-->

سیدنا محمد بن ابی بکر کے متعلق حسن بصری کی روایت کی تحقیق

 

عینی شہادت کے مطابق سیدنا عثمانؓ کا قاتل کون؟

قسط نمبر 7

[سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کے متعلق حسن بصریؒ کی روایت کی تحقیق]

تحریر و تحقیق: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں

 

امام ابو عبد اللہ محمد بن سعد الزہریؒ (المتوفی 230ھ) لکھتے ہیں:

قال: أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم عن ابن عون عن الحسن قال: أنبأنى وثاب، وكان فيمن أدركه عتق أمير المؤمنين عمر، وكان بين يدى عثمان ورأيت بحلقه أثر طعنتين كأنهما كيتان، طعنهما يومئذ يوم الدار دار عثمان، قال: بعثنى عثمان فدعوت له الأشتر فجاء، قال ابن عون أظنه قال فطرحت لأمير المؤمنين وسادة وله وسادة فقال: يا أشتر ما يريد الناس منى؟ قال: ثلاث ليس لك من إحداهن بد، قال: ما هن؟ قال: يخيرونك بين أن تخلع لهم أمرهم فتقول هذا أمركم فاختاروا له من شئتم، وبين أن تقص من نفسك، فإن أبيت هاتين فإن القوم قاتلوك، قال: أما من إحداهن بد؟ قال: لا ما من إحداهن بد، قال: أما أن أخلع لهم أمرهم فما كنت لأخلع سربالا سربلنيه الله، قال وقال غيره: والله لأن أقدم فتضرب عنقى أحب إلي من أن أخلع أمة محمد بعضها على بعض، قالوا هذا أشبه بكلام عثمان، وأما أن أقص من نفسى فوالله لقد علمت أن صاحبي بين يدي قد كانا يعاقبان وما يقوم بدنى للقصاص، وأما أن يقتلونى فوالله لئن قتلونى لا يتحابون بعدى أبدا ولا يصلون بعدى جميعا أبدا ولا يقاتلون بعدى عدوا جميعا أبدا، ثم قام فانطلق، فمكثنا فقلنا لعل الناس، فجاء رويجل كأنه ذئب فاطلع من باب ثم رجع، فجاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا حتى انتهى إلى عثمان فأخذ بلحيته فقال بها حتى سمع وقع أضراسه فقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما أغنت عنك كتبك، فقال: أرسل لي لحيتى يابن أخى، أرسل لي لحيتى يابن أخى، قال: فأنا رأيت استعداء رجل من القوم يعينه فقام إليه بمشقص حتى وجأ به في رأسه، قال ثم قلت: ثم مه؟ قال: ثم تغاووا والله عليه حتى قتلوه، رحمه الله

 

اسماعیل بن ابراہیم نے ابن عون سے روایت کی ہے، انہوں نے حسن سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا:

وثاب نے مجھے بتایا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کی خلافت کے زمانے کو پایا تھا۔ وہ حضرت عثمان بن عفان کے سامنے بھی تھے اور میں نے ان کے گلے پر دو زخموں کے نشان دیکھے جو داغ کی طرح تھے۔ یہ زخم انہیں یوم الدار میں، حضرت عثمان کے گھر پر حملے کے دن لگے تھے۔

وثاب نے کہا کہ حضرت عثمانؓ نے مجھے بھیجا اور میں نے مالك الأشتر کو ان کے پاس بلایا۔ مالك الأشتر آئے۔ ابن عون کا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے امیرالمؤمنین اور مالك الأشتر کے لیے ایک ایک تکیہ بچھا دیا۔ حضرت عثمان نے مالك الأشتر سے پوچھا کہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟

مالك الأشتر نے کہا کہ آپ کے پاس تین اختیارات ہیں، جن میں سے آپ کو کسی ایک کو ضرور قبول کرنا ہوگا۔

حضرت عثمان نے پوچھا کہ وہ کیا ہیں؟

مالك الأشتر نے کہا کہ آپ ان میں سے ایک اختیار منتخب کر سکتے ہیں:

آپ لوگوں کو اپنا معاملہ خود سنبھالنے کا اختیار دے دیں اور کہیں کہ یہ آپ کا معاملہ ہے، پھر وہ جسے چاہیں اسے اپنا خلیفہ منتخب کر لیں۔

یا آپ اپنے آپ کو بدلہ کیلیے پیش کردیں دیں۔ اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔

حضرت عثمان نے کہا کہ کیا ان سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے؟

مالك الأشتر نے کہا کہ نہیں، ان سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

حضرت عثمان نے کہا کہ میں اپنا خلافت کا عہدہ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ اللہ نے مجھے یہ کرتا پہنایا ہے اور میں اسے اتارنے والا نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا، اور دوسروں نے بھی یہی کہا، کہ اللہ کی قسم، مجھے اپنی گردن کٹوانا زیادہ پسند ہے کہ میں امت محمدیہ ﷺ کو ایک دوسرے پہ چھوڑ دوں۔

کہا گیا کہ یہ حضرت عثمان کے الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔

اور میں اپنے آپ کو سزا نہیں دے سکتا۔ اللہ گواہ ہے کہ میرے دو ساتھی میرے سامنے موجود تھے اور انہیں سزا دی گئی تھی، لیکن میں سزا برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔

اور اگر وہ مجھے قتل کر دیتے ہیں، تو اللہ کی قسم، اگر وہ مجھے قتل کر دیتے ہیں تو وہ میرے بعد کبھی متحد نہیں ہوں گے، وہ میرے بعد کبھی سب مل کر نماز نہیں پڑھیں گے، اور وہ میرے بعد کبھی سب مل کر دشمن سے نہیں لڑیں گے۔

پھر وہ (مالک اشترؒ) اٹھے اور چلے گئے۔ ہم نے کچھ دیر انتظار کیا اور پھر کہا کہ شاید لوگ پرسکون ہو جائیں۔

اتنے میں ایک آدمی بھیڑ سے نکلا، وہ بھیڑیے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے دروازے سے سر نکالا اور پھر واپس چلا گیا۔ پھر محمد بن ابی بکرؓ تیرہ آدمیوں کے ساتھ آئے اور حضرت عثمان کے پاس پہنچے۔ انہوں نے حضرت عثمان کی داڑھی پکڑی اور اسے کھینچنا شروع کر دیا یہاں تک کہ ان کے دانتوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ اس نے کہا کہ معاویہ نے آپ کی کیا مدد کی؟ ابن عامر نے آپ کی کیا مدد کی؟ آپ کی کتابت نے آپ کی کیا مدد کی؟

حضرت عثمان نے کہا کہ اے بھتیجے، میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ اے بھتیجے، میری داڑھی تو چھوڑ دے۔

کہا: میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک آدمی نے حضرت عثمان کی مدد کے لیے کسی اور کو بھیجا۔ وہ شخص حضرت عثمان کے پاس آیا اور اپکے سر پہ نیزہ سے وار کیا۔

انہوں نے کہا: کہ پھر؟

میں نے کہا: پھر کیا؟ انہوں نے کہا: پھر واللہ انہوں نے انکے خلاف ایک دوسرے کی مدد کی یہاں تک کہ انہیں قتل کردیا۔ اللہ کی ان پہ رحمت ہو۔

(الطبقات الكبرى - ط الخانجي: جلد 3 صفحہ 69)

 

֍ روایت کی تخریج:

اسی روایت کو امام ابن ابی شیبہؒ (المتوفی 235ھ) بھی روایت کرتے ہیں:

(المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحہ 173 رقم 39862)

 

کتاب کے محقق شیخ سعد بن ناصر الشثری اسے ضعیف قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وثاب مجھول ہے۔ اور یہ اس روایت کا مرکزی راوی ہے۔ اسی طرح امام ابن ابی شیبہؒ نے اس روایت ایک اور مرتبہ بھی روایت کیا ہے، وہاں بھی محقق نے یہی حکم لگایا ہے۔

(المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 21 صفحہ 404 رقم 40448)

 

اس روایت کو امام ابو عمرو خلیفہ بن خیاطؒ (المتوفی 240ھ) بھی نقل کرتے ہیں:

«فأخبرني ابن علية قال نا ابن عون عن الحسن قال أنبأني وثاب قال بعثني عثمان فدعوت له الأشتر فقال ما يريد الناس مني قال ثلاثا ليس من إحداهن بد قال ما هن قال يخيرونك بين أن تخلع لهم أمرهم فتقول هذا أمركم فاختاروا له من شئتم وبين أن تقص من نفسك فإن أبيت فالقوم قاتلوك قال ما من إحداهن بد قال ما من إحداهن بد قال أما أن أخلع لهم أمرهم فما كنت لأخلع سربالا سربلنيه الله»

قال وقال غير ‌الحسن والله لأن تضرب عنقي أحب إلي من أن أخلع أمة محمد بعضها على بعض وأما أن أقص من نفسي فوالله لقد علمت أن صاحبي بين يدي قد كانا يعاقبان وما يقوم بدني بالقصاص وأما أن تقتلوني فوالله لئن قتلتموني لا تتحابون بعدي أبدا ولا تصلون بعدي جميعا أبدا ولا تقاتلون بعدي عدوا جميعا أبدا

 

امام حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ مجھے وثاب نے بتایا کہ مجھے سیدنا عثمانؓ نے بھیجا تو میں نے انکے لیے جناب مالک اشتر کو بلایا۔ انہوں نے (یعنی سیدنا عثمانؓ نے) کہا: لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ مالک اشتر نے کہا: تین باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کو قبول کیے بغیر چارہ نہیں، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ آپکو اختیار دیتے ہیں کہ آپ انکے لیے انکے معاملے (خلافت) سے دستبردار ہوجائیں اور آپ یہ کہہ دیجیے کہ یہ یہ تمہارا معاملہ ہے تم جسے چاہو اس کے لیے چن لو یا آپ اپنے آپ سے قصاص لیں اور اگر آپ نے انکار کیا تو یہ لوگ آپکو قتل کرنے والے ہیں۔ انہوں نے (سیدنا عثمانؓ نے) پوچھا: کیا ان میں سے کسی کے بغیر چارہ نہیں؟ انہوں نے کہا: اس میں سے کسی کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ (سیدنا عثمانؒ نے) کہا: جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں انکے لیے انکا معاملہ (خلافت) چھوڑ دوں تو میں وہ لباس ہرگز نہیں اتاروں گا جو اللہ نے مجھے پہنایا ہے۔

راوی کہتا ہے کہ امام حسن بصریؒ کے علاوہ دیگر کہتے ہیں: اللہ کی قسم میری گردن مار دی جائے مجھے زیادہ محبوب ہے اس بات سے کہ امت محمدیہ ﷺ کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے الگ کردوں اور جہاں تک اپنے آپ سے قصاص دینے کا معاملہ ہے تو اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ مجھ سے پہلے میرے دونو ساتھی (سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ) سزائیں دیا کرتے تھے اور میرا جسم قصاص کی طاقت نہیں رکھتا، اور رہا تمہارا مجھے قتل کردینا تو اللہ کی قسم! اگر تم نے مجھے قتل کردیا تو میرے بعد تم آپس میں کبھی محبت نہیں رکھ سکو گے، اور نہ ہی میرے بعد کبھی تم باجماعت نماز ادا کرسکو گے اور نہ ہی کبھی مل کر کسی دشمن سے کبھی قتال کرسکو گے۔

(تاريخ خليفة بن خياط: صفحہ 170)

 

امام ابو عمرو خلیفہ بن خیاطؒ اسے ایک اور مرتبہ روایت کرتے ہیں تو یہ متن بیان کرتے ہیں:

حدثنا إسماعيل عن ابن عون عن ‌الحسن عن ‌وثاب قال جاء رويجل كأنه ذئب فاطلع من باب ثم رجع وجاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا فأخذ بلحيته فقال بها حتى سمعت وقع أضراسه وقال ما أغنى عنك معاوية ماأغنى عنك ابن عامر ما أغنت عنك كتبك فقال أرسل لي لحيتي يا ابن أخي قال فأنا رأيته استدعى رجلا من القوم بعينه يعني أشار إليه فقام إليه بمشقص فوجأ به رأسه قلت ثم مه قال ثم تعاوروا عليه والله حتى قتلوه رحمه الله

 

امام حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں وثاب سے کہ اس نے کہا: ایک چھوٹے قد والا آدمی آیا گویا وہ بھیڑیا تھا، اس نے دروازے سے جھانکا اور واپس چلا گیا۔ اسکے بعد محمد بن ابی بکرؓ تیرہ آدمیوں کے ساتھ آیا تو اس نے ان (سیدنا عثمانؓ) کی داڑھی پکڑ لی اور اس زور سے جھنجھوڑا کہ میں نے انکے دانتوں کے ٹکرانے کی آواز سنی۔ پھر اس نے کہا: معاویہ تمہارے کس کام آیا؟ ابن عامر تمہارے کس کام آیا؟ تمہارے خطوط تمہارے کس کام آئے؟ پھر انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے میری داڑھی کو چھوڑ دو۔ (وثاب) کہتا ہے کہ پھر میں نے پھر دیکھا کہ انہوں نے ان میں سے ایک شخص کو گھور کر بلایا، یعنی اسے اشارہ کیا چناچہ وہ ایک چوڑے پھل کے نیزے سے انکی طرف بڑھا اور انکے سر پہ وار کیا۔ میں نے کہا: پھر کیا ہوا؟ اس (وثاب) نے کہا: پھر اللہ کی قسم وہ سب ان پہ ٹوٹ پرے حتی کہ انہیں انہیں قتل کردیا۔ اللہ ان پہ رحم کرے۔

(تاريخ خليفة بن خياط: صفحہ 174)

 

اسکے برعکس امام ابن شبہؒ (المتوفی 262ھ) روایت کرتے ہیں تو اسکے خلاف متن بیان کرتے ہیں:

أخبرنا علي بن محمد، عن المبارك، عن ‌الحسن، عن ‌وثاب مولى ‌عثمان قال: رأيت رجلا جذب بلحيته ، فقال: «إنك لتجذب لحية كان يعز على أبيك أن يجذبها»

 

امام حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں سیدنا عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام وثاب سے کہ وہ کہتا ہے: میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے انکی داڑھی کو کھینچا تو انہوں نے کہا: تم ایک ایسی داڑھی کو کھینچ رہے ہو جسے کھینچنا تمہارے باپ کیلیے بھی ناگوار ہوتا۔

(تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1301)

 

اسی طرح امام ابن شبہؒ اس سے آگے پھر دوبارہ اس روایت کو نقل کرتے ہیں تو یہ متن بیان کرتے ہیں:

حدثنا علي بن أبي المقدام، عن ‌الحسن قال: حدثني ‌وثاب مولى ‌عثمان: أن محمد بن أبي بكر وجأ ‌عثمان رضي الله عنه بمشاقص في أوداجه

 

امام حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں سیدنا عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام وثاب سے کہ محمد بن ابی بکرؓ نے سیدنا عثمانؓ کی شہ رگ پہ چھوڑے پھل کے نیزے سے وار کیا۔

(تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1301)

 

قارئین ملاحظہ کیجیے کہ یہاں متن میں کتنا جھول موجود ہے، امام خلیفہ بن خیاطؒ نے جو روایت نقل کی اس میں وثاب نے یہ کہا کہ ساتھیوں میں سے کسی ایک شخص نے نیزے سے وار کیا اور وہ وار سر پہ کیا گیا، اور اسکے الٹ جب امام ابن شبہؒ روایت کرتے ہیں تو نیزہ مارنے والا ساتھی نہیں بلکہ محمد بن ابی بکرؒ خود ہے اور وار بھی سر کے بجائے رگ جاں پہ کیا گیا ہے۔ تو یہ کھلا تضاد ہے جو وثاب کی روایت میں موجود ہے۔

 

اسی طرح اس روایت کو امام بلاذریؒ (المتوفی 279ھ) روایت کرتے ہیں:

حدثني أبو عبيد حدثنا ابن علية عن ابن عون «2» عن ‌الحسن عن ‌وثاب «3» ، وكان مع ‌عثمان يوم الدار وأصابته طعنتان كأنهما كيتان «4» ، قال: بعثني ‌عثمان فدعوت الأشتر له فقال: يا أشتر ما يريد الناس مني؟ قال: يخيرونك أن تخلع لهم أمرهم أو تقص من نفسك وإلا فهم قاتلوك، قال: أما الخلع فما كنت لأخلع سربالا سربلنيه الله، وأما القصاص فو الله لقد علمت أن صاحبي كانا يعاقبان، وما يقوم بدني للقصاص «5» ، وأما قتلي فو الله لئن قتلتموني لا تتحابون بعدي أبدا ولا تقاتلون عدوا جميعا أبدا

 

امام حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں وثاب سے کہ وہ یوم دار پہ سیدنا عثمانؓ کے ساتھ تھے، اور انہیں دو نیزے کے دو زخم لگے تھے جیسے دو داغ لگے ہوں، اس نے کہا: سیدنا عثمانؓ نے مجھے بھیجا تو میں مالک اشترؒ کو ان کے پاس بلا لایا، تو انہوں نے کہا: اے اشتر، لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ آپکو اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ انکے لیے اپنی حکومت چھوڑ دیں یا پھر آپ اپنے اپ سے قصاص دیں ورنہ وہ آپکو قتل کردیں گے۔ انہوں (سیدنا عثمانؓ)نے کہا: جہاں تک حکومت چھوڑنے کا تعلق ہے تو میں وہ قمیض نہیں اتاروں گا جو اللہ نے مجھے پہنائی ہے، اور جہاں تک قصاص کا تعلق ہے تو اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ میرے دونو ساتھی (سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ) بھی سزا دیتے تھے اور میرا جسم قصاص کی تاب نہیں لاسکتا۔ اور رہا میرے قتل کا معاملہ تو اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کردیا تو میرے بعد تم کبھی ایک دوسرے سے محبت نہیں دیکھو گے اور نہ ہی کبھی کسی دشمن سے متحد ہوکر جنگ لڑ سکو گے۔

(أنساب الأشراف للبلاذري: جلد 5 صفحہ 584 رقم 1486)

 

اس طرح اس سے آگے امام بلاذریؒ دوبارہ اس روایت کو نقل کرتے ہیں کہ:

وحدثني هدبة بن خالد حدثنا «1» أبو هلال قال سمعت ‌الحسن يقول: عمل ‌عثمان اثنتي عشرة سنة ثم جاء فسقة فقالوا: يا ‌عثمان أعطنا كتاب الله، وتراموا بحصباء المسجد حتى ما يرى أديم السماء من الغبار، فحصروه ثم أغلقوا باب القصر، قال ‌الحسن فحدثني ‌وثاب مولى ‌عثمان قال: أصابتني جراحة فأنا أنزف مرة وأقوم مرة، فقال لي ‌عثمان: هل عندك وضوء؟ قلت: نعم، فتوضأ ثم أخذ المصحف فتحرم به من الفسقة فبينا هو كذلك إذ جاء هر «2» كأنه ذئب فاطلع ثم رجع فقلنا لقد ردهم أمر ونهاهم، فدخل محمد بن أبي بكر حتى جثا على ركبتيه، وكان ‌عثمان حسن اللحية، فجعل يهزها حتى سمع نقيض أضراسه ثم قال: ما أغنى عنك معاوية ما أغنى عنك ابن أبي سرح، ما أغنى عنك ابن عامر؟ فقال (971) يا ابن أخي مهلا فو الله ما كان أبوك ليجلس مني هذا المجلس، قال: فأشعره وتعاووا «3» عليه فقتلوه، فو الله ما أفلت منهم مخبر

 

امام حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان نے بارہ سال حکومت کی، پھر فاسق آگئے اور انہوں نے کہا: اے عثمان ہمیں اللہ کی کتاب کا فیصلہ دو، انہوں نے مسجد کی کنکریوں سے اس قدر سنگ باری کی کہ غبار کی وجہ سے آسمان کا ماتھا بھی نظر نہیں آتا تها اور انہوں نے آپکا محاصرہ کرلیا اور پھر قصر (محل) کا دروازہ بند کردیا۔

امام حسن بصریؒ کہتے ہیں: سیدنا عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام وثاب کہتے ہیں: مجھے ایک شدید زخم آیا، میں کبھی خون بہنے سے نڈھال ہوجاتا اور کبھی کھڑا ہوجاتا، سیدنا عثمانؓ نے مجھ سے کہا: تمہارے پاس وضو کیلیے پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو انہوں نے وضو کیا پھر مصحف کو اٹھایا اور ان فاسقوں سے بچاؤ کیلیے اسے اپنے اور انکے درمیان رکھ لیا، وہ اسی حالت میں تھے کہ ایک بھیڑیے جیسا شخص آیا، اس نے جھانکا اور واپس لوٹ گیا، تو ہم نے کہا: یقینا کسی چیز نے انہیں روک دیا ہے اور منع کردیا ہے۔ پھر محمد بن ابی بکرؒ داخل ہوئے اور انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، اور سیدنا عثمانؓ خوبصورت داڑھی والے تھے، اس نے انکی داڑھی کو پکڑ کر جھنجھوڑا حتی کہ میں نے انکے دانتوں کے ٹکرانے کی آواز سنی، پھر کہنے لگا: معاویہ تمہارے کس کام آیا؟ ابن ابی سرح تمہارے کس کام آیا؟ ابن عامر تمہارے کس کام آیا؟ تو انہوں نے کہا: اے میرے بھیتجے، ٹھرو، اللہ کی قسم تمہارے باپ تو میرے ساتھ ایسی مجلس میں نہیں بیٹھتے تھے۔ (وثاب) کہتا ہے: پھر اس نے ان پہ پہلا وار کیا اور وہ سب ان پر ٹوٹ پڑے اور انہیں قتل کردیا، اور اللہ کی قسم ان میں کوئی خبر دینے والا نہیں بچا۔

(أنساب الأشراف للبلاذري: جلد 5 صفحہ 585)

 

مزید میں اختصار سے کام لیتے ہوئے باقی صرف آئمہ مصنفین کے نام اور کتاب کا حوالہ نقل کررہا ہوں، تاکہ قارئین کیلیے ان تک رسائی میں آسانی ہوجائے۔ کیونکہ اس روایت کا مکمل متن کافی لمبا ہے اور تحریری خوامخواہ لمبی ہوتی جارہی ہے۔

 

امام ابو جعفر ابن جریر الطبریؒ (المتوفی 310ھ) اسے روایت کرتے ہیں:

(تاريخ الطبري: جلد 4 صفحہ 371)

 

تاریخ طبری پہ تحقیق کا کام کرنے والے محقق شیخ محمد بن طاہر البرزنجی اس روایت کی تحکیم میں لکھتے ہیں:
في إسناده وثاب مجهول الحال

اسکی اسناد میں وثاب ہے جو مجھول الحال ہے۔

(صحيح وضعيف تاريخ الطبري: جلد 8 صفحہ 565)

 

امام ابو القاسم طبرانیؒ (المتوفی 360ھ) اسے روایت کرتے ہیں:

(المعجم الكبير للطبراني: جلد 1 صفحہ 82 رقم 116)

اسکی تحکیم میں امام ابو الحسن الہیثمیؒ (المتوفی 807ھ) لکھتے ہیں:
رواه الطبراني، ورجاله رجال الصحيح غير وثاب، وقد ذكره ابن أبي حاتم ولم يجرحه أحد

اسے امام طبرانیؒ نے روایت کیا ہے، اسکے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے وثاب کے، اور اسکا ذکر امام ابن ابی حاتمؒ نے کیا ہے، اور اس پہ کسی نے جرح نہیں کی۔
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد 7 صفحہ 231 و 232 رقم 12006)

میں کہتا ہوں کہ اگر کسی نے اس پہ کوئی جرح نہیں کی تو کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی، اور یہی مجھول راوی کی تعریف ہے کہ اسکی کسی نے کوئی توثیق نہیں کی ہوتی اور نہ ہی اس پہ جرح ہوتی ہے۔کیونکہ اگر توثیق ہوگی تو راوی ثقہ صدوق قرار پائے گا اور اگر جرح ہوگی تو راوی ضعیف وغیرہ قرار پائے گا۔ مجھول صرف اسی صورت میں قرار پا سکتا ہے جب اس پہ کوئی توثیق اور کوئی جرح موجود نہ ہو۔ خود امام ہیثمیؒ بھی اس راوی کی توثیق نہیں کرسکے جو اس بات کو بیان کرنے کیلیے کافی ہے کہ انکے نزدیک بھی یہ راوی مجھول الحال ہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

 

امام ابو نعیم الاصبہانیؒ (المتوفی 430ھ) بھی اسے روایت کرتے ہیں:

(معرفة الصحابة لأبي نعيم: جلد 1 صفحہ 67 رقم 258)

 

امام ابن عساکرؒ (المتوفی 571ھ) اسے امام خلیفہ بن خیاط کے طررق سے باسند روایت کرتے ہیں:

(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 39 صفحہ 402 و 403)

 

امام ابن عساکرؒ مزید اسے امام ابن سعدؒ کے طرق سے باسند بھی روایت کرتے ہیں:

(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 39 صفحہ 403 و 404)

 

֍ روایت کے متن کے تضادات:

ہمارا اس چیز کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قارئین ملاحظہ کریں کہ وثاب کی روایت کے متن میں کتنے جھول موجود ہیں، کبھی وہ کہتا ہے کہ اسے دو زخم لگے جو داغنے کے مثل تھے۔ داغ اس زخم کو کہتے جو لوہے کو گرم کرکے لگانے سے وجود میں آتا ہے، کبھی وہ یہ کہتا ہے کہ اسے ایک زخم لگا جس سے خون اس قدر بہا کہ وہ اس سے کمزوری کا شکار ہوکر بڈھال ہوجاتا پھر جب جسم میں کچھ طاقت آتی تو اٹھ کھڑا ہوتا۔

ایک ہی واقعہ میں دو الگ الگ کے انسان کسطرح زخمی ہوسکتا ہے؟

 

پھر دوسرا جھول ملاحظہ کیجیے کہ وہ کہتا ہے کہ پہلا وار محمد بن ابی بکرؒ نے خود کیا اور وہ وار انکی شہ رگ پہ کیا تھا، پھر کبھی کہتا ہے کہ اسکے کسی ساتھی نے پہلا وار کیا اور وہ وار انکے سر پہ کیا گیا؟

ایک ہی واقعہ میں الگ الگ انسان پہلا وار الگ الگ جگہوں پہ کیسے کرسکتے ہیں؟

 

پھر اس میں یہ بھی ملاحظہ کیجیے کہ کبھی روایت کا آدھا متن اسی سند کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ اسی سند سے امام حسن بصریؒ نے وثاب سے روایت کیا ہے اور کبھی اس متن کے حوالے سے راوی کہتے ہیں کہ وہ تو امام حسن البصریؒ نے روایت ہی نہیں کیا بلکہ دیگر مجھول افراد کا قول ہے۔ یہ کھلا تضاد بھی اس بات کی دلیل ہے کہ متن میں جھول موجود ہے اور یہ روایت منکر المتن ہے۔

 

اسکے علاوہ مزید بھی اس روایت کے مختلف طرق کے درمیان اختلافات اور مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں، قارئین غور کرکے غور اسکو پہچان سکتے ہیں۔ ہم اس روایت کے مرکزی راوی وثاب کے متعلق بات کرنا زیادہ اہم سمجھتے ہیں کیونکہ یہ راوی مجھول العین ہے، اسکی کسی نے کوئی توثیق نہیں کی اور یہ راوی اتنا قلیل الروایہ ہے کہ صرف ایک دو روایات ہی اس سے مروی ہیں اور وہ یہی روایت ہے۔ تو کیا عجیب نہیں کہ اچانک سے دنیا میں ایک شخص آیا، سیدنا عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام ہونے کا دعوی کیا، انکی شہادت کو لیکر اتنی زیادہ اہم روایت بیان کی اور پھر دنیا سے غائب ہوگیا؟ اتنی اہم روایت کا راوی اور سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا عینی شاہد ہونے باعث یہ لازم تھا کہ یہ راوی کم از کم معروف تو ہوتا، اسکے ثقہ صدوق یعنی اسکے قابل قبول ہونے نہ ہونے کی بات تو ہم اسکے بعد کرتے۔ مگر یہ بلکل مجھول راوی ہے۔ اور یہی اس روایت کی مرکزی اور بنیادی علت ہے جو اس روایت کے ضعیف بلکہ موضوع ہونے کیلیے بھی کافی ہے۔

 

بعض نواصب دیگر غیر ثابت روایات کو شاہد بناتے ہیں تو انکے لیے عرض ہے کہ جو خود لنگڑا لولا ہو وہ دوسرے کو سہارا دیکر سڑک پار نہیں کروا سکتا، اسی طرح جب دوسرے طرق بھی فی نفسی غیر ثابت ہیں تو وہ اس راوی کی روایت کے شاہد کسطرح بن سکتے ہیں؟ کم از کم فی نفسی خود تو ثابت ہوں۔ جو خود ہی ثابت نہیں وہ دوسروں کا ثابت ہونا کیسے ثابت کریں گے؟

 

اسکے علاوہ وثاب کی توثیق بیان کرنے کیلیے ایک نہایت ہی غریب قول کو دلیل بنایا جاتا ہے، اسکا جائزہ ہم مندرجہ ذیل میں لے رہے ہیں۔

 

سند کا بنیادی راوی:

وثاب مولی عثمان بن عفان:

یہ راوی نہایت ہی زیادہ قلیل الروایہ ہے کہ اس سے صرف ایک دو روایات ہی مروی ہیں اور یہ مجھول الحال ہے۔

امام بخاریؒ انکا ترجمہ قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وثاب، ‌مولى ‌عثمان بن عفان، القرشي، الأموي .سمع عثمان بن عفان.روى عنه الحسن.يعد في أهل المدينة

 

وثاب مولی عثمان بن عفان، القرشی الاموی۔ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفانؓ سے سماع کیا اور ان سے حسن (بصری) روایت کرتے ہیں۔ اسکا مدینے کے لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔

(التاريخ الكبير للبخاري - ت الدباسي والنحال: جلد 10 صفحہ 85 رقم 11834)

 

اسی طرح امام مسلمؒ لکھتے ہیں:

وثاب؛ مولی عثمان بن عفان روى عنه الحسن۔

(الطبقات: رقم 1708)

 

اسی طرح امام ابن ابی حاتم الرازیؒ کہتے ہیں:

وثاب ‌مولى ‌عثمان بن عفان رضي الله عنه روى عن عثمان بن عفان روى عنه الحسن (3) البصري سمعت ابى يقول ذلك

 

وثاب سیدنا عثمان بن عفانؓ کا آزاد کردہ غلام، روایت کرتا ہے سیدنا عثمان بن عفانؓ سے اور ان سے حسن البصری روایت کرتے ہیں۔ میں نے اپنے والد یہ کہتے ہوئے سنا۔

(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: جلد 9 صفحہ 48)

 

بس یہ کل کائنات ہے اس راوی کے تراجم کی۔ اور کسی نے بھی اسکی کوئی ادنی سی بھی توثیق نہیں کی۔ لہزا یہ مجھول الحال راوی ہیں جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ کے محقق شیخ ناصر بن عبد العزيز الشثريؒ بھی اسے مجھول قرار دیتے ہیں۔ اور یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ راوی مجھول ہے مگر بعض نواصب کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ چونکہ اس راوی سے حسن بصری روایت کررہے ہیں لہزا یہ راوی ثقہ ہے۔ سب سے پہلے یہ قول ملاحظہ کریں:

 

֍ امام صلاح الدین ابو سعید الدمشقی العلائیؒ (المتوفی 761ھ) لکھتے ہیں:

وذكر ابن أبي خيثمة عن يحيى بن معين أنه قال إذا روى الحسن ومحمد يعني ابن سيرين ‌عن ‌رجل ‌فسمياه ‌فهو ‌ثقة

 

اور امام ابن ابی خیثمہؒ امام یحیی بن معینؒ سے ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب حسن (بصری) اور محمد یعنی ابن سیرین کسی شخص سے روایت کریں اور اسکا نام لیں تو وہ ثقہ ہوتا ہے۔

(جامع التحصيل في أحكام المراسيل: صفحہ 89)

 

اس قول سے نواصب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حسن بصریؒ جس سے بھی روایت کریں گے تو وہ ثقہ ہوگا۔ جب کہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ وہ لوگ اسکو حجت بناتے ہوئے یہ بات بھی قابل غور نہیں رکھتے کہ امام نے اس قول کو کس سیاق میں درج کیا ہے بلکہ خود اس قول کو نقل کرنے کے بعد امام صلاح الدین العلائیؒ لکھتے ہیں:

 

فيحتمل هذا أنهما كانا لا يرويان إلا عن ثقة عندهما سواء كان مسندا أو مرسلا ويحتمل أن ذلك فيمن ذكراه باسمه فأما من أرسلا عنه فجازأن يكون كذلك وأن يكون ضعيفا وهذا هو الأظهر وفيه جمع بين الأقوال كلها

 

اس میں احتمال ہے کہ یہ دونو روایت نہیں کرتے تھے سوائے جو انکے نزدیک ثقہ ہوتا تھا پھر چاہے وہ مسند ہو یا مرسل اور احتمال ہے کہ یہ صرف ان لوگوں کیلیے ہے جنکا انہوں نے نام لیا ہے اور جس سے وہ ارسال کریں تو ممکن ہے کہ وہ اسی طرح (ثقہ) ہوں یا وہ ضعیف ہوں۔ یہ سب سے زیادہ ظاہر ہے اور اس میں تمام اقوال جمع ہوگئے ہے۔

(جامع التحصيل في أحكام المراسيل: صفحہ 89)

 

لہزا معلوم ہوا کہ خود امام صلاح الدین العلائیؒ کے نزدیک حسن بصریؒ صرف اور صرف ثقہ سے روایت نہیں کرتے بلکہ جب وہ نام لیکر روایت کریں تو اسکے ثقہ ہونے کا احتمال ارسال کرنے کی نسبت زياده قوی ہوتا ہے کہ ہم راوی کے نام سے معلوم کرسکتے ہیں کہ وہ واقعی ثقہ ہے یا نہیں! مگر جب وہ ارسال کردیں تو ثقہ اور ضعیف دونو طرح کے رواۃ کا احتمال برابر موجود ہوتا ہے کیونکہ ہم وہاں اس چیز کا علم حاصل نہیں کرسکتے کہ ارسال کیا گیا راوی کس درجے کا ہے۔ کیونکہ اگر اس سے مطلقا یہی مان لیا جائے کہ امام حسن بصریؒ جب بھی کسی راوی کا نام لیکر روایت کریں تو انکے نزدیک ثقہ ہے تو پھر یہ بھی لازم آئے گا کہ جب بھی وہ ارسال کریں گے تو وہ ارسال بھی ثقہ سے ہی کریں کیونکہ وہ تو اپنے نزدیک ثقہ کے علاوہ کسی سے روایت ہی نہیں لیتے اور یہی معاملہ انکی تدلیس کا بھی ہوگا، تو دونو صورتوں میں انکی روایت اصح ترین ہونی چاہیے جبکہ معاملہ اسکے مختلف دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسا کہ آگے مزید آئمہ کا کلام اور تصریحات آرہی ہیں۔ لہزا اس سے یہ تفریق پیدا کرنا کہ ارسال تو ثقہ و ضعیف دونو ہوسکتے ہیں اور نام لیکر روایت کریں تو وہ لازما حسن بصریؒ کے نزدیک ثقہ ہوگا، عجیب و غریب ہے۔

 

امام حسن بصریؒ ہر قسم کے راوی سے روایت لے لیتے ہیں:

֍ امام ابو الحسن علی بن عمر الدارقطنیؒ (المتوفی 385ھ) لکھتے ہیں:

وقد روى عاصم الأحول عن محمد بن سيرين وكان عالما بأبي العالية وبالحسن ، فقال: ‌لا ‌تأخذوا ‌بمراسيل ‌الحسن ولا أبي العالية فإنهما لا يباليان عن من أخذا

 

اور عاصم الاحول نے امام محمد بن سیرینؒ سے روایت کی ہے، جو ابو العالية اور حسن کے متعلق عالم تھے، انہوں نے کہا: "حسن اور ابو العالية کی مرسل روایات پر اعتماد نہ کریں کیونکہ وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ کس سے روایت لیتے ہیں۔"

(سنن الدارقطني: جلد 1 صفحہ 314 رقم 644)

 

علل کے امام یہ قول نقل کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ حسن بصری کے متعلق امام محمد بن سیرینؒ عالم ہیں، جو ان کی مکمل معرفت رکھتے ہیں اور امام محمد ابن سیرینؒ ہی کہتے ہیں کہ حسن بصریؒ اس چیز کا خیال نہیں رکھتے کہ وہ کس سے روایت لے رہے ہیں۔ علل کے امام کا اس قول سے حجت پکڑنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ حسن بصریؒ صرف اس شخص سے ہی روایت نہیں کرتے جو انکے نزدیک ثقہ ہوتا ہے بلکہ ہر شخص سے ہی روایات لے لیتے ہیں اور اس چیز کا ہرگز خیال نہیں رکھتے کہ صرف ثقہ سے ہی روایت لیں۔

 

 لہزا صرف حسن بصریؒ کا نام لیکر روایت کرنا کسی راوی کو فائدہ نہیں دے سکتا کہ اس سے وہ مطلقا ثقہ قرار پا جائے۔ بلکہ صرف احتمال ہی ہے کہ وہ راوی حسن بصریؒ کے نزدیک ثقہ ہوسکتا ہے مگر احتمال تو یہ بھی ممکن ہے کہ حسن بصریؒ خطا بھی کرسکتے ہیں اور اس قول کو کہنے میں امام ابن معینؒ بھی! احتمال تو بہت سے بیک وقت واقع ہوسکتے ہیں۔۔۔!

  جیسا کہ امام دارقطنیؒ نے جو امام محمد ابن سیرینؒ کے قول سے حجت پکڑی وہ اس بات کی واضع دلیل ہے۔

 

امام حسن بصریؒ کا راوی پہ کلام کرنا اور پھر اس سے روایت لے لینا:

֍ امام ابو عیسی محمد بن عیسی الترمذیؒ (المتوفی 279ھ) کہتے ہیں:

قال أبو عيسى ومن ضعف المرسل فإنه ضعف من قبل أن هؤلاء الأئمة حدثوا عن الثقات وغير الثقات فإذا روى أحدهم حديثا وأرسله لعله أخذه عن غير ثقة قد تكلم الحسن البصري في معبد الجهني ثم روى عنه

حدثنا بشر بن معاذ البصري حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطار حدثني أبي وعمي قالا سمعنا الحسن يقول إياكم ومعبد الجهني فإنه ضال مضل

 

ابو عیسی (الترمذیؒ) نے کہا: اور جس نے مرسل کو ضعیف قرار دیا ہے، تو اس نے اس لیے ضعیف قرار دیا کیونکہ یہ ائمہ ثقات اور غیر ثقات دونوں سے روایت کرتے تھے۔ لہذا جب ان میں سے کوئی حدیث روایت کرتا اور اسے مرسل کر دیتا تو ممکن ہے کہ اس نے اسے کسی غیر ثقہ شخص سے لیا ہو۔

حسن بصری نے معبد جہنی پہ جرح کی، پھر انہوں نے اسی سے روایت بھی لی۔

‏مرحوم بن عبدالعزیز العطار کے والد اور چچا کہتے ہیں کہ ہم نے حسن بصری کو کہتے سنا: تم معبد جہنی سے بچو، کیونکہ وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔

(العلل الصغير- ت شاکر: صفحہ 754)

 

معلوم ہوا کہ حسن بصریؒ اس شخص سے بھی روایت لے لیا کرتے تھے جو انکے نزدیک ثقہ نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ اس پہ جرح کا کلام تک کردیتے تھے اور تب بھی روایت لے لیتے تھے۔ اور یہ قول بھی واضع دلیل ہے کہ امام ابن معینؒ کا قول درست نہیں۔ بلکہ درست بات یہی ہے کہ حسن بصریؒ ہر قسم کے رواۃ سے روایات لیتے تھے اور اسی بنا پہ آئمہ نے انکی مرسل روایات کی بھی تضعیف کی ہے۔ امام دارقطنیؒ کا امام ابن سیرینؒ قول سے حجت پکڑنا اور ان کو امام حسن بصریؒ کی متعلق عالم قرار دینا اور امام ترمذیؒ کا کلام واضع دلائل ہیں اس بات کے امام ابن معینؒ کا قول مطلقا درست نہیں ہے۔

 

فاسد شبہ اور اسکا رد:

بعض لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہاں تو مرسل کی بات ہورہی ہیں تو اگر امام حسن بصریؒ غیر ثقہ یعنی ضعیف و مجھولین سے روایت لیتے بھی ہیں تو وہ انکا نام لیکر روایت نہیں کرتے ہونگے، مرسل کرتے ہونگے، مگر جب بھی نام لیتے ہونگے تو وہ ثقہ کا ہی نام لیتے ہونگے۔ تو اسکے جواب میں عرض ہے کہ اگر کوئی راوی جب بھی کسی راوی کا نام لے اور ثقہ کا ہی نام لے تو اسکی مرسل حجت ہوتی ہے، یہ مرسل کو قبول کرنے کی بنیادی شرائط میں سے ہے جنہیں امام محمد بن ادریس الشافعی الہاشمیؒ نے اپنی کتاب الرسالہ میں محرر کیا ہے، اور خود امام ترمذیؒ نے اپنی علل الصغیر میں اسکو اپنایا ہے جسکا حوالہ اوپر گزر چکا ہے، اور صاف واضع اقوال اوپر نقل کرچکا ہوں کہ آئمہ کرام نے قوی دلائل سے اس بات کی صراحت کی کہ امام حسن بصریؒ جن رواۃ پہ جرح کرتے تھے ان سے بھی روایت لے لیتے تھے، اور ہر قسم کے راوی سے روایت لیتے تھے تو انکی مرسل بھی اسی قائدے کے سبب مردود ہی ہے۔ اور ویسے بھی امام العلائیؒ نے بھی امام ابن معینؒ کے قول کو مرسل کی بحث میں ہی درج کیا ہے، اس سے بھی یہی چیز واضع ہوتی ہے۔

 

֍ امام ابن کثیر الدمشقیؒ (المتوفی 774ھ) لکھتے ہیں:

والذي عول عليه كلامه في الرسالة " أن مراسيل كبار التابعين حجة، إن جاءت من وجه آخر ولو مرسلة، أو اعتضدت بقول صحابي أو أكثر العلماء، أو كان المرسل لو سمى لا يسمي إلا ثقة، فحينئذ يكون مرسله حجة، ولا ينتهض إلى رتبة المتصل ".

 

اور ان (امام شافعیؒ) کی کتاب الرسالہ میں انکے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ" کبائر تابعین کی مراسیل حجت ہیں، اگر وہ کسی اور طریقے سے آئیں اگرچہ مرسل ہی ہوں، یا کسی صحابیؓ یا اکثر علماء کے قول سے تقویت حاصل کریں، یا مرسل (بیان کرنے والا) کسی کا نام لے تو سوائے ثقہ کے کسی کا نام نہ لے، پھر اس وقت مرسل حجت ہوتی ہے لیکن یہ متصل کے درجے تک نہیں پہنچتی۔

(اختصار علوم الحديث: صفحہ 49)

 

معلوم ہوا کہ مراسیل بیان کرنے والا راوی جب بھی کسی راوی کا نام لے تو ثقہ کے علاوہ کسی کا نام نہ لے تو اسکی مرسل حجت ہوتی ہے، اور امام حسن بصریؒ کے معاملے میں بھی یہی چیز پیش کی جارہی ہے جبکہ اسکے برعکس اسی بنا پہ امام حسن بصریؒ کی مراسیل حجت نہیں اور آئمہ اس شرط اور قائدے کے تحت نفی کرتے ہیں کہ حسن بصری صرف ثقہ سے ہی روایات بیان نہیں کرتے۔ امام حسن بصریؒ کی مراسیل کی قبول کرنے یا رد کرنے کے اوپر اختلاف پہ ہم ان شاء اللہ کسی اور مقام پہ تحقیق نقل کریں گے مگر فلہال یہ جاننا اہم ہے کہ امام حسن بصریؒ عند الآئمہ محدثین صرف ثقہ سے روایت نہیں کرتے۔

 

امام حسن بصریؒ بہت سے مجہولین سے روایات بیان کرتے تھے:

امام یحیی ابن معینؒ کے قول کے برخلاف کئی آئمہ کرام نے صراحت سے یہ بات کہی ہے کہ امام حسن بصریؒ بہت سے مجہول لوگوں سے روایت کرتے تھے اور ایسے مجہولین سے بھی روایات لیتے ہیں جن سے روایت کرنے میں انکا تفرد بھی ہوتا ہے۔

 

֍ امام ابو محمد عبد الغنی المقدسیؒ (المتوفی 600ھ) اسید بن المعتشمس کے ترجمے میں لکھتے ہیں:

قال علي بن المديني: والذين روى عنهم الحسن البصري من المجهولين: أحمر السدوسي، وعمرو بن تغلب، وسعد مولى أبي بكر، وأسيد بن المتشمس، وأنس بن حكيم الضبي، وعتي بن ضمرة السعدي، وحكيم بن دينار، وحبيب السلمي -روى عن عمر- وحنتف بن السجف، ودغفل بن حنظلة، وقبيصة بن حريث، وجون بن قتادة البصري، ولم يسند أسيد سوى حديث واحد

 

امام علی بن مدینیؒ کہتے ہیں: اور مجہولین میں سے وہ لوگ جن سے حسن بصری نے روایت کی: احمر السدوسی، عمرو بن تغلب، سعد مولی ابی بکر، اسید بن المتشمس، انس بن حکیم الضبی، عتی بن ضمرہ السعدی، حکیم بن دینار، حبیب السلمی جو عمر سے روایت کرتے ہیں، حنتف بن السجف، دغفل بن حنظلہ، قبیصۃ بن حریث اور جون بن قتادہ البصری۔ اور اسید نے کچھ روایت نہیں کیا سوائے ایک حدیث کے۔

(الكمال في أسماء الرجال: جلد 3 صفحہ 317 رقم 1679)

 

֍ اسی طرح امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکمؒ (المتوفی 405ھ) لکھتے ہیں:

أخبرني عبد الله بن محمد بن حمويه الدقيقي قال: حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطيالسي قال: حدثني خلف بن سالم قال: سمعت عدة من مشايخ أصحابنا، تذاكروا كثرة التدليس والمدلسين، فأخذنا في تمييز أخبارهم، فاشتبه علينا تدليس الحسن بن أبي الحسن، وإبراهيم بن يزيد النخعي؛ لأن الحسن كثيرا ما يدخل بينه وبين الصحابة، أقواما مجهولين، وربما دلس عن مثل عتي بن ضمرة، وحنيف بن المنتجب، ودغفل بن حنظلة، وأمثالهم

 

خلف بن سالم کہتے ہیں: میں نے اپنے ساتھیوں کے کئی شیوخ کو سنا کہ وہ تدلیس اور مدلسین کی کثرت کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر ہم نے ان کی روایات کو تمیز دینے کی کوشش کی۔ لیکن ہمیں حسن بن ابی الحسن (البصری) اور ابراہیم بن یزید النخعی کے تدلیس میں شک ہوا۔ کیونکہ حسن (بصری) اکثر اپنے اور صحابہ کے درمیان مجهول لوگوں کو شامل کر لیتے تھے۔ اور وہ کبھی کبھی عتی بن ضمرہ، حنیف بن المنتجب، دغفل بن حنظلہ اور ان جیسے لوگوں سے دلس کرتے تھے۔

(معرفة علوم الحديث للحاكم: صفحہ 108)

 

֍ اسی طرح امام ابو الحسن مسلم بن الحجاج (المتوفی 261ھ) لکھتے ہیں:

وممن تفرد عنه الحسن بن أبي الحسن بالرواية ممن دون الصحابة أسيد بن المتشمس وصعصعة بن معاوية عم الأحنف بن قيس وحنف بن السجف وحكيم بن دينار وعبد الله بن عثمان الثقفي وهياج بن عمران البرجمي ووثاب وكان ممن أدرك عهد أمير المؤمنين عمر كان يخدم عثمان بن عفان

 

اور وہ جن سے روایت کرنے میں حسن بن ابی الحسن (البصری) کا تفرد ہے جو صحابہ کے علاوہ ہیں:

اسید بن المتشمس، صعصعۃ بن معاویہ جو اخنف بن قیس کے چچا ہیں، حنف بن السجف، حکیم بن دینار، عبد اللہ بن عثمان الثقفی، ہیاج بن عمران البرجمی اور وثاب جنہوں نے امیر المومنین سیدنا عمرؓ کا زمانہ دیکھا ہے یہ سیدنا عثمان بن عفانؓ کی خدمت کیا کرتے تھے۔

(المنفردات والوحدان: صفحہ 104 تا 106)

 

یہی وہی وثاب ہے جس کے متعلق یہ ساری بحث ہورہی ہے اور امام مسلمؒ بھی اس بات کا اقرار کررہے ہیں کہ اس سے روایت کرنے میں امام حسن بصریؒ کا تفرد ہے۔

ان مثالوں کو ذکر کرنے میں ان آئمہ کرام سے بھی خطا ہوسکتی ہے، ان کی تفصیل میں جائے بغیر ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ ان آئمہ کے نزدیک بھی امام حسن بصریؒ صرف ثقہ سے روایت نہیں کرتے بلکہ مجہولین کی ایک قوم سے روایت کرتے ہیں۔

 

امام یحیی ابن معینؒ معصوم نہیں، بلکہ ان سے بھی خطا ہوسکتی ہے:

امام ابن معینؒ سے یہ معنی مراد لینا کہ حسن بصری جب بھی کسی کا نام لیکر روایت کریں تو وہ انکے نزدیک ثقہ ہی ہوتا ہے اور اس سے مجھول رواۃ ثقہ قرار پاجاتے ہیں، مردود ہے، امام ابن معینؒ کے قول کے قائل کی تردید میں ہم یہ قول پیش کرتے ہیں:

 

֍ امام ابو الحسن علی بن محمد ابن القطان الفاسیؒ (المتوفی 628ھ) لکھتے ہیں:

وليس بمجد في هذا ما ذكر ابن أبي خيثمة عن ابن معين من قوله: " إذا ‌روى ‌الحسن ‌عن ‌رجل فسماه، فهو ثقة يحتج به "؛ فإن التسمك بعموم أقوال الرجال الذين ليسوا بمعصومين من الخطأ فيما يقولون، والذهول عما يعلمون، والتقصير فيما ينظرون، والقصور فيما يحصلون؛ لا يصح، وإنما وجب التمسك بعموم الشرع لثبوت العصمة، واستحالة الإلغاز، بإطلاق العام غير مراد العموم، إلا مقترنا ببيان، أو معقبا بمخصص

 

اور اس میں کوئی شان نہیں ہے جو امام ابن ابی خثیمہؒ نے امام ابن معینؒ کا قول ذکر کیا ہے کہ: "اگر حسن کسی شخص سے روایت کرتے ہیں اور اس کا نام لیتے ہیں، تو وہ ثقہ ہیں اور ان پر احتجاج کیا جا سکتا ہے۔"

کیونکہ ایسے لوگوں کی اقوال کی عمومیت سے تمسک کرنا جو غلطی کرنے سے معصوم نہیں ہیں، اور جو وہ جانتے ہیں اس سے غافل ہیں، اور جس بات پر وہ غور کرتے ہیں اس میں کوتاہی کرتے ہیں، اور جس چیز کو وہ حاصل کرتے ہیں اس میں قصور کرتے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔

بلکہ واجب ہے کہ شریعت کی عمومیت سے تمسک کیا جائے کیونکہ اس کی عصمت ثابت ہے، اور اس کی لغزش ناممکن ہے، کیونکہ عام کے اطلاق سے مراد عموم نہیں ہوتا ہے، مگر بیان کے تقابل سے یا مخصوص کے تعقب سے۔

(بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام: جلد 4 صفحہ 136)

 

معلوم ہوا کہ امام ابن معینؒ کے قول کو عمومی طور پہ تمام لوگوں پہ عائد کرنا درست نہیں اور یہ تحقیقی منہج کے بھی برخلاف ہے کیونکہ امام ابن قطان الفاسیؒ کے مطابق اس قول کو کہنے میں امام ابن معینؒ سے بھی خطا ممکن ہوسکتی ہے، لہزا انکو معصوم مان کر انکے قول سے تفرد اخذ کرکے مطلقا حجت پکڑنا درست نہیں کہ مجھول رواۃ کی توثیق یہ کہہ کر کردی جائے کہ ان سے امام حسن بصریؒ نے روایت لی ہے۔ اور امام ابن القطان الفاسیؒ نے اسکا تقابل شریعت سے کروایا ہے کہ شریعت کے عموم پہ عمل کرنا واجب ہے ناکہ کسی فرد کے عموم پہ عمل کرنا کیونکہ کسی فرد سے تو خطا ممکن ہے مگر شریعت معصوم ہے، لہزا اس اختلاف کے معاملے میں اب ہم شریعت کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں کہ راوی سے روایت لینے میں شریعت کا کیا حکم موجود ہے: اس حوالے سے میں امام مسلمؒ کا کلام نقل کرتا ہوں جوکہ جامع ہے اور محدثین اور علم حدیث میں بنیادی مقدمہ رکھتا ہے۔

 

֍ امام ابو الحسن مسلم بن الحجاجؒ (المتوفی 261ھ) فرماتے ہیں:

‌واعلم، ‌وفقك ‌الله ‌تعالى، ‌أن ‌الواجب على كل أحد عرف التمييز بين صحيح الروايات وسقيمها، وثقات الناقلين لها من المتهمين أن لا يروي منها إلا ما عرف صحة مخارجه والستارة في ناقليه، وأن يتقي منها ما كان منها عن أهل التهم والمعاندين من أهل البدع، والدليل على أن الذي قلنا من هذا هو اللازم دون ما خالفه قول الله جل ذكره: {يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين} وقال جل ثناؤه: {ممن ترضون من الشهداء} وقال عز وجل: {وأشهدوا ذوي عدل منكم} فدل بما ذكرنا من هذه الآي أن خبر الفاسق ساقط غير مقبول، وأن شهادة غير العدل مردودة، والخبر وإن فارق معناه معنى الشهادة في بعض الوجوه، فقد يجتمعان في أعظم معانيهما إذ كان خبر الفاسق غير مقبول عند أهل العلم، كما أن شهادته مردودة عند جميعهم ودلت السنة على نفي رواية المنكر من الأخبار، كنحو دلالة القرآن على نفي خبر الفاسق وهو الأثر المشهور عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: « من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين»

 

ترجمہ (نقل شدہ)

‏‏‏‏جان لو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (‏‏‏‏معتبر) اور متہم (‏‏‏‏جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ ‏اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر۔‏‏‏‏“ ‏‏دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔

(صحيح مسلم - ط التركية: جلد 1 صفحہ 6 تا  8)

 

لہزا معلوم ہوا کہ شریعت کا حکم یہی ہے کہ جب بھی کوئی خبر قبول کی جائے تو تحقیق کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں اور فاسق کی خبر کو رد کیا جائے اور عادل کی خبر کو قبول کیا جائے اور اسی طرح گواہی صرف اسی کی قبول کی جائے جو ضابط ہو خبر کو محفوظ کرسکتا ہو اور اسکی خبر کے غلط ہونے کا امکان نہ ہو۔ لہزا ایسا شخص جسکے عادل ہونے کی کوئی معتبر دلیل موجود نہیں جسکے حافظے اور ضبط کی کوئی دلیل موجود نہیں تو اسکی گواہی کیونکر قبول کی جاسکتی ہے؟ اللہ تعالی تو قرآن مجید میں اس بات پہ زور دے رہا ہے کہ خبر لانے والے کی تحقیق کرو تاکہ نادانی میں کسی پہ چڑھائی نہ کر بیٹھو۔ لہزا یہ لازم ہے کہ راوی کی تحقیق کرکے اسکا عادل اور ضابط ہونا معلوم کرلیا جائے تاکہ جھوٹی اور غلط خبر سے بچا جاسکے۔ اسکے علاوہ یہ شخص ہے بھی نہایت ہی زیادہ قلیل الروایہ کہ پورے زخیرہ روایت میں اس سے ایک دو روایات کے علاوہ کوئی روایت ہی سرے سے موجود نہیں، اور ہھر یہ بھی اس سے روایت کرنے میں بھی حسن بصریؒ کا تفرد ہے۔ اور اسی بنا پہ یہ راوی مجھول کی تعریف پہ بلکل پورا اترتا ہے۔

 

مجہول راوی کی تعریف:

֍ امام ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادیؒ (المتوفی 463ھ) مجہول راوی کی تعریف لکھتے ہیں:

هو كل ‌من ‌لم ‌يشتهر ‌بطلب ‌العلم ‌في ‌نفسه ، ولا عرفه العلماء به ، ومن لم يعرف حديثه إلا من جهة راو واحد

 

وہ (مجہول) ہر وہ شخص ہے جو اپنے اندر علم طلبی کے لیے مشہور نہیں ہے، اور نہ ہی علماء اسے جانتے ہیں، اور جس کا حدیث معلوم نہیں ہوتی سوائے صرف ایک راوی سے۔

(الكفاية في علم الرواية: صفحہ 88)

 

֍ محدث ہند امام عبد الحق بن سیف الدین الدہلویؒ (المتوفی 1052ھ) لکھتے ہیں:

مجهول العين ‌من ‌لم ‌يرو ‌عنه ‌إلا ‌واحد ‌ولم ‌يوثق

 

مجہول العین وہ ہے جس کے بارے میں صرف ایک شخص نے روایت کی ہو اور توثیق نہ کی گئی ہو۔

(لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح: جلد 2 صفحہ 57)

 

فلہال اختصار کرتے ہوئے یہ دو حوالے ہی کافی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجھول راوی کی جو تعریف ہے وہ بلکل وثاب پہ صادق آتی ہے۔ نیز یہکہ بالفرض ہم ان تمام دلائل کو نظر انداز کرکے توثیق ظمنی قبول بھی کرلیں تب بھی وثاب کا ضبط ہمیں معلوم نہیں چل سکتا اور اس سبب سے بھی اسکی روایت دیگر صحیح روایات کے برخلاف ہونے کے سبب شاذ ہے۔

 

امام حسن بصریؒ سے ہی اس روایت کا رد:

֍ امام ابو عمرو خلیفہ بن خیاطؒ (المتوفی 240ھ) لکھتے ہیں:

حدثنا عبد الأعلى بن الهيثم قال حدثني أبي قال قلت للحسن ‌أكان ‌فيمن ‌قتل ‌عثمان ‌أحد ‌من ‌المهاجرين ‌والأنصار قال لا كانوا أعلاجا من أهل مصر

 

ہیثم کے والد کہتے ہیں کہ: میں نے امام حسن بصریؒ سے پوچھا کہ کیا حضرت عثمانؓ کے قتل میں کوئی مہاجر یا انصاری شامل تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، وہ مصر کے غالب آنے لوگ تھے۔

(تاريخ خليفة بن خياط: صفحہ 176)

 

اسکی سند میں تضحیف ہوئی ہے، راوی عبد الاعلی بن الہیثم نہیں بلکہ عبد الاعلی بن عبد الاعلی ہے جو ہیثم بن عبید سے عن کے صیغے سے روایت کررہے ہیں، یہی عن تضعیف سے بن ہوگیا۔ بہرحال اسکی سند بھی بلکل ویسی ہی ہے جیسی ہمارے زیر بحث روایت کی سند ہے، اس میں ہیثم بن عبید کو امام ابن حبانؒ نے الثقات میں درج کیا ہے (الثقات لابن حبان: جلد 7 صفحہ 577)، اور امام ابن حزمؒ نے المحلی میں ان سے روایت لی ہے (المحلى بالآثار: جلد 3 صفحہ 22)۔

 

بہرحال توثیق ظمنی کی مزید بحث میں جائے بغیر ہم یہی کہتے ہیں کہ جس درجے کا راوی وثاب ہے اسی درجے کا راوی یہ ہیثم بن عبید ہے، لہزا دونو کی روایات ایک دوسرے کے بلکل متضاد ہونے کے سبب وثاب کی روایت کی نکارت بلکل واضع ہورہی ہے۔

نہ صرف یہی بلکہ امام حسن بصریؒ سے صحیح سند سے بھی اس روایت کا رد ثابت ہے، جو مزید اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ امام حسن بصریؒ کے نزدیک بھی وثاب کی روایت مردود ہے۔

 

֍ امام خلیفہ بن خیاطؒ (المتوفی 240ھ) لکھتے ہیں:

حدثنا المعتمر عن أبيه عن الحسن ‌أن ‌ابن ‌أبي ‌بكر ‌أخذ ‌بلحيته ‌فقال ‌عثمان ‌لقد ‌أخذت ‌مني مأخذا أو قعدت مني مقعدا ما كان أبوك ليقعده فخرج وتركه

 

امام حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ: سیدنا ابن ابی بکرؓ نے انکی داڑھی پکڑی تو سیدنا عثمانؓ کہا: "تم نے مجھ سے ایسا کام لیا ہے یا میرے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے جو تمہارے والد کبھی نہیں کرتے" چناچہ وہ چلے گئے اور انہیں چھوڑ دیا۔

(تاريخ خليفة بن خياط: صفحہ 174 وسندہ صحیح)

 

اسکی سند صحیح ہے۔ اگر کوئی جاہل ناصبی خوامخواہ خلیفہ بن خیاطؒ پہ اعتراض کرتا ہے تو عرض ہے کہ اس روایت کو بیان کرنے میں خلیفہ بن خیاط کا تفرد سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ یہ روایت تو معتمر سے معروف ہے، متابعات ملاحظہ کریں:

1۔ عفان بن مسلم: ثقہ ثبت

(المصنف ابن ابی شیبہ - ت الحوت: جلد 7 صفحہ 520 رقم 37690)

2۔ عبید اللہ بن معاذ: ثقہ حافظ

(فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل: جلد 1 صفحہ 470 رقم 765)

3۔ عمر بن شبہ: ثقہ

(تاريخ المدينة لابن شبة: جلد 4 صفحہ 1285)

4۔ يعقوب بن ابراهيم: ثقہ

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 383)

 

لہزا معلوم ہوا کہ یہ روایت امام حسن بصریؒ سے صحیح ثابت ہے اور اس سے صاف معلوم ہوا کہ امام حسن بصریؒ کے نزدیک بھی وثاب کی روایت مردود ہے اور انکا اپنا موقف یہی ہے کہ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ نے سیدنا عثمانؓ کے قتل میں حصہ نہیں لیا۔ سیدنا عثمانؓ کے ٹوکنے پہ رجوع کرلیا اور واپس چلے گئے۔

 

اسی طرح ہم ام المومنین سیدہ صفیہؓ کے آزاد کردہ غلام جناب کنانہ مولی صفیہ جوکہ شہادت عثمان کے عینی شاہدین میں سے ہیں ان کی گواہی بھی سابقہ اقساط میں بیان کرچکے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ کے قتل سیدنا محمد بن ابی بکرؓ نے نہیں کیا۔ اور اسی طرح آئندہ اقساط میں ہم دیگر گواہیوں کا بھی ذکر کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔

 

آئمہ نقاد کے نزدیک یہ تمام مرویات مخدوش ہیں:

֍ المحدث المفسر المورخ امام ابو الفداء ابن کثیرؒ (المتوفی 774ھ) لکھتے ہیں:

ويروى أن محمد بن أبي بكر طعنه بمشاقص في أذنه حتى دخلت في حلقه.

‌والصحيح ‌أن ‌الذي ‌فعل ‌ذلك ‌غيره، ‌وأنه ‌استحى ‌ورجع ‌حين ‌قال ‌له ‌عثمان: لقد أخذت بلحية كان أبوك يكرمها.

فتذمم من ذلك وغطى وجهه ورجع وحاجز دونه فلم يفد وكان أمر الله قدرا مقدورا، وكان ذلك في الكتاب مسطورا

 

اور روایت ہے کہ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ نے ان کے کان میں ایک نیزہ مار دیا یہاں تک کہ وہ ان کے حلق میں داخل ہو گیا۔

لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ کام کسی اور نے کیا تھا، اور وہ (سیدنا محمد بن ابی بکرؓ) شرمندہ ہو کر واپس چلے گئے جب سیدنا عثمانؓ نے ان سے کہا کہ تم نے اس داڑھی کو پکڑا ہے جس کا تمہارے والد احترام کرتے تھے۔

تو انہوں نے شرمندگی محسوس کی اور اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور واپس چلے گئے اور ان کے سامنے حائل ہو گئے لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا اور یہ اللہ کا مقدر کردہ فیصلہ تھا اور یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا تھا۔

(البداية والنهاية ت شيري: جلد 7 صفحہ 207)

 

امام ابن کثیرؒ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کے متعلق روایت کی طرف اشارہ کرکے صراحتا یہ بتا رہے ہیں کہ یہ روایت درست نہیں اور شاید یہ یہی روایت ہے جیسا کہ اسکے متن سے اشارہ مل رہا ہے، واللہ اعلم۔

 

֍ اسی طرح امام ابو عمر یوسف بن عمر ابن عبد البرؒ (المتوفی 463ھ) لکھتے ہیں:

وقيل: إنه شارك في دمه، ‌وقد ‌نفى ‌جماعة ‌من ‌أهل ‌العلم ‌والخبر ‌أنه ‌شارك ‌في ‌دمه وأنه لما قال له عثمان: لو رآك أبوك لم يرض هذا المقام منك- خرج عنه وتركه، ثم دخل عليه من قتله. وقيل: إنه أشار على من كان معه فقتلوه.

وروى أسد بن موسى، قال: حدثنا محمد بن طلحة، قال: حدثنا كنانة مولى صفية بنت حيي، وكان شهد يوم الدار- إنه لم ينل محمد بن أبي بكر من دم عثمان بشيء. قال محمد بن طلحة: فقلت لكنانة: فلم قيل إنه قتله؟ قال:

معاذ الله أن يكون قتله، إنما دخل عليه، فقال له عثمان: يا بن أخي، لست بصاحبي، وكلمه بكلام، فخرج ولم ينل من دمه بشيء. فقلت لكنانة: فمن قتله، قال: رجل من أهل مصر يقال له جبلة بن الأيهم

 

اور کہا گیا: اس (محمد بن ابی بکرؓ) نے (سیدنا عثمانؓ) کے خون میں حصہ لیا، اور اہل علم اور اہل خبر کی ایک جماعت نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے اس کے خون میں حصہ لیا تھا، اور جب عثمان نے اس سے کہا کہ "اگر آپ کے والد نے آپ کو اس مقام پر دیکھا تو وہ راضی نہیں ہوں گے،" تو وہ (محمد بن ابی بکرؓ) وہاں سے باہر نکل گئے اور انہیں چھوڑ دیا،  پھر وہ شخص داخل ہوا جس نے انہیں قتل کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا: اس نے ان لوگوں کو اشارہ کیا جو اس کے ساتھ تھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔

أسد بن موسى نے روایت کی ہے کہ محمد بن طلحة نے ان سے روایت کی ہے کہ كنانة مولى صفية بنت حيي نے، جو یوم الدار میں موجود تھے،کہ سیدنا محمد بن أبي بكر نے سیدنا عثمان کے خون سے کچھ نہیں لیا۔ محمد بن طلحة نے کہا: "میں نے كنانة سے پوچھا کہ پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ اس نے اسے قتل کیا؟" انہوں نے کہا: "معاذ الله کہ وہ اسے قتل کرے! وہ صرف ان کے پاس داخل ہوئے اور سیدنا عثمانؓ نے اس سے کہا: "اے میرے بھتیجے، آپ میرے ساتھی نہیں ہیں،" اور اس سے کچھ باتیں کیں، پھر وہ باہر نکل گئے اور اس کے خون سے کچھ نہیں لیا۔ میں نے كنانة سے پوچھا: "تو پھر انہیں (سیدنا عثمانؓ کو) کس نے قتل کیا؟" اس نے کہا: "مصر کے ایک شخص نے جس کا نام جبلة بن الأيهم ہے۔"

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب: جلد 3 صفحہ 1367)

 

امام ابن عبد البرؒ نے بھی صراحتا اس بات کی نفی نہ صرف اہل علم کا حوالہ دیکر بیان کی بلکہ ساتھ ساتھ انہوں نے کنانہ مولی صفیہ کی عینی شہادت کو بھی حجت بنایا کہ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کا سیدنا عثمانؓ کی شہادت میں کوئی ہاتھ نہیں۔ معلوم ہوا کہ امام ابن عبد البر المالکیؒ کے نزدیک بھی یہ تمام روایات جو سیدنا محمد بن ابی بکرؓ پہ تہمت لگاتی ہیں غیر ثابت اور مردود ہیں۔

اسی طرح المحدث الشیخ محمد ناصر الدین البانیؒ نے بھی “سلسلة الهدى والنور” میں سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کے متعلق اس طرح کی تمام روایات کو باطل قرار دیا ہے۔ (موسوعة الألباني في العقيدة: جلد 8 صفحہ 397)۔

فلہال اختصار کرتے ہوئے اتنا کافی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

لہزا مندرجہ بالا تمام تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وثاب مولی عثمان مجھول راوی ہے، اسکی کوئی معتبر توثیق مروی نہیں اور امام حسن بصریؒ کا اس سے روایت کرنا اسے ہرگز کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اور امام حسن بصریؒ سے ہی اس جیسی سند سے اس روایت کا رد بھی موجود ہے جوکہ دیگر صحیح روایات کے موافق ہے اور اس روایت کی تردید کرتا ہے۔ لہزا ثابت ہوا کہ یہ وثاب کی روایت نہ صرف ضعیف بلکہ شاذ و منکر بھی ہے۔ امام حسن بصریؒ کے نزدیک بھی یہ روایت غیر ثابت اور مردود ہے۔

تحریر و تحقیق: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں