-->

صحیح وضعیف احادیث میں کتنا فرق ہوتا ہے

 

﴿صحیح و ضعیف احادیث میں کتنا فرق ہوتا ہے﴾

 

امام محمد بن سعد الزہریؒ (المتوفی 230ھ) لکھتے ہیں:

قال: أخبرنا طلق بن غنام النخعي قال: حدثنا الربيع بن المنذر عن أبيه عن الربيع بن خثيم قال: إن من الحديث حديثا ‌له ‌ضوء ‌كضوء ‌النهار تعرفه، وإن من الحديث حديثا له ظلمة كظلمة الليل تنكره

 

تابعی امام ربیع بن خثیمؒ (المتوفی 64ھ) کہتے ہیں: احادیث میں سے بعض احادیث ایسی ہیں کہ انکی روشنی دن کی روشنی کی طرح ہوتی ہے کہ تم اس (کی صحت) کو پہچان لیتے ہو، اور احادیث میں سے بعض احادیث ایسی ہیں کہ انکی تاریکی رات کی تاریکی کی طرح ہوتی ہے کہ تم اس (کی صحت) کا انکار کردیتے ہو۔

)الطبقات الكبرى - ط الخانجي: جلد 8 صفحہ 306: وسندہ صحیح(

 

امام رحمہ اللہ کا قول بلکل بجا ہے کہ صحیح و ضعیف احادیث کے درمیان فرق واقعی دن و رات کا ہوتا ہے کہ صحیح احادیث کی راہنمائی دن کی روشنی کی طرح واضع ہوتی ہے اور ضعیف و موضوع روایات کی ظلمت رات کی تاریکی کی مانند ہوتی ہے۔ اور الحمد اللہ محدثین اور مجھ جیسے چھوٹے سے طلباء بھی احادیث کی صحت و ضعف کو بھی اسی طرح پہنچان لیتے ہیں جیسے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی ہوتی ہے، اس کام کیلیے صرف سند ہی بلکہ متن کو بھی دیکھ کر فیصلہ ہوجاتا ہے کہ واقعی یہ روایت ثابت ہو بھی سکتی ہے یا نہیں، اس لیے دیگر طلباء کرام بھی اپنے اندر اس قابلیت کو بہتر سے بہترین کریں کہ وہ احادیث میں اسی کی مانند تفریق کرسکیں۔ اللہ ہم سب کو علم کو سیکھنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالی ہم سب کو علم کی درست معرفت اسکا فہم عطا فرمائے۔ آمین

طالب دعا: ابو الحسنین ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں