امام ابن حجر عسقلانی اور علوم الحدیث میں ظن اور اجتہاد
﴿امام ابن حجر عسقلانیؒ اور علوم الحدیث میں ظن
اور اجتہاد﴾
امير المومنين في الحديث امام ابن حجر
عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) فرماتے ہیں:
تعليل الأئمة للأحاديث مبني على غلبة
الظن فإذا قالوا أخطأ فلان في كذا لم يتعين خطؤه في نفس الأمر بل هو راجح الاحتمال
فيعتمد ولولا ذلك لما اشترطوا انتفاء الشاذ وهو ما يخالف الثقة فيه من هو أرجح منه
في حد الصحيح
آئمہ کا حدیث کی تعلیل کرنا ظن کے غلبے
پہ مبنی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ فلاں نے فلاں چیز میں خطاء کی ہے تو یہ فی نفسی اس
معاملے میں غلطی متعین نہیں ہوتی بلکہ یہ راجع احتمال ہوتا ہے تو اس پہ اعتماد کیا
جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ شاذ کی نفی کی شرط نہ لگاتے، اور (شاذ) وہ ہے جو ثقہ
سے صحیح کی حد میں راجع کی مخالفت ہوتی ہے۔
(فتح الباري بشرح صحيح البخاري:
جلد 1 صفحہ 585)
یہ واضع دلیل ہے کہ آئمہ جب بھی کسی حدیث
کی تعلیل کرتے ہیں، اس پہ خطاء کا حکم لگاتے ہیں تو وہ حکم ہرگز قطعی نہیں ہوتا بلکہ
غالب ظن کی بنیاد پہ ہوتا ہے، یہ یقینی ثبوت نہیں ہے کہ وہاں غلطی ہوئی ہے بلکہ یہ
غالب گمان ہے جس پہ اعتماد کیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ روایات کو شاذ کہنے میں ہے۔ لہزا
اسی ظن کے غلبے کی بنیاد پہ آئمہ کے یہاں احادیث کی تصحیح و تضعیف وغیرہ اختلاف بھی
واقع ہوجاتا ہے، اس میں شرائط و قوائد اور اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے راجع اور مرجوع
موقف میں اجتہاد کیا جائے گا اور اس پہ عمل کیا جائے گا۔
والسلام 👨🏻⚕️:
شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment