امام محمد بن حسن الشیبانیؒ اور یوم عرفہ کا روزہ
﴿امام محمد بن حسن الشیبانیؒ اور یوم عرفہ کا روزہ﴾
امام محمد بن حسن الشیبانیؒ سے کون واقف نہیں ہے، آپؒ امام ابو حنیفہؒ کے
شاگرد خاص تھے اور آپؒ نے انکی فقہ کی تدوین اور اشاعت میں بہت اہم کردار ادا کیا
ہے۔ آپؒ حديث ميں تو ضعیف تھے مگر فقہ وغیرہ میں
آپکا اپنا مقام ہے۔ امام ذهبیؒ آپکا ترجمہ قائم کرکے لکھتے ہیں:
العلامة، فقيه العراق، أبو عبد
الله الشيباني، الكوفي، صاحب أبي حنيفة
علامہ، عراق کے فقیہ، ابو عبد اللہ الشیبانی، کوفی، امام ابو حنیفہؒ کے ساتھی۔
(سير أعلام النبلاء - ط
الرسالة: جلد 9 صفحہ 134)
امام ابو الحسن محمد بن الحسین
السجستانیؒ (المتوفی 363ھ) لکھتے ہیں:
خبرني الزبير بن عبد الواحد بحمص،
قال: حدثني أبو عمارة بمصر، قال: سمعت الربيع بن سليمان يقول: سمعت الشافعي يقول:
((لو أشاء أن أقول: نزل القرآن بلغة محمد بن الحسن من فصاحته))
امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ اگر میں کہنا چاہوں تو کہوں کہ قرآن محمد بن الحسن کی
زبان میں انکی فصاحت کی وجہ سے نازل ہوا ہے۔
(مناقب الشافعي للأبري:
صفحہ 78 رقم 30، ابو عمارۃ مجھول فی ھذا)
آپ نے امام ابو
حنيفهؒ كے ساتھ ساتھ امام مالک بن انسؒ، امام مالک بن مغولؒ، امام سفیان ثوریؒ اور امام
اوزائیؒ جیسے جلیل القدر آئمہ سے سماع کیا ہے اور آپ سے امام دار الحجر محمد بن
ادریس الشافعیؒ اور امام یحیی بن معینؒ جیسے آئمہ نے سماع کیا ہے۔ آپ نے تو امام
مالکؒ کے پاس حدیث کے سماع کیلیے قیام کیا ہے اور ان موطا کا سماع کیا ہے جوکہ
موطا امام محمد کے نام سے معروف و مشہور ہے، دراصل یہ امام مالکؒ کی موطا ہی ہے
مگر اس میں امام محمد بن حسن الشیبانیؒ نے دیگر اساتذہ سے بھی احادیث نقل کردی ہیں
جسکی وجہ سے اسکی نسبت امام محمدؒ کی طرف کی جاتی ہے۔ اس میں آپؒ کے اپنے حنفی
فقہی منہج کے مطابق احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اقوال بھی موجود ہیں۔ آپؒ یوم
عرفہ کے روزے کے متعلق باب قائم کرتے ہیں اور حدیث نقل کرتے ہیں کہ:
أخبرنا مالك، حدثنا سالم أبو
النضر، عن عمير مولى ابن عباس، عن أم الفضل ابنة الحارث، " أن ناسا تماروا في
صوم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عرفة، فقال بعضهم: صائم، وقال آخرون: ليس
بصائم، فأرسلت أم الفضل بقدح من لبن وهو واقف بعرفة فشربه "،
قال محمد: من شاء صام يوم عرفة، ومن شاء أفطر، إنما صومه تطوع، فإن كان إذا
صامه يضعفه ذلك عن الدعاء في ذلك اليوم، فالإفطار أفضل من الصوم۔
سيده ام فضلؓ بنت حارث سے روایت ہے کہ "بعض
لوگوں نے یوم عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے روزے کے متعلق جھگڑا کیا، کچھ لوگوں نے
کہا کہ آپ روزے سے ہیں اور کچھ نے کہا کہ آپ روزے سے نہیں ہیں۔ تو سیدہ ام فضلؓ نے دودھ کا پیالا بھیجا اور آپ ﷺ عرفات میں موجود تھے تو آپ
ﷺ نے اسے نوش فرما لیا۔
امام محمد بن حسن الشیانیؒ کہتے ہیں: جو شخص چاہے وہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھے اور
جو چاہے اسے نہ رکھے کیونکہ یہ روزہ نفلی ہے۔ جس شخص کو اس دن روزہ رکھنے کی وجہ
سے دعاء میں کمزوری کا خدشہ ہو تو اسکے لیے روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
(موطأ مالك رواية محمد
بن الحسن الشيباني: صفحہ 129 رقم 369 وسندہ صحیح)
اسکے حاشیے میں کتاب کے محقق عبد الوہاب عبد اللطیب لکھتے ہیں:
ذهب إلى كراهة صوم يوم عرفة
المالكية ، لفعل النبي عليه السلام ، وللتقوى على عمل الحج والاجتهاد في الدعاء
والتضرع المطلوب في ذلك الموضع ، وصومه عند الشافعية خلاف الأولى ، كما في
الزرقاني (التعليق ص ١٤٧)۔
(حجاج كيليے) مالکیہ یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کی طرف گئے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے
عمل کی وجہ سے، اور حج کی ادائیگی کیلیے تقوی اور دعاء اور مناجات میں لگن اس مقام
پہ مطلوب ہوتی ہے۔ اور شوافع کے نزدیک روزہ خلاف اولی ہے، جیسا کہ الزرقانی نے
التعلیق صفحہ 147 میں بیان کیا ہے۔
(ايضا)
تحرير: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment