-->

دوستی کا معیار

 

﴿دوستی کرنے کا معیار﴾

 

آئمۃ الاسلام عالم الاندلس ابو محمد علی ابن حزم الظاہریؒ (المتوفی 456ھ) فرماتے ہیں:
لا ترغب فيمن يزهد فيك فتحصل على الخيبة والخزي لا تزهد فيمن يرغب فيك فإنه باب من أبواب الظلم وترك مقارضة الإحسان وهذا قبيح

 

کسی ایسے شخص میں (دوستی کا) ميلان نہ رکھیں جو آپ سے بےرغبت ہو ورنہ آپکو ناکامی و رسوائی ملے گی۔

جو آپ میں (دوستی کا) ميلان رکھتا ہو تو اس سے بےرغبتی نہ کریں کیونکہ یہ ظلم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور احسان کا بدلہ نہ دینا ہے۔ اور یہ برا (فعل) ہے۔

[كتاب الأخلاق والسير: صفحہ 115 رقم 100، 101]

 

زندگی گزارنے کیلیے امام ابن حزمؒ کی یہ نصیحت بہت بہت فائدہ مند ہے، کیونکہ جو شخص آپ سے بےرغبت ہے تو اس کی طرف دوستی کا میلان ہرگز نہ رکھیں، کیونکہ بالفرض اگر دوستی ہو بھی گئی تو بھی وہ کبھی آپکی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا تو جب آپکی ضروریات میں ہی آپکا دوست معاون نہیں ہے تو آپ کو ناکامی کا احساس ہوگا کہ آپ اپنی ضرورت کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اسی طرح وہ آپکی عزت و وقار کا بھی ہرگز خیال نہیں رکھے گا اور چونکہ اسے آپکی کوئی قدر ہے ہی نہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ آپکو بھری محفل میں رسوا کردے کیونکہ اسے آپکے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اسی طرح اگر کوئی آپ کی طرف دوستی کا میلان رکھتا ہے تو اسے آپکی قدر معلوم ہے، اسی لیے جو آپکی قدر کرتا ہو آپکو قیمتی جانتا ہو تو اسے ٹھکرانا ایک قبیح فعل ہے، بلکہ یہ تو ظلم ہے کہ آپ اسکی دوستی کو رد کررہے ہیں۔ لہزا مناسب شرعی عذر کے بغیر ایسا کرنا مناسب نہیں، تمام مسلمان آپکے بھائی اور دوست ہیں، ان کی محبت کا انہیں بہترین بدلہ دیں۔

 

والسلام: شہزاد احمد آرائیں