-->

اجماع کے واقع ہونے کی شرائط

 

﴿اجماع کے واقع ہونے کی شرائط﴾

 

یہ چیز عموما دیکھنے کو ملتی ہے کہ لوگ بغیر یہ سمجھے کہ اجماع دراصل ہوتا کیا ہے؟ واقع کب ہوتا ہے؟ اسکے لیے شرائط کیا ہیں؟ ان سب چیزوں کو سمجھے بغیر اجماع کے دعوؤں پہ یقین کرکے اجماع مان کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر جب کبھی انکے سامنے اس اجماع کی حقیقت واضع ہوتی ہے تو وہ تردد کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اب کیا کریں! دراصل اسکی وجہ یہی ہے کہ وہ لوگ اجماع کے بنیادی مسائل سے ہی جاہل ہوتے ہیں، اجماع کے دعوے کرنا تو نہایت آسان ہے مگر اسکی شرائط پہ اجماع کو ثابت بھی کرنا نہایت مشکل ہے۔ اس حوالے سے اکثر سوال بھی ہوتا ہے کہ اجماع اور اسکی شرائط کے متعلق بتائیں تو یہ تحریر اسی ضرورت کو مد نظر رکھتی ہے۔

 

شیخ دکتور محمد مصطفی الزحیلی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

ركن الإجماع وشروطه:

ركن الإجماع هو الاتفاق على الحكم من جميع المجتهدين مع اختلاف أجناسهم وطوائفهم وبلادهم، وهذا الاتفاق إما أن يكون صريحًا بالقول أو بالفعل، وهو الإجماع الصريح الحقيقي المتفق عليه، وهو المراد عند إطلاق العلماء لفظ الإجماع، وإما أن يصدر بعض المجتهدين حكمًا ويسكت الآخرون عليه دون إقرار ولا إنكار، وهو الإجماع السكوتي، وهذا مختلف فيه، فقال الشافعية والظاهرية بعدم حجيته، وقال الحنفية والمالكية وأحمد: إنه حجة؛ وهاتان مرتبتان للإجماع، وله مراتب أخرى في كتب الأصول۔

أما شروط الإجماع فكثيرة، بعضها متفق عليه، وبعضها مختلف فيه، وأهمها:

1 - أن لا يعارضه نص من القرآن أو السنة أو إجماع سابق؛ لأن النص يأتي في المرتبة الأولى، والإجماع في المرتبة الثانية، وأن الإجماع السابق قطعي فلا يصح الإجماع على خلافه، ولأن الإجماع لا بد أن يستند على أصل شرعي من كتاب أو سنة.

2 - أن يكون الإجماع مستندًا إلى دليل شرعي، وِإن لم يصلنا الدليل؛ لأن المجتهد مقيد في اجتهاده في الحدود الشرعية، وأكد ابن حزم أنه لا إجماع إلا بناء على نص.

3 - أن يوجد عدد من المجتهدين في عصر واحد، يؤمن تواطؤهم على الكذب.

4 - أن يكون الاتفاق من جميع المجتهدين.

5 - أن يكون الإجماع على أمر شرعي عند الجمهور، وقال آخرون: يصح على كل أمر.

6 - أن ينقرض العصر ويموت جميع المجتهدين حتى لا يرجع أحدهم عن رأيه، وهو شرط مختلف فيه.

7 - أن ينتفي سبق الخلاف في المسألة عند أبي حنيفة خلافًا للجمهور

 

رکن اجماع اور اس کی شرائط

رکن اجماع تمام مجتہدین کا کسی حکم پر متفق ہونا ہے، چاہے ان کے مختلف گروہ، فرقے اور ممالک ہوں۔ یہ اتفاق یا قول سے یا فعل سے بلکل واضع ہو، اور یہ متفقہ، حقیقی اور واضح اجماع ہے، جسے علماء لفظ اجماع کے استعمال میں مراد لیتے ہیں۔ یا پھر کچھ مجتہدین حکم دیتے ہیں اور باقی اس پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، نہ تو اقرار کرتے ہیں اور نہ ہی انکار کرتے ہیں، اور یہ اجماع سکوتی ہے۔ اس میں اختلاف ہے، شافعیہ اور ظاہریہ اس کی حجیت سے انکار کرتے ہیں، جبکہ حنفیہ، مالکیہ اور امام احمد بن حنبلؒ اسے حجت مانتے ہیں۔ یہ اجماع کی دو درجے ہیں، اور اصول کی کتابوں میں اس کی دیگر درجے بھی ہیں۔

اجماع کی شرائط کافی زیادہ ہیں، کچھ پہ اتفاق ہے اور کچھ پہ اختلاف ہے۔ ان میں سے اہم شرطیں درج ذیل ہیں:

1۔ اس کا تعارض قرآن، سنت یا سابقہ اجماع کی نص سے نہ ہو؛ کیونکہ نص پہلی درجے میں آتی ہے، اجماع دوسری درجے میں، اور پچھلا اجماع قطعی ہے اس کے خلاف اجماع درست نہیں ہو سکتا، اور اسلیے اجماع کو کتاب یا سنت سے کسی شرعی اصل پر مبنی ہونا چاہیے۔

2۔ اجماع کسی شرعی دلیل پر مبنی ہو، اگرچہ وہ ہم تک نہ پہنچی ہو؛ کیونکہ مجتہد اپنے اجتہاد میں شرعی حدود میں مقید ہے۔ اور امام ابن حزمؒ نے زور دیا ہے کہ نص کی بنیاد کے بغیر کوئی اجماع نہیں ہوتا۔

ایک ہی زمانے میں اتنے مجتہدین موجود ہوں کہ جھوٹ پر ان کے متفق ہونے کا امکان نہ ہو۔

4۔ اتفاق سارے کے سارے ہی مجتہدین کا ہو۔

5۔ جمہور کے نزدیک اجماع کوئی شرعی مسئلہ ہی پر ہونا چاہیے، کچھ علماء کہتے ہیں کہ یہ کسی بھی مسئلے پر ہوسکتا ہے۔

6۔ زمانہ ختم ہو جائے اور تمام مجتہدین پاجائیں تاکہ ان میں سے کوئی اپنی رائے سے نہ ہٹ سکے، اور یہ ایک شرط ہے جس میں اختلاف ہے۔

7۔ جمہور کے برخلاف امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس مسئلہ میں پہلے کوئی اختلاف واقع نہ ہوا ہو۔

(الوجيز في أصول الفقه الإسلامي: جلد 1 صفحہ 233 تا 235)

 

ان شرائط کو دیکھ کر ہی یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ اجماع کے وقوع کی شرائط میں ہی ائمہ مجتہدین میں اختلاف ہے کہ کب اجماع ہوگا اور کب نہیں، کب اجماع کو قبول کیا جائے گا اور کب نہیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اجماع کے واقع ہونے کیلیے تمام کے تمام مجتہدین کا متفق ہونا لازمی ہے، اگر کوئی مجتہد اختلاف کرتا ہے تو اجماع واقع ہو ہی نہیں سکتا۔ اور امام ابو حنیفہؒ کا جو موقف انہوں نے بیان کیا ہے اسکے مطابق تو اس مسئلے میں سرے سے کبھی بھی کوئی بھی اختلاف واقع نہ ہوا ہو تب جاکر اجماع مانا جائے گا ورنہ انکے نزدیک اجماع کا دعوی درست نہیں ہوگا۔

 

اسی طرح شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ (المتوفی 1421ھ) لکھتے ہیں:

للإجماع شروط منها:

1 - أن يثبت بطريق صحيح، بأن يكون إما مشهوراً بين العلماء أو ناقله ثقة واسع الاطلاع.

2 - أن لا يسبقه خلاف مستقر، فإن سبقه ذلك فلا إجماع، لأن الأقوال لا تبطل بموت قائليها.

فالإجماع لا يرفع الخلاف السابق، وإنما يمنع من حدوث خلاف، هذا هو القول الراجح لقوة مأخذه، وقيل: لا يشترط ذلك فيصح أن ينعقد في العصر الثاني على أحد الأقوال السابقة ويكون حجة على من بعده، ولا يشترط على رأي الجمهور انقراض عصر المجمعين فينعقد الإجماع من أهله بمجرد اتفاقهم، ولا يجوز لهم ولا لغيرهم مخالفته بعد، لأن الأدلة على أن الإجماع حجة ليس فيها اشتراط انقراض العصر، ولأن الإجماع حصل ساعة اتفاقهم فما الذي يرفعه؟

وإذا قال بعض المجتهدين قولاً أو فعل فعلاً، واشتهر ذلك بين أهل الاجتهاد، ولم ينكروه مع قدرتهم على الإنكار، فقيل: يكون إجماعاً، وقيل: يكون حجة لا إجماعاً، وقيل: ليس بإجماع ولا حجة، وقيل: إن انقرضوا قبل الإنكار فهو إجماع؛ لأن استمرار سكوتهم إلى الانقراض مع قدرتهم على الإنكار دليل على موافقتهم، وهذا أقرب الأقوال

 

اجماع کی شرائط میں سے کچھ یہ ہیں:

1۔ کہ یہ صحیح طریق سے ثابت ہو، یعنی یہ یا تو علماء کے درمیان مشہور ہو یا اس کا ناقل ثقہ اور وسیع الاطلاع ہو۔

2۔ یہ کہ اس سے پہلے کوئی اختلاف واقع نہ ہوا ہو، کیونکہ اگر اس سے پہلے اختلاف ہو تو اجماع نہیں ہو سکتا، کیونکہ اقوال کہنے والوں کی وفات سے اقوال باطل نہیں ہوتے۔

تو اجماع سابقہ اختلاف کو نہیں ہٹاتا، بلکہ صرف اختلاف ہونے سے روکتا ہے، یہی قول اپنے قوی ماخذ کی وجہ سے راجح ہے، اور کہا گیا ہے: یہ شرط ضروری نہیں ہے، اس لیے یہ دوسرے زمانے میں سابقہ اقوال میں سے کسی ایک پر منعقد ہو سکتا ہے اور اس کے بعد آنے والوں پر حجت ہو سکتا ہے۔ اور جمہور کی رائے کے مطابق، اجماع کرنے والوں کے زمانے کا ختم ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ ان کے اتفاق کے ساتھ ہی ان کے اہل سے اجماع منعقد ہو جاتا ہے، اور ان کے بعد کسی اور کو اس کی مخالفت کرنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ اجماع کی حجت ہونے پر دلائل میں زمانے کے ختم ہونے کی شرط نہیں ہے، اور کیونکہ اجماع ان کے اتفاق کی گھڑی میں ہو گیا تو پھر اسے کون ہٹائے گا؟

اور اگر کوئی مجتہد قول کہے یا فعل کرے، اور یہ اہل اجتہاد میں مشہور ہو جائے، اور انہوں نے اس کی انکار نہ کیا حالانکہ ان میں انکار کی صلاحیت تھی، تو کہا گیا: یہ اجماع ہوگا، اور کہا گیا: یہ حجت ہوگا اجماع نہیں، اور کہا گیا: نہ اجماع ہے اور نہ حجت، اور کہا گیا: اگر انکار سے پہلے ان کا انتقال ہو جائے تو یہ اجماع ہوگا؛ کیونکہ انکار کی صلاحیت کے ساتھ ان کے انکار تک خاموشی جاری رہنا ان کی موافقت کی دلیل ہے، اور یہی اقوال کے قریب ترین (قول) ہے۔

(الأصول من علم الأصول: صفحہ 66 و 67)

 

وہی بات مزید تفصیل سے معلوم ہوگئی کہ جس مسئلہ میں پہلے سے ہی اختلاف موجود ہے تو بعد میں اس پہ اجماع واقع ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اختلاف پہلے واقع ہوچکا ہے اور وہ اختلاف کرنے والے علماء وفات پاچکے ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ نے اجماع کے اس مقصد کو بھی نہایت عمدہ طریقے سے بیان کیا کہ اجماع کا واقع ہونا دراصل اختلاف کرنے سے روکنا ہوتا ہے، جب اختلاف ہی ہوچکا تو اجماع کسطرح منعقد ہوگا؟ یہی بات شیخ محمد مصطفی الزحیلی نے امام ابو حنیفہؒ سے نقل کی ہے۔ قارئین ان چیزوں کو مدنظر رکھیں تو وہ بخوبی اور باآسانی اجماع کے دعوؤں کی حقیقت جان سکتے ہیں کہ واقعی اجماع ہے بھی یا نہیں۔

ان شاء اللہ آئندہ تحاریر میں ہم اس مسئلے کو مزید اچھے سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالی ہم سب کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

والسلام: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں۔