-->

امام احمد بن حنبلؒ اور اجماع

 ﴿امام احمد بن حنبلؒ اور اجماع﴾

اجماع سے مراد کسی بھی چیز پہ جب تمام امت جمع ہوجائے اور اسکے خلاف کوئی رائے اور قول موجود نہ ہو تو وہ اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع امت بلاشبہ حجت ہے، مگر اجماع کا دعوی کرنے سے کیا اجماع واقعہ ہوجاتا ہے؟ حالانکہ اجماع کرنے والے نے ہرگز پوری دنیا کے مسلمانوں کی رائے کو نہیں جانا ہوتا اور ناہی اگلے ادوار میں ایسا ممکن ہوتا تھا ایک شخص مشرق تا مغرب ہر جگہ سفر کرکے کسی خاص مسئلے پہ مسلمانوں کی رائے جانتا پھرے تاکہ اجماع نقل کرسکے۔ آئمہ کرام تک جو معلومات پہنچی انہوں نے اسکے متعلق دعوے کردیے، جس کی وجہ سے آج ہم جب دیکھتے ہیں تو ایک ہی مسئلے پہ کئی بار اجماع کے دو متضاد دعوے بھی مل جاتے ہیں۔ اسی وجہ کے پیش نظر اس بغیر تحقیق کے عمل کی سخت مخالفت امام احمد بن حنبلؒ نے کی ہے کیونکہ جب ایسا ممکن ہی نہیں تو بغیر تحقیق کیے یہ جائز نہیں کہ اجماع کا دعوی کیا جائے، جیسا کہ آج کل ہم جب کسی سے ایسا اختلاف کرلیں جو اس نے پہلے کبھی نہ سنا ہو تو فورا سے اجماع کا دعوی کردیتا ہے، کجا نظر اس کے کہ اسکو اسکا زرہ برابر علم بھی ہو۔ بہرحال

امام عبد اللہ بن احمد بن حنبلؒ (المتوفی 290ھ) لکھتے ہیں:

حدثنا قال: سمعت ابي يقول: ما يدعي الرجل فيه الاجماع، هذا الكذب، من ادعى الاجماع فهو كذب۔ لعل الناس قد اختلفوا۔ هذا دعوى بشر المريسي والاصم ولكن يقول: لا يعلم الناس يختلفون، اولم يبلغه ذلك، ولم ينته اليه فيقول: لا يعلم، الناس اختلفوا۔

میں نے اپنے والد احمد بن حنبلؒ کو کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص اجماع کا دعوی کرتا ہے، وہ جھوٹا ہے، جو اجماع کا دعوی کرتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے، شاید لوگ پہلے ہی اختلاف کر چکے ہوں، یہ دعوی ہے المریسی اور الاصم کا۔ ليكن کہتے ہے کہ: وہ نہیں جانتے کہ لوگ اختلاف کرتے ہیں، اور نه اسكے متعلق مطلع گيا اور نه اس میں تنبيه کی گئی، چناچہ وہ کہتا ہے، میں نہیں جانتا کہ لوگ اختلاف کرتے ہیں۔

(مسائل الإمام أحمد رواية ابنه عبد الله: صفحہ 438 و 439 رقم 1587)

امام احمد بن حنبلؒ کے قول کا یہ مطلب نہیں کہ اجماع جائز نہیں یاں اجماع کا دعوی نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ یہاں معتزلہ کا رد کررہے ہیں کہ وہ بغیر دوسروں کے اختلاف کے متعلق جانے اپنی باطل باتوں کے دفاع میں اجماع کے دعوے کردیتے ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کے اس قول کو نقل کرنے کے بعد تھوڑی آگے جاکر:

امام علاء الدین ابو الحسن المرداوی (المتوفی 885ھ) لکھتے ہیں:

 وقال ابن رجب في آخر " شرح الترمذي ": وأما ما روي من قول الإمام أحمد: من ادعى الإجماع فقد كذب فهو إنما قاله إنكارا على فقهاء المعتزلة الذين يدعون إجماع الناس على ما يقولونه، وكانوا من أقل الناس معرفة بأقوال الصحابة والتابعين انتهى۔

اور امام ابن رجبؒ "شرح الترمذی" کے آخر میں کہتے ہیں: "اور جہاں تک امام احمد بن حنبلؒ کے قول کا تعلق ہے کہ جس نے اجماع کا دعوی کیا اس نے جھوٹ بولا، تو انہوں نے یہ قول معتزلہ کے فقہاء کے تردید کے طور پہ کہا جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ لوگوں کا انکی باتوں پہ اجماع ہے، اور وہ لوگ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے اقوال کی سب سے کم معرفت رکھنے والوں میں سے تھے۔

(التحبير شرح التحرير في أصول الفقه: جلد 4 صفحہ 1528 و 1529)

معلوم ہوا کہ بغیر اختلاف کو جاننے کی کوشش کے کیا گیا اجماع کا دعوی غلط ہے اور جھوٹ پہ بھی مبنی ہے کیونکہ جانے انجانے میں اس نے جھوٹ ہی کہا کہ اس پہ امت متفق ہے۔ اجماع کا دعوی کرنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ میں اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں جانتا، اسطرح انسان اپنی عاجزی پیش کرتا ہے اور اپنا مقدمہ بھی احسن پیش کرسکتا ہے اور جھوٹ سے بھی بچ سکتا ہے۔ واسلام۔

تحریر: شہزاد احمد آرائیں۔