امیر المومنین فی علوم الدین امام شافعی اور درمیانے تشہد میں رسول اللہ ﷺ پہ درود
(امیر المومنین فی علوم الدین امام شافعیؒ
اور درمیانے تشہد میں رسول اللہ ﷺ پہ درود)
شیخ الاسلام استاذ آئمہ الامام دار
الحجر الامیر المومنین فی الحدیث والفقہ والتفسیر الامام محمد بن ادریس الشافعی
الہاشمی رحمہ اللہ تعالی (المتوفی 204ھ) فرماتے ہیں:
والتشهد والصلاة على النبي - صلى الله
عليه وسلم - في التشهد الأول في كل صلاة غير الصبح تشهدان تشهد أول وتشهد آخر، إن
ترك التشهد الأول والصلاة على النبي - صلى الله عليه وسلم - في التشهد الأول ساهيا
لا إعادة عليه وعليه سجدتا السهو لتركه
اور تشہد اور پہلے تشہد میں رسول اللہ
ﷺ پہ درود تمام نمازوں میں سوائے صبح کی (یعنی فجر کی) تشہد دو ہوتے ہیں پہلا تشہد
اور آخری تشہد، اگر کسی نے پہلے تشہد کو اور پہلے تشہد میں رسول اللہ ﷺ پہ درود کو
بھول کر ترک کردیا تو اسے نماز دہرانے کی ضرورت نہیں مگر اسے ترک کرنے کی وجہ سے
سجدہ سہو کرنا ہوگا۔
(الأم للشافعي - ط الفكر:
باب التشہد والصلاۃ علی النبی ﷺ: جلد 1 صفحہ 140)
لہزا معلوم ہوا کہ نماز فجر کے علاوہ باقی تمام نمازوں میں دو دو تشہد میں، لہزا نماز فجر کے علاوہ باقی تمام نمازوں کے پہلے تشہد کو پڑھنا اور پہلے تشہد میں رسول اللہ ﷺ پہ درود ابراہیمی پڑھنا ضروری ہے، جو غلطی سے بھول جائے اور نہ پڑھے تو وہ نماز کا اعادہ کرنے کے بجائے سجدہ سہو کرے گا۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کو تشہد کا ہی علم نہیں کہ تشہد کسے کہتے ہیں: نماز میں دوسری رکعت میں دونو سجدوں کے بعد بیٹھنا اور التحیات پڑھنے کو تشہد کہتے ہیں، التحیات کے آخر میں شہادت آتی ہے لہزا اس نسبت سے اسے تشہد کہا جاتا ہے۔ امام شافعیؒ سے مندرجہ بالا حوالہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ نماز میں ہر تشہد میں رسول اللہ ﷺ پہ درود و سلام پڑھنا چاہیے اور اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔
:از قلم شہزاد احمد آرائیں

Post a Comment