-->

غیر صحابی کیلیے رضی اللہ عنہ کے دعائیہ کلمات کہنا

 

﴿غیر صحابی کیلیے رضی اللہ عنہ کے دعائیہ کلمات کہنا﴾

{رضی اللہ عنه} ترجمہ: اللہ ان سے راضی ہو، یہ دعائیہ کلمات ہیں، یہ صحابی و غیر صحابی کسی کیلیے بھی کہے جاسکتے ہیں، کسی کو بھی کوئی بھی دعا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، بعض دعائیہ کلمات کو مخصوص طبقے کے ساتھ وقف کردینا اور پھر دوسروں کیلیے ناجائز قرار دینا درست نہیں۔ اور یہ بات جمہور کے بھی خلاف ہے۔

 

امام ابو زکریا محیی الدین بن شرف النوویؒ (المتوفی 676ھ) فرماتے ہیں:

‌يستحب ‌الترضي ‌والترحم ‌على ‌الصحابة ‌والتابعين فمن بعدهم من العلماء والعباد وسائر الأخيار فيقال رضي الله عنه أو رحمة الله عليه أو رحمه الله ونحو ذلك (وأما) ما قاله بعض العلماء إن قول رضي الله عنه مخصوص بالصحابة ويقال في غيرهم رحمه الله فقط فليس كما قال ولا يوافق عليه بل الصحيح الذي عليه الجمهور استحبابه ودلائله أكثر من أن تحصر

 

صحابہ کرام، تابعین اور انکے بعد آنے والے علماء، عبادت گزاروں اور دیگر نیک لوگوں کے متعلق رضامندی اور رحم کی دعا کرنا مستحب ہے، لہزا کہا جاتا ہے: اللہ ان سے راضی ہو یا اللہ ان پہ رحم فرمائے، یا اللہ کا رحم ہو اور اس طرح کے دیگر دعائیہ کلمات۔ اور بعض علماء کا یہ کہنا ہے کہ یہ قول ”اللہ ان سے راضی ہو“ صحابہ کے ساتھ مخصوص ہے اور انکے علاوہ دیگر کیلیے فقط ”اللہ ان پہ رحم کرے“ کہا جائے گا، تو یہ ایسا نہیں ہے جیسا انہوں نے کہا اور نہ ہی ان سے اتفاق کیا جاتا ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ جس پہ جمہور ہیں کہ یہ مستحب ہے اور اسکے دلائل بہت زیادہ ہیں کہ انہیں شمار کیا جاسکے۔

(المجموع شرح المهذب - ط الأفكار: جلد 1 صفحہ 1352)

 

لہزا معلوم ہوا کہ اس طرح کے دعائیہ کلمات کسی بھی نیک شخصیت کے متعلق کہے جاسکتے ہیں اور اسکو مخصوص کرنے والے علماء کا قول امام نوویؒ کے مطابق درست نہیں بلکہ کثیر دلائل اور جمہور آئمہ کے خلاف ہے۔

واسلام: شہزاد احمد آرائیں