-->

کتب احادیث کے مصنفین کا اپنی کتب میں ضعیف روایات درج کرنے کی وجہ

 

﴿کتب احادیث کے مصنفین کا اپنی کتب میں ضعیف روایات درج کرنے کی وجہ﴾

 

امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) لکھتے ہیں:

لكن جماعة من المصنفين في كل من الصنفين خالف أصل موضوعه فانحط وارتفع، فإن بعض من صنف الأبواب قد أخرج فيها الأحاديث الضعيفة بل والباطلة إما لذهول عن ضعفها وإما لقلة معرفة بالنقد

 

لیکن دونو اقسام کی کتب میں سے ہر ایک کے مصنفین کی جماعت نے اپنے اصل موضوع کی مخالفت کی ہے، جس سے (ان کتب کا معیار) کبھی گر گیا اور کبھی بلند ہوگیا۔ کیونکہ بعض نے جب ابواب (یعنی کتب) تصنیف کیے تو ان میں ضعیف احادیث بلکہ باطل (مرویات) کو بھی درج کردیا، یا تو وہ انکے ضعف سے غافل تھے یا پھر نقد سے معرفت کی قلت تھی۔

(النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر: جلد 1 صفحہ 447)

 

امام ابن حجر عسقلانیؒ کے کلام کے نقاط:

1۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ کے مطابق تمام آئمہ متقدمین جنہوں نے احادیث کی کتب تصنیف کرنے کا کام کیا ہے انہوں نے اپنی کتب کے اصل موضوع اور مقصد سے اپنی کتب میں کچھ مخالفت ضرور کی ہے۔

2۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی کتب میں ضعیف اور باطل مرویات شامل کردی، جو کہ ان کتب کے موضوع کے مطابق ان میں شامل ہونے کی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔

3۔ انکے اس عمل کی دو بنیادی وجوہات امام ابن حجر عسقلانیؒ کے مطابق جو ہوسکتی ہیں، ان میں اول تو یہکہ انہوں نے ان ضعیف اور باطل مرویات کی صحت کی طرف اتنی توجہ ہی نہیں کی بلکہ غفلت برتی جسکی بنا پہ کتاب کے موضوع کے برعکس یہ روایات ان میں شامل ہوگئی، دوسری یہکہ وہ ان مرویات پہ نقد کی معرفت نہیں رکھتے تھے جس کی بنا پہ وہ انکے ضعف پہ مطلع ہی نہیں ہوسکے۔

 

معلوم ہوا کہ آئمہ متقدمین جو کتب احادیث کے مصنفین ہیں وہ بھی کسی چیز کے متعلق کم معرفت رکھ سکتے ہیں اور انکے بعد کے آنے والے ان پہ برتری لے جاسکتے ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ آئمہ متاخرین نے آئمہ متقدمین اور انکی تصنیفات پہ نقد کیا ہے، اور بغیر آنکھیں بند کرکے انکی پیروی نہیں کی بلکہ جہاں بھی انہوں نے خطا دیکھی تو خطا بیان کی اور اسی طرح انہوں نے آئمہ متقدمین کے عمل اور انکی علم کی حفاظت بھی کی اور انکو بھی منتقل کیا اور اسکی تفصیلات اور انکا درست محل بھی بیان کیا۔

 

واسلام: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں