-->

شوال کے چھ روزوں کے متعلق امام مالکؒ کے قول کا مختصر جائزہ

 

﴿شوال کے چھ روزوں کے متعلق امام مالکؒ کے قول کا مختصر جائزہ﴾


رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی فضیلت متعدد صحیح و ثابت احادیث میں بیان ہوئی ہے، اور کثیر آئمہ فقہاء اور محدثین نے اس کو اختیار کیا ہے اور اس پہ عمل کو مستحب اور سنت قرار دیا ہے۔ اسکے باوجود چند ایک آئمہ ایسے ہیں جنہوں نے شوال کے چھ روزوں کی فضیلت کا انکار کیا ہے اور اس پہ کراہت کا اظہار کیا ہے۔ جن میں امام مالکؒ بھی شامل ہیں۔


کچھ لوگ جو اندھی تقلید کی سوچ کے حامل ہیں وہ امام مالک کے قول کو اسکی درست حقیقت جانے بغیر اسطرح پیش کرتے ہیں کہ جیسے وہ ایسی قطعی بات ہے جس کا غلط ہونا محال ہے اور اس بنا پہ وہ لوگ اس باب میں موجود تمام صحیح احادیث کا انکار بغیر کسی دلیل کے کردیتے ہیں۔ جبکہ تحقیق کرنے والا ہر فرد یہ بات جان سکتا ہے کہ امام مالکؒ کے قول میں کیا نقص موجود ہیں۔ اور اس باب میں موجود احادیث کی صحت اظہر من الشمس ہے۔

صحیح مسلم کی حدیث:

امام ابو الحسین مسلم بن الحجاج القرشیؒ (المتوفی 261ھ) روایت کرتے ہیں:

حدثنا يحيى بن أيوب وقتيبة بن سعيد وعلي بن حجر. جميعا عن إسماعيل. قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل بن جعفر. أخبرني سعد بن سعيد بن قيس عن عمر بن ثابت بن الحارث الخزرجي، عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه؛ أنه حدثه؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "من صام رمضان. ثم أتبعه ستا من ‌شوال. كان كصيام الدهر"

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ عمل سال بھر روزے رکھنے کی مثل ہے۔

)صحيح مسلم - ت عبد الباقي: جلد 2 صفحہ 822 رقم 1164 وسندہ صحیح(

اس حدیث پہ ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ:

روایت کا مدار ایک راوی پر ہے۔ یہ حدیث سعید بن المسیب کے واسطے سے سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کے طرق سے آئی ہے۔

اب یہ اعتراض انتہائی جاہلانہ ہے۔ کیونکہ پورے ذخیرہ حدیث میں الغرض دنیا کی کسی کتاب میں یہ حدیث سعید بن المسیب کے طرق سے روایت ہی نہیں ہوئی۔ یہ اس حدیث کے راوی ہے ہی نہیں اور انہوں نے انکے تفرد کو علت بنا لیا ہے۔

سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے اس حدیث کو روایت کرنے میں عمر بن ثابت الخزرجی کا تفرد ہے اور اس سے یہ حدیث پھر متعدد راویوں نے روایت کی ہے۔ اور یہ حدیث سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سے بھی ثابت ہے۔ لہزا اس روایت کو غریب قرار دینا غلط ہے کجا یہکہ کوئی اس پہ تفرد کی من گھڑت علت بنانے کی کوشش کی جائے۔

امام ابو حاتم محمد بن حبانؒ (المتوفی 354ھ) سیدنا ابو ایوب انصاریؒ کی حدیث نقل کرنے کے بعد باب باندھتے ہیں:

‌‌ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عمر بن ثابت، عن أبي أيوب

اس خبر کا ذکر جو اس شخص کے قول کو باطل کرتی ہے جس نے گمان کیا کہ اس خبر کو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے روایت کرنے میں عمر بن ثابت کا تفرد ہے۔

اسکے بعد امام ابن حبانؒ حدیث درج کرتے ہیں کہ:

أخبرنا الحسين بن إدريس الأنصاري إملاء، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا يحيى بن الحارث الذماري، عن أبي أسماء الرحبي، عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: "من صام رمضان، ‌وستا ‌من ‌شوال، ‌فقد ‌صام ‌السنة"

رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو اس نے گویا پورے سال کے روزے رکھے۔

)صحيح ابن حبان: التقاسيم والأنواع: جلد 1 صفحہ 216 رقم 168 وسندہ صحیح(

احباب ملاحظہ کیجیے کہ یہ حدیث سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کے علاوہ سیدنا ثوبانؓ سے بھی صحیح ثابت ہے۔ تو یہ اعتراض کرنا اس میں فلاں فلاں کا تفرد ہے بلکل غلط ہے۔ آئمہ محدثین نے کتابت حدیث کرتے ہوئے ہی اس طرح کے اعتراضات کا رد کر دیا تھا، الحمد اللہ۔

 

ہم ان شاء اللہ اس حدیث کے مختلف طرق پہ ایک الگ تحقیق لکھ کر اسکی صحت کو بہت عمدہ طریقے سے واضح کریں گے کہ ان شاء اللہ وہ اس حدیث کے متعلق اتمام حجت کی حیثیت رکھتی ہوگی۔ اور اسکے بعد سوائے اندھے مقلدین کے کوئی اور اس حدیث کی صحت پہ اعتراض نہیں کرسکے گا۔

 

امام مالکؒ کا قول اور اسکی حیثیت:

اس حدیث کی صحت کو لیکر جب کوئی اور اعتراض نہیں ملتا تو لوگوں نے امام مالکؒ کا قول لیکر یہ سمجھا کہ یہ حدیث تو قابل عمل ہی نہیں ہے، حالانکہ اگر امام مالک کے مکمل قول کو سامنے رکھا جائے تو معاملہ کچھ اور ہی معلوم ہوتا ہے۔

 امام مالک کا مکمل قول یہ ہے:

وقال ‌يحيى : سمعت ‌مالكا يقول، في ‌صيام ‌ستة ‌أيام ‌بعد ‌الفطر من رمضان: إنه لم ير أحدا من أهل العلم والفقه يصومها. ولم يبلغني ذلك عن أحد من السلف. وإن أهل العلم يكرهون ذلك، ويخافون بدعته. وأن يلحق برمضان ما ليس منه، أهل الجهالة والجفاء. لو رأوا في ذلك رخصة عند أهل العلم. ورأوهم يعملون ذلك

 

اور یحیی نے کہا: میں نے امام مالکؒ کو رمضان کے روزے افطار کے بعد چھ روزوں کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے اہل علم اور اہل فقہ میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اور نہ ہی مجھے اسلاف میں سے کسی کے متعلق اسکی خبر پہنچی ہے، اور یقینا اہل علم اسکو مکروہ جانتے ہیں، اسکے بدعت ہونے کا خوف محسوس کرتے ہیں اور اس بات سے بھی کہ جاہل اور اکھڑ مزاج لوگ رمضان کے ساتھ وہ چیز نہ ملا دیں جو اس میں سے نہیں ہے، اگر وہ اس کے متعلق اہل علم کے یہاں رخصت پالیں اور انکو اس پہ عمل کرتے ہوئے دیکھ لیں۔

)موطأ مالك - رواية يحيى - ت الأعظمي: جلد 3 صفحہ 447 رقم 1103(

 

یہ ہے امام مالک کا مکمل قول جو انکی کتاب الموطا میں موجود ہے۔ اس کلام سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ امام مالکؒ کو سیدنا ابو ایوب انصاریؒ کی حدیث کا علم ہی نہیں تھا جیسا کہ وہ یہاں واضح طور پہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں اسلاف میں سے کسی سے اسکے متعلق خبر نہیں پہنچی۔ جبکہ سیدنا ابو ایوب انصاریؒ کی حدیث مدنی ہے اور عمر بن ثابت الخزرجی کا ذکر امام مالک کے اساتذہ میں کیا گیا ہے اور بعض محدثین نے اس سے اختلاف کیا ہے کہ یہ امام مالکؒ کے استاد نہیں بلکہ انکے دادا استاد ہیں۔ لہزا قصہ مختصر یہ ہے کہ امام مالک اول تو اس باب میں مروی احادیث سے لاعلم تھے لہزا انکے کلام میں پہلا نقص تو یہی واضح ہوگیا جسکی وجہ سے اس قول کو صحیح و ثابت احادیث کے انکار کے طور پہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

 

امام ابو عمر ابن عبد البر المالکیؒ (المتوفی 463ھ) کہتے ہیں:

لم يبلغ مالكا حديث أبي أيوب على أنه حديث مدني والإحاطة بعلم الخاصة لا سبيل إليه والذي كرهه له مالك أمر قد بينه وأوضحه وذلك خشية أن يضاف إلى فرض رمضان وأن يستبين ذلك إلى العامة وكان - رحمه الله - متحفظا كثير الاحتياط للدين

وأما صيام الستة الأيام من شوال على طلب الفضل وعلى التأويل الذي جاء به ثوبان - رضي الله عنه - فإن مالكا لا يكره ذلك إن شاء الله لأن الصوم جنة وفضله معلوم لمن رد طعامه وشرابه وشهوته لله تعالى وهو عمل بر وخير وقد قال الله عز وجل (وافعلوا الخير) الحج 77

ومالك لا يجهل شيئا من هذا ولم يكره من ذلك إلا ما خافه على أهل الجهالة والجفاء إذا استمر ذلك وخشي أن يعدوه من فرائض الصيام مضافا إلى رمضان وما أظن مالكا جهل الحديث والله أعلم لأنه حديث مدني انفرد به عمر بن ثابت وقد قيل إنه روى عنه مالك ولولا علمه به ما أنكره وأظن الشيخ عمر بن ثابت لم يكن عنده ممن يعتمد عليه وقد ترك مالك الاحتجاج ببعض ما رواه عن بعض شيوخه إذا لم يثق بحفظه ببعض ما رواه وقد يمكن أن يكون جهل الحديث ولو علمه لقال به والله أعلم

 

امام مالک کو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کی حدیث نہیں پہنچی تھی باوجود اسکے کہ یہ مدنی حدیث ہے، اور تمام علوم خاصہ کا احاطہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور امام مالکؒ نے جس چیز سے کراہت کی ہے اسے انہوں نے خود بیان کردیا اور واضح کردیا ہے۔ اور وہ یہ ڈر ہے کہ اسے رمضان کے فرض میں شامل نہ کردیا جائے اور یہ بات عوام کے سامنے واضح نہ ہوجائے۔ اور اللہ ان پر رحم کرے وہ دین کیلیے بہت احتیاط برتنے والے تھے۔

اور جہاں تک شوال کے چھ روزوں کا تعلق ہے، وہ فضیلت کی طلب کے طور پر اور اس تاویل پر جو سیدنا ثوبانؓ سے منقول ہے، تو بلاشبہ امام مالکؒ اس سے کراہت نہیں کرتے ان شاء اللہ کیونکہ روزہ ایک ڈھال ہے اور اسکی فضیلت اس شخص کے لیے معلوم ہے جو اللہ تعالی کیلیے کھانا پینا اور شہوت کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور یہ نیکی اور بھلائی کا کام ہے۔ اور اللہ عزوجل نے فرمایا: نیک کام کرتے رہو۔ سورۃ الحج آیت 77۔

اور امام مالک اس میں سے کسی چیز سے جاہل نہیں تھے اور انہوں نے اس میں سے کسی چیز سے کراہت نہیں کی، مگر اس چیز سے جس پہ انہوں نے جاہل اور اکھڑ مزاج لوگوں سے خوف محسوس کیا کہ جب اس پر عمل جاری رہے گا تو انہیں خوف ہوا کہ وہ اسے رمضان کے ساتھ ملحق کرکے روزوں کے فرائض میں شمار نہ کرنے لگیں، اور میں گمان نہیں کرتا کہ امام مالکؒ اس حدیث سے جاہل تھے۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

کیونکہ یہ ایک مدنی حدیث ہے جس میں عمر بن ثابت کا تفرد ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ ان سے امام مالکؒ نے روایت کیا ہے۔ اور اگر انہیں اسکا علم نہ ہوتا تو وہ اسکا انکار نہ کرتے۔ اور گمان ہے کہ شیخ عمر بن ثابت انکے نزدیک ان لوگوں میں سے نہ تھے جن پہ اعتماد کیا جاتا ہے۔ اور امام مالکؒ نے اپنے بعض شیوخ کی بعض روایات سے احتجاج ترک کردیا تھا جب وہ انکی بعض روایات میں انکے حافظے پہ اعتماد نہیں کرتے تھے۔

اور ممکن ہے کہ وہ اس حدیث سے جاہل ہوں اور اگر انہیں اسکا علم ہوتا تو اسکے مطابق فتوی دیتے۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

)الاستذكار: جلد 3 صفحہ 380(

 

امام ابن عبد البرؒ مالکی نے الموطا کی شرح میں امام مالکؒ کے قول کی شرح بیان کی ہے۔ انکو یہاں امام مالک کے قول کی شرح بیان کرتے ہوئے اضطراب لاحق ہوا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ ان تک حدیث پہنچی تھی اور کبھی کہتے ہیں کہ حدیث نہیں پہنچی تھی۔ ہم اسے اسطرح دیکھتے ہیں کہ انہوں نے دو احتمال بیان کیے ہیں، اول تو یہکہ امام مالکؒ اس حدیث سے واقف تھے مگر وہ اپنے استاد عمر بن ثابت کے حافظے پہ اعتماد نہیں کرتے تھے تو انہوں نے اسکے خلاف کراہت کا اظہار کیا۔

 

ہم عمر بن ثابت کے متعلق جرح وتعدیل کے اقوال کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس احتمال کی حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ کیا واقعی عمر بن ثابت کے حافظے میں کوئی اسطرح کا مسئلہ ہے کہ اسکی روایت اس بنیاد پہ مردود قرار دی جاسکے یا پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے؟۔

 

عمر بن ثابت الخزرجی کے متعلق آئمہ جرح وتعدیل کے اقوال:

 

امام عجلیؒ انہیں ثقہ قرار دیتے ہیں:

)الثقات للعجلي ت قلعجي: صفحہ 355 رقم 1220(

 

امام ابن حبانؒ انہیں ثقات میں درج کرتے ہیں:

)الثقات لابن حبان: جلد 5 صفحہ 149(

 

امام نسائیؒ انہیں ثقہ قرار دیتے ہیں:

)تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 21 صفحہ 284(

 

امام ابن خلفونؒ انہیں ثقات میں درج کرتے ہیں:

(إكمال تهذيب الكمال - ط العلمية: جلد 5 صفحہ 439 رقم 4120)

 

امام محمد بن عبد الرحيم صاعقة انہیں ثقہ قرار دیتے ہیں:

(إكمال تهذيب الكمال - ط العلمية: جلد 5 صفحہ 439 رقم 4120)

 

امام ابو بکر السمعانی کہتے ہیں:

هو من ثقات التابعين

 

یہ ثقہ تابعین میں سے ہیں۔

(إكمال تهذيب الكمال - ط العلمية: جلد 5 صفحہ 439 رقم 4120)

 

امام ابن شاہین انہیں ثقات میں درج کرتے ہیں:

(تاريخ أسماء الثقات: صفحہ 134 رقم 693)

 

امام ذہبی انہیں ثقہ قرار دیتے ہیں:

(الكاشف: جلد 2 صفحہ 56 رقم 4027)

 

امام ابن حجر عسقلانیؒ انہیں ثقہ قرار دیتے ہیں:

(تقريب التهذيب: صفحہ 410 رقم 4870)

 

یہ اس راوی پہ تمام جرح وتعدیل کے اقوال ہیں، اور اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تمام آئمہ نے انہیں ثقہ ہی قرار دیا ہے اور کسی نے بھی کوئی جرح ان پہ نہیں کی۔ اسکے علاوہ بھی توثیق ضمنی کے اقوال موجود ہیں جنہیں ہم طوالت کے باعث حذف کررہے ہیں۔

 

اس احتمال کا رد دیگر کئی آئمہ نے کر رکھا ہے کہ یہ اعتراض کرنا کہ امام مالک کے نزدیک عمر بن ثابت قابل اعتماد رواۃ میں سے نہیں ہیں، سراسر بےبنیاد اعتراض ہے۔ جسکی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات امام مالک سے ثابت ہے۔ بس انکے متعلق ناجائز دفاع میں یہ بات کردی گئی اور اسکے بعد مقلدین نے اس کو نقل کرکے حجت بنانا شروع کردیا۔

 

امام ابو سعید العلائیؒ (المتوفی 761ھ) کہتے ہیں:

وقوله عن عمر بن ثابت أنه ربما لم يكن عند مالك ممن يعتمد عليه إنما قاله ظنا منه وليس عن مالك في ذلك نقل صريح. وقد وثق عمر بن ثابت النسائي وأبو حاتم بن حبان ولم يضعفه أحدا، وكون مالك روى عنه بعيد؛ لأنه مقدم عليه روى عن عائشة -رضي الله عنها- وغيرها، وروى عنه: الزهري ويحيى بن سعيد الأنصاري وصفوان بن سليم ومحمد بن عمرو بن علقمة وعبد ربه بن سعيد، وهؤلاء كلهم شيوخ مالك رحمه الله وهم متقدمون وكذلك باقي الرواة عنه، ولم نجد لأحد من طبقة مالك عنه رواية على أن ابن أبي حاتم قد ذكر عن أبيه أن مالكا روى عنه، فالله أعلم

وعلى تقدير أن يكون عمر بن ثابت ليس ممن يعتمد عليه فإن هذا لا يضر؛ لأنه لم يصرح بضعفه وغيره قد وثقه، والحديث قد صح أيضا من رواية ثوبان وشداد ابن أوس فلا يضر هذا التوهم والله أعلم

 

اور انکا یہ قول کہ امام مالک کے نزدیک عمر بن ثابت ان لوگوں میں سے نہ ہوں جن پہ اعتماد کیا جاتا ہے، یہ بات انہوں نے محض اپنے گمان پہ کی ہے اور امام مالک سے اسکے متعلق کوئی صریح نص موجود نہیں ہے، اور عمر بن ثابت کو امام نسائیؒ اور امام ابو حاتم ابن حبانؒ نے ثقہ کہا ہے اور کسی نے بھی اسکی تضعیف نہیں کی۔

اور یہ بات بعید ہے کہ امام مالک نے (یہ حدیث) ان سے روایت کی ہو، کیونکہ وہ مالک سے بہت مقدم ہیں، وہ سیدہ عائشہؓ وغیرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے زہری، یحیی بن سعید الانصاری، صفوان بن سلیم، محمد بن عمرو بن علقمہ اور عبد ربہ بن سعید روایت کرتے ہیں، اور یہ تمام کے تمام مالک کے شیوخ (اساتذہ) ہیں، اور ان سے مقدم ہیں، اور اسی طرح ان سے روایت کرنے والے باقی راویوں کا حال ہے۔ ہمیں مالک کے طبقے کے کسی بھی شخص سے ان کی کوئی روایت نہیں ملی باوجود اسکے کہ امام ابن ابی حاتمؒ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے ذکر کیا کہ امام مالک نے ان سے روایت کیا ہے۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

اور اس مفروضے پر بھی کہ عمر بن ثابت ان لوگوں میں سے نہیں جن پہ اعتماد کیا جاتا ہے، تو بھی یہ بات کوئی نقصان نہیں پہنچاتی، کیونکہ انہوں نے اسکے ضعیف ہونے کی صراحت نہیں کی جبکہ دوسروں نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے، اور یہ حدیث سیدنا ثوبانؓ اور سیدنا شداد بن اوسؓ کی روایت سے بھی صحیح ہے، لہزا یہ وہم کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ واللہ اعلم۔

(مجموع رسائل الحافظ العلائي: صفحہ 331)

 

لہزا معلوم ہوا کہ اس احتمال یا وہم کی کوئی دلیل اور بنیاد موجود نہیں ہے، بس ایک جواز پیدا کرنے کیلیے اسے گھڑا گیا ہے جوکہ دلائل کی بنیاد پہ مردود ہے۔

 

لہزا اس بنیاد پہ امام ابن عبد البرؒ کا پہلا احتمال بیان کرنا بلکل بےبنیاد اور غلط ہے کہ امام مالکؒ کو اس حدیث کا علم تھا اور وہ انکے حافظے پہ اعتماد نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے انہیں ان اس پہ کراہت کا اظہار کیا۔ جبکہ ان جرح و تعددیل کے اقوالات کی روشنی میں حقیقت تو یہ ہے کہ اس راوی کے حافظے میں کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے۔

 

امام ابن عبد البرؒ مالکی نے جو دوسرا احتمال بیان کیا ہے کہ امام مالک کو اس حدیث کا علم ہی نہیں تھا لہزا جب علم ہی نہیں تھا تو انکی کراہت کی ساری بنیاد انکی ذاتی رائے ہے ناکہ وہ اس حدیث پہ محدثانہ کلام ہے۔ اور یہ بات امام مالک کے قول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ خود امام ابن عبد البرؒ نے پہلے یہی بات بغیر احتمال کے قطعیت سے بیان کی ہے کہ ان تک سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کی حدیث نہیں پہنچی تھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابن عبد البرؒ کے نزدیک بھی راجع بات یہی ہے کہ ان تک حدیث نہیں پہنچی تھی۔ اسکے بعد اپنے کلام میں اضطراب کا اظہار کرتے ہیں۔

 

اسی طرح امام ابو بکر عبد العزیز بن جعفر غلام الخلالؒ (المتوفی 363ھ) کہتے ہیں:

وقال في رواية مهنا: مالك قليل العلم في الحديث، لم يعرف الستة أيام من شوال

 

اور مہنا کی روایت میں امام احمد بن حنبلؒ نے کہا: امام مالک حدیث میں کم علم تھے، انہیں شوال کے چھ روزوں (کی حدیث) کا علم نہیں ہوسکا۔

(زاد المسافر في الفقه على مذهب الإمام احمد بن حنبل: جلد 2 صفحہ 322 رقم 976)

 

اگر یہ قول ان سے ثابت ہے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک بھی امام مالک کو اس حدیث کا علم نہ تھا۔

 

اسی طرح علامہ محمد الامین بن محمد المختار الشنقیطیؒ (المتوفی 1393ھ) کہتے ہیں:

وفيه تصريح مالك رحمه الله بأنه ‌لم ‌يبلغه ‌صيام ‌ست ‌من ‌شوال ‌عن ‌أحد ‌من ‌السلف، وهو صريح في أنه لم يبلغه عن النبي - صلى الله عليه وسلم.

ولا شك أنه لو بلغه الترغيب فيه عن النبي - صلى الله عليه وسلم - لكان يصومها ويأمر بصومها، فضلا عن أن يقول بكراهتها

 

اور اس میں امام مالک رحمہ اللہ کی یہ صراحت موجود ہے کہ ان تک سلف میں کسی سے بھی شوال کے چھ روزے رکھنے کی بات نہیں پہنچی، اور یہ اس بات میں صراحت ہے کہ ان تک نبی اکرم ﷺ سے بھی کوئی روایت نہیں پہنچی۔

اور کوئی شک نہیں ہے کہ اگر ان تک نبی اکرم ﷺ کی جانب سے اسکی ترغیب پہنچ جاتی تو وہ ضرور اسکے روزے رکھتے اور روزے رکھنے کا حکم دیتے، چہ جائیکہ وہ اسکی کراہت کا قول کہتے۔

(أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن - ط الفكر: جلد 7 صفحہ 362)

 

یعنی امام مالکؒ کا اپنا قول اس پہ واضح ہے کہ اس باب میں ان تک کوئی حدیث نہیں پہنچی تھی۔

لہزا امام مالک کے قول سے اس حدیث کے ضعف پہ استدلال کرنا محض جہالت ہے کیونکہ قول کہنے والا خود اس حدیث سے جاہل یعنی لاعلم ہے جیسا کہ امام ابن عبد البرؒ نے کہا۔

 

اسی طرح امام ابن رشد مالکیؒ (المتوفی 595ھ) کہتے ہیں:

وأما الست من شوال، فإنه ثبت أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر» إلا أن مالكا كره ذلك، إما مخافة ‌أن ‌يلحق ‌الناس ‌برمضان ‌ما ‌ليس ‌في ‌رمضان، وإما لأنه لعله لم يبلغه الحديث أو لم يصح عنده وهو الأظهر

 

اور جہاں تک شوال کے چھ روزوں کا تعلق ہے تو یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اسکے بعد شوال میں چھ روزے رکھے تو یہ گویا ایسا ہے کہ اس نے پورا سال روزے رکھے۔ اسکے علاوہ امام مالک نے اس سے کراہت کی ہے، اس خوف سے کہ لوگ اسے رمضان کے ساتھ ملحق کردیں گے جو رمضان میں سے نہیں ہے۔ یا اس لیے کہ ان تک یہ حدیث نہیں پہنچی تھی یا انکے نزدیک یہ صحیح نہیں تھی، اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔

(بداية المجتهد ونهاية المقتصد: جلد 2 صفحہ 71)

 

یعنی معلوم ہوا کہ مالکی آئمہ کے نزدیک بھی حدیث ثابت ہے، اس حدیث کی صحت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، جیسا کہ امام ابن عبد البرؒ اور امام ابن رشدؒ جیسے جلیل القدر مالکی آئمہ کا کلام آپکے سامنے ہے جنہوں نے اس حدیث کو صحیح و ثابت قرار دیا ہے۔ انکے علاوہ بھی ڈھیروں آئمہ کی صراحت موجود ہے۔ اور امام مالکؒ اس حدیث سے لاعلم تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے اس مسئلے پہ اپنی رائے سے کلام کیا اور اسکا اعتراف کیا کہ ان تک کوئی خبر نہیں پہنچی۔

امام مالک کے اپنے اعتراف کے بعد یہ کہنا کہ وہ حدیث جانتے تھے بلکل واضح طور پہ غلط بات ہے۔

 

اب ہم اختصار کے ساتھ مالکی فقہاء کے چند اقوال بیان کردیتے ہیں جس سے ہمارا یہ بتانا مقصود ہے کہ مالکی فقہاء کے درمیان بھی اختلاف ہے کہ امام مالکؒ کے قول پہ عمل کیا جائے یا اسے رد کیا جائے۔ ہم آپکے سامنے ان مالکی آئمہ کا ذکر کریں گے جنہوں نے مالکی فقہ کا یہ قول اختیار کیا ہے اور اسے بیان کیا ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے۔

 

امام ابن جزی الکلبی المالکیؒ (المتوفی 741ھ) کہتے ہیں:

(والمستحب) ‌صيام الأشهر الحرم وشعبان والعشر الأول من ذي الحجة ويوم عرفة وستة أيام من ‌شوال وثلاثة أيام من كل شهر ويوم الإثنين والخميس

 

اور مستحب حرمت والے مہینوں کے، شعبان کے، ذوالحجہ کے پہلے عشرے کے، یوم عرفہ کے، شوال کے چھ دنوں کے، ہر مہینے کے تین دنوں (ایام بیض) کے، پیر اور جمعرات کے روزے ہیں۔

(القوانين الفقهية: صفحہ 78)

 

اسی طرح ابو عبد اللہ محمد بن محمد الحطاب الرعینی مالکیؒ (المتوفی 954ھ) لکھتے ہیں:

وقال في فرض العين: المرغب فيه من الشهور المحرم ورجب وشعبان، ومن الأيام ست من ‌شوال، ويستحب أن لا توصل بيوم الفطر

 

اور فرض العین (شاید کتاب کا نام) میں کہا گیا ہے کہ: مہینوں میں جنکی (روزوں کیلیے) رغبت دلائی گئی ہے وہ محرم، رجب، شعبان ہیں، اور دنوں میں شوال کے چھ دن ہیں۔ اور مستحب یہ ہے کہ انہیں عید الفطر کے ساتھ نہ ملایا جائے۔

(مواهب الجليل في شرح مختصر خليل: جلد 2 صفحہ 414)

 

اسی طرح امام ابو عبد اللہ محمد الخرشی مالکیؒ (المتوفی 1101ھ) کہتے ہیں:

ثم شبه في الكراهة قوله: (كستة من شوال) خوف اعتقاد وجوبها، وهذا إذا صامها متصلة برمضان متوالية مظهرا لها معتقدا سنية اتصالها وإلا فلا كراهة

 

پھر انہوں نے کراہت میں اسکے قول کو بھی مشبہ قرار دیا جیسے شوال کے چھ روزے اس خوف سے کہ انکے واجب ہونے کا اعتقاد نہ کرلیا جائے، اور یہ اس صورت میں ہے کہ انہیں رمضان کے ساتھ ملا کر پے در پے رکھا جائے، اسے ظاہر کرے اور اس کے متصل ہونے پہ سنت کا اعتقاد رکھے، ورنہ کوئی کراہت نہیں۔

(شرح الخرشي على مختصر خليل - ومعه حاشية العدوي: جلد 2 صفحہ 243)

 

یہ میں مختصرا ان تین حوالہ جات پہ فلہال اکتفاء کرتا ہوں ورنہ فہرست تو لمبی ہے اور ان سب کا ذکر کرنا خوامخواہ کی طوالت کا باعث ہوگا۔ آپ احباب کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ مالکیہ میں بھی امام مالک کا قول اسطرح قبول نہیں کیا گیا جسطرح بعض لوگوں نے اسکو سمجھ لیا ہے۔ بلکہ اسکی تاویل کی گئی ہے اور مالکیہ میں ہی کئی فقہاء نے امام مالک کے قول کو رد کرتے ہوئے شوال کے چھ روزوں کو بغیر کسی شرط کے مطلقا مستحب بھی قرار دیا ہے اور کراہت کی نفی کی ہے۔ انہوں نے امام مالکؒ کے قول کی یہی تاویل کی ہے کہ ان کی کراہت صرف اس لیے تھی کہ لوگ شوال کے چھ روزوں کو فرض نہ سمجھ لیں جسطرح رمضان کے روزے فرض ہیں اور اسے رمضان کے ساتھ جوڑ کر رکھنا نہ شروع کردیں۔

 

جبکہ یہ بات بلکل واضح ہے کہ فرض اور سنت نفلی اعمال میں فرق ہے۔ اگر کوئی شخص کسی اضافی سنت کو ترک کرتا ہے تو اس پہ کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ وہ فرض و واجب نہیں تھی۔

 

جیسا کہ امام شاطبی مالکیؒ (المتوفی 790ھ) کہتے ہیں:

فقد كره مالك وأبو حنيفة صيام ست من شوال، وذلك للعلة المتقدمة، مع أن الترغيب في صيامها ثابت صحيح؛ لئلا يعتقد ضمها إلى رمضان

 

پس امام مالک اور امام ابو حنیفہ نے شوال کے چھ روزوں سے کراہت کی ہے، اور یہ اس علت کی وجہ سے ہے جو ہم نے پہلے گزر چکی ہے (یعنی سنت کو اس لیے ترک کیا جائے کہ لوگ اسے فرض یا واجب شمار نہ کریں)، باوجود اسکے کہ انکے روزے رکھنے کی ترغیب صحیح اور ثابت ہے، تاکہ انہیں رمضان کے ساتھ ملانے کا اعتقاد نہ کرلیا جائے۔

(الموافقات: جلد 4 صفحہ 105 و 106)

 

تو زیادہ سے زیادہ امام مالکؒ کے قول کی حیثیت اتنی ہی بنتی ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنا سنت ہے، یہ فرض و واجب نہیں، لہزا کسی کیلیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ اسے فرض یا واجب قرار دے۔ اور یہی ہمارا اور دیگر تمام آئمہ فقہاء کا قول ہے۔

امام مالکؒ کی کراہت کی دلیل یہکہ لوگ اسے واجب سمجھ لیں گے بلکل باطل دلیل ہے۔ اسطرح تو کیا انسان تمام سنت اور مستحب اعمال کو ترک دے کہ دیگر لوگ شاید اسے واجب سمجھ لیں گے؟ لہزا یہ کوئی علت بنتی ہی نہیں ہے کہ اس کو فقہ کے اس باب میں اسطرح لاگو کیا جاسکے۔

 

امام محمد بن علی الشوکانیؒ (المتوفی 1250ھ) کہتے ہیں:

«استدل بأحاديث الباب على استحباب صوم ستة أيام من شوال، وإليه ذهب الشافعي وأحمد وداود وغيرهم، وبه قالت العترة. وقال أبو حنيفة ومالك: يكره صومها، واستدلا على ذلك بأنه ربما ظن وجوبها وهو باطل ‌لا ‌يليق ‌بعاقل ‌فضلا ‌عن ‌عالم ‌نصب ‌مثله ‌في ‌مقابلة السنة الصحيحة الصريحة، وأيضا يلزم مثل ذلك في سائر أنواع الصوم المرغب فيها ولا قائل به»

 

اس باب کی احادیث سے شوال کے چھ روزوں کے مستحب ہونے پہ استدلال کیا گیا ہے، اور اسی جانب امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام داؤد ظاہریؒ وغیرہ گئے ہیں۔ اور یہی عترت (اہل بیت) نے بھی کہا ہے۔ امام ابو حنفیہؒ اور امام مالکؒ نے کہا: انکا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ انہوں نے اس کی یہ دلیل دی ہے کہ شاید اسکے واجب ہونے کا گمان کرلیا جائے، حالانکہ یہ باطل ہے، کسی عقلمند کے لائق نہیں ہے چہ جائیکہ کسی عالم کے کہ وہ اس جیسی کسی بات کو صحیح اور صریح سنت کے مقابلے میں کھڑا کردے۔ اور اسطرح کا اشکال دیگر ان تمام روزوں پہ آئے گا جنکی ترغیب دی گئی ہے، حالانکہ اسکا کوئی قائل نہیں ہے۔

(نيل الأوطار: جلد 4 صفحہ 282)

 

امام شوکانیؒ کا یہ کلام بہت واضح اور شاندار ہے، اور میں اس سے بلکل اتفاق کرتا ہوں کہ یہ قول واقعی ہی کسی عقلمند اور کسی عالم کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ اسکی بنیاد پہ صحیح و ثابت اور صریح سنتوں کا انکار کرتا پھرے۔

 

لہزا یہ مختصرا ہم نے مالکی مذہب کے آئمہ کے حوالہ جات سے ہی یہ بات واضح کردی ہے کہ امام مالک کا اس مسئلے میں قول کوئی زیادہ قوت کا حامل نہیں ہے کہ اسکو اختیار کیا جائے۔ بلکہ یہ قول اپنی اصل میں ہی ایک ضعف رکھتا ہے جو ہم نے آپکے سامنے واضح کردیا ہے، صاحب قول اپنی لاعلمی کا اظہار بھی خود کرتے ہیں اور پھر اپنی رائے سے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ جوکہ صرف مقلدین کیلیے حجت ہوسکتی ہے کیونکہ وہ تو جاہل ہوتے ہیں مگر مجتہدین پہ کسی کی ذاتی رائے حجت نہیں بنتی۔

 

شوال کے روزوں پہ تابعین کا عمل:

اس حوالے سے ایک جہالت بھرا اعتراض یہ بھی کردیا جاتا ہے کہ تابعین کا اس پہ عمل نہیں ہے۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ متعدد تابعین کا عمل اس پہ فقہاء نے نقل کیا ہے۔ جس میں سے چند حوالہ جات میں نقل کردیتا ہوں۔

 

امام ابو عیسی محمد بن عیسی الترمذیؒ (المتوفی 279ھ) روایت کرتے ہیں:

حدثنا هناد, قال: أخبرنا الحسين بن علي الجعفي, عن إسرائيل أبي موسى, عن الحسن البصري قال: كان إذا ذكر عنده صيام ستة أيام من شوال, فيقول: والله لقد رضي الله بصيام هذا الشهر عن السنة كلها

 

امام حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ جب ان کے سامنے شوال کے چھ روزوں کا تذکرہ کیا جاتا تو وہ کہتے: اللہ کی قسم! اللہ تعالی تو اس مہینے کے روزوں سے ہی پورے سال کی طرف سے راضی ہو گیا ہے۔

(سنن الترمذي ط-أخرى: جلد 1 صفحہ 262 رقم 759 وسندہ صحیح)

 

تابعی امام حسن بصریؒ (المتوفی 110ھ) امام مالک سے بہت مقدم ہیں، انکا اس پہ عمل تھا۔

 

اسکے علاوہ امام ابن قدامہ المقدسیؒ (المتوفی 620ھ) کہتے ہیں:

وجملة ذلك أن صوم ستة أيام من شوال مستحب عند كثير من أهل العلم. روي ذلك عن كعب الأحبار، والشعبي، وميمون بن مهران وبه قال الشافعي وكرهه مالك

 

اور اسکا خلاصہ یہ ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنا اہل علم میں اکثر کے نزدیک مستحب ہے، یہی کعب الاحبارؒ، شعبیؒ، میمون بن مہرانؒ سے روایت کیا گیا ہے اور یہی امام شافعیؒ نے کہا ہے، اور امام مالک نے کراہت کی ہے۔

(المغني لابن قدامة - ط مكتبة القاهرة: جلد 3 صفحہ 176)

 

یعنی تابعی کعب الاحبار (المتوفی 32ھ)، تابعی عامر بن شراحیل الشعبی (المتوفی 103ھ) اور تابعی میمون بن مہران (المتوفی 117ھ) ان سے بھی شوال کے چھ روزوں کا عمل روایت کیا گیا ہے۔ یہ تمام کے تمام تابعین امام مالک سے مقدم ہیں۔

 

امام مالکؒ کے معاصر امام عبد اللہ بن مبارکؒ کا کلام:

یہاں تک کہ امام مالکؒ (المتوفی 179ھ) کے ہم عصر امام عبد اللہ بن مبارکؒ (المتوفی 181ھ) سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کی حدیث کے راوی ہیں، ان تک یہ حدیث پہنچی تھی اور انہوں نے اسی کے مطابق قول اختیار کیا۔

 

امام ابو عیسی محمد بن عیسی الترمذیؒ (المتوفی 279ھ) روایت کرتے ہیں:

قال ابن المبارك: هو حسن، هو مثل صيام ثلاثة أيام من كل شهر.

قال ابن المبارك: ويروى في بعض الحديث: ويلحق هذا الصيام برمضان، واختار ابن المبارك أن تكون ستة أيام في أول الشهر.

وقد روي عن ابن المبارك أنه قال: إن صام ستة أيام من شوال متفرقا فهو جائز

 

امام ابن مبارکؒ نے کہا: یہ حسن ہے، یہ ہر مہینے کے تین روزوں کی مثل ہے۔

امام ابن مبارکؒ نے کہا: اور بعض احادیث میں مروی ہے کہ یہ روزے رمضان کے ساتھ ملا دیے جائیں، اور امام ابن مبارکؒ نے یہ پسند کیا کہ یہ چھ دن مہینے کے شروع میں ہوں۔

اور امام ابن مبارکؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اگر کوئی شوال کے چھ روزے الگ الگ رکھے تو وہ بھی جائز ہے۔

(سنن الترمذي - ت بشار: جلد 2 صفحہ 123 رقم 759)

 

امام ابو بکر ابن ابی شیبہؒ (المتوفی 235ھ) روایت کرتے ہیں:

حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الله بن المبارك عن سعد بن سعيد قال: سمعت عمر بن ثابت (قال): سمعت أبا أيوب الأنصاري يقول: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من صام رمضان (ثم) أتبعه بستة (أيام) من شوال فقد صام الدهر أو فكأنما صام الدهر"

 

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اسکے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس نے یقینا پورے سال کے روزے رکھے یا گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔

(المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 6 صفحہ 112 رقم 9983 صحیح)

کتاب کے محقق شیخ سعد بن ناصر الشثری بھی اسکو صحیح قرار دیتے ہیں۔

 

اس سند میں اس حدیث کے راوی امام عبد اللہ بن مبارکؒ ہیں، جنکے اقوال آپ نے اوپر ملاحظہ کیے۔ امام عبد اللہ بن مبارکؒ اس حدیث سے واقف تھے اور انہوں نے اسکے مطابق فتوی دیا، جبکہ امام مالکؒ تک اس باب میں کوئی حدیث نہیں پہنچی تھی اور اس وجہ سے انہوں نے اپنی رائے سے فتوی دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس تحریر میں ہم نے مختصرا یہ بیان کیا ہے کہ شوال کے چھ روزے صحیح و ثابت ہیں، اسکی احادیث پہ اعتراض بلکل مردود ہیں کیونکہ انکی اصول حدیث کی روشنی میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

 

اس تحریر میں ہم نے امام مالکؒ کے قول کی صحیح حیثیت بھی بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ انکے قول سے اس حدیث کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور ہم نے مختصرا تابعین کے حوالے سے بھی نقل کردیا کہ ان سے بھی اس پہ عمل نقل کیا گیا ہے، لہزا یہ کہنا کہ اس حدیث پہ عمل نہیں کیا گیا بلکل جھوٹ ہے۔ انسان کو کنویں کا مینڈک بننے کے بجائے ساری دنیا میں دیکھنا چاہیے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی کی ساری دنیا ہی ایک کنواں ہو تو اسے کیا معلوم کہ اسکے باہر کی دنیا کیسی ہے۔

 

اور امام مالک کے معاصر امام سے بھی ہم یہ بات واضح طور پہ نقل کردی کہ انہوں نے اس حدیث کے مطابق فتوی دیا کیونکہ ان تک حدیث پہنچی تھی۔ امام مالک کے متعلق بہت سے آئمہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ان تک یہ حدیث نہیں پہنچی تھی۔

 

ہم نے اس تحریر میں بہت اختصار سے کام لیا ہے، اس موضوع پہ مواد تو بہت ہے کہ لکھتے لکھتے میں تھک جاؤنگا مگر مواد ختم نہیں ہوگا۔ مگر ان شاء اللہ باقی پھر کبھی ضرورت پڑنے پہ عوام الناس کی راہنمائی کیلیے لکھ لیں گے۔

 

ہم نے اس حوالے سے مکمل طور پہ بات کو واضح کردیا ہے اور شوال کے چھ روزوں کے سنت ہونے کو بیان کردیا ہے، اگر کوئی رکھتا ہے تو ان شاء اللہ وہ اسکے ثواب کو پہنچ جائے گا اور اگر کوئی ترک کرتا ہے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اور اسے کوئی گناہ نہیں ملے گا کیونکہ یہ فرض و واجب نہیں ہیں۔

 

اب جو چاہے وہ دلائل اور حدیث رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرے اور جو چاہے وہ اندھی تقلید کرے۔ ہمارا کام محض حق بات واضح کرنا تھا۔

 

اللہ تعالی ہم سب کو اپنے نبی ﷺ کی سنت پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، دین کو درست طریقے سے سیکھنے اور سکھانے کی توفیق دے، اور اندھی تقلید سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین

 

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب۔

از قلم: ابو الحسنین ڈاکٹر شہزاد احمد آرائیں