کیا مدلس کی روایت کے ضعف کیلیے تدلیس کا ثبوت ہونا ضروری ہے؟
(کیا مدلس کی روایت کے ضعف کیلیے تدلیس کا ثبوت ہونا ضروری ہے؟)
(کیا مدلس کا عنعنہ مطلقا قبول کیا جائے گا؟)
میں نے جب ایک روایت میں تحکیم میں
مدلس کے عنعنہ کو بطور علت استعمال کیا تو بعض متعصب قسم کے لوگوں کے بےجا
اعتراضات سامنے آئے، اللہ کے فضل سے انکا جواب تو ہم نے دے دیا مگر ہمارے رد میں
ایک کمنٹ بھی ہماری نظر سے گزرا، ہم پہلے ہی اپنی پچھلی تحریر میں یہ بتا چکے ہیں
کہ نہ تو مسئلہ تدلیس کوئی قطعی مسئلہ ہے کہ اس پہ اختلاف موجود نہیں اور ناہی
اصول حدیث کوئی قطعی ہیں، یہ تمام علم اجتہادات پہ مبنی ہے اور اس میں کی گئی
تحکیمات بھی۔
اس کمنٹ میں ہمارے مخالف موصوف نے
کثیر اور قلیل کا منہج اپنایا مگر دلائل ایسے کاپی کرلیے کہ کھچڑی بن گئی کہ وہ
مطلقا عنعنہ کو قبول کررہے ہیں یا کثرت کی بنیاد پہ رد اور قلت کی بنیاد پہ قبول؟؟
خیر
امام خطیب بغدادیؒ (المتوفی 463ھ)
لکھتے ہیں:
حدثني أبو القاسم الأزهري، ثنا عبد
الرحمن بن عمر الخلال، ثنا محمد بن أحمد بن يعقوب، ثنا جدي ، قال: سألت يحيى بن
معين عن التدليس ، فكرهه وعابه ، قلت له: أفيكون المدلس حجة فيما روى أو حتى يقول:
حدثنا وأخبرنا؟ فقال: لا يكون حجة فيما دلس
امام يعقوب بن شيبهؒ (المتوفی 262ھ)
کہتے ہیں کہ میں نے امام یحیی بن معینؒ (المتوفی 233ھ) سے تدلیس کے متعلق سوال
کیا، تو انہوں نے اس سے نفرت کی اور اسے عیب (یعنی برا) کہا، میں نے ان سے کہا:
کیا مدلس اپنی روایت میں حجت ہوسکتا ہے، یا یہاں تک کہ وہ حدثنا اور اخبرنا کہے؟
انہوں نے کہا: وہ جس میں تدلیس کرے تو حجت نہیں ہے ۔
(الكفاية في علم الرواية:
صفحہ 362)
اب ہمارے مخالف موصوف نے جہاں سے
مندرجہ بالا قول کو کاپی کیا، وہاں انہوں نے پورا قول نقل کرنے کے بجائے اسکی جگہ
تعریفی کلمات سے پر کردی، بہرحال اس قول کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، اول جو کہ ظاہر ہے
کہ جس روایت میں مدلس تدلیس کرے اور ہمیں اسکی تدلیس کا ثبوت مل گیا تو اس میں حجت
نہیں ہوگا اور تدلیس کا ثبوت نہ ملے تو مدلس کا عنعنہ بھی حجت اور متصل مانا جائے
گا، لہزا اگر اسے من و عن قبول کیا جائے تو پھر مدلس راوی کی معنن روایت اور غیر
مدلس کی معنن روایت میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا، اور یہ چیز درست نہیں کیونکہ
مدلس کی عن کے صیغے سے روایت کبھی غیر مدلس کی روایت کے برابر نہیں ہوتی کیونکہ
کسی بھی روایت میں یہ ثابت ہوجائے کہ کسی بھی راوی نے یہ روایت اپنے استاد سے نہیں
سنی تو وہ روایت ویسے ہی معلول ہوجائے گی۔
دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس
روایت میں سماع کی صراحت نہ کرے اور معنن روایت کرے تو اس میں بھی وہ حجت نہیں
ہوگا، آئمہ کرام اکثر اوقات مدلس کے عنعنہ کو بھی تدلیس پہ محتمل کرتے ہیں، طوالت
سے بچتے ہوئے اسکی دو مثالیں درج ذیل ہیں:
1۔
امام ابن ابی یعلیؒ (المتوفي 526ھ) لکھتے ہیں:
وسألت أحمد عن هشيم؟ فقال: ثقة، إذ لم
يدلس، فقلت له: والتدليس عيب هو؟ قال: نعم
منھی بن یحیی کہتے ہیں کہ اور میں نے
امام احمد بن حنبلؒ سے ہشیم کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: اگر وہ تدلیس نہ
کریں تو وہ ثقہ ہیں، میں نے ان سے کہا: کیا تدلیس کرنا عیب ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
(طبقات الحنابلة - لابن أبي
يعلى - ت الفقي: جلد 1 صفحہ 348)
امام ابو داؤد السجستانیؒ (المتوفی
275ھ) لکھتے ہیں:
سمعت أحمد، يقول: حديث ابن شبرمة، قال
رجل للشعبي: «نذرت أن أطلق امرأتي» ، لم يقل فيه هشيم: أخبرنا، فلا أدري سمعه أم
لا
میں نے امام احمد بن حنبلؒ کو یہ کہتے
ہوئے سنا: ابن شبرمہ کی حدیث، ایک شخص نے شعبی سے کہا: میں نے اپنی بیوی کو طلاق
دینے کی نذر مانی ہے، اس میں ہشیم نے اخبرنا نہیں کہا تو میں نہیں جانتا کہ اس نے
اس سے سنا یا نہیں۔
(مسائل الإمام أحمد رواية
أبي داود السجستاني: صفحہ 448 رقم 2039)
یہاں ہمیں معلوم ہوا کہ امام احمد بن
حنبلؒ احتمال تدلیس اور عنعنہ کو تدلیس پہ منحصر کررہے ہیں، اسی وجہ سے یہاں مدلس
سے سماع معلوم نہ ہونے کا زکر کررہے ہیں۔ اسکے علاوہ امام احمد بن حنبلؒ نے ایک
جگہ واضع طور پہ ھشیم کی معنن روایت پہ تدلیس کرنے کا حکم لگایا ہے اور ہشیم کی
تدلیس کا کوئی ثبوت بیان نہیں کیا:
امام ابو داؤد السجستانیؒ کہتے ہیں:
سمعت أحمد، يقول: هشيم، عن ابن أبي
ليلى، عن الشعبي «ليس على من خلف الإمام استعاذة»
.
قال: دلسه هشيم
میں نے امام احمد بن حنبلؒ کو کہتے
ہوا سنا کہ: ہشیم روایت کرتے ہیں ابن ابی لیلی کی سند سے شعبی سے کہ: امام کے
پیچھے نماز ادا کرنے والے پہ "پناہ مانگنا" نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اس
میں ہشیم نے تدلیس کی ہے۔
(مسائل الإمام أحمد رواية
أبي داود السجستاني: صفحہ 448 رقم 2040)
لہزا معلوم ہوا کہ امام احمد بن حنبلؒ
بھی مدلس کی معنن کو تدلیس کی علت کیلیے شمار کرتے ہیں اگرچہ وہاں تدلیس کا ثبوت
نہ ہو۔
2۔
اسی طرح امام ابن خزیمہؒ (المتوفی 311ھ) ایک روایت کو نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
أنا استثنيت صحة هذا الخبر لأني خائف
أن يكون محمد بن إسحاق لم يسمع من محمد بن مسلم وإنما دلسه عنه
میں نے اس روایت کی صحت کا استثنا اس
لیے کیا کہ مجھے ڈر ہے کہ محمد بن اسحاق نے اسے محمد بن مسلم (الزہری) سے نہیں سنا
اور اس نے اس میں تدلیس کی ہے۔
(صحيح ابن خزيمة: جلد 1
صفحہ 71 رقم 137)
یہاں امام ابن خزیمہؒ محمد بن اسحاق
کی فذکر کے صیغے سے بغیر سماع کی تصریح کی روایت پہ تدلیس کا اطلاق کررہے ہیں اور
کوئی ثبوت نہیں نقل کررہے۔ ایسی مزید کئی مثالیں نقل کی جاسکتی ہیں جس سے یہ معلوم
ہوتا ہے کہ مدلس کے بغیر سماع کی تصریح کی روایات پہ بھی آئمہ تدلیس کا کلام کرتے
ہیں۔
اس قول کو روایت کرنے والے امام خطیب
بغدادیؒ کا اپنا فیصلہ اس قول کے پہلے معنی کے برخلاف ہے، امام تدلیس کے غالب ہونے
کے قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
وقال آخرون: خبر المدلس لا يقبل إلا
أن يورده على وجه مبين غير محتمل للإيهام فإن أورده على ذلك قبل وهذا هو الصحيح
عندنا
اور دوسروں نے کہا: مدلس کی روایت
قبول نہیں ہوگی الا یہکہ اس کے وہ اسے بغیر کسی وہم کے احتمال کے واضع طور پہ
(سماع کی تصریح کے ساتھ) بیان نہ کردے، تو اگر وہ ایسا کرے تو اسے قبول کیا جائے
گا، اور یہی ہمارے نزدیک صحیح ہے۔
(الكفاية في علم الرواية:
صفحہ 361)
لہزا خود امام خطیب بغدادیؒ کے نزدیک بھی یہ درست نہیں کہ مدلس کی ہر بغیر سماع کی تصریح کی روایت قبول کی جائے سوائے اس کے جس میں تدلیس کا ثبوت موجود ہو۔ اور یہی ہمارا موقف ہے جسے امام خطیب بغدادیؒ نے صحیح قرار دیا اور جو ہم نے تمام موقفات اور اقوال کی تحقیق کے بعد ترجیحا اختیار کیا ہے۔
واسلام: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment