتوه فكلموه فقال يدخل في البيعة ويحاكمهم إلي فامتنع معاوية فسار علي في الجيوش من العراق حتى نزل بصفين وسار معاوية حتى نزل هناك وذلك في ذي الحجة سنة ست وثلاثين فتراسلوا فلم يتم لهم أمر فوقع القتال إلى أن قتل من الفريقين

 

اور یحیی بن سلیمان الجعفی جو امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں کتاب صفین میں جید سند سے ابی مسلم الخولانی سے زکر کرتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ سے کہا: کیا آپ خلافت میں علیؑ سے جھگڑ رہے ہیں یا ان جیسے ہیں؟ امیر شام معاویہ نے کہا: نہیں، میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے افضل ہیں اور خلافت میں زیادہ حقدار ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ عثمانؓ کو مظلومانہ قتل کیا گیا تھا؟ اور میں انکا چچا زاد اور ولی ہوں اور انکا خون (قصاص) مانگ رہا ہوں؟ وہ علیؑ کے پاس آئے اور کہا کہ عثمانؓ کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کردیں۔ چناچہ وہ علی کے پاس گئے اور انہوں نے اس سے بات کی اور کہا “وہ (معاویہ) بیعت میں داخل ہوجائیں اور مجھ سے انکا فیصلہ لے لیں۔ لیکن معاویہ نے انکار کردیا۔چناچہ علیؑ عراق سے لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ صفین میں اتر گئے اور معاویہ نے بھی کوچ کیا یہاں تک وہ بھی وہاں اتر گئے، یہ چھتیس ہجری کا ذوالحجہ تھا اور انہوں نے خط و کتابت کی یہاں تک کہ کوئی بات پوری نہ ہوئی۔ چناچہ لڑائی ہوئی یہاں تک دونو فریقین میں سے ایک مارا جائے۔

)فتح الباری لاابن حجر عسقلانی: جلد 13 صفحہ 86(

 

اول تو یہ کہ اسکی سند منقطع ہے، نواصب صرف راویوں کو ثقہ دیکھ کر اس پہ صحیح کا حکم لگا دیتے ہیں جبکہ وہ اس روایت کے متصل ہونے یا منقطع ہونے کا بلکل خیال نہیں کرتے۔

اس روایت کی سند یہ ہے:

قال الجعفي: حدثنا يعلى بن عبيد، عن أبيه، قال: جاء أبو مسلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سند کے تمام راوی صدوق یا ثقہ ہیں۔ مگر اسکی سند میں انقطاع یعلی بن عبید کے والد کی جانب سے ہے: یعلی بن عبید کے والد أبو الفضل عبيد بن أبي مية الطنافسي کا ابو مسلم الخولانی سے سماع اور ملاقات نہیں ہے اور عبید نے کوئی واسطہ زکر نہیں کیا اور بلاواسطہ روایت بیان کردی ہے۔ آئمہ میں سے کسی نے بھی ابو مسلم الخولانی کے تلامذہ میں ابو الفضل عبید بن ابی میة الطنافسی کا ذکر نہیں کیا اور ناہی عبید کے اساتذہ میں کسی نے ابو مسلم الخولانی کا زکر کیا ہے۔

 

امام ابن حجر عسقلانیؒ کو اس سند کو جید کہنے میں تسامح ہوا ہے، کیونکہ انہوں نے خود ہی اس راوی کو اپنی کتاب تقریب التھذیب میں چھٹے طبقے میں رکھا ہے۔

٤٣٦٠- عبيد ابن أبي أمية [الطنافسي] الحنفي أو الإيادي أبو الفضل اللحام الكوفي والد يعلى وأخويه صدوق من السادسة بخ ت

)تقریب التھذیب: رقم 4360(

 اور اپنی کتاب کے مقدمے میں وہ خود ہی وضاحت کرتے ہیں کہ چھٹا طبقہ انکا ہے جو ہیں تو پانچویں طبقے کے معاصرین تو ہیں مگر انکا صحابہؓ میں سے کسی سے بھی ملاقات یا سماع ثابت نہیں هے۔

السادسة: طبقة عاصروا الخامسة، لكن لم يثبت لهم لقاء احد من الصحابة كابن جريج

)تقريب التهذيب: صفحه 82(

چھٹا طبقہ: جو پانچویں طبقے کے ھم عصر تو ہیں، لیکن انکی کسی صحابی سے ملاقات ثابت نہیں۔

 

اور امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں ابو مسلم الخولانی کے متعلق لکھتے ہیں کہ:

وقد قال المفضل بن غسان الغلابي: إن علقمة، وأبا مسلم ماتا في سنة اثنتين وستين.

)سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 4 صفحہ 14(

اور فضل بن غسان الغلابی کہتے ہیں: عقلمہ اور ابو مسلم کا انتقال سن باسٹھ ہجری میں ہوا۔

 

لہزا ایسا شخص جس کی کسی صحابی سے ملاقات ہونا ممکن نہ ہو جبکہ سب سے آخری صحابی سیدنا ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے وفات سن 110ھ میں فرمائی ہے، یہ سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی ہیں، جس شخص کا ان سے بھی سماع اور ملاقات نہ ہو وہ بھلا کسطرح اس شخص سے ملاقات کرسکتا ہے جسکی وفات ہی جلیل القدر صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوگئی ہو؟

 

    مزید یہ کسی بھی محدث نے عبید بن ابی امیۃ الطنافسی کی سن ولادت اور سن وفات زکر نہیں کی اور ناہی اسکی عمر زکر کی ہے، لہزا ھم اس کی اولاد کی سن پیدائش سے اسکے دور کا تعین بھی کرسکتے ہیں کہ اسکے دو بیٹوں کی سن ولادت منقول ہے اور ایک بیٹے کی سن ولادت غیر منقول ہے۔

 

پہلا بیٹا یعلی بن عبید بن ابی امیة الطنافسی سن 117ھ میں پیدا ہوا، اور دوسرا بیٹا محمد بن عبید بن ابی امیۃ الطنافسی سن 127ھ میں پیدا ہوا ہے۔ لہزا یہ کسطرح ممکن ہے کہ ایک شخص اس شخص سے روایت زکر کرے جسکی وفات کے ساٹھ سال بعد جاکر اسکی اولاد ہورہی ہو؟ یہ تو ممکن ہی نہیں۔

 

    دوئم یہکہ ان دونو کے طبقات بھی بہت فرق ہے اور انکے شہر بھی مختلف ہیں، ابو مسلم الخولانی شامی تھے اور عبید بن ابی امیة کوفی تھے۔ یوں بھی انکی ملاقات اور سماع ممکن نہیں۔

 

لہزا نواصب کا اس روایت سے کسی بھی طرح احتجاج درست نہیں، کیونکہ اسکی روایت منقطع ہے اور ضعیف ہے مزید یہکہ اس سے نواصب کے تمام استدلال بھی باطل ہیں۔ اللہ انکو عقل سلیم اور ہدایت نصیب کرے کہ انہوں نے اہل بیتؑ رسول مقبول ﷺ کو چھوڑ کر انکے دشمنان کو اپنا رفیق بنا لیا ہے۔

 

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں۔