-->

نوجوان ہی دین کی حفاظت کرنے والے بنتے ہیں

﴿نوجوان ہی دین کی حفاظت کرنے والے بنتے ہیں﴾

امام ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادیؒ (المتوفی 463ھ) لکھتے ہیں:

أخبرني محمد بن الحسين بن الفضل القطان، قال: أخبرنا دعلج بن أحمد، قال: أخبرنا أحمد بن علي الأبار، قال: حدثنا أبو أمية الحراني، قال: حدثنا مسكين بن بكير، قال: مر رجل بالأعمش، وهو يحدث، فقال له: تحدث هؤلاء الصبيان؟ فقال الأعمش: «هؤلاء الصبيان يحفظون عليك دينك»

 

ایک شخص امام اعمشؒ کے پاس سے گزرا جب وہ حدیث پڑھا رہے تھے۔ اس نے ان سے کہا: آپ ان نوجوانوں کو حدیث پڑھا رہے ہیں؟ امام اعمشؒ نے کہا: "یہی نوجوان تمہارے لیے تمہارا دین محفوظ کریں گے۔"

(شرف اصحاب الحدیث: الشاملہ؛ صفحہ 64، ونسخہ الآخر؛ صفحہ 121 رقم 125)

 

کتاب کے محقق شیخ عمرو عبد المنعم سلیم کہتے ہیں کہ اسکی سند ضعیف ہے مگر یہ اثر صحیح ہے، اسے امام الرامہرمزیؒ نے اپنی کتاب "المحدث الفاضل" میں باسند صحیح روایت کیا ہے۔

معلوم ہوا کہ آئمہ محدثین بھی جب نوجوانوں کو اور بچوں کو دین کی تعلیم خصوصیت کے ساتھ دیتے تھے تو جہلاء کو یہ چیز ناپسند آتی تھی، وہ لوگ تب بھی اسے ناپسند کرتے تھے کہ نوجوان ان سے آگے نہ بڑھ جائیں، دین کی خدمت ان سے بڑھ کر نہ کرلیں، انہیں آئمہ پہ تعجب ہوتا تھا اور حیران ہوکر ان سے سوال کرتے تھے کہ یہ لوگ نوجوانوں پہ محنت کررہے ہیں۔ اور یہی کام آج تک وہی جہلاء کرتے آرہے ہیں، مساجد میں جائیں گے تو بچوں کو ٹھوکریں مار کر پچھلی صفوں میں بھیجیں گے اور خود نواب بن کر پہلی صف میں جگہ لیں گے جیسے مسجد انہوں نے اللہ سے خرید کر رکھی ہے، ان بچوں کے دلوں پہ اسکا کیا اثر پڑتا ہوگا اسکا اندازہ انکو کیونکر ہوسکتا ہے؟ انہیں اپنی جوانی کا غرور تو ختم ہو! نیز یہی بنیادی وجہ ہے کہ امت مسلمہ دن بدن دین سے دور اور متنفر ہوتی جارہی ہے کہ نوجوانوں کو دین کو سمجھنے، سیکھنے اور اس پہ عمل کرنے میں سب سے زیادہ بڑی رکاوٹ یہی بڑے ہوتے ہیں، نوجوان اگر مجتہد بننے کی طرف جانے کا سوچے بھی تو یہ کھینچ کر اسے مقلد بنانے پہ زور دیں گے تاکہ امت اندھی تقلید کی گمراہی میں گم ہوکر رہ جائے، اور مجتہدین پیدا نہ کرسکے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب دین میں جسکا جی چاہتا ہے اپنی گمراہی کیلیے چور دروازے تلاش کرلیتا ہے، اگر نوجوانوں پہ محنت کی ہوتی اور انہیں مجتہدین بنایا ہوتا تو وہ اپنی خوشی سے اس دین کی وہ خدمت کرتے کہ اہل بدعت کیلیے ہمیشہ چور دروازے بند ہوتے رہتے، ہر دور میں انکا تعاقب جاری رہتا، انہیں خوف ہوتا جسطرح آئمہ محدثین سے اہل بدعت خوفزدہ تھے۔ آج امت جس زوال کا شکار ہے اسکی کئی وجوہات ہیں اور ان میں ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ ہم دیگر وجوہات پہ بھی بات کریں گے۔

والسلام: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں