امام ابن حجر عسقلانی اور قرائن و قوائد سے اجتہاد و اختلاف
﴿امام ابن حجر عسقلانیؒ اور قرائن و قوائد سے
اجتہاد و اختلاف﴾
امیر المومنین فی الحدیث امام ابن حجر
عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) فرماتے ہیں:
أن الاختلاف عند النقاد لا يضر إذا
قامت القرائن على ترجيح إحدى الروايات أو أمكن الجمع على قواعدهم
ناقدین کے نزدیک اختلاف نقصان دہ نہیں
ہوتا جب کسی روایت کو ترجیح دینے کے قرائن قائم ہوجائیں یا انکے قوائد پر جمع کرنا
ممکن ہوجائے۔
(هدي الساري مقدمة فتح الباري:
صفحہ 368)
امام ابن حجر عسقلانیؒ کا یہ قول علماء
حدیث کا ایک اہم اسلوب بتا رہا ہے کہ اگر کسی حدیث کی صحت کو لیکر اختلاف کوئی نقصان
دہ نہیں ہے کیونکہ اس اختلاف میں قرائن اور قوائد سے ترجیح قائم کرکے اس اختلاف کو
دور کیا جاسکتا ہے۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ کا یہ کہنا کہ اختلاف نقصان دہ نہیں اس بات
کی دلیل ہے کہ روایات کی صحت کو لیکر اختلاف کرنا بلکل جائز ہے پھر چاہے وہ اختلاف
مرجوع ہی کیوں نہ ہو۔ لہزا جائز اختلاف کرنے کی وجہ کسی کو بھی برا بھلا کہنا جائز
نہیں بلکہ اختلاف کو قرائن اور قوائد کو سامنے رکھ کر دور کرنا چاہیے۔ یہاں یہ بات
بھی قابل غور ہے کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے پہلے قرائن کا ذکر کیا ہے اور پھر بعد
میں قوائد کا ذکر کیا ہے، قرائن کو ترجیح دینا اس وجہ سے بھی ہے قرائن سے ہی روایات
میں ترجیح قائم کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور قرائن ہی کے وزن سے روایت کا مقام بلند
ہوتا ہے، جبکہ قوائد کو بعد میں ذکر کرنا اس وجہ سے بھی ہوسکتا ہے کہ ان قوائد میں
بھی اختلاف واقع ہوا ہے۔ بہرحال یہ معلوم ہوا کہ یہ علم حدیث مجتہدین کا ہے، یہاں اجتہاد
و علم کی بنیاد پہ مجتہدین محدثین اختلاف کرتے ہیں اور اس اختلاف کو دور بھی کرتے ہیں۔
والسلام 👨🏻⚕️: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment