مدلس کی روایت کے متعلق شیخ مصطفی العدوی حفظہ اللہ کا منہج
﴿مدلس کی روایت کے متعلق شیخ مصطفی العدوی
حفظہ اللہ کا منہج﴾
شیخ ابو عبد اللہ مصطفی بن العدوی عرب
کے نامور عالم دین ہیں اور علم حدیث میں انکی مہارت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور نہ
ہی ان کی شخصیت کوئی تعارف کی محتاج ہے، ہر شخص جو دین کے علم میں دلائل تلاش کرنے
نکلا ہوگا تو اسکا کبھی نہ کبھی ان کے کلام سے سامنا ضرور ہوا ہوگا۔ شیخ حفظہ اللہ
متقدمین آئمہ کرام کے منہج و اسلوب کے مطابق احادیث و روایات کی تحکیم کرتے ہیں۔
اور علم حدیث میں تدلیس اور مدلس کی روایت کا اصولی اختلاف وہ بنیادی مسئلہ ہے جس
کو سمجھنا تمام طلباء حدیث کیلیے نہایت ہی اہم اور ضروری ہے، اس مسئلے میں طلباء کو
آئمہ کے مناہج کا اختلاف جاننا اور متقدمین و متاخرین آئمہ کرام کا عملی منہج
جاننا پھر اپنے لیے عملی اصول کو محرر کرنا بھی آنا چاہیے۔ ہم اپنے طلباء کیلیے اس
مسئلے میں بھی کئی اصولی ابحاث اور تحاریر لکھ چکے ہیں اور متعدد دلائل انکو مہیا
کرچکے ہیں۔ اور ویسے بھی سمجھدار کیلیے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ اسی کے چلتے اب ہم آپ
احباب کے سامنے شیخ مصطفی بن العدوی حفظہ اللہ کا منہج اور انکا اصول آپ احباب کے
سامنے رکھتے ہیں جو کہ نہ صرف انکا اور ہمارا اصول ہے بلکہ یہی جمہور متقدمین آئمہ
کرام کا عملی منہج ہے، یہاں تک کہ اس پہ امام ابن عبد البرؒ اور دیگر چند آئمہ
کرام نے اجماع تک نقل کر رکھا ہے۔
لہزا شیخ مصطفی العدوی سے اصول حدیث
کے متعلق ہونے والے سوالات کو مختلف رسائل میں متعدد بار جمع کرکے شائع کیا گیا
ہے، لہزا ان میں شیخ کے جوابات ملاحظہ کریں:
شیخ مصطفی بن العدوی حفظہ اللہ اپنے
رسالے میں جوبات دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
س: عرف تدليس الإسناد؟
ج: هو أن يروى عن من لقيه ما لم يسمعه
منه موهما أنه سمعه منه أو بتعبير آخر هو أن يسقط المحدث شيخه ويحدث عن شيخ شیخه
بلفظ محتمل السماع مثل عن - أن - قال ويكون قد سمع من شیخ شیخه بعض الأحاديث أما
هذا بعينه فسمعه منه بواسطة.
س: هل يقبل حديث المدلس إذا كان ثقة ؟
ج: لا يقبل إلا إذا ضرح بما يفيد
السماع نحو أخبرني - سمعت قال لي
سوال: تدلیس الاسناد کی تعریف کیا ہے؟
جواب: تدلیس الإسناد یہ ہے کہ راوی
کسی ایسے شخص سے روایت بیان کرے جس سے اس نے ملاقات کی ہو لیکن اس سے سماع نہ کیا
ہو مگر یہ دھوکہ دے کہ اس نے اس سے سماع کیا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں، یہ ہے کہ
محدث اپنے شیخ کو چھوڑ دے اور اپنے شیخ کے شیخ سے روایت بیان کرے، ایسے الفاظ کے
ساتھ جو سماعت کی احتمال رکھتے ہوں، جیسے "عن" اور "أن" اور
"قال"۔ اور یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے شیخ کے شیخ سے کچھ احادیث سنی ہوں،
لیکن یہ خاص حدیث اس نے اس سے واسطے کے ذریعے سنی ہو۔
سوال: کیا مدلس کی حدیث قبول کی جاتی
ہے اگر وہ ثقہ ہو؟
جواب: نہیں، سوائے اسکے کہ جب وہ سماع
کی صراحت واضع کرے، جیسے کہ "اخبرني" (مجھے خبر دی) یا "سمعت"
(میں نے سنا) یا "قال لي" (مجھ سے کہا)۔
س: عرف تدليس التسوية ؟
ج: هو اسقاط ضعيف بين ثقتين قد سمع
أحدهما من الآخر
(أى قد عرف أن أحدهما سمع عن الآخر عدة
أحاديث لكن في هذا الحديث بعينه كان بينهما واسطة والواسطة ضعيف فأسقط)
س: هل يقبل حديث مدلس تدليس التسوية
إذا كان ثقة ؟
ج: لا يقبل إلا إذا صرح في السند
بالتحديث من مدلس تدليس التسوية إلى نهاية السند
.
س: مثل لمن اشتهر بتدليس التسوية ؟
ج: كمثال لهم الوليد بن مسلم وبقية بن
الوليد .
سوال: تدلیس التسويہ کی تعریف کیا ہے؟
جواب: تدلیس التسويہ یہ ہے کہ دو ثقہ
راویوں کے درمیان ایک ضعیف راوی کو چھوڑ دیا جائے، جن میں سے ایک نے دوسرے سے سماع
کیا ہوتا ہے۔
(یعنی یہ معلوم ہو کہ ان میں سے ایک نے دوسرے
سے کئی احادیث سنی ہیں، لیکن اس خاص حدیث میں ان کے درمیان ایک واسطہ تھا اور وہ
واسطہ ضعیف تھا، اس لیے اسے چھوڑ دیا گیا)
سوال: کیا ثقہ مدلس تدلیس التسويہ کی
حدیث قبول کی جاتی ہے؟
جواب: نہیں سوائے اسکے کہ تدلیس
التسويہ کرنے والا مدلس سند کے اختتام تک تحدیث سماع کی تصریح کرے۔
سوال: تدلیس التسوية کے مشہور راویوں
کی مثال کیا ہے؟
جواب: اسکی مثال میں الوليد بن مسلم
اور بقیہ بن الوليد شامل ہیں۔
س: عرف تدليس الشيوخ؟
ج: هو الإتيان باسم الشيخ أو كنيته
على خلاف المشهور به تعمية لأمره وتوعيراً للوقوف على حاله
س: مثل لتدليس الشيوخ؟ ومن الذي اشتهر
به؟
ج: اشتهر به الخطيب البغدادي وأبو بكر
بن مجاهد المقرىء وابن الجوزي أما الأمثلة يروى الخطيب في كتبه عن أبي القاسم
الأزهري وعن عبيد الله بن أبي الفتح الفارسي وعن عبيد الله بن أحمد بن عثمان
الصيرفي والجميع شخص واحد من مشايخه۔
وكذلك يروى عن الحسن بن محمد الخلال
وعن الحسن بن أبي طالب وعن أبي محمد الخلال والجميع عبارة عن واحد
سوال: تدلیس الشيوخ کی تعریف کیا ہے؟
جواب: تدلیس الشيوخ یہ ہے کہ شیخ کا
نام یا کنیت اس کے مشہور نام کے خلاف بیان کیا جائے تاکہ اس کے بارے میں معلومات
کو چھپایا جا سکے اور اس کا حال جاننے سے لوگوں کو روکا جا سکے۔
سوال: تدلیس الشيوخ کی مثال کیا ہے؟
اور اس میں کون مشہور ہے؟
جواب: اس میں امام الخطيب البغدادی،
أبو بكر بن مجاهد المقری اور امام ابن الجوزی مشہور ہیں۔
مثال کے طور پر، امام الخطيب اپنی
کتابوں میں ابی القاسم الازهري، عبيد الله بن أبی الفتح الفارسی، اور عبید الله بن
احمد بن عثمان الصيرفی سے روایت کرتے ہیں، اور یہ سب ان کے ایک ہی شیخ ہیں۔
اسی طرح، وہ الحسن بن محمد الخلال،
الحسن بن أبی طالب، اور ابو محمد الخلال سے روایت کرتے ہیں، اور یہ سب ایک ہی شخص
ہے۔
س: عرف تدليس العطف؟
ج: كأن يقول حدثنا فلان وفلان وهو لم
يسمع من الثاني المعطوف كما ذكر عن هشيم أنه خرج على أصحابه فقال حدثني حصين
ومغيرة ثم استمر في حديثه ثم قال لتلاميذه هل دلست عليكم اليوم ؟ قالوا لا . قال
بل قد فعلت أما حصين فقد حدثني وأما مغيرة فحدثني فلان عنه
.
سوال: تدلیس العطف کی تعریف کیا ہے؟
جواب: تدلیس العطف یہ ہے کہ راوی کہے
"حدثنا فلان وفلان" جبکہ اس نے دوسرے راوی سے براہ راست نہیں سنا۔ جیسا
کہ هشيم کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اصحاب کے پاس آئے اور کہا "حدثني
حصين ومغيرة" پھر وہ اپنی حدیث بیان کرتے رہے اور
پھر اپنے تلامیذ سے کہا "کیا میں نے آج آپ پر تدلیس کی ہے؟" انہوں نے
کہا "نہیں۔" اس نے کہا "بلکہ میں نے تدلیس کی ہے۔ حصین نے مجھے
براہ راست روایت کی ہے، اور مغیرہ سے مجھے فلاں نے روایت کی ہے۔"
س: هل هناك أنواع أخرى للتدليس؟
ج: نعم هناك تدليس حذف الأداة وتدليس
السكوت وتدليس البلاد أما تدليس حذف الأداة فيحذف الأداة مطلقا وتدليس السكوت كأن
يقول حدثنا أو سمعت ثم يسكت ثم يقول (هشام بن عروة) موهما أنه سمع منه وليس كذلك.
وتدليس البلاد كأن يقول حدثني فلان
بالقاهرة وهو يقصد قرية أخرى.
سوال: کیا تدلیس کی دیگر قسمیں بھی
ہیں؟
جواب: ہاں، تدلیس حذف الاداۃ، تدلیس
السکوت اور تدلیس البلاد موجود ہیں۔
تدلیس حذف الاداۃ میں ادائیگی کے
صیغوں کو مکمل طور پر حذف کر دیا جاتا ہے۔
تدلیس السکوت میں ایسا ہوتا ہے کہ
راوی کہتا ہے کہ حدثنا یا سمعت پھر وہ خاموش ہو جاتا ہے پھر وہ کہتا ہے (ہشام بن
عروہ) جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس نے اس سے سنا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔
تدلیس البلاد میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ
کہتا ہے کہ فلاں نے مجھ سے قاہرہ میں بات کی اور وہ کسی دوسرے گاؤں کی مراد رکھتا
ہے۔
س: ما حكم عنعنة الأعمش وقتادة وأبي
إسحاق السبيعي؟
ج: يلزم أن يصرح كل منهم بالتحديث
فإنهم مدلسون لكن إذا روى عنهم شعبة فلا تضر عنعنتهم فإنه قال كفيتكم تدليس ثلاثة
ثم ذكرهم وقد قال الحافظ ابن حجر في عدة مواضع من فتح الباري إن رواية شعبة عن أي
مدلس تجبر عنعنة ذلك المدلس هذا مضمون كلامه
.
سوال: الاعمش، قتادة، اور ابو اسحاق
السبیعی کے عنعنہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: ان تینوں راویوں کو تحدیث سماع
کی تصریح کرنا لازم ہے کیونکہ یہ مدلس ہیں۔ لیکن اگر امام شعبہؒ نے ان سے روایت کی
ہو تو ان کا عنعنہ نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ امام شعبہؒ نے کہا تھا: "میں نے
تمہارے لیے تین مدلسین کی تدلیس کیلیے کافی ہوں" پھر انکا ذکر کیا۔
اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں
کئی جگہوں پر کہا ہے کہ امام شعبہ کی رویت اگر کسی بھی مدلس سے ہو تو وہ اس مدلس
کی عنعنہ کی تلافی کر دیتی ہے، یہ ان کے کلام کا خلاصہ ہے۔
س: ما حكم عنعنة أبي الزبير ؟
ج: إذا روى عنه الليث وكان هو يروى عن
جابر لا تضر عنعنته.
سوال: ابو الزبیر کی عنعنہ کے بارے
میں کیا حکم ہے؟
جواب: اگر لیث بن سعد نے ان سے روایت
کی ہو اور وہ جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوں تو ان کا عنعنہ نقصان دہ نہیں ہے۔
س : من الذي اشتهر أنه لا يدلس إلا عن
ثقة ؟
ج : هو سفيان بن عيينة .
تنبيه : قد يقول المحدث خطبنا فلان
ويقصد أنه خطب أهل بلده وقد أشار إلى ذلك السخاوي في فتح المغيث فقال ... كقول
الحسن البصري خطبنا ابن عباس وخطبنا عتبة بن غزوان وأراد أهل البصرة بلده فإنه لم
يكن بها حين خطبتها، ونحوه في قوله حدثنا أبو هريرة وقول طاوس قدم علينا معاذ
اليمن وأراد أهل بلده فإنه لم يدركه
سوال: کون وہ شخص ہے جو صرف ثقہ
راویوں سے تدلیس کرتا تھا؟
جواب: وہ سفیان بن عینیہ ہیں۔
تنبیہ:
محدث کبھی یہ کہہ سکتا ہے کہ
"ہمیں فلاں نے خطبہ دیا" اور اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے
شہر کے لوگوں کو خطبہ دیا۔
سخاوی نے فتح المغيث میں اس کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:
"جیسے
حسن بصری کا یہ قول کہ "ابن عباس نے ہمیں خطبہ دیا" اور "عتبہ بن
غزوان نے ہمیں خطبہ دیا"۔ ان کا مطلب اپنے شہر بصرہ کے لوگوں سے تھا کیونکہ
وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے جب انہوں نے خطبہ دیا تھا۔
اسی طرح "ابو ہریرہ نے ہمیں حدیث
سنائی" اور "طاوس
نے کہا کہ معاذ بن جبل یمن سے ہمارے پاس آئے"۔ ان کا مطلب بھی اپنے شہر کے
لوگوں سے تھا کیونکہ انہوں نے ان کا ادراک نہیں کیا۔
س : ماذا قال القطب الحلبي بشأن
العنعنات التي في الصحيحين ؟
ج : قال : أكثر العلماء على أن
المعنعنات التي في الصحيحين منزلة منزلة السماع إما لمجيئها من وجه آخر بالتصريح
بالسماع أو لكون المعنعن لا يدلس إلا عن ثقة، أو لوقوعها من جهة بعض النقاد
المحققين سماع المعنعن لها .
قلت : أما ابن الصلاح والنووي إنه
محمولة على ثبوت السماع فيه عندهم من جهة أخرى إذا كان في أحاديث الأصول لا
المتابعات تحسينا للظن بمصنفيها يعني ولو لم نقف نحن على ذلك لا في المستخرجات
التي هي مظنة لكثير منه ولا في غيرها. وأشار ابن دقيق العيد إلى التوقف في ذلك..
سوال: علامہ حلبی نے صحیحین میں موجود
عنعنات کے بارے میں کیا کہا ہے؟
جواب: انہوں کہا ہے کہ اکثر علماء کے
نزدیک صحیحین میں موجود عنعنات سماع کی منزلت رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ انہیں کسی اور
طریق سے سماع کی تصریح کے ساتھ روایت کیا گیا ہے، یا پھر ان معنعن میں صرف ثقہ
راویوں سے ہی تدلیس کرتا تھا، یا اس لیے کہ بعض نقاد محققین کے نزدیک انکی معنن
میں سماع واقع ہوا ہے۔
میں (مصطفی العدوی) کہتا ہوں کہ: امام
ابن الصلاح اور امام نووی کے نزدیک یہ سماع کے ثبوت پہ محمول ہے کسی اور طریقے سے،
اگر یہ احادیث اصول میں ہو، ناکہ متابعات میں۔ انکے مصنفین کے بارے میں حسن ظن
کرتے ہوئے یعنی اگر ہم اس سماع کو نہ بھی پائیں، نہ تو مستخرجات میں جہاں ظن کی
کثرت ہے اور نہ ہی کہیں اور۔ اور امام ابن دقيق العيد نے اس میں توقف کا اشارہ کیا
ہے۔
(أسئلة وأجوبة في مصلح
الحديث: صفحہ 40 تا 43)
لہزا معلوم ہوا کہ شیخ مصطفی بن
العدوی حفظہ اللہ کا بھی وہی منہج اور اصول ہے جو ہمارا اور جمہور آئمہ متقدمین کا
ہے، جس پہ امام ابن عبد البرؒ وغیرہ نے اجماع کا دعوی کیا ہے، کہ مدلس کی معنن
مرویات کو رد کیا جائے گا الہ یہکہ سماع کی صراحت مل جائے اور یہکہ قرائن استثناء
مہیا کردیں کہ یہاں عنعنہ سماع پہ محمول ہوگا۔
شیخ حفظہ اللہ نے اپنا یہ منہج اپنی
اصول حدیث کی کتب میں واضع کرکے لکھا ہے، جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا اور شیخ نے
اپنی متعدد تحقیقات اور تحکیمات میں اپنے اس منہج اور اصول کو بلکل کھل کر استعمال
کیا ہے۔ کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ شیخ مصطفی بن العدوی حفظہ اللہ نے صرف
مدلس راوی کے عنعنہ کے پیش نظر روایت کی تضعیف کی ہے۔
اختصار کے پیش نظر تين مثاليں درج ذيل
ہیں:
1۔
قتاده کا عنعنہ:
سند ضعيف:
في هذا الإسناد عنعنة قتادة، وهو مدلس
كما هو معلوم، ولم نقف على رواية مطولة كهذه توبع فيها قتادة، أو صرح فيها
بالتحديث
سند ضعیف ہے، اس سند میں قتادہ کی
عنعنہ ہے، اور وہ جیسا کہ معلوم ہے مدلس ہے۔ ہم نے اس طرح کی کوئی مطول روایت نہیں
پائی جس میں قتادہ کی اس میں متابعت کی گئی ہو یا جس میں اس نے تحدیث سماع کی
صراحت کی ہو۔
(المنتخب من مسند عبد
بن حميد ت مصطفى العدوي: رقم 418)
2۔
حسن بصری کا عنعنہ:
إسناده ضعيف:
فيه الحسن البصري مدلس وقد عنعن
اسناد ضعیف ہیں، اس میں حسن بصری مدلس
کا عنعنہ ہے۔
(المنتخب من مسند عبد
بن حميد ت مصطفى العدوي: رقم 1528)
3۔
اعمش كا عنعنہ:
فيه فقط عنعنة الأعمش، وهو مدلس
اس میں صرف اعمش کا عنعنہ ہے اور وہ
مدلس ہے۔
(المنتخب من مسند عبد
بن حميد ت مصطفى العدوي: رقم 263)
یہ فقط میں نے شاملہ سے شیخ مصطفی
العدوی کی تحکیم کی چند مثالیں نقل کی ہیں تاکہ ہر شخص باآسانی اسکو پرکھ سکے۔
لہزا اب طلباء کو چاہیے کہ وہ
ڈھونگیوں سے بچیں اور اپنا مطالعہ اور علم بڑہائیں، کسی کی کی لکیر کے فقیر بننے
کے بجائے خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ اصول تک کو محرر کرسکیں اور مخالفین سے
اصولی ابحاث کرسکیں۔ شیخ مصطفی بن العدوی حفظہ اللہ کا نام لیکر کئی ڈھونگی لوگوں
نے اپنا منجن خوب بیچا ہے اور خود ساختہ منہج متقدمین گھڑا ہے جوکہ نہ تو متقدمین
سے متابقت رکھتا ہے اور نہ ہی شیخ مصطفی العدوی حفظہ اللہ کا منہج ہے، بس جاہل
عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے کیونکہ عوام نے کونسا اصل جاکر دیکھنی
ہوتی ہے۔
نوٹ: بعض خائن لوگ عوام الناس کو یہ
دھوکہ دیتے ہیں کہ شیخ مصطفی العدوی نے بعد میں اپنے اس منہج سے رجوع کرلیا تھا
اور وہ مدلس کی معنن کو ضعف کی بنیاد نہیں سمجھتے۔ جبکہ یہ بات جھوٹ ہے، شیخ کا
یہی موقف ہے اور انکی بعد کی اصول حدیث کی کتب میں اسکی صراحت موجود ہے کہ وہ بھی
مدلس کی معنعن کو ضعف کی بنیاد سمجھتے ہیں اور اس چیز میں وہ امام ابن حجر
عسقلانیؒ کے طبقات پہ انحصار کرتے ہیں، اور ہم طبقات پہ انحصار نہیں کرتے، بس اتنا
سا فرق ہے۔
اللہ تعالی ہم تمام طلباء کو ڈھونگیوں
سے بچائے اور اصل ذرائع سے علم حاصل کرنے اور علم کو محرر کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
واسلام: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں


Post a Comment