نوافل کو گھر میں ادا کرنے سے خیر و برکت کا ہونا
مسجد میں باجماعت فرض
نماز ادا کرنے کے بعد نوافل اور سنتیں اپنے گھر میں ادا کرنا افضل ہے اور اس سے
گھر میں خیر و برکت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے واضع ارشادات موجود ہیں لہزا ان فرمامین پہ عمل کرنا لازم ہے۔
1۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا :
صَلُّوْا أَيُّهَا النَّاسُ فِی
بُيُوْتِکُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا
الْمَکْتُوْبَةَ. (صحیح بخاری: 731)
’’لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو
کیونکہ سوائے فرض نماز کے آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں پڑھے۔‘‘
2۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
إِذَا قَضَى
أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ
صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا۔ (صحیح مسلم: 1822)
جب تم
میں سے کوئی مسجد میں نماز (باجماعت) ادا کرلے تو اپنی نماز میں سے اپنے
گھر کیلیے بھی کچھ حصہ رکھےکیونکہ اللہ اسکے گھر میں اسکے نماز پڑھنے کی وجہ سے
خیر و بھلائی رکھے گا۔
تخریج: صحیح مسلم:
1822۔ سنن ابن ماجہ: 1376۔ مسند احمد بن حنبل: 11569۔صحیح ابن خزیمہ: 1206۔ صحیح
الجامع: 731۔
تحقیق و تحریر: ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں

Post a Comment