نازل سند بھی عالی سند پہ فوقیت حاصل کرسکتی ہے
﴿نازل سند بھی عالی سند پہ فوقیت حاصل کرسکتی
ہے﴾
امام شمس الدين السخاوىؒ (المتوفى 902ھ)
لکھتے ہیں:
واقتفيت أثره في ذلك حيث سمعت على امرأة
اسمها لمياء، مع نزول إسنادها، أو ما لم (يجبر) النزول بصفة مرجحة كزيادة الثقة في
رجاله على العالي، أو كونه أحفظ أو أضبط أو أفقه، أو كونه متصلا بالسماع، وفي العالي
حضور أو إجازة أو مناولة أو تساهل من بعض رواته في الحمل، أو نحو ذلك ; فإن العدول
حينئذ إلى النزول ليس بمذموم ولا مفضول.
ونحوه قول ابن الصلاح: وما جاء في ذم النزول
مخصوص ببعض النزول ; فإن النزول إذا تعين دون العلو طريقا إلى فائدة راجحة على فائدة
العلو كان مختارا غير مرذول. وقال بعضهم: وفيه نظر ; لأنه - والحالة هذه - لا يسمى
نازلا مطلقا، وهو ظاهر
میں نے اسکی موافقت کی اسطرح کہ میں نے
لمیاء نامی ایک عورت سے سماع کیا، اس کی سند کے نازل ہونے کے باوجود۔ یا جہاں نزول
کی تلافی کسی ترجیحی وصف سے نہ ہو سکی ہو، جیسے عالی سند کے مقابلے میں اس کے راویوں
میں زیادہ ثقہ لوگوں کا ہونا، یا ان کا زیادہ حافظ، یا زیادہ ضابط، یا زیادہ فقیہ ہونا،
یا اس کا سماع سے متصل ہونا، جبکہ عالی سند میں صرف حضور یا اجازہ یا مناولہ ہو، یا
اس کے بعض راویوں کی طرف سے روایت کے تحمل میں تساہل ہو، یا اس طرح کی کوئی اور وجہ
ہو۔ ایسی صورت میں نازل سند کی طرف رجوع کرنا نہ تو مذموم ہے اور نہ ہی مفضول ہے۔"
اور اسی طرح امام ابن صلاح کا قول ہے کہ:
اور جو کچھ نزول کی مذمت میں آیا ہے، وہ
مخصوص بعض نزول کے لیے ہے۔ کیونکہ اگر کوئی نزول، علو کے مقابلے میں زیادہ فائدے کا
ذریعہ بن جائے تو اسے اختیار کیا جا سکتا ہے اور وہ مذموم نہیں ہوتا۔ اور بعض (آئمہ
محدثین) نے کہا: اس میں غور کی ضرورت ہے؛ کیونکہ اس صورت میں اسے مطلقاً "نازل"
نہیں کہا جا سکتا، اور یہ بات ظاہر ہے۔
)فتح المغيث بشرح ألفية الحديث: جلد 3 صفحه 359(
معلوم ہوا کہ نازل سند جس میں رواۃ کی
تعداد زیادہ ہو وہ عالی سند جس میں رواۃ کی تعداد کم پہ فوقیت مختلف وجوہات کی بنا
پہ رکھ سکتی ہے، عالی سند کو فوقیت اس لیے دی جاتی ہے کہ اس میں رواۃ کے واسطے کم ہونے
کی وجہ سے ضعف کے امکان بھی کم ہوتے ہیں، مگر وہیں اگر نازل سند کے رواۃ جنکی تعداد
زیادہ ہے وہ اگر حفظ و اتقان میں برتری رکھتے ہیں، ضبط قوی ہو، فقہی ہوں اور اسی طرح
سند میں سماع کے ساتھ اتصال موجود ہو تو یہ اس عالی سند جسکے رواۃ کم ہیں اس سے برتری
اور فوقیت کی حامل ہوگی کیونکہ اس کے رواۃ اگرچہ زیادہ ہیں مگر یہ تمام خوبیاں ضعف
کے احتمال کو ختم کردیتی ہیں، وہیں اگر عالی سند میں رواۃ کے کم ہونے کے باوجود یہ
خوبیاں موجود نہ ہو تو ضعف کا امکان بڑھ جاتا ہے اور رواۃ کی کم تعداد اس ضعف کو دور
کرنے میں فائدہ مند نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ نازل سند بھی ترجیح کی حامل ہوجاتی ہے،
اور عالی کو چھوڑ کر اس صورت میں نازل سے حجت پکڑنا نہ تو بری چیز ہے اور نہ یہ مفضول
ہے، مراد یہکہ ایسی صورت میں ایسی خوبیوں کی حامل نازل سند سے حجت پکڑنا افضل ہے۔
اور ایسی نازل سند جو ان خوبیوں کی حامل
ہو تو امام ابن صلاحؒ کے کلام کے مطابق بعض آئمہ محدثین کے نزدیک اسے تب نازل کہا ہی
نہیں جاسکتا کیونکہ اس میں جو رواۃ کی تعداد کے اضافے کی وجہ سے ضعف کا احتمال بڑھنا
تھا وہ واقع نہیں ہوا بلکہ یہ صفات اس احتمال کو کمزور کردیتی ہیں لہزا اسے اس بنا
پہ بعض آئمہ کے نزدیک نازل سند نہیں کہا جاسکتا۔
ھذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب۔
والسلام: ابو الحسنین دکتور شہزاد احمد
آرائیں

Post a Comment