-->

علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے - روایت کی تحقیق


 تحقیق: ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں

اخبرنا ابو عبد اللہ الحافظ، اخبرنا ابوالحسن علی بن محمد بن عقبہ الشیبانی، حدثنا محمد بن علی بن عفان، و اخبرنا ابو محمد الاصبھانی، اخبرنا ابو سعید بن زیاد، حدثنا جعفر بن عامر العسکری، قالا:  حدثنا الحسن بن عطیۃ،  عن ابی عاتکۃ،  و فی روایۃ ابی عبد اللہ ۔ حدثنا ابو عاتکہ عن انس بن مالک، قال:  قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:   ’’ اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَو بِالصِّینِ،  فَاِن طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃ ٌ عَلَی کُلِّ مُسْلِمِ۔‘‘   ھذا حدیث متنہ مشہور،  واسنادہ ضعیف و قد روی من اوجہ،  کلھا ضعیف۔

 

 ترجمہ:

ابوعاتکہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے، بے شک علم حاصل کرنا فرض ہے ہر مسلمان پر۔‘‘ اِس حدیث کا متن مشہور ہے اور اِس کی سند ضعیف ہے، یہ روایت جتنی وجوہ سے بھی روایت کی گئی ہے، سب ضعیف ہیں۔

 

 حوالہ جات:

1۔ امام بیھقی: شعب الإيمان - ط الرشد: جلد 3، صفحہ 193، رقم 1543۔

2۔ امام البزار: مسند البزار = البحر الزخار: جلد 1، صفحہ 164۔

3۔ امام بیہقی: المدخل الی السنن الکبریٰ: جلد 1، صفحہ 124۔

4۔ امام ابن الجوزی: الموضوعات لابن الجوزي: جلد 1، صفحہ 215۔

5۔ شیخ البانی: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة: جلد 1، صفحہ 600، رقم 416۔

 

 محدثین کے اقوال:

1۔ امام بیہقی اس روایت کو اپنی کتاب شعب الایمان میں نقل کرکے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مشہور ہے اور اسکی اسناد ضعیف ہیں،جتنے پہلوؤں سے روایت کی گئی ہے تمام کے تمام ضعیف ہیں۔ اور امام بیھقی اپنی کتاب المدخل الی سنن الکبری میں لکھتے ہیں کہ میں اس حدیث کو ثابت کرنے والی کوئی سند نہیں جانتا۔
2۔ امام البزار رح اس روايت كو اپني مسند البزار ميں نقل كركے لكھتے ہیں کہ ابو عاتکۃ کا علم نہیں ہے اور ناہی یہ معلوم ہے کہ وہ کہاں سے ہے۔

3۔ امام ابن جوزي رح اس حديث كو اپني كتاب الموضوعات ميں نقل كركے لكهتے هيں كه یہ حدیث انبی کریم ﷺ سے صحیح نہیں ہے۔ اور پھر مزید کہتے ہیں امام ابو حاتم الرازی نے کہا کہ الحسن ابن عطیۃ ضعیف ہے اور  امام بخاری نے ابی عاتکۃ کے متعلق کہا کہ یہ منکر الحدیث ہے۔ امام ابن حبان نے اس حدیث کے متعلق کہا کہ یہ حیدث باطل ہے اور اسکی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔

4۔ شیخ البانی نے اس حدیث کو اپنی کتاب السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعات میں نقل کیا تو ساتھ لکھا کہ یہ روایت باطل ہے۔

 

راویان پہ جرح:

الحسن بن عطیۃ: (صدوق حسن الحديث)

1۔ امام عقيليؒ نے اسكو اپني كتاب الضعفاء ميں زكر كيا هے۔

«سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة» (1/ 601

2۔ امام ابو حاتم الرازيؒ نے صدوق كها هے۔

«تهذيب الكمال في أسماء الرجال» (6/ 214

3۔ امام ابن حجر عسقلانيؒ نے صدوق كها هے۔

«تقريب التهذيب» (ص162)، رقم: 1257۔

4۔ امام ابو الفتح الازدی نے اسکو ضعیف کہا ہے۔

«تهذيب التهذيب» (2/ 294

5۔ امام ترمذیؒ کہتے ہیں کہ اس سے صرف ایک حدیث ہی مروی ہے (جامع ترمذی: 726 - ضعیف)۔

«تهذيب الكمال في أسماء الرجال» (6/ 214

 

طريف بن سلمان أبو عاتكة: (ضعيف جدا)

1۔ امام یحیی بن معینؒ نے ضعیف الحدیث کہا۔

2۔ امام ابو حاتمؒ نے ذاهب الحديث کہا ہے۔

3۔ امام بخاریؒ نے کہا کہ یہ منکر الحدیث ہے۔

4۔ امام نسائیؒ نے کہا کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔

5۔ امام دار قطنیؒ نے ضعیف کہا۔

6۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے اسکے ضعیف کہا۔

«تهذيب الكمال في أسماء الرجال» (34/ 5)»رقم 7458«۔

«ميزان الاعتدال» (2/ 335) «رقم 3984»۔

«تقريب التهذيب» (ص653)«رقم 8193»۔

«تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال» (10/ 309)«رقم 8253»

 

مندرجه بالا تمام تحقيق سے يه نتيجه نكلتا هے كه يه روايت سخت ضعيف هے اور محدثين نے اسكو موضوع تک شمار كيا هے۔