-->

سیدنا عمر فاروق کی مونچھیں

 

﴿سیدنا عمر فاروقؓ کی مونچھیں﴾

امام عبد اللہ بن احمد بن حنبلؒ (المتوفی 290ھ) کہتے ہیں:
حدثني أبي قال حدثنا إسحاق بن عيسى الطباع قال رأيت مالك بن أنس وافر الشارب لشاربه ذنبتان فسأتله عن ذلك فقال حدثني زيد بن أسلم عن عامر بن عبد الله بن الزبير عن أبيه أن عمر بن الخطاب كان إذا كربه أمر ‌فتل ‌شاربه ونفخ فأفتاني بالحديث

مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ انہیں اسحاق بن عیسی الطباع نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ امام مالکؒ کی مونچھیں گھنی تھی اور اسکے دو (باریک) سرے تھے، پس میں نے ان سے اسکے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر کے واسطے سے انہوں نے اپنے والد (سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ) کے واسطے روایت کیا کہ سیدنا عمر بن الخطابؓ کو جب کوئی
معاملہ پریشان کرتا تو وہ اپنے مونچھوں کو تاؤ دیتے اور پھونک مارتے۔ پس انہوں نے (یعنی امام مالکؒ نے) اس حدیث کے ذریعے مجھے فتوی دیا۔
(العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله: جلد 2 صفحہ 73 رقم 1589 وسندہ صحیح)

اسکی سند صحیح ہے اور کتاب کے محقق شیخ وصی اللہ بن محمد عباس بھی اسکی سند کو صحیح قرار دیتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ امام مالکؒ نے سیدنا عمرؓ سے مروی اثر کی بنیاد پہ عمل کیا اور بڑی اور گھنی مونچھیں رکھی تھی، اور سیدنا عمرؓ کی مونچھیں بھی بڑی تھی اور انکی عادت تھی کہ جب وہ پریشان ہوتے تھے تو اپنی مونچھوں سے کھیلتے، یعنی انہیں تاؤ دیتے اور انکو پھونک مارتے۔ واضح ہوا کہ مونچھیں چھوٹی کرنا سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسکی تاکید کی ہے مگر اگر کوئی نہیں بلکل چھوٹی کرتا اور کچھ بڑی رکھ لیتا ہے تو اس میں کوئی پابندی نہیں ہے مگر یہ لازم ہے کہ ہر چالیس دن میں مونچھوں کو کاٹا جائے تاکہ ہونٹ اور منہ صاف صاف ظاہر ہوں، ایسی مونچھیں رکھنا جس سے ہونٹ اور منہ چھپ جائے اور بال کھانے پینے میں لگیں تو یہ بلاشبہ جائز نہیں ہے۔
(صحیح مسلم: رقم 599)

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب۔
والسلام: أبو الحسنين شهزاد احمد آرائيں