بدعتی کے دل سے حدیث کی مٹهاس نکل جاتی ہے
﴿بدعتی کے دل سے حدیث کی مٹهاس نکل جاتی ہے﴾
امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکمؒ
(المتوفی 405ھ) لکھتے ہیں:
سمعت أبا علي الحسين بن علي الحافظ يقول:
سمعت جعفر بن احمد بن سنان الواسطي يقول: سمعت أحمد بن سنان القطان يقول: «ليس في الدنيا
مبتدع إلا وهو يبغض أهل الحديث، وإذا ابتدع الرجل نزع حلاوة الحديث من قلبه»
امام احمد بن سنان القطانؒ کہتے ہیں:
دنیا میں کوئی بدعتی نہیں ہوتا مگر وہ
اہل الحدیث سے بغض رکھتا ہے، اور جب کوئی شخص بدعتی ہوجائے تو اسکے دل سے حدیث کی مٹھاس
نکل جاتی ہے۔
(معرفۃ علوم الحديث للحاكم:
صفحه 110 رقم 6 وسنده صحيح)
معلوم ہوا کہ بدعتی لوگ ہمیشہ محدثین سے
نفرت و بغض کرتے ہیں اور ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ انہیں کسی طرح نقصان پہنچایا جائے،
انکی ہر جگہ حد درجہ مخالفت کریں یہاں تک ان لوگوں کو فرمان رسول ﷺ کا بھی کوئی پاس
نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ امام رحمہ اللہ اپنے مشاہدے سے بیان کررہے ہیں کہ جو کوئی
انسان بدعت میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس کا دل فرمان رسول اقدس ﷺ کی مٹھاس سے محروم
ہوجاتا ہے کیونکہ بدعت اور حدیث رسول ﷺ کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتی۔ لہزا علوم
حدیث کے تمام طلبہ کیلیے میری یہ نصیحت ہے کہ بدعت کی گمراہی سے جتنا ہوسکے اتنا دور
رہیں۔ اللہ ہم سب کو بدعات سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ فرمان رسول اقدس ﷺ کی مٹھاس عنایت
فرماتا رہے کہ اس کی مٹھاس سے ہمارا جسم و روح کا ریزہ ریزہ بہرہ مند ہوجائے۔ آمین
ثم آمین۔
واسلام: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment