سند میں سفیان کی معرفت حاصل کرنے کا ایک آسان قائدہ
﴿سند میں سفیان کی معرفت حاصل کرنے کا ایک آسان قائدہ﴾
طلباء حدیث کو احادیث کی اسناد میں رواۃ
کے تعین میں ایک مشکل پیش آتی ہے جوکہ نہایت عام چیز ہے کہ اس سند میں موجود سفیان
کون ہے؟ وہ امام سفیان الثوریؒ ہیں یا امام سفیان بن عیینہؒ ہیں، اسکی معرفت کے مختلف
قوائد موجود ہیں، جیسا کہ
امام شمس الدین الذھبیؒ (المتوفی 748ھ) لکھتے ہیں:
ويقع مثل هذا الاشتراك سواء في السفيانين،
فأصحاب سفيان الثوري كبار قدماء، وأصحاب ابن عيينة صغار، لم يدركوا الثوري، وذلك أبين،
فمتى رأيت القديم قد روى، فقال: حدثنا سفيان، وأبهم، فهو الثوري، وهم كوكيع، وابن مهدي،
والفريابي، وأبي نعيم۔
فإن روى واحد منهم عن ابن عيينة بينه،
فأما الذي لم يلحق الثوري، وأدرك ابن عيينة، فلا يحتاج أن ينسبه، لعدم الإلباس، فعليك
بمعرفة طبقات الناس۔
اسطرح کا اشتراک دونو سفیانوں (سفیان ثوری
اور سفیان ابن عیینہ) میں بھی ہوتا ہے، چناچہ سفیان ثوریؒ کے اصحاب بڑے اور قدیم ہیں،
اور ابن عیینہؒ کے اصحاب چھوٹے ہیں، انہوں نے ثوری کو نہیں پایا، یہ فرق واضع ہے، لہزا
جب بھی تم دیکھو کہ کوئی قدیم شخص روایت کررہا ہے اور کہتا ہے: حدثنا سفیان، اور (نام)
مبہم رکھتا ہے، تو وہ ثوری ہیں، ان میں وکیع، ابن مہدی، الفریابی اور ابو نعیم شامل
ہیں۔
اور اگر ان میں سے کوئی ابن عیینہ سے روایت
کرے تو وہ اسے واضع کردیتا ہے، اور جنہوں نے ثوری کو نہیں پایا اور ابن عیینہ کو پایا
ہے، تو انہیں اسکی نسبت بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں کوئی ابہام نہیں ہوتا،
لہزا تم لوگوں کے طبقات کی معرفت حاصل کرو۔
(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة:
جلد 7 صفحہ 466)
مندرجہ بالا تصریح سے یہ معلوم ہوتا ہے
کہ طبقات کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کون سے راوی سے کون سا سفیان مراد ہے،
اگر تو طبقہ قدیم ہے تو اس سے مراد سفیان ثوری ہوگی بشرط یہکہ وہ سفیان کو مبہم رکھتا
ہے اور اگر طبقہ جدید ہے تو پھر اس سے مراد سفیان بن عیینہ ہونگے۔ لہزا رواۃ کے طبقات
کا علم اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے اول تو رواۃ کے تعین میں مدد ملتی
ہے، دوئم اس سے رواۃ کے مابین سماع، ارسال اور تدلیس کو تلاش کرنے میں بھی مدد ملتی
ہے۔
اسکی ایک مثال:
امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) لکھتے ہیں:
قوله سفيان هو الثوري وقد رواه أحمد
في مسنده عن بن عيينة لكن محمد بن يوسف الفريابي وإن كان يروي عن السفيانين فإنه حين
يطلق يريد به الثوري كما أن البخاري حيث يطلق محمد بن يوسف لا يريد به إلا الفريابي
وإن كان يروي عن محمد بن يوسف البيكندي أيضا
انکا قول کہ سفیان سے مراد امام سفیان
ثوریؒ ہیں، اور امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند میں امام سفیان ابن عیینہؒ سے روایت
کی ہے، لیکن محمد بن یوسف الفریابی، اگرچہ وہ دونو سفیانوں سے روایت کرتے ہیں مگر جب
وہ مطلق (بغیر وضاحت کے) اشارہ کرتے ہیں تو اس سے مراد امام سفیان ثوریؒ ہوتے ہیں،
جیسے کہ امام بخاریؒ جہاں “محمد بن یوسف” کا اشارہ کرتے ہیں تو اس سے صرف الفریابی
مراد ہوتے ہیں حالانکہ وہ محمد بن یوسف البیکندی سے بھی روایت کرتے ہیں۔
(فتح الباري لابن حجر: جلد 1 صفحہ 162)
امام
ذھبیؒ نے جو قائدہ بیان فرمایا تو یہاں امام ابن حجر عسقلانیؒ نے اسی کا عملی نمونہ
پیش کیا ہے۔ صحیح بخاری میں امام بخاریؒ اس روایت کو اس سند سے روایت کرتے ہیں:
حدثنا
محمد بن يوسف قال: أخبرنا سفيان، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن ابن مسعود قال:
«كان النبي صلى الله عليه وسلم يتخولنا بالموعظة في الأيام؛ كراهة السآمة علينا»
سیدنا
عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمیں وقفے وقفے سے مختلف دنوں میں نصیحت
کرتے تھے تاکہ ہم پہ بیزاری نہ طاری ہوجائے
(صحیح بخاری: رقم 68)
اس
سند میں سفیان سے مراد سفیان الثوریؒ ہیں، جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ کے کلام سے
سمجھنا مزید آسان ہے۔ اسی روایت کو امام احمد بن حنبلؒ خود اپنی مسند میں اس سند سے
روایت کرتے ہیں:
حدثنا
سفيان، قال: سليمان، سمعت شقيقا، يقول: كنا ننتظر عبد الله في المسجد يخرج علينا، فجاءنا
يزيد بن معاوية يعني النخعي، قال: فقال: ألا أذهب فأنظر ؟ فإن كان في الدار، لعلي أن
أخرجه إليكم، فجاءنا، فقام علينا، فقال: إنه ليذكر لي مكانكم فما آتيكم كراهية أن أملكم، لقد
" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخولنا بالموعظة في الأيام، كراهية السآمة
علينا "
(مسند أحمد - ط الرسالة: جلد
6 صفحہ 57 رقم 3581)
یہاں
اس سند میں سفیان سے مراد سفیان بن عیینہؒ ہیں جن سے امام احمد بن حنبلؒ خود روایت
کررہے ہیں۔
امام
محمد بن حسن الفریابیؒ جو امام بخاری کے شیخ ہیں جن سے امام بخاریؒ نے روایت لی ہے،
انکی وفات 212ھ ہے (سير أعلام النبلاء - ط الرسالة:
جلد 10 صفحہ 118) اور امام احمد بن حنبلؒ کی وفات 241ھ ہے،
اس سے واضع معلوم ہوجاتا ہے کہ امام محمد بن حسن الفریابیؒ کا طبقہ قدیم ہے اور امام
احمد بن حنبلؒ سے وہ کبیر ہیں اور امام احمد بن حنبلؒ انکے مقابلے میں صغیر ہیں، اس
لیے امام محمد بن حسن الفریابیؒ کا سفیان کہنے سے مراد سفیان ثوری ہے اور امام احمد
بن حنبلؒ کا سفیان کہنے سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔ مزید امام احمد بن حنبلؒ دسویں
طبقے میں آتے ہیں اور امام محمد بن حسن الفریابی نویں طبقے میں آتے ہیں تو طبقات کا
فرق بھی واضع معلوم ہے۔
امام
ذھبیؒ کے بیان کردہ قائدے کی عملی مثال کے ساتھ ساتھ ہمیں امام ابن حجر عسقلانیؒ کے
کلام سے ہمیں مزید ایک تصریح مل گئی کہ امام بخاریؒ بھی جب کبھی محمد بن یوسف کہہ کر
روایت کریں تو انکی مراد محمد بن یوسف الفریابی سے ہی ہوتی ہے۔
لہزا
یہ امام ذھبیؒ کی تصریح کی عملی مثال دیکر اور امام ذھبیؒ کی تاعید امام ابن حجر عسقلانیؒ
سے کرکے ہم نے بات واضع کردی کہ اس قائدے سے آپ سند میں سفیان کی تفریق باآسانی کرسکتے
ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے علاوہ سفیان ثوری اور سفیان ابن عیینہ
کے تلامذہ اور اساتذہ کو بھی دیکھا جائے کہ بعض رواۃ ان دونو میں سے صرف ایک سے ہی
روایت کرتے ہیں اور اسی طرح ان میں سے بھی کوئی
اپنے کسی ایک شیخ سے خاص روایت کرتا ہے جبکہ دوسرا اس شیخ سے روایت نہیں کرتا
تو اس کا علم ہونا بھی روایت میں سفیان کے مبہم ہونے کا تعین کرنے میں نہایت مددگار
ہوتا ہے۔
ان شاء اللہ، آگے ہم مزید قوائد اور امثال
کو بھی احباب کے سامنے رکھیں گے جس سے انہیں سند میں سفیان کے تعین میں معاونت ملے
گی۔
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب
والسلام: ابو الحسنین دکتور ابو الحسنین
شہزاد احمد آرائیں
Post a Comment