-->

امام شعبیؒ اور تقلید

 ]امام شعبی رحمہ اللہ اور تقلید[

 

امام عبد الرحمن الدارمی رحمہ اللہ (المتوفی: 255ھ) اپنی سنن میں باسند صحیح یہ نقل کرتے ہیں کہ امام عامر بن شراحيل الشعبی ؒ (المتوفی 104ھ) فرماتے ہیں:

أخبرنا محمد بن يوسف، حدثنا مالك هو: ابن مغول، قال: قال لي الشعبي "ما حدثوك هؤلاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فخذ به، وما قالوه برأيهم، فألقه في الحش"

یہ لوگ تجھے رسول اللہ ﷺ کی جو حدیث بتائیں اسے لے لو اور جو اپنی رائے سے کہیں اسے کوڑے کے ڈھیر پہ پھینک دو۔

(سنن الدارمی: رقم 206: وسندہ صحیح)

امام شعبی ؒ کے اس قول کو دیگر آئمہ نے بھی نقل کیا ہے،

اختصار کے پیش نظر ان میں سے چند حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ امام احمد بن حنبلؒ:

(العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله: ج 1 ص 283 رقم 454)

2۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ:

(إتحاف المهرة لابن حجر: ج 19 ص 108 رقم 24484)

3۔ امام شمس الدین الذھبیؒ:

(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: ج 4 ص 319)

4۔ امام جلال الدین السیوطیؒ:

(نواهد الأبكار وشوارد الأفكار: ج 3 ص 451)

5۔ امام خطیب بغدادیؒ:

(الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع: ج 2 ص 190 رقم 1575)

6۔ شاہ ولی اللہ الدھلویؒ:

(الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف: ص 47)

امام شعبی رحمہ اللہ کے قول سے یہ معلوم ہوا کہ کسی شخص کیلیے یہ درست نہیں کہ دین میں وہ لوگوں کی رائے قبول کرتا پھرے بجائے اسکے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپکی حدیث کو لے اور اسکی کوشش کرے۔ ایک مسلمان کیلیے یہ ضروری ہے کہ وہ ہر مسئلے میں رسول اللہ ﷺ کی فرمان کو سامنے رکھے اور اسی پہ عمل کرے اور اسی پہ اپنا عقیدہ قائم کرے اور اس کے مطابق فقہا اور علماء کی رائے کو ثانوی حیثیت سے لے ناکہ اپنے اسلاف کی رائے کو حتمی جان کر قبول کرلیا جائے اور چاہیے تو یہ کہ اسکے برعکس رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو تلاش کیا جائے، رسول اللہ ﷺ کے فرامین کے علوم کو اہمیت دی جائے اور انکو سیکھا جائے۔ ہمارے یہاں المیہ ہے کہ اپنے علماء اور بزرگوں تک دین کو محدود کرکے انکی رائے پہ اپنا دین چلایا جارہا ہے جسکی بدولت آج امت مسلمہ فرقہ واریت، مسلک اور آباء پرستی میں دھنس چکی ہے۔ اللہ ہم سب کو دین کے علوم کو سیکھنے اسکو سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

✍️ : شہزاد احمد آرائیں