مولا علی المرتضیؑ کی سبقت اور حنفی امام الحاکم الحسکانیؒ
)مولا علی المرتضیؑ کی
سبقت اور حنفی امام الحاکم الحسکانیؒ(
ہم نے پہلی تحریر میں سیدنا امام مولا
علی المرتضی علی السام کی سبقت والی موقوف حدیث مبارکہ کو احباب کے سامنے رکھا
تھا، پھر اس ایک خائن بریلوی کے اعتراضات کا رد کیا، پھر اس دیمک زدہ بریلوی ناصبی
کو تکلیف ہوئی اور اس نے اپنی بغض کا اظہار کیا تو ہم نے اسکا تعاقب کیا اور اسکا
رد لکھا، اب ہم اس تحریر میں احناف کے امام سے اس حدیث مبارکہ کی تصحیح اور انکی
طرف سے اسے حجت ماننے کو سامنے لا رہے ہیں، سیدنا مولا علی المرتضیؑ کی فضیلت سے
جن منافقین کو تکلیف ہوئی ہے اور وہ کذب بیانیوں سے عوام کو گمراہ کررہے ہیں، ان کی
جہالت کا عالم یہ ہے کہ خود جن کی نسبت کو اپنے ناموں کے ساتھ لکھ کر خود کو تیس
مار خان دکھانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں بھلا انکے نام کا ہی لحاظ رکھ لیں، مگر خیر:
❂
امام عبید اللہ بن عبد اللہ بن احمد الحاکم الحسکانی
الحنفیؒ (المتوفی حوالي 480ھ) باب قائم کرتے ہیں اور
لکھتے ہیں:
قول بعض الصحابة رضي الله عنهم [ في
تفضيل علي علیہ السلام ]
أخبرنا محمد بن علي بن محمد المقري
بقراءتي عليه من أصل سماعه [ أخبرنا ] محمد بن الفضل بن محمد [ أخبرنا ] محمد بن
إسحاق بن خزيمة [ أخبرنا ] الحسين بن حريث أبو عمار [ أخبرنا ] الفضل بن موسى ، عن
فطر ، عن أبي الطفيل :
عن بعض أصحاب النبي ﷺ قال لقد سبق
لعلي بن أبي طالبؑ من المناقب ما لو أن واحدة قسمت بين الخلق وسعهم خيرا۔
[ قال الحسكاني ] فضل بن موسى
الشيباني من ائمة الفقهاء بمرو، ورواه غيره عن فطر بن خليفة كذلك أيضاً . وأبو
الطفيل عامر بن واثلة الليثي من الصحابة ، وهذا اسناد صحيح على شرطهم وحديثهم مخرج
في الصحاح . ورواه يزيد بن هارون الواسطي وهو إمام في الحديث عن فطر في الرملة [
كذا ].
مولا علی المرتضیؑ کی تفضیل کے متعلق
بعض صحابہ کرامؓ کا قول:
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ رسول
اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کرامؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ مولا علی المرتضیؑ
کے مناقب میں ایسی سبقتیں ہیں جن میں ایک کو بھی مخلوق کے درمیان تقسیم کیا جائے
تو وہ انکی خیر کیلی کافی ہوجائے۔
امام الحاکم الحسکانیؒ کہتے ہیں: فضل
بن موسی الشیبانی روايت كرنے والے آئمه فقهاء ميں سے ہیں، اسی طرح دیگر لوگوں نے
بھی فطر بن خلیفہ اسے روایت کیا ہے۔ اور ابو الطفیل عامر بن واثلہ اللیثی صحابہ
کرام میں سے ہیں، اور صحاح میں تخریج کی گئی احادیث اور شرائط کے مطابق یہ اسناد
صحیح ہیں۔ اور یزید بن ھارون الواسطی نے بھی اسے روایت کیا ہے اور وہ رملہ میں فطر
بن خلیفہ سے روایت کرنے میں حدیث کے امام ہیں۔
)شواهد التنزيل لقواعد التفضيل: جلد 1 صفحہ 18 رقم 6، صحیح(
❂
اس سے اگلے صفحے پہ ہی امام الحاکم الحسکانیؒ اس روایت
کی مزید اسناد نقل کرتے ہیں:
و [ ما رواه ] يزيد بن هارون ، حدثنيه
أبو بكر السكري [ قال : حدثنا ] أبو بكر ابن المقري [ وهو ] شيخ ثقة جليل [ قال :
حدثنا ) أبو عمرو عبيد الله بن أحمد بن عقبة الأصبهاني [ قال : حدثنا ] محمد بن
عبد الملك الدقيقي [ قال : حدثنا ] يزيد بن هارون
:
[ عن ] فطر بن خليفة قال : سمعت أبا
الطفيل يقول : كار. بعض أصحاب النبي يقول : لقد كان لعلي بن أبي طالب من السوابق
ما لو أن سابقة منها قسمت بين الخلائق لأوسعتهم خيراً۔
و [ رواه ايضا ] محمد بن عيسى عن قطر
، وسمى الصحابي :
أخبرنيه احمد بن علي الحافظ [ أخبرنا
] محمد بن علي بن عاصم، ومحمد بن الحسن بن قتيبة [ أخبرنا ] محمد بن عمرو الغزي [
أخبرنا ] محمد
بن عيسى ، عن فطر .
عن أبي الطفيل عن ابن عباس قال : لقد
سبقت لعلي من السوابق ما لو قسمت [ واحدة منها ] بين جميع الخلائق لأوسعتهم خيراً .
ترجمہ وہی جو اوپر ہم کرچکے ہیں، صرف
اسناد مختلف ہیں، امام الحاکم الحسکانیؒ لکھتے ہیں کہ محمد بن عیسی جب فطر بن خلیفہ
سے روایت کرتے ہیں تو صحابی کا نام بھی لیتے ہیں، پھر آپ محمد بن عیسی کی سند سے
روایت نقل کرتے ہیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ملتا کہ مولا
علی المرتضیؑ کے پاس ایسی سبقتیں ہیں جن میں سے ایک کو بھی اگر مخلوق میں تقسیم کیا
جائے تو انکی بھلائی کیلیے کافی ہوجائے۔
(شواهد التنزيل لقواعد
التفضيل: جلد 1 صفحہ 19 و 20 رقم 10 و 11)
ہم اپنے قارئین کیلیے امام الحاکم
الحسکانی رحمہ اللہ کا تعارف پیش کرتے ہیں:
❂
امام تقی الدین ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الصریفینیؒ
(المتوفی 641ھ) نے امام عبد الغافر الفارسیؒ (المتوفی 529ھ) کی کتاب "السياق
لتاريخ نيسابور" کا انتخاب لکھتے ہیں اور اس میں انکا ترجمہ قائم کرتے ہیں کہ:
أبو القاسم الحسكاني الحذاء
عبيد الله بن عبد الله بن أحمد بن
أحمد بن محمد بن حسكان أبو القاسم الحذاء الحافظ المتقن من أصحاب أبي حنيفة فاضل
مسن من بيت العلم والوعظ والحديث ينسبون إلى عبد الله بن عامر بن كريز وهذا تميز
من بينهم بطلب الحديث وتحصيله ومعرفته حتى خرج فيه
سمع الكثير عاليا وانتخب على الشيوخ
وجمع الأبواب والكتب والطرف وتفقه على القاضي الإمام أبي العلاء
ابو القاسم الحسكانی الحذا
عبید اللہ بن عبد اللہ بن احمد بن
احمد بن محمد بن حسکان ابو القاسم
الحذاء حافظ، امام ابو حنیفہ کے اصحاب
میں متقن، فاضل، بزرگ، علم وعظ اور حدیث کے گھر کے تعلق رکھنے والے ہیں۔
انہیں سیدنا عبد اللہ بن عامر بن کریزؓ
کی طرف بھی منسوب کیا جاتا ہے اور انہوں نے ان میں حدیث کی طلب تحصیل اور معرفت کے
لحاظ سے امتیاز حاصل کیا حتی کہ ان سے تخریج بھی کی۔
انہوں نے اپنے شیوخ سے بہت سا سماع کیا
اور ان سے انتخاب کیا، اور ابواب کتب اور معلومات جمع کیں۔ اور قاضی امام ابی
العلاء سے فقہ سیکھی۔
(المنتخب من كتاب السياق
لتاريخ نيسابور - ط الفكر: صفحہ 324 رقم 982)
❂
اسی طرح امام شمس الدین الذھبیؒ (المتوفی 748ھ) لکھتے ہیں:
الحسكاني:
الإمام المحدث البارع القاضي أبو
القاسم؛ عبيد الله بن عبد الله ابن أحمد بن محمد بن أحمد بن محمد بن حسكان القرشي
العامري النيسابوري الحنفي الحاكم. ويعرف أيضا بابن الحذاء من ذرية الأمير الذي
افتتح خراسان؛ عبد الله بن عامر بن كريز.
حدث عن: جده وعن أبي الحسن العلوي
وأبي عبد الله الحاكم وأبي طاهر بن محمش وعبد الله بن يوسف وابن فنجويه الدينوري
وأبي الحسن بن السقا وعلي بن أحمد بن عبدان وخلق إلى أن ينزل إلى أبي سعد
الكنجروذي وطبقته.
اختص بصحبة أبي بكر بن الحارث النحوي،
ولازمه، وأخذ أيضا عن، الحافظ أحمد بن علي بن منجويه.
وتفقه بالقاضي صاعد بن محمد.
وصنف وجمع وعني بهذا الشأن.
لازمه الحافظ عبد الغافر بن إسماعيل
وأكثر عنه وأورده في تاريخه لكني ما وجدته أرخ موته والظاهر أنه بقي إلى بعد
السبعين وأربع مائة.
حدث عنه: وجيه الشحامي في مشيخته
حديثا يرويه عن، عبد الله بن يوسف بن بامويه.
الحسکانی، امام، المحدث، باکمال، قاضی
ابو القاسم، عبید اللہ بن عبد اللہ بن احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن حسکان
القرشی النیساپوری الحنفی الحاکم۔
اور آپ ابن الحذاء سے بھی جانے جاتے ہیں،
ان امیر کی نسل سے جنہوں خراسان كو فتح کیا تھا، یعنی سیدنا عبد اللہ بن عامر بن
کریزؓ۔
انہوں نے اہنے دادا، ابی الحسن العلوی،
ابی عبد اللہ الحاکم، ابی طاہر بن محمش، عبد اللہ بن یوسف، ابن فنجویہ الدینوری،
ابی الحسن بی السقا، علی بن احمد بن عبدان اور ایک مخلوق سے حدیث روایت کی، یہاں
تک کہ ابی سعد الکنجروذی اور انکے طبقے تک اتر آئے۔
انہوں نے ابی بکر الحارث کی صحبت اختیار
کی اور ان سے وابستہ رہے اور اسی طرح انہوں نے حافظ احمد بن علی بن منجویہ سے بھی
علم حاصل کیا، اور فقہ قاضی صاعد بن محمد سے سیکھی۔ اور اسی سلسلے میں ان سے لکھا،
جمع کیا اور معنی کیے۔
حافظ عبد الغافر بن اسماعيل اور اکثر
ان سے وابستہ رہے۔ اور تاریخ الکنی میں انہیں شامل کیا، میں نت انکی تاریخ وفات کے
متعلق کوئی چیز نہیں ملی، اور ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چار سو ستر ہجری کے آس پاس تک حیات
رہے۔
ان سے روایت کرتے ہیں: وجیہ الشحامی
اپنے شیخ کی حدیث میں عبد اللہ بن یوسف بن بامویہ سے روایت کرتے ہیں۔
(سير أعلام النبلاء - ط
الحديث: جلد 13 صفحہ 418 رقم 4227)
❂
اسی طرح امام ذھبیؒ ایک جگہ آپکا ترجمہ قائم کرتے ہوئے
لکھتے ہیں:
الحسكاني القاضي المحدث أبو القاسم
عبيد الله بن عبد الله بن أحمد بن محمد بن أحمد بن محمد بن حسكان القرشي العامري
النيسابوري الحنفي الحاكم، ويعرف بابن الحذاء الحافظ: شيخ متقن ذو عناية تامة بعلم
الحديث، وهو من ذرية الأمير عبد الله بن عامر بن كريز الذي افتتح خراسان زمن عثمان
وكان معمرًا عالي الإسناد، صنف "في الأبواب" وجمع وحدث عن جده
"أحمد" وعن أبي الحسن العلوي وأبي عبد الله الحاكم وأبي طاهر بن محمش
وعبد الله بن يوسف الأصبهاني وأبي الحسن بن عبدان وابن فنجويه الدينوري وأيى الحسن
علي بن السقاء وأبي عبد الله بن باكويه وخلق، وينزل إلى أبي سعيد الكنجرودي ونحوه،
اختص بصحبة أبي بكر بن الحارث الأصبهاني النحوي وأخذ عنه. وأخذ أيضًا عن الحافظ
أحمد بن علي بن منجويه، وتفقه على القاضي أبي العلاء صاعد بن محمد، وما زال يسمع
ويجمع ويفيد، وقد أكثر عنه المحدث عبد الغافر بن إسماعيل الفارسي وذكره في تاريخه
لكن لم أجده ذكر له وفاة. وقد توفي بعد السبعين وأربعمائة؛ ووجدت له مجلسًا يدل
على تشيعه وخبرته بالحديث وهو تصحيح خبر رد الشمس لعلي -رضي الله عنه- وترغيم
النواصب الشمس
الحسکانی القاضی المحدث ابو القاسم عبید
اللہ بن عبد اللہ بن احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن حسکان القرشی العامری النیساپوری
الحنفی الحاکم۔ اور آپ ابن الحذاء کے طور پہ بھی جانے جاتے ہیں، حافظ شیخ متفق،
علم الحدیث کمال رکھنے والے۔ اور آپ سیدنا عثمانؓ کے دور میں خراساں کو فتح کرنے
والے امیر عبد اللہ بن عامر بن کریزؓ کی ذریت سے ہیں۔ اور آپ طویل عمر اور عالی
اسناد والے تھے۔ انہوں نے ابواب میں درجہ بندی کی اور جمع کیا اور احادیث لکھی
اپنے دادا احمد سے، اور ابی الحسن العلوی، ابی عبد اللہ الحاکم، ابی طاہر بن محمش،
عبد اللہ بن یوسف الاصبھانی، ابی الحسن بن عبدان، ابن فجویہ الدینوری، ابی الحسن
علی بن السقاء، ابی عبد اللہ بن باکویہ اور ایک مخلوق سے، اور یہ ابی سعید
الکنجرودی اور ان جیسوں تک آتے ہیں، انہوں نے ابی بکر الحارث الاصبہانی کی صحبت
اختیار کی اور ان سے علم حاصل کیا۔ اور اسی طرح انہوں نے حافظ احمد بن علی بن منجویہ
سے بھی علم حاصل کیا، اور فقہ قاضی ابی العلاء صاعد بن محمد سے سیکھی، اور وہ سنتے
جمع کرتے اور استفادہ کرتے رہے۔ اور ان سے اکثر محدث عبد الغافر بن اسماعیل الفارسی
روایت کرتے ہیں، انہوں نے انکا زکر تاریخ میں کیا ہے لیکن مجھے انکی وفات کا زکر
نہیں ملا۔ اور انکی وفات چار سو ستر ہجری کے بعد ہوئی۔
میں نے انکی ایک مجلس پائی جو انکے تشیع
اور حدیث کے علم کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق حدیث
رد الشمس کی تصحیح کرنا ہے اور نواصب کو سورج سے شرمندہ کرنا ہے۔
(تذكرة الحفاظ للذهبي: جلد
3 صفحہ 258)
❂
اسی طرح امام ابو عبد القادر القرشی الحنفیؒ (المتوفی
775ھ) بھی انکو حنفی قرار دیتے ہوئے احناف کے طبقات میں زکر کرتے ہیں:
عبيد الله بن عبد الله بن أحمد بن
محمد بن حسكان، أبو القاسم الحذّاء
من ذرّية عبد الله بن عامر بن كريز،
الحافظ المتقن، من أصحاب أبى حنيفة.
فاضل ثبت، من بيت العلم والوعظ
والحديث.
وسمع، وانتخب، وجمع الأبواب والكتب
والطّرق.
وتفقّه على القاضى أبى العلاء صاعد.
وحدّث عن أبيه، عن جدّه.
ويأتى ابنه محمد.
وتقدّم أبوه عبد الله بن أحمد بن
محمد، وتقدّم ابنه صاعد بن عبيد الله أخو محمد
روى عنه أبو الحسن الحافظ الدّارقطنىّ
عبید اللہ بن عبد اللہ بن احمد بن
محمد بن حسکان، ابو القاسم الحذاء۔
آپ سیدنا عبد اللہ بن عامر بن کریزؓ کی
نسل میں سے ہیں، آپ حافظ متقن اور امام ابو حنیفہؒ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔
آپ فاضل و ثبت ہیں، آپ علم وعظ اور حدیث
کے گھر سے تعلق رکھتے ہیں۔
اور آپ نے سماع کیا، انتخاب کیا،
ابواب جمع کیے، کتب اور طریق تصنیف کیے۔
اور فقہ قاضی ابی العلاء صاعد سے سیکھی۔
اور آپ اپنے والد کی سند سے اپنے دادا
سے حدیث بیان کرتے ہیں اور انکا بیٹا محمد آتا ہے۔
اور انکے والد عبد اللہ بن احمد بن
محمد ہیں اور انکے بیٹے صاعد بن عبید اللہ ہیں جو محمد کے بھائی ہیں۔
آپ سے ابو الحسن الحافظ الدارقطنیؒ
روایت کرتے ہیں۔
(الجواهر المضية فى طبقات
الحنفية - ت الحلو: جلد 2 صفحہ 496 رقم 897)
❂
اسی طرح امام زین الدین ابن قطلوبغا الحنفیؒ (المتوفی
879ھ) بھی امام ذھبیؒ سے نقل کرتے ہوئے آپکو حنفی قرار دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ:
ووجدت له مجلسا في تصحيح رد الشمس،
وقد تكلم على رجاله كلام شيعي عارف بفن الحديث
اور میں نے انکی ایک مجلس دیکھی جس میں
انہوں نے حدیث رد شمس کی تصحیح کی، اور انہوں نے اسکے رجال پہ کلام کیا ایک شیعہ
کے کلام کی طرح جو حدیث کے فن میں مہارت رکھتا ہو۔
(تاج التراجم لابن قطلوبغا:
صفحہ 202 رقم 157)
❂
اسی طرح ہمارے معاصرین میں بنگلادیش کے مشہور و معروف
حنفی عالم حفظ الرحمن الکملائی بھی آپکو احناف کے تراجم میں زکر کرکے حنفی قرار دیتے
ہیں:
(البدور المضية في تراجم
الحنفية: جلد 16 صفحہ 42 رقم 4595)
معلوم ہوا کہ امام عبید اللہ بن عبد
اللہ الحاکم الحسکانی رحمہ اللہ احناف کے بہت بلند پایہ امام تھے، آپ علم فقہ کی
مہارت کے ساتھ ساتھ علم حدیث میں بہت مہارت رکھنے والے تھے۔ آپ رحمہ اللہ نے مولا
علی المرتضی علیہ السلام کی فضیلت میں وارد حدیث کو صحیح کہا اور نواصب کا رد کیا
تو اس وجہ سے آپ پہ تشیع کا گمان کیا جانے لگا جوکہ درست نہیں ہے اور حقیقت کے
برخلاف ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر آپکے تراجم نقل کرچکے ہیں۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ احناف کے
نزدیک بھی ہماری زیر بحث مولا علی المرتضی کی سبقت والی حدیث مبارکہ صحیح و ثابت
ہے۔ احناف کے آئمہ نے بھی اسے حجت بنایا ہے۔ الحمد اللہ تعالی۔
تحریر: شہزاد احمد آرائیں
اس موضوع پہ ہماری تمام تحاریر کو PDF ميں حاصل كرنے كيليے یہاں کلک کریں:

Post a Comment