-->

قبر آخرت کا حصہ ہے - قسط اول

 

﴿قبر آخرت کا حصہ ہے﴾

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

یہ اس سرکش کا رد ہے جس نے اپنے نفس اور اپنی جہالت کی پیروی اس شدت سے شروع کی ہے کہ حق سے واضع عناد اور صریح مخالفت شروع کردی ہے، اس سرکش کی چرب زبان کے فتنے میں کئی کم علم احباب آجاتے ہیں، ہماری اس تحریر کا مقصد اس سرکش کا رد کرنا ہے جس کا یہ قول ہے کہ قبر آخرت کا حصہ نہیں ہے۔ یہ عقیدہ قرآن اور نبی کریم ﷺ کے فرمان کے بلکل خلاف اور متضاد ہے،ہمارا رد ان نواصب پہ ہے جنکا یہ عقیدہ ہے کہ قبر گناہوں کی صفائی کا ذریعہ ہے تاکہ آخرت میں ان پہ کوئی عذاب نہ رہے اور وہ پاک ہوجائیں۔ ہم ان تحاریر میں قرآن و سنت اور سلف صالحین سے انکا رد کریں گے۔ ان شاءاللہ تعالی۔

قسط نمبر (1)

اللہ تعالی قرآن پاک فرقان حمید میں فرماتے ہیں:

ُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ ۙ وَ یَفۡعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ (سورۃ ابراہیم: 27)

ایمان والوں کو اللہ تعالٰی پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے ، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ہاں نا انصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے ۔

صحیح مسلم میں واضع طور پہ نبی کریم ﷺ کا فرمان موجود ہے کہ یہ آیت قبر کے عذاب کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔
(صحیح مسلم 2871)

صحیح مسلم میں اس روایت پہ باب ‌عرض ‌مقعد ‌الميت ‌من ‌الجنة ‌أو ‌النار ‌عليه، ‌وإثبات ‌عذاب ‌القبر، ‌والتعوذ ‌منه كے نام باندها گيا هے، جس كا ترجمہ یہ ہے کہ  میت کیلیے جنت یا دوزخ کا ٹھکانہ اسکے سامنے پیش کیا جاتا ہے، عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنا۔

یہی فرمان سیدنا براء بن عاذبؓ سے موقوفا بھی مروی ہے۔ (صحیح مسلم: 2872)

صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق بھی رسول اللہ ﷺ نے ایسی ہی تفسیر فرمائی ہے: آپ ﷺ فرماتے ہیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر ہے جو سورۃ ابراہیم میں ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔ (صحیح بخاری: 1369) اور امام بخاری نے اس روایت کو باب ماجاء فی عذاب القبر کے تحت درج کیا ہے۔

یہی روایت مشکواۃ المصابیح میں بھی نقل ہوئی ہے۔

امام ولی الدین محمد بن عبد اللہ الخطیب الطبریزی نے اس روايت باب اثبات القبر كے تحت درج كيا هے، رقم 125۔

اسی آیت کو امام بیھقی نے عذاب قبر پہ دلیل بنایا ہے اور اپنی کتاب اثبات عذاب القبر میں پورا باب قائم کیا ہے:

‌‌باب ما في هذه الآية من الوعيد للكفار بعذاب القبر قال الله تعالى {ويضل الله الظالمين ويفعل الله ما يشاء} [إبراهيم: 27]

باب اس آیت میں کفار کو عذاب قبر کی وعید کے متعلق کیا ہے؟ اللہ تعالی تعالی نے فرمایا: (سورۃ ابراہیم: 27)

اسی روایت کو امام بیھقی نے عذاب قبر کے متعلق پھر دلیل بنایا ہے اور اپنی کتاب اثبات عذاب القبر کے اس باب میں پہلی روایت ہی یہی لائے ہیں:

عن البراء بن عازب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة} [إبراهيم: 27] قال: نزلت في عذاب القبر، يقال له: من ربك؟ فيقول: ربي الله ونبيي محمد، فذلك قوله {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت} [إبراهيم: 27] رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن بشار، ورواه مسلم أيضا عن محمد بن بشار

(اثبات عذاب القبر للبیقی: رقم 8 صحيح)

سیدنا براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نے سورۃ ابراہیم کی ایت نمبر 27 کی تلاوت کی اور فرمایا کہ یہ عزاب القبر کے تعلق سے نازل ہوئی ہے، ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا رب کون ہے؟ وہ (مومن) کہیں گے: میرا رب اللہ ہے اور میرا نبی محمد ﷺ ہے، اور یہ اسی کا قول ہے کہ ایمان والوں کو اللہ تعالٰی پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے (سورۃ ابراہیم آیت 27)

اسی روایت کو مفسر اسلام امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری نے بھی اپنی تفسیر الطبری جامع البیان میں کئی مقامات پہ درج کیا ہے مثلا: تفسیر طبری جماع البیان ط دار التربیہ التراث: جلد 16 صفحہ 590 سے آگے کئی طریق سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

امام طبری نے سیدنا ابو ھریرہؓ سے بھی ایسی روایت بیان کی ہے:

عن أبي هريرة قال، تلا رسُول الله صلى الله عليه وسلم: (‌يثبّت ‌الله ‌الذين ‌آمنوا ‌بالقول ‌الثابت ‌في ‌الحياة ‌الدنيا ‌وفي ‌الآخرة) ، قال: ذاك إذا قيل في القبر: مَنْ ربك؟ وما دينك؟ فيقول: ربي الله، وديني الإسلام، ونبيّي محمدٌ صلى الله عليه وسلم، جاء بالبينات من عِنْد الله فآمنتُ به وصدَّقت. فيقال له: صَدَقْتَ، على هذا عشت، وعليه مِتَّ، وعليه تُبْعَث۔

سیدنا ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سورۃ ابراہیم کی آیت 27 تلاوت کی اور فرمایا: ایسا تب ہوگا جب قبر میں پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ اور تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ (مومن) جواب دے گا کہ میرا رب اللہ تعالی ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں جو ہمارے پاس اللہ کے واضع دلائل لیکر آئے تھے، میں نے انکی تصدیق کی۔ پھر اسے کہا جائے گا کہ تم نے سچ کہا، تم اسی پہ زندہ رہے اور اسی پہ مرے اور اسی پہ دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔

(تفسیر طبری جامع البیان: جلد 16 صفحہ 596 واسناد حسن لذاتہ)

امام طبری اسی طرح سے امام قتادۃ بن دمامۃ کا قول نقل کرتے ہیں کہ:

حدثنا بشر قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة، قوله: (يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا) ، أما " الحياة الدنيا" فيثبتهم بالخير والعمل الصالح، وقوله (وفي الآخرة) ، أي في القبر۔

قتادہ سے مروی انکا یہ قول مروی ہے: (ایمان والوں کو اللہ تعالٰی پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے ، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی) جیسا کہ دنیا کی زندگی میں اچھے اور صالح اعمال سے ثابت کرے گا اور آخرت میں یعنی قبر میں۔

(تفسیر طبری جامع البیان: جلد 16 صفحہ 602 وسند صحیح)

اور اسی طرح امام طبری نے امام طاوس بن کیسان سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

حدثنا الحسن بن يحيى قال، أخبرنا عبد الرزاق قال، أخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه: (يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا) ، قال: لا إله إلا الله= (وفي الآخرة) ، المسألة في القبر۔

طاوس بن کیسانؒ سے مروی ہے: ایمان والوں کو اللہ تعالٰی پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے ، دنیا کی زندگی میں بھی۔ انہوں نے کہا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آخرت میں بھی قبر کے سوال سے۔

(تفسیر طبری: جلد 16 صفحہ 602: وسند حسن)

اسکے بعد امام طبری خود فرماتے ہیں:

والصواب من القول في ذلك ما ثبتَ به الخبر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك، وهو أنّ معناه: (يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا) ، وذلك تثبيته إياهم في الحياة الدنيا بالإيمان بالله وبرسوله محمد صلى الله عليه وسلم = (وفي الآخرة) بمثل الذي ثبَّتهم به في الحياة الدنيا، وذلك في قبورهم حين يُسْألون عن الذي هم عليه من التوحيد والإيمان برسوله صلى الله عليه وسلم۔

اس آیت کے متعلق درست بات وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ اللہ ایمان والوں کو قول ثابت کے ذریعے دنیا میں ثابت قدم رکھتا ہے اور اسکا انہیں اللہ اور اسکے رسول محمد ﷺ پہ ایمان کے ساتھ ثابت رکھنا دنیا کی زندگی میں ہے جبکہ آخرت میں میں بھی وہ انہیں اسی طرح ثابت قدم رکھے گا جیسے دنیا میں رکھا تھا اور یہ اثبات انکی قبروں میں ہوتا ہے جب ان سے انکی توحید اور ایمان بالرسول ﷺ کے متعلق پوچھا جاتا ہے جس پہ وہ دنیا میں قائم تھے۔

(تفسیر طبری: جلد 16 صفحہ 602)

اسی طرح مفسر قرآن امام ابو محمد حسین بن مسعود البغوی اپنی تفسیر میں اسی آیت کریمہ کے متعلق فرماتے ہیں:

قوله تعالى: {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت} كلمة التوحيد، وهي قول: لا إله إلا الله {في الحياة الدنيا} يعني قبل الموت، {وفي الآخرة} يعني في القبر. هذا قول أكثر أهل التفسير. وقيل: "في الحياة الدنيا": عند السؤال في القبر، "وفي الآخرة": عند البعث. والأول أصح

اللہ تعالی کا ارشاد کہ اللہ تعالی ایمان والوں کو ثابت قدم رکھتا ہے۔ قول ثابت یعنی کلمہ توحید لا الہ الا اللہ اور (حیوۃ الدنیا) سے مراد موت سے قبل اور (وفی الآخرۃ) سے مراد قبر میں ثابت قدم رکھنا ہے۔ یہ قول مفسرین کی اکثریت کا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فی (الحیاۃ الدنیا) قبر کے سوالات کے وقت (وفی الآخرۃ) دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت ہے، لیکن پہلی بات ہی صحیح ہے۔ (تفسیر بغوی: جلد 4 صفحہ 349)

اسکے بعد امام بغوی اپنی بات کے دلائل نقل کرتے ہیں جنکا زکر ہم نے پہلے کردیا ہے۔

امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی ابن جوزیؒ بھی اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

قوله تعالى: يثبت الله الذين آمنوا أي: يثبتهم على الحق بالقول الثابت، وهو شهادة أن لا إله إلا الله. قوله تعالى: في الحياة الدنيا وفي الآخرة فيه قولان: أحدهما: أن الحياة الدنيا: زمان الحياة على وجه الأرض، والآخرة: زمان المساءلة في القبر، وإلى هذا المعنى ذهب البراء بن عازب، وفيه أحاديث تعضده. والثاني: أن الحياة الدنيا: زمن السؤال في القبر، والآخرة: السؤال في القيامة، وإلى هذا المعنى ذهب طاوس، وقتادة قال المفسرون: هذه الآية وردت في فتنة القبر، وسؤال الملكين، وتلقين الله تعالى للمؤمنين كلمة الحق عند السؤال، وتثبيته إياهم على الحق. ويضل الله الظالمين يعنى: المشركين، يضلهم عن هذه الكلمة، ويفعل الله ما يشاء من هداية المؤمن وإضلال الكافر۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اللہ ایمان والوں کو ثابت رکھتا ہے، انہیں کلمے کے ذریعے حق پہ ثابت رکھتا ہے اور وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی ہے۔ اللہ کا ارشاد (فی الحیاۃ الدنیا وفی الاخرۃ) اس میں دو اقوال ہیں: پہلا قول حیاۃ الدنیا سے مراد دنیا کی زندگی اور آخرۃ سے مراد قبر میں سوالات کا وقت ہے۔ اس معنی کو سیدنا براء بن عاذبؓ نے اختیار کیا ہے اور اسی پر احادیث بھی ہیں جو اسے تقویت دیتی ہیں۔ دوسرا قول یہکہ حیاۃ الدنیا سے مراد قبر میں ہونے والے سوالات ہیں اور آخرۃ سے مراد قیامت میں ہونے والے سوال ہیں۔ اس معنی کو طاؤس اور قتاۃ نے اختیار کیا ہے۔ مفسرین نے کہا کہ: یہ آیت آزمائش قبر، اور فرشتوں کے سوالات، اور اللہ کا مومنوں کو سوالات کے وقت کلمہ حق کی تلقین کرنا اور انہیں حق پہ قائم رکھنے کیلیے نازل ہوئی ہے۔ اور اللہ ظالموں کو گمراہ کردیتا ہے یعنی مشرکوں کو اس کلمے سے گمراہ کردیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، مومنوں کو ہدایت دیتا اور کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔ (زاد المیسر: جلد 2 صفحہ 512-513)

اور اب بھی کوئی قبر کو اخرت کا حصہ نہ مانے تو یہ اسکے گمراہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔

وما علینا الا البلاغ المبین۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

تحریر  و تحکیم و اقتباسات: ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں۔