امیر شام کا سیدنا مولا علی المرتضیؑ کی شہادت پہ رو رو كر اپنی داڑھی تر کرلینے کی حقیقت
﴿امیر
شام کا سیدنا مولا علی المرتضیؑ کی شہادت پہ رو رو كر اپنی داڑھی تر کرلینے کی
حقیقت﴾
نواصب
المعروف علل ماسٹروں کی جانب سے ایک روایت لگائی گئی کہ مولا علی المرتضیؑ کی شہادت
پہ امیر شام بہت زیادہ روئے کہ داھڑی تر ہوگئی، پھر مولا علیؑ کی شان میں تعریفی کلمات
کہے وغیرہ وغیرہ
اول
تو یہ ایسے منافقین کی طرف لائی گئی ہے جنہوں نے اسکی سند چھپائی اور اپنے لیے ہر حرام
چیز کو حلال بنا لیا، ہر ضعیف منکر اور موضوع قسم کی مرویات انکے لیے حجت ہیں مگر دوسروں
کی صحیح و حسن مرویات میں بھی طعن کرتے ہیں، خیر اسکی سند ملاحظہ کریں:
امام
ابو نعيم الاصبہانیؒ (المتوفی 430ھ) اپنی کتاب میں یہ سند لکھتے ہیں جسے نواصب نے حجت
بنایا ہے:
حدثنا
سليمان بن أحمد ، ثنا محمد بن زكريا الغلابي ، ثنا العباس ، عن بكار الضبي ، ثنا عبد
الواحد بن أبي عمرو الأسدي ، عن محمد بن السائب الكلبي ، عن أبي صالح قال : دخل ضرار
بن ضمرة الكناني على معاوية ، فقال له۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ
(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء:
جلد 1 صفحہ 84)
1۔ اسکی
سند میں سب سے پہلے تو ہم کذاب راوی محمد بن سائب الکلبی کی بات کرتے ہیں۔ اس راوی
کو سند میں موجود ہونا ہی روایت کو موضوع بنانے کیلیے کافی ہے۔ مزے کی بات کہ امام
ابو نعیمؒ کی کتاب سے اس روایت کو حجت بنایا گیا ہے مگر امام ابو نعیمؒ ہی اس راوی
کي ابو صالح سے مروي روايات كو موضوع قرار دیتے ہیں:
لہزا
امام ابو نعیمؒ اسے ضعفاء میں درج کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
محمد
بن السائب الكلبي عن أبي صالح أحاديثه موضوعة
محمد
بن السائب الكلبي کی ابو صالح سے مروی احادیث موضوع ہیں۔
(الضعفاء لأبي نعيم: صفحہ
138 رقم 209)
اسی
طرح امام مسلمؒ اسے متروک قرار دیتے ہیں:
أبو
النضر محمد بن السايب الكلبي متروك الحديث
(الكنى والأسماء - للإمام مسلم:
جلد 2 صفحہ 840 رقم 3402)
اسی
طرح امام ابن ابی خیثمہؒ کہتے ہیں کہ میں نے امام یحیی بن معینؒ کو کہتے ہوئے سنا کہ:
کلبی کوئی چیز نہیں ہے، اور وہ محمد بن سائب الکلبی ہے۔
سمعت
يحيى بن معين يقول: الكلبي ليس بشيء
وهو
محمد بن السائب الكلبي
(التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة:
جلد 1 صفحہ 510 2084)
اسی
طرح امام ابن حبانؒ اسے المجروحین میں درج کرتے ہوئے امام احمد بن حنبلؒ کا قول نقل
کرتے ہیں کہ:
سمعت
محمد بن يحيى السجستاني، يقول: سمعت عبد الصمد بن الفضل، يقول: سمعت أحمد بن زهير،
يقول: سألت أحمد بن حنبل عن تفسير الكلبي؟ فقال: كذب، قلت: يحل النظر فيه؟ قال: لا
احمد
بن زہیر کہتے ہیں کہ انہوں نے امام ابن حنبلؒ سے الکلبی سے تفسیر کے متعلق سوال کیا۔
تو انہوں نے کہا: وہ جھوٹ ہے۔ میں نے پوچھا: کیا اس میں نظر ڈالنا جائز ہے؟ انہوں نے
کہا: نہیں۔
(المجروحين لابن حبان ت حمدي:
جلد 2 صفحہ 263)
اسکے
بعد امام ابن حبانؒ نے اس پہ بڑا سخت کلام کیا ہے، علم کا طالب جاکر اسکا مطالعہ کرسکتا
ہے، میں اختصار کرتے ہوئے اسے درج نہیں کررہا۔
امام
دارقطنیؒ اسے متروک الحدیث قرار دیتے ہیں۔
(المؤتلف والمختلف للدارقطني:
جلد 4 صفحہ 2222)
اسی
طرح مزید فرماتے ہیں:
وأبو
النضر هو محمد بن السائب الكلبي المتروك ، أيضا هو القائل: كل ما حدثت عن أبي
صالح كذب
اور
ابو النضر یہ محمد بن السائب الکلبی متروک ہے۔ یہ وہی ہے جو یہ کہتا ہے: ہر وہ چیز
جو میں نے ابو صالح سے رویات کی ہے جھوٹ ہے۔
(سنن الدارقطنی: رقم 4227)
لہزا
معلوم ہوا کہ خود محمد بن السائب الکلبی کا اقرار ہے کہ وہ ابو صالح پہ جھوٹ گھڑ کر
روایت کیا کرتا تھا۔ اور واضع رہے کہ یہ چیز باسند صحیح ثابت ہے۔ خیر اختصار کرتے ہوئے
اتنا کافی ہے۔
2۔ پھر
دوسری چیز یہکہ اسکا شاگرد عبد الواحد بن ابی عمرو بھی ضعیف ہے:
لہزا
امام عقیلیؒ اسے ضعفاء میں درج کرتے ہوئے اسکے متعلق فرماتے ہیں:
لا يتابع
على حديثه
اسکی
حدیث کی متابعت نہیں ہوتی۔
(الضعفاء الكبير للعقيلي: جلد
3 صفحہ 56 رقم 1016)
اسی
طرح امام ذھبیؒ اسکا ترجمہ قائم کرکے اسکی روایت کو درج کرکے اسے کذب یعنی جھوٹ قرار
دیتے ہیں۔ لہزا یہ بھی متھم ہے:
(ميزان الاعتدال: جلد 2 صفحہ
675)
3۔ پھر
اس کی سند میں محمد بن زکریا الغلابی بھی متھم بالوضع راوی ہے:
امام
دارقطنیؒ اسکے متعلق کہتے ہیں:
محمد
بن زكريا الغلابي بصري يضع
محمد
بن زکریا الغلابی بصری احادیث گھڑتا ہے۔
(الضعفاء والمتروكون للدارقطني:
جلد 3 صفحہ 131)
اسی
طرح امام ذھبیؒ میزان الاعتدال میں اسکا ترجمہ قائم کرتے ہیں اور امام ابن حبانؒ کا
اسے الثقات میں درج کرکے اسکی تردید اور امام دارقطنیؒ کا قول نقل کرکے اسکی روایت
کو نقل کرتے ہیں اور اسے متھم قرار دیتے ہیں کہ اس نے روایت کو گھڑا ہے:
(ميزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ
550)
4۔ اسی
طرح اس کی سند میں العباس بن الولید بھی متھم بالکذب متروک راوی ہے:
(الضعفاء والمتروكون لابن الجوزي:
جلد 2 صفحہ 80 رقم 1801)
(ديوان الضعفاء: صفحہ 210 رقم
2106)
خیر
اتنا کافی ہے درمیان کے رواۃ کے تعین وغیرہ پہ سر کھپانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس کی سند
میں سلسل چار متھم بالکذب رواۃ کے ہونے اور ان پہ کذب کی جرح مفسر بھی ہونے کی بنیاد
پہ یہ چیز سورج کی روشن ہے کہ یہ روایت موضوع ہے من گھڑت ہے۔
اس محمد
بن سائب الكلبی کی سند کو درج کرنے کے بعد امام ابن عساکرؒ اسکا ایک اور سند بیان کرتے
ہیں کہ یہ روایت اس سند سے بھی آئی ہے، اور یہ ایسی غیر معروف سند ہے کہ پورے چار سو
سال تک چھپی رہی اور پھر اچانک امام ابن عساکرؒ کے پاس نمودار ہوئی تو انہوں نے اسے
اس کذاب کی سند کے بعد درج کردیا، نہ تو انکے بعد اس سند سے اس روایت کو کسی نے لیا
اور نہ ان سے پہلے۔ اور امام ابن عساکرؒ کا محمد بن سائب الکلبی کذاب کی روایت کو پہلے
درج کرنے کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہی اصل ہے، یہ دوسری سند بھی ان تک پہنچی
ہے تو انہوں نے وہ بھی ساتھ بیان کردی، خیر ملاحظہ کریں:
أخبر
أبو الحسين عبد الرحمن بن عبد الله بن الحسن بن أحمد الخطيب أنبأ جدي أبو عبد الله
أنا أبو المعمر المسدد بن علي بن عبد الله بن أبي السجيس نا أبو بكر محمد بن سليمان
بن يوسف الربعي نا أبو محمد عبد الله بن ثابت بن يعقوب بن قيس بن إبراهيم العبقسي النجراني
القاضي نا أبو زيد عمر بن شبة النمري نا أبو الحسن علي بن محمد المدائني عن محمد بن
غسان الكندي قال دخل ضرار بن ضمرة النهشلي على معاوية فقال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد
24 صفحہ 402)
سب سے
پہلے تو اس روایت کا مرکزی راوی محمد بن غسان الکندی مجھول العین ہے، اسکا کوئی اتا پتہ نہیں کہ یہ راوی کون ہے، کیا دور تھا اسکا،
کب پیدا ہوا اور کب مرا، کونسے استاذہ تھے اور کونسے تلامذہ تھے، وغیرہ وغیرہ۔ لہزا
اول تو یہی ہی مردود ہے، لہزا مزید سوال یہاں اسکے متصل ہونے کا بھی ہے کیونکہ اس راوی
کا جب تک تعین نہیں ہوتا تو اس سند کے متصل ہونے پہ بھی سوال کھڑا ہوگا۔
دوئم
یہکہ اس سند میں موجود دوسرا راوی ”ابو محمد عبد اللہ بن ثابت بن یعقوب بن قیس بن
ابراہیم القاضی“بھی مجھول الحال ہے۔
سوئم
یہکہ اس میں موجود راوی : ”ابو المعمر المسدد بن علی بن عبد اللہ“ بھی مجھول الحال ہے بلکہ اس پہ جرح بھی ہے اور
توثیق مروی نہیں، امام ابن عساکرؒ اسکا ترجمہ قائم کرکے اسکی ایک دو مرویات کو درج
کرتے ہیں اور اسے "غریب جدا" قرار دیتے ہیں، پھر امام ابن عساکرؒ ابو محمد
الکتانی کا قول نقل کرتے ہیں کہ:
وكان
فيه تساهل
اور
اس میں تساہل ہے۔
لہزا
یہ جروحات اور نہایت ہی قلیل الرویہ ہونا اسکی عدالت پہ بھی سوال اٹھاتا ہے۔ خیر اسکی
توثیق نہ ہونا، اس میں تساہل ہونا اور پھر اسکی مرویات کا غریب جدا ہونا کہ اسکی کوئی
متابعت ہی نہ ہو، سوال تو کھڑا کرتا ہے۔
(تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد
57 صفحہ 392 رقم 7365)
چہارم
یہکہ امام ابن عساکرؒ کا شیخ ”عبد الرحمن بن عبد الله بن الحسن بن أحمد“بھی مجھول الحال ہے، اسکا ترجمہ امام ابن عساکرؒ
نے قائم کیا اور کوئی توثیقی کلمات نہیں کہے، اسی طرح امام ذھبیؒ اسکا ترجمہ قائم کرتے
ہیں تو ابو سعید السمعانی سے مروی قول کا ذکر کرتے ہیں یہ شیخ صالح وغیرہ ہے، جوکہ
یہ کلمات اسکی توثیق کیلیے ناکافی ہیں مگر خیر۔۔۔
(تاريخ الإسلام - ت تدمري: جلد
37 صفحہ 245)
لہزا
واضع ہوا کہ یہ سوکالڈ دوسری سند بھی ظلمات میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایک سند میں مسلسل چار
متھم بالکذب راوی ہیں اور دوسری سند میں چار مجھول الحال راوی ہیں۔ یہ کیسی کیسی متابعات
ملتی ہیں موضوعات شریف کو؟ اللہ ہی جہلاء کو عقل سلیم دے۔
اسکی
سند کو چھپانے اور اسے حجت بنانے والوں کی کذب بیانی کو سلام۔ اور ان لوگوں کی جہالت
کو بھی اکیس توپوں کا سلام جو اس جھوٹ پہ ان کے ساتھ محبت و غم کا اظہار کررہے تھے۔
اللہ ہی ان جہلاء کو ہدایت دے۔ آمین
واسلام: شہزاد احمد آرائیں۔

Post a Comment