-->

الرد على جاهل الشديد الذي محروم من الدراسه والتحقيق

 

الرد على جاهل الشديد الذي محروم من الدراسه والتحقيق

 

ناصبی متعصب اسد طحاوی الحنفی موصوف اپنی علمی خیانتوں اور تحریفات کو بچانے کے چکر میں ڈھٹائی سے میدان میں آچکا ہے، رد کیلیے کچھ نہ بھی ہو تو تب بھی موصوف بس چھاپا مار کر رد لکھنے بیٹھ جاتا ہے، یہ بھی سوچے بغیر کہ واقعی رد کوئی وزن رکھتا بھی ہے نہیں۔ اس جاہل متعصب ناصبی کا رد دیکھ کر تو ہماری ہنسی نہیں رکی کہ انسان اتنی بڑی بونگیاں بھی اس ڈھٹائی کے ساتھ مار سکتا ہے، خیر انکی تکلیف کا ہم احساس کرتے ہیں۔ غیرت کی کمی ہو تو انسان کچھ بھی کرسکتا ہے، پھر چاہے ثقہ ثبت تابعین پہ کذب کی تہمتیں لگانی ہوں یاں اپنے آئمہ احناف کو ہی گمراہ کہنا ہو۔ یہ شخص مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم کے بغض کی وجہ سے ان پہ طعن کرنے کیلیے کچھ بھی کرجائے گا۔

ہماری سابقہ تحریر: (کیا مولا علیؑ کے اصحاب کو مولا علیؑ کا ساتھ دینے پہ افسوس تھا؟)

اب موصوف کی خیانتیں اور جہالتیں دیکھتے جائیں اور گنتے جائیں:

 

نمبر 1: سوید بن الحارث کی توثیق اور اس سے حجت:

ناصبی متعصب کا اعتراض کہ سوید بن الحارث کا امام ابن حجر عسقلانیؒ کے نزدیک کیا درجہ تھا؟

 

جواب عرض ہے کہ ملعون شخص نے خود سے جھوٹا قیاص گھڑ کر اسے امام ابن حجر عسقلانیؒ کے سر تھوپ دیا، جبکہ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے خود کوئی کلمہ توثیق بیان ہی نہیں کی جس سے کوئی عدالت ثابت ہوتی ہو، نہ اپنی اس کتاب میں اور ناہی اپنی کسی اور کتاب میں۔ موصوف خائن نے یہاں امام ابن حجر عسقلانیؒ سے متقدم امام کا اس راوی کی وجہ سے روایت کو ضعیف قرار دینا بلکل نظر انداز کردیا اور اسے چھپا کر من گھڑت کہانی امام ابن حجر کے سر تھوپ دی کہ یہ انکے نزدیک لین وغیرہ ہے۔ بلکہ معاملہ یہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے اسکے مجھول العین ہونے کی نفی کی ہے کہ ناکہ مطلقا مجھول الحال ہونے کی۔ اگر وہ مجھول الحال ہونے کی نفی کرتے تو وہ کوئی تعدیلا کلمات ضرور کہتے جیسا کہ انکا اسلوب ہے کہ وہ صدوق لین مقبول وغیرہ کے کلمات کہتے ہیں۔ اور انکے مجھول الحال قرار دینے کی دلیل انکے آخری کلام سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے امام بخاری و ابن ابی حاتم کا حوالہ دیا، جنہوں نے کوئی جرح و تعدیل کی نہیں ہے اس پہ۔ تو انہوں نے اس سے اسکے مجھول العین ہونے کی نفی کردی اور اگر وہ مجھول الحال ہونے کی نفی کرتے تو کسی ایک امام سے بھی کوئی تعدیل نقل کرتے، انہوں نے تو ابن حبان کی تساہل پہ مبنی توثیق بھی قبول نہیں کی بلکہ اسے رد کرتے ہوئے کوئی ذکر تک نہیں کیا اسکا۔ جبکہ اسکے الٹ انہوں نے امام احمد بن حنبلؒ کا کلام نقل کردیا کہ یہ راوی صحیح کا راوی نہیں ہے۔ مزید یہکہ یہ ایسا غریب راوی ہے کہ پورے ذخیرہ حدیث میں اس سے سوائے ایک حدیث کے کوئی دوسری حدیث مروی ہی نہیں ہے۔ تو متابعت وغیرہ کی باتیں چہ معنی دارد؟ پس معلوم ہوا کہ یہ راوی مجھول الحال ہے۔ اس سے سوائے عمرو بن مرۃ کے کوئی روایت نہیں کرتا اور یہ سوائے سیدنا ابو ذرؓ کے کسی سے روایت نہیں کرتا۔ اور وہ بھی اسکی ایک ہی حدیث ہے۔ خود موصوف کے حنفی علماء اسکے مجھول الحال ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور اسکی وجہ سے اس واحد روایت کی سند کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ اور پورے ذخیرہ حدیث میں اس سے جو ایک روایت مروی ہے اس میں بھی اسکا سیدنا ابو ذرؓ سے تفرد ہے۔ جسکا ذکر امام ابن کثیرؒ نے صراحت کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ لہزا اسکی کوئی متابعت سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ تو امام ابن حجر عسقلانیؒ سے اسکے جو بھی من گھڑت قیاص مارے ہیں انکی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ ہم نے ان سب چیزوں کا ذکر اپنی تحریر میں کیا تھا مگر موصوف خائن نے انہیں چھپا اور ان باتوں پہ اپنا جھوٹ قائم کرلیا جسکا جواب ہم پہلے ہی اپنی تحریر میں دے چکے تھے۔

 

بالفرض یہکہ اگر یہ امام ابن حجر عسقلانیؒ کے نزدیک لین ہے تو پھر بھی اسکا تفرد قبول نہیں ہوگا بلکہ مردود ہوگا۔ جیسا کہ موصوف نے خود اقرار کرلیا ہے۔ متابعت ہونا ضروری ہے۔ اور جو کلمات اس ملعون ناصبی نے حجت پکڑے ہیں ان میں اسکا تفرد ہے۔

 

پورے ذخيره کتب میں اسکے یہ الفاظ کسی اور نے نقل ہی نہیں کیے۔ سوائے مصنف ابن ابی شیبہ کے اسکی یہ روایت بھی کسی نے نقل نہیں کی۔ لہزا اس راوی کی جہالت اور اسکا مجھول ہونا اسکی شکل پہ لکھا ہوا ہے۔ سوید بن الحارث کا یہ کلام: کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ (ليس فيها شك، وليتني لم أشهد) (اس میں کوئی شک نہیں ، اور کاش میں یہاں موجود نہ ہوتا) جس پہ موصوف نے حجت قائم کرتے ہوئے اپنا مقدمہ قائم کیا تھا وہ بھی سوائے مصنف ابن ابی شیبہ میں اس جگہ کے علاوہ ذخیرہ حدیث میں وجود ہی نہیں رکھتے۔ اور یہ بھی واضع نہیں کہ وہ لوگ جو یہ کلمات کہہ رہے تھے وہ کون تھے؟ اسکی بات کی کوئی صراحت موجود ہی نہیں کہ یہ مجھول لوگ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ راشد مولا علیؑ کے ساتھی تھے یا باغی اہل جمل کے۔ اور سوید بن الحارث نے جن لوگوں کا یہ کلام نقل روایت کیا ہے اول تو اس میں ہی سوید بن الحارث کا تفرد ہے لہزا متابعت نہ ہونے کے باعث خود موصوف کے اقرار کے مطابق بھی یہ مردود ہی ہیں کیونکہ کسی اور نے ان لوگوں کے یہ الفاظ بیان ہی نہیں کیے۔

 

مگر ناصبی خائن کو کیا کہیں کہ وہ مولا علیؑ اور اہل بیتؑ کے بغض میں مجھول کو عادل اور ثقہ ثبت کو کذاب بنانے میں ماہر ہے۔ بس بغض ظاہر کرنے کا موقع ملے۔ ہم نے اس راوی پہ موجود تمام جرح و تعدیل کھول کر واضع کردی تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے اپنی پسند کے اقوال نقل کیے، جبکہ موصوف نے خود آدھی روایت نقل کی اور اگلا حصہ چھپا لیا تاکہ اپنے اندھی اور جاہل عوام کو دھوکہ دے سکے، کیونکہ انہوں نے کونسا خود کوئی چیز پڑھنی دیکھنی ہوتی ہے لکیر کے فقیر کی طرح اسکی پیروی کرتے ہیں۔

پھر موصوف دعوی کرتے ہیں کہ ہم اسکی عدالت پہ کلام کرتے ناکہ ضبط پہ کیونکہ یہ اسکا اپنا قول ہے، جب کہ موصوف نے تو اسکی عدالت بھی ثابت نہیں کی، ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ معتبر توثیق پیش کریں جبکہ اسکے جواب میں خائن طحاوی نے صرف اپنے قیاصات کی بھرمار کردی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نمبر 2:

جب موصوف سے اسکی تحریف اور خیانت کہ سوید بن الحارث کے متعلق صراحت نقل کرو جو تمہارا دعوی ہے کہ وہ مولا علیؑ کے ساتھی تھے، تو موصوف نے کوئی بھی صراحت نقل ہی نہیں کی، بلکہ اپنی تحریف اور خیانت کو خود ہی ظاہر کردیا جو اس نے اپنی پچھلی تحریر میں روایت کا اگلا حصہ چھپا لیا تھا تاکہ مولا علیؑ پہ بہتان بازی کرسکے۔ اب جب ہم نے پکڑ کی اور لتریشن کا اثر ہوا تو موصوف کو فورا وہ حصہ یاد آگیا۔

موصوف لکھتا ہے کہ:

عمرو بن مرۃ نے سوید بن الحارث کے قول کو ناپسند کرتے ہوئے اسکے برعکس عبد اللہ بن سلمہ کا قول نقل کیا۔

ناصبی موصوف کو یہ بات لتر کھانے سے پہلے کیوں یاد نہیں آئی جب تحریف کرکے اس حصے کو اس نے چھپا لیا تھا کہ عمرو بن مرۃ نے اپنے مجھول الحال شیخ کے قول کو پسند نہیں کیا تھا۔ یعنی روایت کا راوی ہی اس روایت کو اچھا نہیں سمجھ رہا تو یہ موصوف کس منہ سے اسے دلیل بنا کر اس سے حجت پکڑ رہے تھے؟ موصوف نے خود اقرار کرلیا ہے کہ اس نے اس حصے کو دلیل بنایا جو روایت کے راوی کے نزدیک بھی اچھا نہیں تھا اور جو حصہ اچھا تھا تو اسے تحریف کرکے چھپا لیا۔ پھر موصوف کی جہالت اور نکما پن دیکھیں کہ اب اگلا حصہ نقل کر ہی رہا ہے تو اسکا ترجمہ وغیرہ بھی ہمارا ہی چھاپا مار لیا اپنے جواب میں۔ پھر ڈھٹائی کے ساتھ چھاپے مار کر کہتا ہے کہ لو جی رد ہوگیا۔

 

دوسرا پھر یہکہ ناصبی موصوف کے مطابق عمرو بن مرۃ نے عینی شہادت کے مقابلے میں اس شخص کی بات کو پسند کیا جو اول تو اس جگہ جمل میں موجود ہی نہیں تھا۔ دوسرا یہکہ عمرو بن مرۃ نے تو یہ عبد اللہ بن سلمہؒ کا قول اس روایت کے رد میں بیان ہی نہیں کیا بلکہ یہ دو الگ الگ اقوال تھے جو اس ایک سند سے آئے تو امام ابن ابی شیبہؒ نے انہیں ایک ساتھ لکھ دیا اور دونو کیلیے ایک ہی سند کو الگ الگ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اور تو اور موصوف نے جو یہ عبد اللہ بن سلمہ کے قول کو جس کی اس نے پہلی تحریر میں تحریف کی تھی اس سے حجت پکڑ رہا مگر یہی قول موصوف کی دوسری روایت کے الٹ ہے۔ یہاں عمرو بن مرۃ جمل میں غیر موجودگی ظاہر کررہے ہیں عبد اللہ بن سلمہ کی اور دوسری روایت میں موجودگی ظاہر کررہے ہیں۔ ایک بندہ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پہ موجود ہوکر بھی کسطرح موجود نہیں ہوسکتا؟ موصوف سے اس چیز کا مطالبہ تھا جسکو موصوف نے گول کردیا۔

 

ہمارا مطالبہ تھا کہ یہ صراحت سے دلائل نقل کریں کہ سوید بن الحارث مولا علیؑ کا ساتھی تھا، جب کہ موصوف نے اس کو ثابت کرنے کے بجائے اپنی ہی تحریف واضع کرتے ہوئے بھونڈا قیاص دے مارا۔

دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ سوید بن حارث جن مجہول لوگوں کا قول نقل کررہا ہے کہ کاش ہم نا ہوتے وہ کون ہیں ؟؟ کس کے ساتھ تھے جنگ میں مولا علی علیہ السلام کے ساتھ یا باغیوں کے ساتھ ؟؟ اور سوید بن حارث ان مجہول لوگوں کا قول نقل کرنے میں منفرد ہے اسکی متابعت نا ہونے کی وجہ سے قول ہی ضعیف و مردود ثابت ہوا کیونکہ خود موصوف نے سوید بن حارث کو متابعت میں حسن الحدیث کہا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد دوسری روایت پہ موصوف نے بھونڈے چھاپے مارنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ ہم نے جو علت اٹھائی تھی موصوف نے اس پہ بات تک نہیں کی بلکہ ادھر ادھر سے چھاپے مار کر خود کو محدث اور عربی دان سمجھنے لگ گیا جبکہ اپنی عبارتوں کے ترجمے تک نہیں کرسکا۔ خیر آپ عبد اللہ بن سلمہ کے دونو قول ایک مرتبہ پھر دیکھیں اور پھر اس میں اضطراب کا مشاہدہ کریں:

 

پہلا قول کہ عبد اللہ بن سلمہ جمل میں شرکت سے انکار کرتے ہیں:

ويقول عبد الله بن سلمة: ولكني ما سرني أني لم أشهد، ولوددت أن كل (مشهد) شهده علي شهدته

 

اور عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میں نے شرکت نہیں کی اور میں چاہتا ہوں کہ ہر وہ حاضر ہونے کی جگہ جہاں مولا علیؑ نے شرکت کی ہو وہاں میں نے بھی شرکت کی ہو۔

(المصنف ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحہ 481 رقم 40572)

 

یاد رہے کہ ناصبی خائن نے اس حصے کو تحریف کرکے چھپا لیا تھا اور جب ہم نے لتر بھگو کر مارے تو اس نے اسے قبول کرلیا۔

دوسرا قول کہ عبد اللہ بن سلمہ جمل میں شرکت کا اقرار کرتے ہیں:

 

(حدثنا) إسحاق بن منصور قال: (حدثنا) عبد الله بن عمرو بن مرة عن أبيه عن عبد الله بن سلمة قال: وشهد مع علي الجمل وصفين وقال: ‌ما ‌يسرني ‌بهما ‌ما ‌على ‌الأرض

عبد اللہ بن سلمہؒ فرماتے ہیں: اور میں نےمولا علیؑ کے ساتھ جمل اور صفین میں شرکت کی۔ فرماتے ہیں: ان دونو کی وجہ سے زمین پہ جو کچھ بھی ہے وہ مجھے خوش نہیں کرتا۔

(المصنف ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحہ 509 رقم 40626)

 

ہم پچھلی تحریر میں انکا اختلاط اور عمرو بن مرۃ کا اختلاط کے بعد سماع کو دلائل سے ثابت کرچکے ہیں۔ پھر یہ دونو روایتیں ایک دوسرے کے الٹ ہیں۔ ایک میں اقرار ہے کہ انہوں نے شرکت کی اور دوسری میں انکار ہے کہ انہوں نے شرکت نہیں کی۔ تو ہمارا مطالبہ تھا کہ اسے ثابت کریں کہ کسطرح ایک ہی شخص ایک ہی وقت میں ایک جگہ پہ موجود ہوکر بھی موجود نہیں ہوسکتا؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے ان جنگوں میں موجود نہ ہوں اور پھر ان جنگوں میں موجود ہوں؟ ہمارا یہ سوال ادھار ہے جسکا جواب خائن ناصبی نے دینے کے بجائے ادھر ادھر سے چھاپے مار لیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آخر میں ہم قارئین کرام کیلیے دوبارہ واضع کرتے ہیں کہ ہم نے اعتراضات کیا اٹھائے ہیں، ناصبی خائن انکا سیدھا اور احسن جواب دے گا تو ہم اسکا رد کریں گے ورنہ اس ویلے نکمے گستاخ اہل بیت کو اور کوئی کام ہے ہی نہیں سوائے سوشل میڈیا پہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے اس کے پاس لکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا تو پھر تراجم میں ائمہ کرام کے عربی عبارت لمبی لمبی پیراگراف چھاپ کر ان کے ترجمے کر کے اور اپنا قیاس مار کے کہہ دیتا ہے لو جی میں نے رد لکھ دیا:

 

نمبر 1: اس چیز کو ثابت کرے کہ مولا علیؑ اور انکے اصحابؓ اپنی جنگوں میں قابل افسوس موقف رکھتے تھے؟ اور وہ حق پہ نہ تھے؟ نیز یہ بھی ثابت کرے کہ اگر وہ حق پہ تھے تو پھر وہ حق پہ عمل کرنے میں شرکت پہ کیونکر افسوس کرتے تھے؟

 

نمبر 2: فقہاء احناف نے مولا علیؑ کی جنگوں میں کیا مولا علیؑ کو قابل افسوس مانا ہے؟ کیا انہوں نے ان پہ افسوس کیا ہے یا انہوں نے ان کی جنگوں پہ اپنی فقہ کی بنیاد رکھی ہے؟

 

نمبر 3: سوید بن الحارث اور اسکے روایت کردہ مجھول لوگوں کا تصریح کے ساتھ صحیح دلیل سے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ مولا علیؑ کے ساتھی تھے۔ اپنی من گھڑت جاہلانہ اور تعصبانہ قیاص اور تاویلات کو اپنی ناصبیت کے کٹورے میں بند کرکے تصریحا اسے ثابت کریں۔

 

نمبر 4: عبد اللہ بن سلمہ نے کسطرح ان جنگوں میں شرکت کرکے بھی شرکت سے محروم رہے؟ کسطرح وہ شرکت کرنے پہ افسوس اور شرکت نہ کرنے پہ شرکت کی آرزو کرسکتے ہیں؟ ایک ہی وقت میں ایک شخص ایک ہی مقام میں کسطرح اپنا وجود رکھ کر بھی وجود سے انکار کرسکتا ہے؟

 

لہزا اب ہم اس نکمے ویلے خائن گستاخ اہل بیتؑ کا جواب تب ہی دیں گے جب یہ تصریحا صحیحا اور مختصرا ہمارے اعتراضات کا جواب دے گا۔ اسکی فضول چولوں کا جواب دینے کا ہمارے پاس وقت نہیں۔ ان شاء اللہ۔ آئندہ بھی اسکی رسول اللہ ﷺ کے خاندان پہ کی گئی گستاخیاں اور بہتان بازیاں ہم ایسے ہی واضع کرتے رہیں گے۔ جو لتریشن ہم نے تیار کی ہوئی ہے وہ بھگو بھگو کر ان شاء اللہ جاری رکھیں گے۔

 

واسلام: شہزاد احمد آرائیں۔