-->

بدعتی راوی کی روایت اور احناف کے شیخین کا منہج

﴿بدعتی راوی کی روایت اور احناف کے شیخینؒ کا منہج﴾


اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ نواصب بلخصوص حنفی ناصبی حضرات جوزجانی ناصبی کے قول پہ مبنی چیزوں کو پکڑ کر اپنا اصول گھڑنا شروع کردیتے ہیں کہ شیعہ راوی کی روایت اسکی بدعت کے حق میں مردود ہے، جبکہ اس قائدے اور معیار کو لیا جائے تو پھر یہ قائدہ خود مردود ہے کیونکہ یہ ایک ناصبی کی بدعت کے حق میں ہے اور اس ناصبی نے اپنی بدعت کی تقویت کیلیے اسے گھڑا ہے۔ جوزجانی ناصبی کا کوفی اور شیعہ رواۃ سے بغض اور ان پہ بلاوجہ کا کلام کرنا کسی محقق سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور یہی وجہ ہے شیعہ اور کوفی رواۃ کے متعلق جوزجانی کا کلام آئمہ محدثین کے نزدیک مردود ہوتا ہے۔ اس کی حقیقت ہم اپنی سابقہ تحاریر میں واضع کرچکے ہیں۔

لہزا طلباء کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بدعتی راوی کی روایت کو مطلقا قبول کرنا بھی آئمہ محدثین اور فقہاء کے ایک بڑے گروہ کا منہج ہے، جن میں احناف کے سب سے بڑے آئمہ یعنی شیخین (یعنی امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ) کا بھی یہی منہج ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

امام ابو الفضل احمد بن علی ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) لکھتے ہیں:

والقبول مطلقا إلا فيمن يكفر ببدعته وإلا فيمن يستحل الكذب ذهب إليه أبو حنيفة وأبو يوسف وطائفة.

وروي، عن الشافعي أيضًا


اور (بدعتی کی روایت) مطلقا قبول ہے، سوائے اس کے جو اپنی بدعت کے ساتھ کفر کرتا ہے اور سوائے اس کے جو جھوٹ کو جائز سمجھتا ہے، امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور (آئمہ کا) ایک گروہ اس کے قائل ہیں۔ اور یہ امام شافعیؒ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔

(لسان الميزان ت أبي غدة: جلد 1 صفحہ 203)


احباب خود ملاحظہ کریں کہ برصغیر کے احناف اپنے آئمہ کے منہج کو ترک کرکے نواصب کے قول پہ عمل کررہے ہیں اور اسی لیے کہ وہ انکی ناصبیت کے موافق ہے اور انکے اپنے آئمہ کرام یعنی امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کا منہج تو بدعتی کی روایت کو مطلقا قبول کرنے کا ہے اگر تو وہ ثقہ ہے۔ لہزا معلوم ہوا کہ یہ یہاں کے احناف نہ صرف نواصب کے اقوال کے پیروکار بن رہے ہیں بلکہ اپنے آئمہ جنکی تقلید کے یہ دعوے دار ہیں، ناصبیت کے چلتے یہ لوگ انکو بھی مردود کرچکے ہیں۔ بہرحال

اللہ ہی ان نواصب کو ہدایت دے۔ آمین ثم آمین۔۔۔

تحریر: شہزاد احمد آرائیں