-->

امام شافعیؒ اور اجماع

 ﴿امام شافعیؒ اور اجماع﴾


ہم پچھلی تحریر میں یہ چیز نقل کرچکے ہیں کہ بغیر تحقیق اور علم کے کیا گیا اجماع کا دعوی جھوٹ ہوتا ہے، اور اسکی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ یہ معاملہ آج ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم دلائل اور منطق سے کوئی اختلاف کرتے ہیں تو بعض فرقہ متاثرین جلدی سے اس پہ اجماع کے دعوے کرنے لگتے ہیں، ویسے بغیر تحقیق و علم کے کیے گئے دعوے کی حیثیت شرعی طور پہ صفر ہے بلکہ ایسا کرنے والا گنہگار بھی ہے۔ ایسا ہی ایک اور معاملہ یہ پیش آتا ہے کہ امت کے جید ترین آئمہ سے اختلاف نقل کرتے ہیں اور نفس پرست اسکے خلاف اجماع کے دعوے یا تو خود کردیتے ہیں یا پھر سلف سے نقل کردیتے ہیں، جبکہ یہ ایسے جاہل لوگ ہیں جنہیں یہی نہیں معلوم کہ اجماع تب ہی منقعد ہوتا ہے جب اس پہ اختلاف نہ ہو، اگر اختلاف معلوم ہوجائے تو پھر اجماع کا دعوی فاسد ہوجاتا ہے، اسکے بعد اس اختلاف میں آپ دلائل اور اجتہاد کی بنیاد پہ ترجیح قائم کریں۔

 

استاد الآئمہ امیر المومنین فی الحدیث والفقہ امام محمد بن ادریس الشافعی الہاشمیؒ (المتوفی 204ھ) لکھتے ہیں:
فذلك الإجماع هو الذي ‌لو ‌قلت: ‌أجمع الناس؛ لم تجد حولك أحدا يعرف شيئا يقول لك ليس هذا بإجماع
یہ وہ اجماع ہے کہ اگر تم یہ کہو کہ لوگوں کا اجماع ہے تو پھر تم اپنے ارد گرد کچھ علم رکھنے والے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہیں پاؤ گے کہ یہ اجماع نہیں ہے۔
(الأم للشافعي - ط دار المعرفه: جلد 7 صفحه 281)

لہزا معلوم ہوا کہ اگر کسی اجماع کے دعوے کے خلاف کسی صاحب علم کا قول مل جائے تو پھر وہ اجماع باقی نہیں رہتا۔
تحریر: شہزاد احمد آرائیں۔