-->

امام مالک بن انسؒ کے نزدیک وتر کی کم از کم تعداد

 

﴿امام مالک بن انس رحمہ اللہ کے نزدیک وتر کی کم از کم تعداد﴾

امام مالکؒ کے نزدیک وتر کی کم از کم تعداد تین ہے، امام مالکؒ اپنی کتاب الموطا امام مالک میں ایک رکعت وتر کے متعلق ایک روایت کو زکر کرتے ہیں اور پھر اس پہ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ ملاحظہ کیجیے:

 - وحدثني عن مالك، عن ابن شهاب، أن سعد بن أبي وقاص كان «يوتر بعد العتمة بواحدة» قال مالك: «وليس على هذا، العمل عندنا، ولكن أدنى ‌الوتر ثلاث»

امام مالکؒ روایت کرتے ہیں امام ابن شہاب الزہریؒ سے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ رات کے تاریک ہوجانے کے بعد ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ امام مالکؒ کہتے ہیں کہ: اور ہمارے یہاں اس پہ عمل نہیں ہے اور وتر کی کم سے کم تعداد تین ہے۔

(موطأ مالك - رواية يحيى ت عبد الباقي: جلد 1 صفحه 125 رقم 21)

معلوم ہوا کہ امام مالکؒ اپنا اور اپنے یہاں کا یعنی اہل مدینہ کا عمل نقل کرتے ہیں کہ انکے نزدیک وتر کی کم از کم تعداد تین ہے۔ اور یہاں امام مالکؒ کا کلام اس سند کی مخفی علت کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ امام ابن شہاب الزہریؒ نے یہاں ارسال کیا ہو، کیونکہ امام ابن شہاب الزہریؒ کی پیدائش سن پچاس ہجری کے بعد کی ہے اور سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کی وفات بھی سن پچاس ہجری کے بعد کی ہی ہے، مختلف اقوال ملتے ہیں، لہزا یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ارسال ہوا ہے جیسا کہ عمومی طور پہ امام زہری ایک واسطے سے ہی سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت کرتے ہیں۔

اسی طرح امام مالکؒ اپنی دوسری کتاب میں صراحتا فرماتے ہیں کہ:

‌لا ‌ينبغي ‌لأحد ‌أن ‌يوتر ‌بواحدة ليس قبلها شيء لا في حضر ولا في سفر، ولكن يصلى ركعتين ثم يسلم ثم يوتر بواحدة

کسی شخص کو ایک رکعت وتر ادا نہیں کرنا چاہیے کہ اس سے پہلے کچھ نہ ہو، ناہی گھر میں اور ناہی سفر میں، لیکن وہ دو رکعت ادا کرے پھر سلام پھیرے اور پھر ایک رکعت ادا کرے۔

(المدونة: جلد 1 صفحہ 212)

معلوم ہوا کہ امام مالک کے نزدیک رکعت وتر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعتیں ادا کرکے سلام پھیر لیا جائے اور پھر قنوت وتر کی رکعت الگ سے ادا کی جائے۔ امام مالکؒ کا یہ طریقہ بھی عین سنت کے مطابق ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو دو رکعتیں کرکے نماز ادا کرتے رہتے تھے اور پھر آخر میں ایک رکعت ادا کرکے ساری نماز کو وتر یعنی طاق بنا لیتے تھے (متفق علیہ)۔

تحریر: شہزاد احمد آرائیں