یوم عرفہ کے روزے کی فضیلت اور صحیح مسلم کی حدیث
]یوم عرفہ کے
روزے کی فضیلت اور صحیح مسلم کی حدیث]
یوم عرفہ کے روزے کو
لیکر خوامخواہ کی بحث جاری ہے کہ یہ روزہ ثابت ہے اسکی کوئی فضیلت ہے یا یہ روزہ ہی
ناجائز ہے۔ اول تو سب سے پہلے اس بابت روایات کو وہ رد کررہے ہیں جنکا منہج ہی
فضائل و ترغیب و ترھیب میں تساہل کا ہے اور وہ علتوں کو چھوڑ کر اس باب میں روایات
قبول کرنے کے قائل ہیں مگر یہاں اب چونکہ وہ خود اسکے قائل نہیں ہیں لہزا حد درجہ
شدت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے ہم روایت کو سامنے رکھیں گے اور انکا
تحقیقی تجزیہ کریں گے۔ ان شاءاللہ۔
صحیح مسلم کی حدیث:
حدثنا محمد بن المثنى
، ومحمد بن بشار واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن
غيلان بن جرير ، سمع عبد الله بن معبد الزماني ، عن ابي قتادة الانصاري رضي الله
عنه، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: وسئل عن صوم يوم عرفة، فقال: " يكفر
السنة الماضية والباقية "
ابو قتادہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیه والہ
وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گزشتہ سال اور
آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
(صحیح مسلم:
رقم 1162)
سند پہ اعتراض:
اسکی سند پہ اعتراض
امام بخاری کے اس کلام کو لیکر کیا جاتا ہے کہ سند منقطع ہے لہزا ضعیف ہے۔
امام بخاریؒ کہتے ہیں:
ولا
يعرف سماع عبد الله بن معبد من أبي قتادة
اور وه عبد الله بن
معبد كا سيدنا ابو قتادهؓ سے سماع نہیں جانتے۔
(تاریخ
الکبیر للبخاری: جلد 3 صفحہ 67 رقم 240، الكامل في ضعفاء الرجال: جلد 5 صفحه 372
رقم 1038)
اسی طرح امام بخاری
ان کی حدیث پہ بھی جرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ورواه عبد الله بن
معبد الزماني عن أبي قتادة عن النبي صلى الله عليه وسلم في صوم عاشوراء ولم يذكر
سماعا من أبي قتادة۔
اور عبد اللہ بن معبد
الزمانی نے ابو قتادہ سے روایت کیا ہے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عاشورا کے روزے
کے متعلق۔ اور ابو قتادہ سے سماع بیان نہیں کیا۔
(تاریخ
الاوسط للبخاری: جلد 1 صفحہ 266 رقم 129، تاریخ الصغیر للبخاری: جلد 1 صفحہ 302)
اعتراض کا جواب:
اس جرح کو بنیاد بنا
کر اس روایت کو ضعیف قرار دیا جاتا ہے جبکہ اول بات یہ ہے کہ آئمه نے اسکی تردید
بھی کی ہوئی ہے جیسا کہ
امام ابن حزمؒ کے نزدیک
سماع صحیح ہے، وہ لکھتے ہیں۔
وقد تكلم في سماع
عبد الله بن معبد الزماني من أبي قتادة
اور عبد اللہ بن معبد
الزمانی نے ابو قتادۃ سے سماع کی بات کی۔
(المحلی:
جلد 4 صفحہ 438)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
وأما سماع عبد الله
بن معبد من أبي قتادة فعبد الله ثقة - والثقات مقبولون - لا يحل رد رواياتهم
بالظنون
اور جبکہ سنا عبد
اللہ بن معبد نے ابو قتادۃ سے، تو عبد اللہ ثقہ ہیں، اور ثقات مقبول ہیں، انکی روایات
شبہات کی بنا پہ رد نہیں کی جاسکتی۔
(المحلی
جلد 4 صفحہ 440)
اور انکے سیدنا ابو
قتادۃ رضی اللہ عنہ سے سماع پہ امام لمزی، امام ذھبی اور امام ابن حجر عسقلانیؒ نے
بھی اعتماد کیا ہوا ہے۔
(تھذیب
الکمال فی اسماء الرجال: جلد 16 صفحہ 168 رقم 3585)
(تذهيب
تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 5 صفحہ 318 رقم 3645)
(تھذیب
التھذیب: جلد 6 صفحہ 40 رقم 68)
دوئم یہکہ اس روایت
کو رد کرنے والے احباب نے امام بخاری اور امام مسلم کی شرائط کے فرق کو ہی بھلا دیا
ہے، امام بخاری کے نزدیک انکا سماع ایک دوسرے سے سماع کرنا معلوم نہیں ہے جیسا کہ
انہوں نے تاریخ الکبیر میں زکر کیا اور تاریخ الاوسط و صغیر میں ابھی انہوں نے یہی
علت بیان کی یہاں سماع زکر نہیں کیا گیا۔ تو سب سے پہلے ہم امام مسلم کی شرط نقل
کرتے ہیں اور پھر اسکی وضاحت کرتے ہیں۔
امام مسلم کہتے ہیں:
وهذا القول يرحمك
الله في الطعن في الأسانيد قول مخترع مستحدث غير مسبوق صاحبه إليه، ولا مساعد له
من أهل العلم عليه، وذلك أن القول الشائع المتفق عليه بين أهل العلم بالأخبار
والروايات قديما وحديثا أن كل رجل ثقة روى عن مثله حديثا، وجائز ممكن له لقاؤه
والسماع منه، لكونهما جميعا كانا في عصر واحد، وإن لم يأت في خبر قط أنهما
اجتمعا، ولا تشافها بكلام فالرواية ثابتة، والحجة بها لازمة، إلا أن يكون هناك
دلالة بينة أن هذا الراوي لم يلق من روى عنه، أو لم يسمع منه شيئا، فأما والأمر
مبهم على الإمكان الذي فسرنا، فالرواية على السماع أبدا، حتى تكون الدلالة التي
بينا۔
اسانید (حدیث) میں
طعن (اعتراض) کے بارے میں یہ قول ایک من گھڑت (اور) نیا قول ہے۔ اس کے قائل سے
پہلے یہ بات نہیں کہی گئی، اہل علم میں سے اس کی تائید نہیں کی گئی۔ (اصل) معاملہ یہ
ہے کہ اخبار اور روایات کے ماہر قدیم و جدید اہل علم کے در میان مشہور اور متفق علیہ
قول یہی ہے کہ ہر ثقہ انسان جس نے اپنے جیسے ثقہ سے روایت کی جن کا آپس میں ملنا
اور ایک دوسرے سے سننا ممکن تھا اور وہ اس وجہ سے کہ دونوں ایک ہی عہد میں تھے ،
چاہے ہم تک اس بات کی حتمی خبر نہ پہنچی ہو کہ وہ ملے تھے اور رو در رو گفتگو کی
تھی تو (ان کی) روایت ثابت شده (متصور) ہوگی، حجت مانتے ہوئے اس سے استدلال کرنا
لازمی ہوگا، سوائے اس کے کہ ایسی کوئی واضح دلیل موجود ہو کہ روایت کرنے والا اس
سے نہیں ملا جس سے اس نے روایت کی ہے یا اس سے کوئی حدیث نہیں سنی لیکن (معاملے میں
ابہام کے باوجود) اس امکان کے مطابق جس کی وضاحت ہم نے کی، روایت ہمیشہ سماع پر
محمول ہوگی ، سوائے اس کے کہ (نہ ملنے کی) ایسی دلیل میسر آجائے جس کی ہم نے وضاحت
کی۔
(صحیح مسلم
- مقدمہ: باب صحة الاحتجاج بالحديث المعنعن)
امام مسلم نے سماع کے
ثابت ہونے کی نفی کرتے ہوئے معاصرت اور امکان سماع کی شرط لگائی ہے لہزا امام بخاری
کی جرح کہ ان کو سماع معلوم نہیں اور سماع زکر نہیں کیا گیا مبہم ہیں یہاں صراحت
سے سماع کی نفی نہیں گئی کہ سماع ہوا ہی نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح مسلم کی روایت
کو نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ امام مسلم کی شرط پہ یہ روایت صحیح اور ثابت شدہ ہے
اور انکے نزدیک سماع کا ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، امکان ہی کافی ہے۔
یہی بات فتوی الشبکۃ
السلامیۃ کے مولفین نے بھی لکھی ہے:
فعبد الله بن معبد
الزماني متفق على توثيقه، وكلام البخاري عنه ليس في ذلك، إنما قال في تاريخه
الكبير: لا يعرف له سماع من أبي قتادة.
ولأجل ذلك أورده ابن
عدي في الكامل، والذهبي في الميزان، والحافظ ابن حجر في لسانه.
والحديث صحيح على شرط
مسلم، وإن لم يكن صحيحًا على شرط البخاري، فشرط البخاري في السماع أشد-
كما هو معلوم-، وأكثر أهل الحديث على اعتبار شروط مسلم، وهو إمكان السماع لا العلم
به، كما هو مبسوط ومقرر في كتب أصول الحديث.
ومع ذلك فللحديث طرق
أخرى ليس فيها الزماني، وللحديث شواهد أيضًا.
عبد اللہ بن معبد
الزمانی کی توثیق متفق علیہ ہے، اور انکے متعلق امام بخاری کے الفاظ اسکے متعلق نہیں
ہیں، انہوں نے اپنی تاریخ الکبیر میں کہا: میں انکا سیدنا ابو قتادہ سے سماع نہیں
جانتا۔
اسی بنا پہ امام ابن
عدی نے الکامل میں، امام ذھبی نے میزان میں اور امام ابن حجر نے لسان میں زکر کیا
ہے۔
اور حدیث صحیح امام
مسلم کی شرط پہ صحیح ہے۔ اگرچہ امام بخاری کی شرط پہ صحیح نہ ہو۔ بخاری کی شرط
سماع میں سخت ترین ہیں، جیسا کہ سبکو معلوم ہے اور اہل الحدیث کی اکثریت نے امام
مسلم کی شرائط پہ اعتبار کیا ہے، وہ یہکہ امکان سماع ہو (اگرچہ) اسکے متعلق علم نہ
ہو، جیسا کہ یہ اصول حدیث کی کتب میں واضع اور مقرر ہے۔
اور البتہ اس حدیث کے
دیگر طریق بھی موجود ہیں جن میں الزمانی نہیں ہے، اور اسی طرح حدیث کے شواہد بھی
موجود ہیں۔
(فتاوى
الشبكة الإسلامية: جلد 3 صفحہ 470 رقم 36197)
یہی بات امام ذھبیؒ
بھی لکھتے ہیں:
عبد الله بن معبد
الزماني: عن أبي قتادة، قال البخاري: لا يعرف له سماع من أبي قتادة، قلت: لا يضره
ذلك
عبد اللہ بن معبد
الزمانی سیدنا ابو قتادہ سے روایت کرتے ہیں، امام بخاری کہتے ہیں: میں انکا ابو
قتادہ سے سماع نہیں جانتا، میں (ذھبی) کہتا ہوں: یہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔
(دیوان
الضعفاء: صفحہ 229 رقم 2319)
امام العلل امام احمد
بن شعيب النسائیؒ بھی عبد اللہ بن معبد عن ابی قتادہ کی روایت کے متعلق کہتے ہیں:
هذا أجود حديث عندي
في هذا الباب
میرے نزدیک اس باب میں
سب سے بہترین حدیث یہی ہے۔
(سنن الکبری
للنسائی ط الرسالۃ: جلد 3 صفحہ 224 رقم 2826)
اسی طرح امام ترمذیؒ
اس حديث كو اپنی سنن میں نقل کرکے کہتے ہیں:
حديث أبي قتادة حديث
حسن، وقد استحب أهل العلم صيام يوم عرفة، إلا بعرفة
ابو قتادۃ کی حدیث
حسن ہے، اہل علم نے عرفہ کے دن کے روزے کو مستحب قرار دیا ہے، مگر جو لوگ عرفات میں
ہوں انکے لیے مستحب نہیں۔
(سنن
الترمذی: رقم 749)
اسی طرح امام بیہقیؒ
بھی یوم عرفہ کے روزے کے متعلق کہتے ہیں:
وأصح الروايات فيه
رواية عبد الله بن معبد الزماني عن أبي قتادة
اس کے متعلق صحیح ترین
روایت عبد اللہ معبد الزمانی کی سیدنا ابو قتادہ سے ہے۔
(شعب
الإيمان - ت زغلول: جلد 3 صفحہ 362 رقم 3782)
امام ابو عوانهؒ نے
بھی اپنی مستخرج میں اسے درج کرکے اسکی تحسین کی ہے۔
(مستخرج
أبي عوانة ط المعرفة: جلد 2 صفحہ 221 رقم 2924)
امام ابن خزیمہؒ نے
بھی اپنی صحیح میں درج کرکے اسکو صحیح قرار دیا ہے۔
(صحيح ابن
خزيمه: رقم 2087)
اسی طرح امام ابن
حبانؒ نے بھی اپنی صحیح میں اسے درج کرکے صحیح قرار دیا ہے۔
(صحيح ابن
حبان: جلد 1 صفحہ 222 رقم 179)
اور امام حاکمؒ نے بھی
اپنی المستدرک میں درج کرکے اسكو امام بخاری و مسلم کی شرائط پہ صحیح قرار دیا ہے،
اور امام ذھبی نے بھی انکی موافقت کی ہے۔
(المستدرک
علی الصحیحین للحاکم: رقم 4179)
اسی طرح شیخ شعیب
الارنوؤطؒ نے بھی اسے امام مسلم کی شرائط پہ صحیح قرار دیا ہے۔
(مسند احمد
ط الرسالۃ: جلد 37 صفحہ 224 و 225 رقم 22537)
اس روایت کو شیخ ناصر
الدین البانیؒ بھی صحیح قرار دیتے ہیں۔
(صحیح
الترغیب والترھیب: جلد 1 صفحہ 590 رقم 1010)
حاصل کلام:
مندرجہ بالا تحریر سے
یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ روایت بلکل صحیح ہے، امام بخاری کی جرح مرجوع ہے جو اس روایت
کو ہرگز نقصان نہیں پہنچاتی، جیسا کہ جمھور آئمہ کی تحسین موجود ہے۔ اسکے علاوہ بھی
اس رویت کی دیگر اسانید موجود ہیں، جن کو ہم مستقبل میں کبھی ان شاءاللہ جمع کرکے
تحقیق سامنے لائیں گے۔ تمام احباب یوم عرفہ کا روزہ رکھیں، یہ روزہ سنت اور مستحب
ہے، اسکی بہت اعلی فضیلت ہے۔
تحریر
و تحقیق: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment