امام ابن کثیرؒ کا یزید ملعون کے متعلق موقف
﴿امام ابن کثیرؒ کا یزید ملعون کے متعلق موقف﴾
چند نواصب کو دیکھا کہ وہ
امام ابن کثیرؒ کی تاریخ سے چند عبارتیں اٹھا کر اپنا منجن بیچ رہے ہیں، کجا نظر
اس کے یہ ان روایات کی اصول تاریخ میں ہی حیثیت کیا ہے اور آئمہ نے انکے ساتھ کیسا
سلوک برتا ہے، ان کو صرف لکھی ہوئی چیز چاہیے، چاہے ہو کسی موضوعات میں ہی کیوں نہ
ہو۔ خیر
امام ابن کثیرؒ الکھتے ہیں:
وقد أخطأ يزيد خطأ فاحشا
في قوله لمسلم بن عقبة أن يبيح المدينة ثلاثة أيام، وهذا خطأ كبير فاحش، مع ما انضم
إلى ذلك من قتل خلق من الصحابة وأبنائهم، وقد تقدم أنه قتل
الحسين وأصحابه على يدي
عبيد الله بن زياد.
وقد وقع في هذه الثلاثة
أيام من المفاسد العظيمة في المدينة النبوية ما لا يحد ولا يوصف، مما لا يعلمه إلا
الله عز وجل، وقد أراد بإرسال مسلم بن عقبة توطيد سلطانه وملكه، ودوام أيامه من
غير منازع، فعاقبه الله بنقيض قصده، وحال بينه وبين ما يشتهيه، فقصمه الله قاصم الجبابرة،
وأخذه أخذ عزيز مقتدر وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة إن أخذه أليم شديد.
قال البخاري في صحيحه:
حدثنا الحسين بن حريث، ثنا الفضل بن موسى، ثنا الجعيد، عن عائشة بنت سعد بن أبي
وقاص عن أبيها.
قال: سمعت رسول الله صلى
الله عليه وسلم يقول: " لا يكيد أهل المدينة أحد إلا انماع كما ينماع الملح
في الماء "۔
ترجمہ از مترجم:
اور یزید نے مسلم بن عقبہ
کو یہ کہنے میں کہ وہ مدینہ کو تین دن تک مباح کر دے، فحش غلطی کی ہے اور یہ ایک
بہت بڑی قبیح غلطی ہے اور اس کے ساتھ بہت سے صحابہؓ اور ان کے بیٹوں کا قتل بھی
شامل ہے اور پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس نے حضرت حسینؑ اور آپ کے اصحاب کو عبید اللہ
بن زیاد کے ہاتھوں قتل کیا اور ان تین ایام میں مدینہ منورہ میں بے حد و حساب عظیم
مفاسد رونما ہوئے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس نے مسلم بن عقبہ کو بھیج
کر اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط کرنا اور کسی جھگڑا کرنے والے کے بغیر اپنے ایام
کو دوام بخشنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے ارادے کے خلاف اسے سزا دی اور اس کے
ارادے کے درمیان حائل ہو گیا پس اللہ تعالٰی نے اسے ہلاک کر دیا جو چاروں کو ہلاک
کرنے والا ہے اور اس نے غالب مقتدر کی طرح گرفت کی اور اسی طرح تیرے رب نے ظالم
بستیوں پر گرفت کی بلا شبہ اس کی گرفت دردناک اور سخت ہوتی ہے۔
امام بخاری نے اپنی صحیح
میں بیان کیا ہے کہ حسین بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ فضل بن موسیٰ نے ہم سے بیان
کیا کہ الجعد نے عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص سے اس کے باپ کے حوالے سے بیان کیا وہ
بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیان کرتے سنا کہ "جو کوئی اہل مدینہ
سے جنگ کرے گا وہ یوں پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے"۔
)البداية والنهاية ت شيري: جلد 8 صفحہ 243، 244(
)تاریخ ابن کثیر اردو مترجم: جلد 8 صفحہ 283(
اسكے آگے پھر امام ابن کثیرؒ
اس طرح کی احادیث نقل کرتے ہیں، اختصار کے پیش نظر میں انکو یہاں نقل نہیں کررہا کیونکہ
امام ابن کثیرؒ نے پورا ایک صفحہ اس کے مختلف طریق سے بھر دیا ہے۔ پھر ایک طریق پہ
امام دارقطنی کا کلام نقل کرکے لکھتے ہیں:
وقد استدل بهذا الحديث
وأمثاله من ذهب إلى الترخيص في لعنة يزيد بن معاوية وهو رواية عن أحمد بن حنبل
اختارها الخلال وأبو بكر عبد العزيز والقاضي أبو يعلى وابنه القاضي أبو الحسين
وانتصر لذلك أبو الفرج بن الجوزي في مصنف مفرد، وجوز لعنته.
ومنع من ذلك آخرون وصنفوا
فيه أيضا لئلا يجعل لعنه وسيلة إلى أبيه أو أحد من الصحابة۔
اور اس حدیث اور اس قسم کی
احادیث سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو یزید بن معاویہ پر لعنت ڈالنے میں رخصت
کے قائل ہیں اور یہ روایت احمد بن حنبل سے ہے جسے الخلال ابو بکر عبد العزیز، قاضی
ابولیلیٰ اور اس کے بیٹے قاضی ابوالحسین نے اختیار کیا ہے اور ابوالفرج ابن جوزی
نے ایک الگ تصنیف میں اس سے مدد لی ہے اور اس پر لعنت کو جائز قرار دیا ہے اور
دوسروں نے اس سے روکا ہے اور اس بارے میں اسی طرح کتابیں تصنیف کی ہیں تا کہ اس کی
لعنت اس کے باپ یا کسی صحابی کی لعنت کا ذریعہ نہ بن جائے۔
)البداية والنهاية ت شيري: جلد 8 صفحہ 245(
)تاریخ ابن کثیر اردو مترجم: جلد 8 صفحہ 286(
کچھ آگے جاکر امام ابن کثیرؒ
لکھتے ہیں:
فهذا إن قاله يزيد بن
معاوية فلعنة الله عليه ولعنة اللاعنين، وإن لم يكن قاله فلعنة الله على
من وضعه عليه ليشنع به
عليه، وسيذكر في ترجمة يزيد بن معاوية قريبا، وما ذكر عنه وما قيل فيه وما كان
يعانيه من الأفعال والقبائح والأقوال في السنة الآتية، فإنه لم يمهل بعد وقعة الحرة
وقتل الحسين إلا يسيرا حتى قصمه الله الذي قصم الجبابرة قبله وبعده، إنه كان
عليما قديرا.
وقد توفي في هذه السنة
خلق من المشاهير والأعيان من الصحابة وغيرهم في وقعة الحرة مما يطول ذكرهم.
فمن مشاهيرهم من الصحابة
عبد الله بن حنظلة أمير المدينة في وقعة الحرة، ومعقل بن سنان وعبيد الله بن زيد
بن عاصم رضي الله عنهم، ومسروق بن الأجدع
ترجمہ از مترجم:
اگر یزید بن معاویہ نے یہ
شعر کہا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو اور اگر اس نے یہ
شعر نہیں کہا تو اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے اسے گالی دینے کے لیے اسے گھڑا
ہے اور عنقریب آئندہ سال میں یزید بن معاویہ کے حالات میں اس کے اقوال قبائح اور
افعال اور جو کچھ اس کی طرف سے بیان کیا گیا ہے اور جو کچھ اس کے بارے میں کہا گیا
ہے بیان کیا جائے گا معرکہ حرہ اور حضرت حسین کے قتل کے بعد اسے تھوڑی سی مہلت ملی
حتی کہ اللہ نے اسے ہلاک کر دیا جس نے اس سے پہلے اور بعد سرکشوں کو ہلاک کیا ہے
اور وہ علیم وقدیر ہے اس سال بہت سے مشاہیر اور اعیان صحابہ وغیر ہم نے معرکہ حرہ
میں وفات پائی جن کا تذکرہ طوالت کا باعث ہوگا اور مشاہیر صحابہؓ میں حضرت عبداللہ
بن حنظلہؓ جو معرکہ حرہ میں امیر مدینہ تھے حضرت معقل بن سنانؓ حضرت عبید اللہ بن
زید بن عاصمؓ اور مسروق بن الا جدعؓ شامل ہیں۔
)البداية والنهاية ت شيري: جلد 8 صفحه 246(
)تاريخ ابن كثير اردو مترجم: جلد 8 صفحہ 285(
آگے چل کر امام ابن کثیرؒ
یزید کی اولاد میں پندرہ نام لڑکوں کے اور پانچ نام لڑکیوں کے گنواتے ہیں اور پھر
لکھتے ہیں:
وقد انقرضوا كافة فلم يبق
ليزيد عقب، والله سبحانه أعلم
اور یہ سب ہلاک ہوچکے ہیں
اور یزید کی کوئی اولاد باقی نہیں بچی۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
)البداية والنهاية ت شيري: جلد 8 صفحہ 260(
)تاریخ ابن کثیر اردو مترجم: جلد 8 صفحہ 300(
یوں رسول اللہ ﷺ کا فرمان
پورا ہوگیا اور اللہ تعالی نے یزید کو بغیر مہلت دیے اسے ویسے ہی گھول دیا جیسے
پانی میں نمک گھل جاتا ہے اور اسکی نسل کا نام و نشان تک مٹا دیا۔
یہ تمام حوالہ جات امام
ابن کثیرؒ کے اپنے موقف کے ہیں، ان میں انہوں نے کوئی روایت بیان نہیں کی بلکہ
اپنے تمام علم سے اخذ کیے گئے موقف کا تبصرہ یہاں کیا ہے جنہیں میں نے چن کر نقل
کردیا۔
ان سے مندرجہ ذیل چیزیں
واضع ہوتی ہیں جو امام ابن کثیرؒ کا اپنا تبصرہ ہے:
①
سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے والا یزید
بن معاویہ ہے، اس نے عبید اللہ بن زیاد کے ذریعے آپکو شہید کروایا۔
②
واقعہ حرہ یعنی تین دن تک حرم پاک مدینے منورہ میں
صحابہ کرامؓ کا قتل عام اور لوٹ مار مچانے کا عمل بھی یزید بن معاویہ کا تھا، اس
نے یہ کام مسلم بن عقبہ کے ذریعے کروایا۔
③
یزید کے ان کاموں کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی وعید اس پہ
پوری ہوگئی اور اسکا اور اسکی نسل کا نام و نشان مٹ گیا۔
④
امام ابن کثیر کے نزدیک جمھور آئمہ کا موقف یہی ہے کہ
وہ یزید پہ لعنت کو جائز قرار دیتے ہیں، اور جن لوگوں نے لعنت سے روکا تو اسکی وجہ
صرف یہ تھی یزید پہ لعنت اسکے والد معاویہ اور دیگر کسی صحابہ پہ لعنت کا ذریعہ نہ
بن جائے۔ یعنی یزید پہ لعنت سے نہ کرنے والے لوگوں بھی یزید پہ لعنت کو ناجائز نہیں
سمجھتے بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اسکی وجہ سے کہیں یزید کے والد یا کسی صحابی
پہ لعنت نہ ہوجائے۔
⑤
امام ابن کثیرؒ نے جہاں یزید پہ آئمہ کے لعنت کرنے کا
جواز نقل کیا وہاں انہوں نے خود بھی یزید پہ مشروط لعنت کی ہے۔ یعنی امام ابن کثیرؒ
کا اپنا موقف بھی یزید پہ لعنت کے جواز کا تھا۔
یوں ہم نے امام ابن کثیرؒ
کے تبصرے جو انہوں نے اپنی تاریخ کی کتاب میں یزید کے متعلق لکھتے ہیں وہ نقل کرکے
یہ واضع کردیا کہ یزید ملعون جمھور اہل سنت کی طرح امام ابن کثیرؒ کی نظر میں بھی
خبیث ملعون ہی ہے۔
تحریر: شہزاد احمد آرائیں




Post a Comment