اکیلے نمازی کا جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنا اور فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی امامت کرنا
اکیلے نمازی کا جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنا اور فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی امامت کرنا
فقہاء کا اتفاق ہے کہ
اگر کسی شخص نے اکیلے نماز پڑھ لی تھی، پھر اسے جماعت مل گئی تو جماعت کے ساتھ
شامل ہو جائے ، دوسری نماز نفل ہو جائے گی۔ اس کا ثبوت یزید بن اسود کی مندرجہ ذیل
حدیث سے ثابت ہونے والی سنت سے ہے۔ یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں
مسجد خیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں موجود تھا، جب
آپ اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے دیکھا کہ لوگوں کے آخر میں دو آدمی ہیں جنہوں
نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو میرے پاس
لاؤ“، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا، ان کے مونڈھے (گھبراہٹ سے) کانپ رہے
تھے وہ گھبرائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ
نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ تو ان دونوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے ٹھکانوں میں
نماز پڑھ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم
اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکو، پھر مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو تو تم ان
کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل (سنت) ہو جائے گی“(سنن
نسائی: 859۔ وسندہ صحیح)۔ اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ ابو سعید
خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے
نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: ”کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے“(سنن
ابو داؤد: 574۔ وسندہ صحیح)۔
ان دونو احادیث مبارکہ
سے یہ بات صراحت سے ثابت ہوجاتی ہے کہ جو شخص اکیلا فرض نماز ادا کرچکا ہو تو وہ
باجماعت دوبارہ نماز ادا کرسکتا ہے، اسکا اسکو مزید ثواب ملے گا اور یہ سنت عمل ہے
اور اسی طرح اگر کوئی شخص کسی بھائی کو اکیلا نماز پڑھتا دیکھے تو اسکے ساتھ شامل
ہوکر اسکو جماعت کا ثواب دے اور خود بھی اجر و ثواب کا مستحق بنے۔
] غلط ممانعت اور اسکا رد[
اس حوالے سے میرے سامنے
مفتی طارق مسعود دیوبندی کا ایک کلپ گزرا کہ انہوں نے نماز مغرب، نماز عصر اور
نماز فجر میں اس عمل کو ناجائز قرار دیا اور پھر کہتے ہیں کہ مغرب میں چونکہ دوسری
نماز اسکی نفل شمار ہوگی تو تین رکعت نفل ثابت نہیں ہیں مگر موصوف شاید بھول گئے
کہ تین رکعت نوافل ثابت ہیں، کیا مفتی صاحب تین رکعت وتر نہیں پڑھتے؟ یہ بھی تو
نفلی عبادت ہے جیسا کی مولا کائنات امام المسلمین امیر المومنین داماد رسول ﷺ کاتب
وحی مولا علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: وتر فرض نمازوں کی طرح
واجب نہیں ہے بلکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت ہے(سنن نسائی: 1677۔ وسندہ صحیح)
اور یہی جمھور کا موقف ہے۔ اور مفتی صاحب کہتے ہیں کہ عصر کے وقت ایسا اس لیے نہیں
کر سکتے کہ عصر کی فرض نماز کے بعد نوافل ممنوع ہیں اور شریعت میں اسکی اجازت نہیں
ہے، یہ بات بھی مفتی صاحب کی سراسر غلط ہے، عصر کی نماز کے بعد نوافل کی ممانعت
اگرچہ احادیث میں آئی ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا جب تک سورج نہ ڈوبے اور
اسی طرح صبح کی نماز کے بعد جب تک آفتاب نہ نکلے (صحیح مسلم: 1920)۔ مگر اس وقت ہے
جب زوال کو وقت ہوگیا ہو، اس سے پہلے نوافل ادا کیے جاسکتے ہیں۔ اس چیز کی صراحت
مولا کائنات امیر المومنین امام علی المرتضیؑ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: رسول
اللہ ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو (سنن
ابو داؤد: 1274، سنن نسائی: 574۔ وسندہ صحیح) اور اسی طرح خود رسول اللہ ﷺ سے بھی
عصر کی نماز کے بعد نوافل پڑھنا ثابت ہیں کہ آپ ﷺ ایک بات دعوت و تبلیغ کی
مصروفیات کے باعث ظہر کی نماز کے بعد دو رکعتیں ادا نہیں کرسکے تھے تو آپ ﷺ نے
انہیں عصر کی نماز کے بعد ادا کیا اور یہ دیکھ کر صحابہ کے ذہن میں یہی سوال اٹھا
کہ رسول اللہ ﷺ تو ممانعت کرتے ہیں اور خود ہی پھر عصر کے بعد نماز بھی ادا کرتے
ہیں تو انہوں نے ام المومنین سے پوچھا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے
پھر وضاحت فرمائی، یہ ایک طویل روایت ہے اسکا مفہوم یہاں میں نقل کردیا، (صحیح مسلم:
1933، صحیح بخاری 4370) اسکو اختصار کے ساتھ امام نسائی نے روایت کیا: ام المؤمنین
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان
کے گھر میں عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھی تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دو رکعتیں ہیں جنہیں میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا تو میں انہیں نہیں پڑھ
سکا، یہاں تک کہ میں نے عصر پڑھ لی“،(تو میں نے اب عصر کے بعد پڑھی ہے)۔(سنن نسائی: 580۔ وسندہ صحیح)۔
اسکے بعد مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز کے بعد بھی نفل جائز نہیں ہیں مگر
مفتی صاحب یہ پھر غلطی کر گئے کہ اول تو ان روایات کا اطلاق زوال کے وقت کے متعلق
ہے اور دوسرا یہکہ فجر کی فرض نماز کے بعد بھی نوافل پڑھنا ثابت ہے۔ قیس بن عمرو
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر
ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہی رکعت ہے“، اس
شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس
پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے (سنن ابو داؤد: 1267 وسندہ حسن، صحیح
ابن خزیمہ: 1116 وسندہ صحیح)۔ اس ساری تفصیل سے یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ کسی بھی
نماز کے بعد نوافل اور سنتیں ادا کی جاسکتی ہیں الہ یہکہ زوال کا وقت ہو اور فرض
ادا کرنے کے بعد باجماعت دوبارہ نماز پڑھی جاسکتی ہے یہ آپکی نفل نماز ہوگی اور اس
میں کسی خاص اوقات کی نمازوں کی کوئی ممانعت نہیں ہے، اِدھر اٌدھر سے باطل استدلال
کرکے عوام میں غلط باتیں نہ پھیلائیں۔ اللہ ہم سبکو اندھی تقلید سے محفوظ فرمائے
اور علم و عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ واسلام۔
تحریر و تحقیق و تحکیم: شہزاد احمد آرائیں۔
مورخہ: 06/05/2023۔

Post a Comment