وطن سے محبت سنت رسول اللہ ﷺ ہے
وطن سے محبت سنت رسول اللہ ﷺ ہے
وطن سے محبت
اور اسکا دفاع انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے۔ قرآن و سنت کے مطالعے سے یہی
معلوم ہوتا ہےکہ جیسے انسان اپنی ذات سے محبت کرتا ہے؛ ایسے ہی اپنے وطن سے محبت
ایک فطری امر ہے۔ اسی محبت کا درس ہمیں
سنت رسول اللہ ﷺ سے ملتا ہے اور ہم پہ لازم ہے کہ ہم سنت رسول پاک ﷺ کی پیروی کریں
اور اپنے ملک و قوم کے ساتھ مخلص رہیں، اپنے وطن کا شوق رکھیں ۔ ایسے کاموں سے
گریز کریں جس سے اپنے وطن کو نقصان ہو۔ لسانیت، فرقہ واریت اور زبان وغیرہ کی
بنیادوں پہ اپنے بھائیوں سے نفرت کرنا اور انکے خون کے درپے رہنا ایک مسلمان کا
شیوہ نہیں، یہ وہ کام ہیں جو آپکے ایمان کو تو تباہ و برباد کرتی ہیں مگر آپکے وطن
کی سالمیت کیلیے بھی انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ہمیں ذاتی طور پہ اپنے آپ سے شروعات
کرکے سدھار لانا ہوگا تبھی جاکر آہستہ آہستہ پوری قوم میں بلاؤ آئے گا تو
انشاءاللہ ہمارا وطن ایک مرتبہ پھر طرقی کی راہوں پہ گامذن ہوگا۔ انشاءاللہ تعالی۔
مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ وطن سے محبت سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔
1۔ حَدَّثَنَا
سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ
أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ
فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً
حَرَّكَهَا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ زَادَ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ
حُمَيْدٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جُدُرَاتِ تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ۔ (صحیح البخاری: 1802)
ضرت انس
ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے مدینہ طیبہ واپس
آتے اور مدینہ کی راہوں کو دیکھتے تو (فرط شوق سے) اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے۔ اگر
کوئی اور سواری ہوتی تو اسے بھی ایڑی لگاتے۔ ابوعبد اللہ (امام بخاری ؒ )نے کہاکہ
حارث بن عمیر نے حمید ہی کے طریق سے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ رسول
اللہ ﷺ مدینہ طیبہ کی محبت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ اسماعیل نے حمید سےدرجات
كےبجائے جدرات کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ (اور) یہ الفاظ بیان کرنے میں حارث بن عمیر
نے اسماعیل کی متابعت کی ہے۔
2۔ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ
النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ
فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى
دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا۔ (صحیح البخاری:1886)
.
حضرت انس ؓ ہی
سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر سے واپس آتے اور مدینہ طیبہ کی دیواریں دیکھتے
تو اس کی محبت کے باعث اپنی سواری کوتیز چلاتے اور اگر کسی اور سواری پر سوار ہوتے
تو اسے ایڑی لگاتے۔
3۔ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا
إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى
جُدْرَانِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ
حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
غَرِيبٌ۔ (جامع
الترمذی: 3441)
انس
ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیوار یں دکھائی دینے
لگتیں تو آپﷺ اپنی اونٹنی (سواری) کو (اپنے وطن) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے۱؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے
علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے۔
امام
ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
صحیح بخاری 1886 حدیث مبارکہ کی شرح
میں امام ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ
وفي الحديث دلالة على فضل المدينة،
وعلى مشروعية حب الوطن، والحنين إليه۔
یہ حدیث مدینہ کی فضیلت، وطن سے محبت
کی مشروعیت اور وطن کے شوق پر دلالت کرتی ہے۔
تحریر: ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں
مورخہ: 2022-8-14

Post a Comment